<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="ur">
	<id>https://ur.wikipasokh.com/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Ejazhmusavi</id>
	<title>ویکی پاسخ - صارف کی شراکتیں [ur]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://ur.wikipasokh.com/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Ejazhmusavi"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/view/%D8%AE%D8%A7%D8%B5:%D8%B4%D8%B1%D8%A7%DA%A9%D8%AA%DB%8C%DA%BA/Ejazhmusavi"/>
	<updated>2026-05-27T07:00:03Z</updated>
	<subtitle>صارف کی شراکتیں</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.43.3</generator>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_(%D8%B3)&amp;diff=631</id>
		<title>مصحف فاطمہ (س)</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_(%D8%B3)&amp;diff=631"/>
		<updated>2025-04-16T21:34:53Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (س) کیسی کتاب ہے؟ کیا اس کتاب کو اخت قرآن بھی کہا جاتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;مصحف فاطمہ&#039;&#039;&#039; وہ کتاب ہے جسکو [[جبرائیل]] نے [[پیغمبر اسلام (ص)]] کی وفات کے بعد [[حضرت فاطمہ زہرا]] کو سنائی تھی اور امام علی (ع) نے لکھا ہے۔ احادیث کے مطابق ایسی کتاب کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے وجود سے متعلق روایات شیعہ کے قدیمی ترین منابع، جیسے بصائر الدرجات اور [[الکافی]] میں ملتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا کسی کو دستیاب نہیں تہی اور شیعہ ائمہ کے پاس محفوظ ہے۔ اس مصحف سے متعلق زیادہ تر روایات [[علامہ مجلسی]] نے علوم اہل بیت علیہم السلام سے متعلق ابواب میں نقل کی ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس مصحف کے مشمولات میں مستقبل کے واقعات اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کی تقدیر جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اس مصحف کے وجود سے شیعہ تعلیم کے میدان میں استفادہ کیا گیا ہے۔ مصحف فاطمہ (س) سے متعلق بعض روایات کے مواد میں اختلاف اور بعض اوقات ان کے ظاہری اختلاف نے اس مصحف کی تفصیلات کے بارے میں علماء کے فیصلے مختلف ہو گئے ہیں۔ معتبر ذرائع میں اس کتاب کے قرآن کی بہن کے طور پر پڑھے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==تعارف اور خصوصیات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اہل بیت (علیہم السلام) کی روایات میں مذکور ہے کہ حضرت فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) کا مصحف انکو الہام ہوا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt; مهدوی‌راد، محمدعلی، «مصحف فاطمه(س)»، دانشنامهٔ فاطمی، زیرنظر علی‌اکبر رشاد، تهران، انتشارات پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی، ۱۳۹۳، ج ۳، ص ۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان میں سے بعض احادیث کی سندیں معتبر ہیں۔ اس وجہ سے ایسی کتاب کے وجود میں شک و شبہ کی گنجایش نہیں ہے۔ ان صحیح احادیث میں سے ایک روایت [[امام صادق (علیہ السلام)]] سے بھی ہے۔ جس میں آپ نے مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: اس اقتباس میں اس مصحف کی تفصیل ہے اس کے املاء سمیت، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کے 75 دنوں میں وفات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے بعد پیش کیا گیا تھا.&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج ۱، ص ۵۹۹–۶۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے وجود سے متعلق روایت، شیعہ کی قدیمی ترین منابع میں ہے کیونکہ یہ بصار [[الدرجات]]&amp;lt;ref&amp;gt;صفار قمی، محمد بن الحسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، تحقیق: محسن بن عباسعلى‏ كوچه باغى، قم، مکتبة آیة الله المرعشی النجفی‏، ۱۴۰۴ق، ص ۱۷۰–۱۸۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[الکافی]]&amp;lt;ref&amp;gt;الکلینی، الکافی، ج ۱، ص ۵۹۲–۶۰۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; سے آئی ہے۔ علامہ مجلسی نے علوم [[اہل بیت علیہم السلام]] کے ابواب میں اس مصحف سے متعلق سب سے زیادہ روایات نقل کی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۰۳ق، ج۲۶، ص۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اہل بیت (علیہم السلام) کی روایات کے مطابق یہ مصحف کسی تک نہیں پہنچا ہے اور ائمہ (علیہم السلام) نے حفاظت کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان میں سے بعض احادیث کے ظاہری اختلاف کی وجہ سے بھی اس مصحف کی تفصیلات کے بارے میں علماء کے نظریا ت مختلف ہیں۔ مصحف کا حجم قرآن کے حجم سے تین برابر ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ایسے مصحف کا وجود شیعہ معارف میں استعمال ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی طباطبایی، حسین، میراث مکتوب شیعه، قم، نشر مورخ، ۱۳۸۶ش، ص۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چونکہ مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے مطالب کے سلسلہ میں بعض روایات میں اختلاف ہے اس وجہ سے علماء کے نطریات بھی مختلف ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۶۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==املا کرنے اور لکھنے والے== &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے املا کرنے والے کے بارے میں [[احادیث]] میں مختلف لوگوں کا ذکر آیا ہے جیسے خدا، [[فرشتہ]]، [[جبرائیل]] اور رسول۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۶۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; علامہ مجلسی نے ان احادیث کو جمع کیا ہے۔ بعض محققین نے اس وجہ جمع کو اقوال کا بہترین وجہ جمع قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; انہوں نے رسول کے معنی کو ان روایات میں جبرائیل (علیہ السلام) قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، ج ۲۶، ص ۴۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[سید محسن امین عاملی]]&amp;lt;ref&amp;gt;امین، محسن، اعیان الشیعه، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۳۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[سید جعفر مرتضی عاملی]]&amp;lt;ref&amp;gt;عاملی، جعفر مرتضی، مأساة الزهراء(س) شبهات و ردود، بیروت، دارالسیرة، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص ۱۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اور [[سید محمد حسین فضل اللہ]]&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، هاشم، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، بیروت، دارالهدی، ۱۴۲۲ق، ص۱۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; سمیت دیگر علماء نے ان روایات کو جمع کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام شیعہ احادیث اورعلما جنہوں نے اس مصحف کا ذکر کیا ہے، [[امام علی (علیہ السلام)]] کو اس مصحف کے کاتب اور مرتب کے طور پر متعارف کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مطالب مصحف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) چند مطالب پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
* [[رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]] کا مقام و مرتبہ اور [[حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)]] کی اولاد کا مستقبل۔&amp;lt;ref&amp;gt;الصفار القمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، ص۱۷۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* مستقبل کے واقعات کا بیان۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفتال النیسابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، قم، منشورات الرضی، ۱۳۷۵، ج۱، ص۲۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[انبیاء (علیہم السلام)]] کے اسماء اور انکے اوصیاء کا تذکرہ۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، ج۲۶، ص۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[قیامت]] تک کے تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفتال النیسابوری، روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، ج۱، ص۲۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* شیعہ علماء میں سے ایک [[عبدالحسین شرف الدین]] نے اس مصحف میں دیگر مطالب کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں کہاوتیں، احکام، خطبات اور خبریں شامل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;شرف الدین، عبدالحسین، المراجعات، قم، المجمع العالمی لاهل البیت(ع)، ۱۴۲۶، ص۶۰۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; لیکن اس رائے کو بعض محققین نے رد کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص ۱۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* بعض دوسرے محققین ایک روایت&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، الکافی، ج ۷، ص ۳۷–۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; کا حوالہ دیتے ہیں (جس میں شرعی احکام کی تفصیلات پر مشتمل کتاب فاطمہ کا ذکر کیا گیا ہے)انہوں نے کہا ہے کہ اس مصحف میں شریعت کے تمام مفصل احکام اور فوجداری قوانین کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;قزوینی، محمدکاظم، فاطمة الزهراء(س) من المهد الی اللحد، بی‌جا، بی‌نا،بی‌تا، ص۹۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; سید محمد حسین فضل اللہ نے اس رائے کی تصدیق کی ہے اور کتاب فاطمہ کو مصحف فاطمہ کے برابر قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص ۱۶۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض محققین نے اس رائے کو رد کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;امین، محسن، اعیان الشیعه، ج۱، ص۳۵۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ بھی ممکن ہے کہ فاطمہ کی یہ کتاب مصحف فاطمہ سے مختلف ہو اور فاطمہ کی کتاب کے عنوان میں فاطمہ کے معنی فاطمہ بنت الحسین ہوں۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص۱۸۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* سید حسین مدرسی طباطبائی، شیعہ اسکالر اور پرنسٹن یونیورسٹی میں اسلامی قانون کے پروفیسر، نے مصحف فاطمہ (ص) کو ایسے مواد پر مشتمل سمجھا جس کا ذکر تقریباً تمام معاملات میں شیعہ باطنی افکار کے حوالے سے کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی طباطبایی، میراث مکتوب شیعه، ص ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس پر تنقید کی گئی ہے&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج ۳، ص ۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; ذرائع میں اس کتاب کے قرآن کی بہن کے طور پر پڑھے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مصحف کے بارے میں شکوک و شبہات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مستشرقین اور [[سنی]] علماء نے شیعوں پر الزام لگایا ہے کہ مسلمانوں میں موجودہ قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن موجود ہے، مصحف فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) کے عنوان میں لفظ مصحف کی موجودگی کو لفظ قرآن میں محدود کر دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مستشرقین اور سنی علماء نے مصحف فاطمہ (س) کے عنوان میں لفظ مصحف کی موجودگی اور اس لفظ کو صرف قرآن تک محدود کرتے ہوئے شیعوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن رکھتے ہیں۔ جو مسلمانوں میں موجود ہے۔ ان لوگوں میں سے ہم اگناس گولڈزیہر&amp;lt;ref&amp;gt;گلدزیهر، ایگناس، گرایش‌های تفسیری در میان مسلمانان، مقدمهٔ سید محمدعلی ایازی، ترجمهٔ سید ناصر طباطبایی، تهران، انتشارات ققنوس، ۱۳۸۳، ص ۲۵۶-۲۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; جو ہنگری کے مشہور عالم اسلام اور عبداللہ القاسمی، سعودی [[سلفی]] مصنف کا ذکر کر سکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;عمیدی، ثامر هاشم حبیب، دفاع عن الکافی: دراسة نقدیة مقارنة لأهم الطعون والشبهات المثارة حول کتاب الکافی للشیخ الکلینی، قم، مرکز الغدیر للدرسات الاسلامیة، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۳۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس رائے کے جواب میں بعض محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مصحف فاطمہ (ص) اس میں قرآن موجود نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان کے نزدیک اس کمی کی دلیل بہت سی روایات ہیں جو فاطمہ (س) کے مصحف کے بارے میں شیعہ ائمہ سے نقل ہوئی ہیں۔ مختلف تشریحات کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مصحف فاطمہ (س) میں قرآن نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، ص ۱۷۰. کلینی، محمد، الکافی، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =مآخذ شناسی&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: مصحف فاطمه(س)]]&lt;br /&gt;
[[bn: ফাতেমা (সা.)-এর মুসহাফ]]&lt;br /&gt;
[[en:Mushaf of Fatima (a)]]&lt;br /&gt;
[[ru: Мусхаф Фатимы (а)]]&lt;br /&gt;
[[ms: Mushaf Fatimah Sa]]&lt;br /&gt;
[[ar: مصحف فاطمة (ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:El Mus&#039;haf de Fátima (P)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D8%B1&amp;diff=630</id>
		<title>تکبر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D8%B1&amp;diff=630"/>
		<updated>2025-04-16T21:33:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
تکبر کیا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;تکبر&#039;&#039;&#039; یا &#039;&#039;&#039;غرور&#039;&#039;&#039;، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا سمجھنا اور دوسروں کو اپنی گفتگو یا رویے سے نیچا دکھانا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنے اندر حقارت اور [[ذلت]] کا احساس اور [[شیطان]] کا [[انسان]] پر غلبہ، [[تکبر]] کے عوامل میں سے شمار کیا گیا ہے۔ نیز [[تکبر کے علاج]] کے لئے [[خودشناسی]]، [[موت کو یاد رکھنا]] اور [[عزت نفس کو مضبوط کرنے]] کا حکم دیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا کے سامنے غرور کو تکبر کی بدترین قسم جانا گیا ہے۔ بعض اوقات [[انبیاء]] اور [[اولیاء الہی]] کے مقابل تکبر کیا جاتا ہے، اس طرح کہ انسان اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھتا ہے اور ان کی اطاعت نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معنی کی وضاحت ==&lt;br /&gt;
«کِبْر» خود کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا سمجھنا &amp;lt;ref&amp;gt; راغب اصفهانی، المفردات فی غریب القرآن، تہران، نشر کتاب، ۱۴۰۴ ہ۔ق۔، ص۴۲۱ و ۴۲۲؛ علم اخلاق اسلامی، ترجمه جامع السعادات، حکمت پبلیکیشنز، تیسرا ایڈیشن، ۱۳۶۳ہ۔ش۔، پہلی جلد، ص۴۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور «تکبر» اسی کو گفتگو اور رویے میں ظاہر کرنا ہے؛ جب تک خود کو برتر سمجھنے کا احساس انسان کے اندر ہی موجود ہو اور وہ اسے ظاہر نہ کرے، تو اسے کبر کہتے ہیں، اور جب یہ سوچ ظاہر ہو جائے اور انسان اپنے طرز عمل یا گفتگو کے ذریعہ دوسروں کو حقیر سمجھے، تو اسے تکبر کہتے ہیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، ملا احمد، معراج السعاده، مشهد، ندای اسلامی پبلیکیشنز، پہلا ایڈیشن، ۱۳۶۲ہ۔ش۔، ص۱۷۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارسی زبان میں دو الفاظ «غرور» اور «تکبر»، مترادف اور ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں؛ اگرچہ عربی زبان میں لفظ غرور [[دھوکہ دینے]] کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ تکبر کے معنی سے مختلف ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== تکبر اور عُجب میں فرق ===&lt;br /&gt;
[[عجب|عُجْب]] اور خودبینی کا مطلب خودپسندی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; امام خمینی، سید روح الله، شرح چهل حدیث، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی رح، دوسرا ایدیشن، ۱۳۷۱ہ۔ش۔، ص۷۹۔ &amp;lt;/ref&amp;gt; خودپسند انسان، اپنے کو بڑا دکھاتا ہے؛ لیکن خود کو دوسروں سے بڑا نہیں پاتا؛&amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، ملامحمد مهدی، جامع السعادات، تعلیقہ اور تصحیح سید محمد کلانتر، مطبعه النجف، مؤسسه مطبوعاتی اسماعیلیان، ج۱، ص۳۴۴–۳۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; یا یہ کہ متکبر اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو چھوٹا سمجھتا ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:03&amp;quot;&amp;gt; امام خمینی، سید روح الله، شرح چهل حدیث، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی رح، دوسرا ایڈیشن، ۱۳۷۱ہ۔ش۔، ص۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== انسان اور خدا میں تکبر کا فرق ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{یہ بھی ملاحظہ کیجئے|خدا کے متکبر ہونے کا معنی}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[خدا]] اور [[انسان]] میں تکبر کی صفت میں فرق، اس کے سرچشمہ میں فرق کی وجہ سے ہے؛ خدا میں تکبر کا سرچشمہ، [[خدا کا علم|علم]]، [[خدا کی قدرت|قدرت]] اور [[خدا کی حکمت|حکمت]] ہے؛ لیکن انسانی تکبر کا سرچشمہ، حقارت، [[جاہلیت|نادانی]] اور قوت ارادی کی کمزوری ہے۔ [[امام صادق(ع)]] کی ایک روایت کے مطابق انسان میں تکبر کا سبب وہ پستی اور ذلت ہے جو وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ترجمه و شرح سید جواد مصطفوی، ج۳، باب کبر۔&amp;lt;/ref&amp;gt; انسان اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے غرور کرتا ہے اور ایسے منصب کا دعوی کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اہمیت ==&lt;br /&gt;
[[قرآن]] میں تکبر اور متکبر شخص کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، اس [[آیت]] میں {{قرآن|کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللَّهُ عَلَیٰ کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّار&lt;br /&gt;
| سوره = غافر&lt;br /&gt;
| آیه = ۳۵&lt;br /&gt;
| ترجمہ = اللہ اسی طرح، ہر متکبر و سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
}} متکبر انسان کی جانب اشارہ ہے۔ اسی طرح [[سوره بقره]] کی آیت ۳۴ میں بھی، [[ابلیس]] کے تکبر کی جانب اشارہ ہے، جب کہ خداوند متعال نے اسے حکم دیا کہ [[حضرت آدم(ع)]] کو سجدہ کرے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تکبر کو وہ پہلا [[گناه]] جانا گیا ہے جو دنیا میں واقع ہوا ہے۔ امیرالمومنین حضرت [[امام علی(ع)]]، [[خطبہ قاصعہ]] میں فرماتے ہیں کہ: ابلیس کا تکبر سبب بنا، کہ اس کی چھ ہزار سال کی [[عبادت|عبادتیں]] ضائع ہوجائیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، دار احیاء الکتب العربیه، دوسرا ایڈیشن، ج۱۳، ص۱۲۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک دوسری [[روایت]] میں، تکبر کو بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ہ۔ش۔، ج۱، ص۲۸۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اقسام ==&lt;br /&gt;
تکبر کی کئی قسمیں ہیں:&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;خدا کی نسبت تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[خدا]] کے مقابل ہوتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دستغیب، سید عبدالحسین، گناهان کبیره، آرمان پبلیکیشنز، ج۲، ص۱۱۱–۱۳۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اس معنی میں کہ انسان [[بندگی|خدا کی بندگی]] کا اقرار نہ کرے اور [[عبادت]] کو خدا سے مخصوص نہ جانے۔ جیسے کہ وہ تکبر جو [[نمرود]] اور [[فرعون]] نے انجام دیا۔ اس تکبر کا سبب، بغاوت اور [[جهالت]] کو جانا گیا ہے اور اسے تکبر کی سب سے بڑی صورت شمار کیا گیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; راغب اصفهانی، حسین، المفردات فی غریب القرآن، تهران، کتاب پبلیکیشنز، ۱۴۰۴ہ۔ق۔، ص۴۲۱ و ۴۲۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;پیمبروں اور اولیاء دین کی نسبت تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[پیمبروں|انبیاء]] اور [[اولیاء الهی|اولیاء]] کے مقابل ہوتا ہے، اس طرح سے کہ انسان اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھتا ہے اور ان کی اطاعت نہیں کرتا۔ آیت کریمہ میں {{قرآن|فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُون&lt;br /&gt;
| سوره = مؤمنون&lt;br /&gt;
| آیه = ۴۷&lt;br /&gt;
| ترجمہ = وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں حالانکہ ان کی قوم ہماری خدمت گزار ہے؟&lt;br /&gt;
}} اس قسم کے تکبر کی جانب اشارہ ہے۔&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;اللہ کے بندوں کے مقابل تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[مومن|مومنین]] اور اللہ کے بندوں کے مقابل ہوتا ہے؛ اس معنی میں کہ انسان خود کو بڑا سمجھے اور دوسروں کو حقیر جانے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، احمد، معراج السعاده، ص۱۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس قسم کا تکبر، کیونکہ خدا کی مخالفت کا باعث بنتا ہے، لہذا انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی صفات میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;علم اخلاق اسلامی، ترجمہ جامع السعادات، حکمت پبلیکیشنز، تیسرا ایڈیشن سوم، ۱۳۶۳ہ۔ش۔، پہلی جلد، ص ۴۱۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عوامل ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|تکبر کے عوامل}}&lt;br /&gt;
شخصیت میں خرابی، اپنی کمزوریوں سے ناواقفیت اور [[شیطان]] کا [[انسان]] پر غلبہ؛ تکبر کے عوامل میں شمار کئے جاتے ہیں۔ نیز احساس حقارت اور ذلت، شخصیت کے ان عوارض میں سے ہیں کہ جن کے باعث انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== علاج ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|تکبر کے علاج کے طریقے}} تکبر کے علاج کے لئے مختلف طریقے بیان ہوئے ہیں، جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
{{کالم۲}}&lt;br /&gt;
* [[خودشناسی]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، ج۷۸، ص۹۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[موت کو یاد کرنا]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ہ۔ش۔، ج۱، ص۴۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[عبادت]]؛&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;محمدی ری شهری، محمد، میزان الحکمه، دارالحدیث، پہلا ایڈیشن، ج۳، ص۲۶۵۷؛ شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ش، ج۱، ص۴۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[تواضع]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، ج۱، ص۴۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[تکبر کے نتائج]] پر توجہ؛&lt;br /&gt;
* عزت نفس کو مضبوط بنانا.&lt;br /&gt;
{{اختتام}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنے ضعف، فقر اور محتاجی کو پہچاننا، خاص طور پر پیدائش اور [[موت]] کے وقت، [[انسان]] میں تکبر کو ختم کر دیتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، ج۷۸، ص۹۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; عبادت، جو کہ خدا کے سامنے عاجزی اور فروتنی ہے، انسان میں تکبر کے احساس کو کمزور بنادیتی ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[تکبر کے عوامل]] میں سے ایک عامل، اپنے اندر [[ذلت کا احساس]] ہے، اور اس بیماری کے علاج کے لئے، عزت نفس کو مضبوط بنانا موثر جانا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عورتوں کے لئے تکبر کا حکم ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|عورتوں کے لئے تکبر کا حکم}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام علی علیہ السلام]] کی ایک روایت میں [[نامحرم]] کے سامنے عورت کے تکبر کرنے کو اچھا سمجھا گیا ہے۔ اور روایات کے مطابق اس حکم کی وجہ، نامحرم کے سامنے عورت کی عزت و کرامت کی حفاظت اور ممکنہ خطرات سے اسے بچانا ہے۔ &amp;lt;ref name=&amp;quot;:02&amp;quot;&amp;gt; محمدی ری شهری، محمد، منتخب الحکمه، مترجم: حمیدرضا شیخی، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۲ہ۔ش۔، جلد ۲، ص۹۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; عورت کے تکبر کرنے کا مطلب، نامحرم کو حقیر سمجھنا نہیں ہے؛ بلکہ عورت اس کے سامنے تکبر دکھا کر، خود کو اس کی لذتوں کا سامان بننے سے بچاتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لہذا تکبر یعنی «دوسروں کو حقیر سمجھنا»، اس معنی میں تکبر کسی بھی مرد یا عورت کے لئے جائز نہیں ہے اور اس کا شمار [[گناه]] میں ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =اخلاقیات&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =اخلاقی خرابیاں&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = تکبر&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: تکبر]]&lt;br /&gt;
[[bn:অহংকার]]&lt;br /&gt;
[[es:orgullo]]&lt;br /&gt;
[[en:Arrogance]]&lt;br /&gt;
[[ps:تکبر]]&lt;br /&gt;
[[ru:Такабор]]&lt;br /&gt;
[[ms:Sombong]]&lt;br /&gt;
[[ar:التکبر]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D9%88%DB%8C%D9%86&amp;diff=629</id>
		<title>قرآن مجید کی تدوین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D9%88%DB%8C%D9%86&amp;diff=629"/>
		<updated>2025-04-16T21:31:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی تدوین کب اور کس نے کی؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
اسلامی علماء و مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ [[قرآن]] مجید کی تدوین کس نے کی اور کب کی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی آیتوں اور سوروں کی ترتیب ایک توقیفی عمل ہے جسے [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے اپنے حیات کے دوران خود انجام دیا تھا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس قول کے مقابلے میں ایک دوسرا بھی قول ہے جس کے قائلین معتقد ہیں کہ قرآن مجید کی تدوین اور جمع آوری کا کام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انجام پایا ہے جو صحابائے کرام کے اجتہاد، اختیار اور ابتکار کا نتیجہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سوروں اور آیتوں کی ترتیب ==&lt;br /&gt;
=== عصر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں قرآن مجید کی جمع آوری ===&lt;br /&gt;
قرآنی علوم کے بعض دانشوروں کا یہ ماننا ہے کہ جو قرآن مجید سوروں اور آیتوں کی ترتیب کے ساتھ اس وقت ہمارے درمیان موجود ہے بالکل اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تدوین کا کام انجام پاچکا تھا۔ یعنی اس وقت کا قرآن مجید ویسے ہی ہے جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا اس میں کسی طرح کا کوئی رد و بدل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خرمشاهی، بهاءالدین. دانشنامه قرآن کریم. ج. ۱. ص. ۴۵۹. ؛ زقزوق، محمود حمدی (۱۴۲۳). الموسوعة القرآنیة المتخصصة. القاهرة: وزارة الاوقاف. المجلس الاعلی للشئون الاسلامية. ص. ۲۲۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس نظریہ کے قائل افراد نے اپنے مدعا کی دلیلیں پیش کی ہیں جن میں سے چند کو ذیل میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے&amp;lt;ref&amp;gt;مرتضی عاملی، سید جعفر (۱۳۶۸). تاریخ تدوین قرآن کریم. کیهان اندیشه.&amp;lt;/ref&amp;gt;:&lt;br /&gt;
* پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سلسلہ میں ایک خاص اہتمام برتتے تھے اور اس کی تلاوت اور اس کے حفظ (یاد کرنے) میں خاص توجہ کرتے تھے۔&lt;br /&gt;
* جو قرآن مجید کے حافظ تھے وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسے سناتے تھے۔&lt;br /&gt;
* اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں [[کاتبان قرآن کریم]] موجود تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو وحی ہوتی تھی اسے وہ املا کرکے لکھواتے اور نوشتہ شدہ متن کے اشتباہات کی نشاندہی فرماتے اور اس کی تصحیح فرماتے تھے۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی کتابت کے سلسلے میں کس قدر حسّاس و محتاط اور خاص توجہ رکھتے تھے۔&lt;br /&gt;
* قرآن مجید کا ختم کرنا اس زمانہ میں رائج تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کا آغاز کہاں سے ہے اور اس کا اختتام کہاں پر ہے، یعنی قرآن مجید کہاں سے شروع ہوکر کہاں پر ختم ہورہا ہے اسی زمانہ میں موجود تھا۔&lt;br /&gt;
* متعدد روایتیں موجود ہیں کے صحابائے کرام نے قرآن مجید کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہی جمع کیا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور بھی دوسری غیر تاریخی دلائل موجود ہیں جن کی بنا پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تدوین قرآن مجید کے قائل نہ ہوں تو پھر اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تسامح اور سہل انگاری کا مسئلہ پیش آئے گا جو اصلاً قابل قبول نہیں ہے، کیوں کہ اگر قرآن مجید کی تدوین، ترتیب اور جمع آوری کا کام پیغمبر اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا ان کے ذریعہ انجام نہیں پاتا تو پھر قرآن مجید کے سلسلے میں تحریف، پراکندگی اور متعدد نسخوں کا دروازہ کھل جاتا اور طول تاریخ قرآن کریم میں تحریف ممکن ہوجاتی۔ اور دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ قرآن مجید کی ترتیب، تدوین اور جمع آوری خود کار رسالت کاایک حصہ تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کار رسالت کو چھوڑ دیتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام دلیلیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ سوروں اور آیتوں کی ترتیب خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ انجام پائی ہیں۔ یا اگر صحابائے کرام کے ذریعہ بھی یہ کام انجام پایا ہے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارشات، ہدایات اور نگرانی میں انجام پایا ہے، کیوں کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ تمام صحابائے کرام کا کام اور اجتہاد کا محور ایک ہو کہ کون سا سورہ کہاں ہونا چاہیے اور کون سی آیت کہاں ہونی چاہیے ساتھ ہی ساتھ قرآن مجید کی ابتدا کس سورہ سے اور اس کی انتہا کس سورہ پر ہونی چاہیے۔ یقینی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں اپنا نظریہ پیش کیا تھا تبھی تو صحابائے کرام کا کام ایک ہی محور پر تمام ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== قرآن مجید کی تدوین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ===&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|قرآن مجید کے سوروں کی ترتیب صحابائے کرام کے توسط سے}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی تدوین و ترتیب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابائے کرام کے توسط سے انجام پائی ہے۔ اہل سنت کے بزرگ عالم دین سیوطی کا کہنا ہے کہ علمائے اسلام سب اس عقیدے پر متفق ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر (۱۳۹۴). الاتقان فی علوم القرآن. ج. ۱. القاهرة: الهيئة المصرية العامة للكتاب. ص. ۱۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سلسلہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ پہلی بار خلیفہ اول (ابو بکر) کے زمانہ میں زید بن ثابت کی کوشش و کاوش سے قرآن مجید کی تدوین ہوئی۔ اس سے پہلے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام  ایک مصحف (قرآن مجید) تدوین کرچکے تھے۔  صحابائے کرام میں سے بھی کچھ بزرگوں نے قرآن مجید کی تدوین اور جمع آوری کا کام انجام دیا تھا۔ اسی وجہ سے قرآن مجید کے الگ الگ نسخے وجود میں آئے۔ اور چونکہ اس زمانہ میں اعراب گزاری کا رواج نہیں تھا جس کی وجہ سے متعدد قرائت یا قرائت میں اختلاف نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد نسخے عثمان بن عفان (خلیفہ سوم) کے زمانہ میں تمام مصاحف کو ایک کرنے کے محرک بنے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوان آراسته، حسین. درسنامه علوم قرآنى. ج. ۱. ص. ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مصحف واحد کا اہتمام ==&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں وحی کی کتابت کا کام چل رہا تھا، چونکہ ابھی نزول وحی کا سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے قرآن مجید کی جمع آوری ایک واحد نسخہ میں نہیں ہوسکی تھی۔ قرآن مجید کے اہم ترین کاتبوں میں سے [[امام علی علیہ السلام]]، [[أبی بن کعب]] اور [[زید بن ثابت]] تھے، جب کے ان کے علاوہ اور بھی کاتبین وحی تھے جن کا شمار دوسرے درجہ میں ہوتا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادى. تاريخ قرآن. ج. ۱. ص. ۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ بعض لوگوں نے مکی زمانہ کی زندگی میں کاتبان وحی [[خلفائے راشدین]]، [[طلحہ]]، [[زبیر]] اور [[سعد بن ابی وقاص]] وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خرمشاهی، بهاءالدین. دانشنامه قرآن کریم. ج. ۱. ص. ۴۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[خلیفہ اول]] کے زمانہ میں قرآن مجید کی تدوین ’’زین بن ثابت‘‘ کے ذریعہ انجام پائی، صحابائے کرام میں سے بعض بزرگ صحابہ جیسے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام بھی قرآن مجید کی تدوین میں مشغول ہوئے، چنانچہ مصحف کی جمع آوری میں جن کی حیثیت ممتاز تھی ان کے مصاحف بڑی جلدی مسلمانوں کے مورد توجہ قرار پاگئے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوان آراسته، حسین. درسنامه علوم قرآنى. ج. ۱. ص. ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سب سے اصلی اور اہم ترین کام قرآن کریم کے متعدد نسخوں میں سے وہ نسخے جو آپس میں متعارض اور ایک دوسرے سے اختلاف کے حامل تھے انہیں حذف کرکے ایک مصحف واحد کا اعلان کرنا تھا، جو [[عثمان بن عفان]] (خلیفہ سوم) کے زمانہ میں حافظوں اور کاتبوں کی مدد سے انجام پایا۔ بہت سے لوگ مصحف کی جمع آوری میں مشغول تھے، لیکن یہ افراد اپنی صلاحیت، استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے ایک ہی طرح کے نہیں تھے بلکہ ان میں اختلاف پایا جاتا تھا اور ان کی آپس میں ایک دوسرے سے ہماہنگی بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہر ایک نسخہ روش، ترتیب، قرائت وغیرہ کے اعتبار سے فرق کرتا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصاحف اور قرائت میں اختلاف کی وجہ سے لوگوں کے درمیان اختلاف کی بذر پاشی ہورہی تھی، لہذا خلیفہ سوم عثمان بن عفان نے ’’[[حذیفہ بن یمانی]]‘‘ کے مشورہ پر مصاحف کو ایک کرنے کا مصمم ارادہ بنایا اور پھر صحابائے کرام کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مصاحف کو یکساں کیا جائے لہٰذا اس کام کے لیے ’’ابی بن کعب‘‘ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور مصحف کے نسخوں کو ایک کرنے کا کام شروع کردیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادی. التمهید فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۳۳۴–۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سیوطی کا بیان ہے کہ: حضرت علیؑ نے بھی اس سلسلہ میں اپنی رائے موافق کو ایک بڑے اچھے اسلوب اور اصولی انداز میں پیش کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;الاتقان فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۱۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; کیوں کہ متعدد مصاحف، الگ الگ قرائت کی روش اور مختلف لہجے، قرآن مجید کی آیتوں میں واقعی اختلاف کا سبب بن رہے تھے تو خلیفہ سوم نے قرآن مجید کی تلاوتوں میں بے ترتیبی اور اضطراب کو دیکھتے ہوئے ایک مصحف واحد کی تدوین اور جمع آوری کے بعد دوسرے تمام مصاحف کو نذر آتش کرنے کا حکم دے دیا، البتہ ان کا یہ عمل عوام کی طرف سے تنقید اور سرزنش کا باعث بنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادی. التمهید فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۳۳۴–۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== قرآن مجید کی تدوین پر ائمہ علیہم السلام کی تائید ===&lt;br /&gt;
[[ائمہ معصومین علیہم السلام]] اس بات کے قائل ہیں کہ [[قرآن مجید]] کو ایک معیاری اور مرسوم نسخے اور قرائت کے مطابق تلاوت کرنی چاہیے۔ جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے جب خلافت ظاہری کی باگ ڈور سنبھالی تو لوگوں کو حکم دیا کہ اسی مصحف کو اپنائیں یعنی تلاوت کے لیے اسی مصحف کو اپنی زندگی کا جز بنالیں جو عثمان کے توسط سے تدوین ہوا ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی انجام نہ دیں۔ انہوں نے یہ حکم اس لیے دیا تھا کہ اس کے بعد اب کوئی بھی قرآن کریم میں اصلاح کے نام پر کوئی تبدیلی اور تحریف انجام نہ دے پائے۔&amp;lt;ref&amp;gt;پژوهشی در تاریخ قرآن. ص. ۴۴۸–۴۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح [[شیعہ]] اپنے معصوم اماموں کی پیروی کرتے ہوئے معتقد ہیں کہ یہی قرآن مجید جو حال حاضر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے جامع اور مکمل قرآن ہے۔ اس میں کبھی بھی کسی طرح کی کوئی تبدیلی یا تحریف نہیں ہوئی ہے، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کے حضور میں ایک شخص نے قرآن مجید کی تلاوت میں ایک آیت کو دوسروں کی قرائت کے برخلاف پڑھا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سے فرمایا: آئندہ اس طرح قرائت نہ کرنا جس طرح سب قرائت کرتے ہیں اسی طرح قرائت کرو۔&amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد. وسائل الشیعه. ج. ۴. ص. ۸۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید مطالعہ کے لیے درج ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں ==&lt;br /&gt;
# تاریخ و علوم قرآن، میر محمدی زرندی&lt;br /&gt;
# نگاہی بہ قرآن، علی اکبر قرشی&lt;br /&gt;
# تاریخ قرآن، آیت اللہ معرفت&lt;br /&gt;
# علوم قرآن، آیت اللہ معرفت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =قرآن کے علوم و معارف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآن کی تالیف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = &lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ = &lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: جمع‌آوری و تدوین قرآن کریم]]&lt;br /&gt;
[[bn: কুরআন শরীফের সংগ্রহ ও সংকলন]]&lt;br /&gt;
[[es: Recopilación y compilación del Sagrado Corán]]&lt;br /&gt;
[[en: Collection and Compilation of the Quran]]&lt;br /&gt;
[[ps: د قرآن کریم راغونډول او تدوینول]]&lt;br /&gt;
[[ru: Сбор и составление Священного Корана]]&lt;br /&gt;
[[ms: Pengumpulan Dan Penyusunan Alquran]]&lt;br /&gt;
[[ar: جمع وتدوين القرآن الكريم]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7&amp;diff=628</id>
		<title>حضرت مریم سلام اللہ علیہا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7&amp;diff=628"/>
		<updated>2025-04-16T21:30:26Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا کیا مقام و مرتبہ تھا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت مریم سلام اللہ علیہا&#039;&#039;&#039; وہ واحد خاتون ہیں جن کا [[قرآن]] میں ذکر کیا گیا ہے اور تمام مومنین کے لیے رول ماڈل کے طور پر پہچنوایا گیا ہے۔ قرآنی آیات کے مطابق، حضرت مریم (س) بڑے بلند درجہ پر فائز تھیں جیسے خدا کی طرف سے منتخب ہونا. صدیقہ (انتہائی سچی)، طاھرہ ،عفیفہ (پاکیزگی)اور فرشتوں سے بات کرنے جیسے عہدے ہیں۔ کچھ مسلمان علماء دین، حضرت مریم علیہا السلام کی نبوت پر یقین رکھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنی والدہ کی نذرکے مطابق، مریم (س) کو خدا کی خدمت اور عبادت کے لیے [[بیت المقدس]] لے جایا گیا۔ عبادتگاہ کے پجاریوں میں مریم کی سرپرستی پر جھگڑا ہوا۔ انہوں نے جھگڑا طے کرنے کے لیے قرعہ ڈالا اور قرعہ [[زکریا (ع)]] کے نام نکل آیا اور وہ مریم (س) کے ولی بن گئے۔ حضرت مریم (س) بیت المقدس کے مشرقی حصے میں عبادت کرتی تھیں۔ مریم (س) لوگوں کے درمیان تقویٰ کے لیے مشہور تھیں۔ قرآنی آیات کے مطابق زکریا (علیہ السلام) نے مریم کے ساتھ کھانا دیکھا اور ان سے ـ ان کے کھانے کے بھیجنے والے کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں مریم (س)نے کہا یہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی نعمتیں ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآنی آیات اور احادیث سے روشن ہوتا ہے کہ حضرت مریم (س) نارمل طریقے سے [[مریم (س) کا حمل|حاملہ]] نہیں ہوئیں تھیں۔ قرآن ان کے حمل کی مدت کے بارے میں کچھ نہیں کہتاہے۔ کچھ مفسرین کے مطابق حضرت مریم (س) کے حمل کی مدت دوسری عورتوں کی طرح نو ماہ تھی۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ مریم کے حمل کی مدت معجزانہ تھی۔ وہ اس مدت کو ایک گھنٹہ سمجھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ ==&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|حضرت مریم(س) بہترین نمونہ عمل}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن نے تمام مومنین کے لیے مریم (س) کو نمونہ عمل کے طور پر تعارف کرایا ہے: «اور خدا نے عمران کی بیٹی مریم کیو ایمان لانے والوں کے لئے ایک مثال(نمونہ عمل) دی جنہوں نے اپنے کردار کو(گناہوں) سے محفوظ رکھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره تحریم: 12-11&amp;lt;/ref&amp;gt; [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر 42 میں حضرت مریم (س)کے لیے اصطفاء اور طاھرہ جیسے مقامات بیان کیے گیےہیں۔&lt;br /&gt;
::«يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِين ؛ (فرشتے): اے مریم، خدا نے تمہیں چن لیا، پاکیزہ رکھا اورپوری دنیا کی عورتوں پر فضیلت دی ہے.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران: 42&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن میں سوائے  حضرت مریم (س) کے کسی عورت کا نام نہیں لیا گیاہے۔ قرآنی آیات کےمطابق فرشتے ،مریم (س)سے بات کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیات ۴۲-۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دو آیتوں میں ـ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (س) کی [[عفت]] و پاکیزگی کو واضح، بیان فرمایا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲؛ نیز: سورهٔ انبیاء، آیهٔ ۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اسی طرح، ان کا تعارف صدیقہ&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مائده، آیهٔ ۷۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے طور پر کراتا ہے، قرآن میں [[خداوند متعال]]، مریم (س) کو عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور انہیں «قانتین» میں شمار کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مفسرین نے قانتین کی تعریف ان لوگوں سے کی ہے جوہمیشہ خدا کی اطاعت میں مشغول رہتے  ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير احسن الحديث، علی‌اکبر قرشی، ج ۱۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ساتویں صدی (قمری تقویم)کے مفسر محمد بن احمد قرطبی&amp;lt;ref&amp;gt;قرطبی، الجامع لأحكام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج ۴، ص ۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اور تقی الدین سبکی&amp;lt;ref&amp;gt;آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج ۲، ص ۱۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;، جوآٹھویں صدی کے سنی فقہاء اور محدث علماء میں سے ایک ہیں، حضرت مریم (س) کی نبوت پر یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ـدوسرے انبیاء کی طرح فرشتے کے ذریعےان پربھی وحی نازل ہوتی تھی۔  [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر 42 میں مریم کی نمایاں خصوصیات کو یہ لوگ ان کی نبوت پر دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج ۲، ص ۱۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; عرفانی دنیاں میں، حضرت مریم (س) کو خدا کے اولیاء میں سے ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے اور انہیں ولایت خاصہ (خصوصی ولایت) کے مقام پر فائز جانا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;بازتاب مقامات حضرت مریم(س) در متون عرفانی فارسی از قرن چهارم تا پایان قرن نهم، طاهره خوشحال دستجردی و زینب رضاپور، مجلهٔ علمی پژوهشی مطالعات عرفانی، شمارهٔ دوازدهم، ۱۳۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سوانح حیات ==&lt;br /&gt;
قرآن، بائبل کے بر خلاف، حضرت مریم (ص) کی پیدائش سے پہلے کے حالات کو بیان کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; مریم کی والدہ کے پیٹ میں بچہ تھا اور ان کا خیال تھا کہ ان کے یہاں لڑکا ہوگا۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير نمونه، ج۲، ص۵۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں وقف کرنے کی قسم کھائی تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچہ ـ ماں کے خیال کے برعکس بیٹی ہوئی۔ تاہم ماں اپنی نذر پر قائم رہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچی کا نام مریم رکھا گیا۔ نذرکے مطابق، مریم (س) کو [[بیت المقدس]] میں خدمت کرنے اور خدا کی عبادت کرنے کے لیے لے جایا گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ۲، ص ۵۴۴، دارالکتب الإسلامیة، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; بنی اسرائیل کے علماء اور بزرگوں سے کہا گیا کہ وہ اس کے کی ذمہ داری لیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ۲، ص ۵۴۴، دارالکتب الإسلامیة، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مریم (س)چونکہ عمران کی اولادسے تھیں کہ جس کا تعلق ایک شریف خاندان سے تھا۔ اسی وجہ سے مریم کی سرپرستی کےدعویداروں میں ان کی سرپرستی کو لے کر جھگڑا ہونے لگا۔ قرعہ اندازی میں، زکریاعلیہ السلام ـ جن کی اس وقت کوئی اولاد نہیں تھی، کو مریم (س) کی سرپرستی کے لیے چنا گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت مریم (س) بیت المقدس کے مشرقی حصے میں عبادت کرتی تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; مریم (س) لوگوں میں تقویٰ کے لیے مشہور تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; قرآنی آیات کے مطابق زکریا (علیہ السلام) نے مریم (س) کے ساتھ کھانا دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا۔ مریم (س) نے کہا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم کا حاملہ ہونا اورحضرت عیسیٰ کی پیدائش ==&lt;br /&gt;
{{اہم مضامین|حضرت مریم (س) کے حمل کی مدت اور حضرت مریم (س) کا حمل}}&lt;br /&gt;
[[قرآنی آیات]] اور [[احادیث]] سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم (س) نارملی طریقے سے حاملہ نہیں ہوئیں تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، ۱۳۷۲ش، ج ۶، ص ۷۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; قرآن میں حضرت مریم (س) کے حاملہ ہونے کے طریقے کا تذکرہ «فانفخنا» (ہم نےروح کو ڈالا)&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ساتھ کیا ہے اور حضرت آدم (ع) کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مریم (س) کی حاملگی کا وعدہ ان کو ایک ہستی نے دیا تھا، جسے قرآن نے «روح» کہا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; مفسرین نے روح کو جبرائیل (علیہ السلام) سمجھا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج ۱۳، ص ۳۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن میں مریم کے حمل کی مدت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج‏ ۱۳، ص ۴۰، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض مفسرین کی رائے کے مطابق مریم کے حاملہ ہونے کی مدت دوسری عورتوں کی طرح نو ماہ تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌کثیر دمشقی، تفسیر القرآن العظیم، ج ۵، ص ۱۹۶، بیروت، دارالکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان لوگوں کا خیال ہے کہ خدا اس واقعہ میں مریم (س) کی تعریف کرنا چاہتا تھا اور اگر مریم (س) کا حمل معجزانہ تھا تو ان آیات میں اس کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌کثیر دمشقی، تفسیر القرآن العظیم، ج ۵، ص ۱۹۶، بیروت، دارالکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک گروہ کا خیال ہے کہ مریم کا حمل بھی معجزانہ تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان کا کہنا تھا کہ ان کے حاملہ ہونے کا وقت ایک گھنٹہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ ان آیات میں حضرت مریم کے حمل کی کہانی کے فوراً بعد فا کا استعمال کیا گیا ہے اور فاء تعقیب اور جلدی کسی کام کے کرنے کے معنی میں آتا ہے، ان کے حمل کا قصہ مختصر اور معجزانہ تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ حدیثیں اس بات کی تائید کرتی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد حضرت مریم (س) اپنی قوم کی طرف واپس آگئیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے  حکم خدا کی بناء پر [[خاموشی کا روزہ]] رکھ لیا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مریم( س) پر [[بنی اسرائیل]] کی طرف سے بد کرداری کا الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بغیر باپ کے بچے کو جنم دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیات ۲۷-۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; خدا نے اس الزام کو دور کرنے کے لیے بچے کو گویائی عطا کردی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیات ۳۰- ۳۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچہ نے اپنا تعارف کرایا اور اپنی ماں کی پاکیزگی کا دفاع کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير نمونه، ج ‏۱۳، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم( س) کا موت کی تمنا کرنا ==&lt;br /&gt;
{{اہم مضامین|حضرت مریم( س) کا موت کی تمنا کرنا}}&lt;br /&gt;
قرآنی آیات کے مطابق، حضرت مریم (س) نے ولادت کے مشکل حالات میں مرنے کی خواہش کی&amp;lt;ref&amp;gt;طیب، اطيب البيان في تفسير القرآن، ج۸، ص ۴۳۱، تهران، اسلام، ۱۳۷۸ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; «کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا۔».&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مریم: 23&amp;lt;/ref&amp;gt; دور معاصر کے [[شیعہ]] مفسر، [[محمد جواد مغنیہ]] صاحب کا ماننا ہے کہ مشکل میں پڑنے والے ہر شخص کے لیے اس قسم کی تعبیرات کا اظہار کرنا فطری امر ہے اور جب تک ایسی باتوں کے کرنے سےـ دین میں شک و شبہ نہ پیش آے ـ  تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مغنیه، تفسیر الکاشف، ج ۵، ص ۱۷۷، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۴۲۴ق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
مذہب قرآن نے صرف مریم (س) کے کلام کو بیان کیا ہے اور ان کے تمنائےموت کے سبب کو نہیں بیان کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فخر رازی، مفاتیح الغیب، ج ۲۱، ص ۵۲۵، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; مفسرین نے مریم کی اس خواہش کی وجوہات درج کی ہیں&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;: &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* مریم علیہا السلام بنی اسرائیل میں زہد کے لیے مشہور تھیں۔ یہاں تک کہ خدا وند متعال ان کےلئے جنتی کھانے بھیجتا تھا۔ ان کی جو سماجی حیثیت تھی اس کے باعث وہ بغیر شوہر کے بچہ پیدا کرنے&amp;lt;ref&amp;gt;فخر رازی، مفاتیح الغیب، ج ۲۱، ص ۵۲۵، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; سے ڈر رہی تھیں اور اپنے لوگوں کی تہمت سے خوف زدہ تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* حضرت مریم (س) ہمیشہ دنیا اور اس کےچکرات سے آزاد ہو کر [[نماز]] میں مصروف رہتی تھیں۔ وہ ـ اس وقت تک زندگی کی مشکل ذمہ داریوں سے آزاد تھیں، اچانک حاملہ ہو گئی اور زچگی کا وقت بھی آگیا۔ اس وقت احساس تنہائی اور بیچارگی کی وجہ سے موت کی تمنا کرنے لگی۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی، محمدتقی، من هدی القرآن، ج ۷، ص۳۲ ، تهران، دار محبی‌ الحسین، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =تاریخ&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =نمونہ خواتین&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =حضرت مریم&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: حضرت مریم(س)]]&lt;br /&gt;
[[bn: হযরত মরিয়ম (আ.)]]&lt;br /&gt;
[[es: La señora María (P)]]&lt;br /&gt;
[[en: Lady Mary (PBUH)]]&lt;br /&gt;
[[ps: حضرت مریم (س)]]&lt;br /&gt;
[[ru: Марьям (А)]]&lt;br /&gt;
[[ms: Sayidah Maryam Sa]]&lt;br /&gt;
[[ar: السيدة مريم (عليها السلام)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%DB%81%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%DB%8C%D8%B3&amp;diff=627</id>
		<title>صہیونیزم کی تأسیس</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%DB%81%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%DB%8C%D8%B3&amp;diff=627"/>
		<updated>2025-04-16T21:28:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
صہیونیزم (صہیونیت) کا تصور کیسے وجود میں آیا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;صہیونیزم (صہیونیت) کے خیال کی پیدائش&#039;&#039;&#039; اصل میں پوری دنیا کے کسی بھی علاقہ میں [[یہودیوں]] کی کوئی مستقل حکومت نہیں تھی ان کا وجود بھی دنیا کے الگ الگ ملکوں میں بکھرا ہوا تھا چنانچہ دنیاکے یہودیوں کو انتشار اور بکھرنے سے بچانے کے لیے اس کا تصور ذہن میں آیا، جس کی وجہ سے فلسطین میں ایک مستقل یہودی حکومت و ریاست کی تأسیس اور قیام کے ساتھ ساتھ بھر پور تلاش و کوشش اس بات پر تھی کہ پوری دنیا میں ہر طرف بکھرے اور پھیلے ہوئے یہودیوں کو وہاں جمع کیا جائے۔ مختلف ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں یہودیوں پر فشار، دباؤ اور جو پریشانیاں انہیں اٹھانی پڑرہی تھیں ان کے اندر جذبۂ اتحاد پیدا کرنے کا سبب بنی اور یہ جذبہ دھیرے دھیرے قوی سے قوی تر ہوتا چلا گیا۔ ایک آسٹریائی باشندہ «تھیوڈرو ہرٹسل» نامی یہودی مصنف کے فکر و خیال نے اس صہیونی نظریہ اور ایک مستقل حکومت کی تشکیل میں ایک بنیادی اور اہم کردار ادا کیا۔ لہذا اس نے اپنے اس فکر و خیال کو ۱۸۹۵ء میں «یہودی ریاست» نامی کتاب تحریر کر کے پوری دنیا میں اسے شائع کردیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنابریں، [[صہیونیت]] کی پہلی عالمی کانفرنس یہودی دانشوروں اور سرمایہ داروں کے ذریعہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی اور اپنے مقاصد کے تحت بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ صہیونیت کے شروعاتی مرحلہ میں اس جماعت کے رہنماؤں نے نہ کسی خاص علاقہ پر زور دیا اور نہ ہی کسی معین جگہ اور سرزمین کی تاکید کی، بلکہ ان کا اصلی مقصد اور زیادہ تر تاکید ایک صہیونی ریاست کے قیام اور وہاں پر تمام ممالک سے بکھرے اور پراکندہ یہودیوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ البتہ صہیونیوں کا ایک گروہ پہلے سے ہی سرزمین فلسطین کی نسبت حساسیت کا شکار اور اس کی طرف خاص توجہ رکھتے ہوئے اسے سرزمین موعود تصور کررہا تھا۔ آخر کار یہ گروہ غالب حیثیت کے حصول میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اسی بنا پر انہوں نے سرزمین فلسطین پر اپنی حکومت کا جھنڈا گاڑ کر  اپنی ریاست کا اعلان کردیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیت کی حقیقت ==&lt;br /&gt;
صہیونیت یا صہیونیزم، یہودیوں کی ایک قومی تحریک کا نام ہے۔ جس کا بنیادی مقصد فلسطین میں ایک خودمختار یہودی حکومت اور یہودی سماج و معاشرہ کی تشکیل ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;آشوری، داریوش، دانشنامه سیاسی، تهران، انتشارات مروارید، ۱۳۸۰ش، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس تحریک کا نام «یروشیلم» میں واقع «صہیون» نامی پہاڑ (جہاں جناب [[داؤود نبی علیہ السلام]] کی قبر مطہر ہے) سے لیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس تحریک کے رہنماؤں نے نسل پرستی اور یہودیوں کے تسلط کے نظریہ کے پیش نظر مختلف ممالک میں پائے جانے والے یہودیوں کو سرزمین فلسطین پر بلایا، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس نعرہ «فلسطین سرزمین موعود» کے تحت یہودیوں کو وہاں آباد کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فلسطین کے اصلی باشندوں یعنی مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کیا اور ان کے ساتھ ظلم و تشدد کا برتاؤ کرتے ہوئے یا تو انہیں ان کی اصلی سرزمین سے نکال باہر کیا یا تو انہیں قتل کر کے ابدی نیند کی آغوش میں بھیج دیا۔ نتیجتاً اس رویہ کے تحت انہوں نے اس سرزمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جماکر اپنی ریاست کو بڑھاتے چلے آرہے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، اکرم، سرگذشت فلسطین، ترجمه اکبر هاشمی رفسنجانی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش، ص۹۲–۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صہیونیزم (صہیونیت) ایک سیاسی گروہ ہے جو اپنی قدرت و طاقت اور آلات ظلم و تشدد کے ذریعہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ «فلسطین» اور اس کے اطراف کے عربی ممالک میں ایک مستقل یہودی ریاست تشکیل دے اور دنیا میں پائے جانے والے تمام یہودیوں کو اس سرزمین پر جمع کرے۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، سرگذشت فلسطین، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیزم کی پیدائش کا پس منظر ==&lt;br /&gt;
ابتدائی طور پر اس گروہ کا مقصد [[فلسطین]] میں حکومت قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری دنیا کے مختلف ممالک سے بکھرے ہوئے یہودیوں کو یکجا کرکے انہیں انتشار اور پراکندگی سے نجات دینا تھا۔ اسی فکر و خیال کی بنا پر اس تحریک کی سنگ بنیاد رکھی گئی۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، سرگذشت فلسطین، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مشرقی یورپی کے مختلف ممالک جیسے روس، پولینڈ، رومانیہ وغیرہ میں جو یہودیوں کے اوپر فشار اور دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ اسی چیز نے یہودیوں کے اتحاد کی تحریک میں کلیدی رول ادا کر کے ان کی تحریک کو تقویت بخشی۔ اسی سلسلہ میں یہودیوں کے اعلیٰ شخصیت کے حامل افراد میں سے «پینکر» نامی شخص نے «خود مختاری» نام کی ایک کتاب تحریر کی اور اسے جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے یہودیوں کو ترغیب دلائی۔ اس نے اس کتاب میں یہ کہا کہ:&amp;lt;br&amp;gt;&lt;br /&gt;
::«دنیا یہودیوں کو ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے، کیوں کہ ہم پوری دنیا کے کسی خطہ اور کسی سرزمین پر کوئی مستقل مرکز اور وطن نہیں رکھتے ہیں نیز ہر طرف ہمیں بیگانہ ہی بیگانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس درد کا بنیادی علاج صرف یہ ہے کہ پوری دنیا کے تمام یہودی وطن (فلسطین) کی سرزمین پر جمع ہوں اور ایک مستقل یہودی ریاست قائم کریں ۔۔۔»۔&lt;br /&gt;
اس تجویز کا اثر یہ ہوا کہ فورا «عشّاق صہیون» نامی ایک تنظیم تشکیل پائی جس نے مندرجہ ذیل مقاصد کے تحقق پر کام کرنا شروع کردیا:&lt;br /&gt;
* عبری زبان کی بحالی (احیا)۔&lt;br /&gt;
* تمام یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت اور ترغیب و تشویق۔&lt;br /&gt;
* فلسطین کی سرزمینوں پر قبضہ جمانا اور اس پر یہودیوں کو آباد کرنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوکولوف، ناحوم، تاریخ صهیونیسم، ترجمه داود حیدری، تهران، مؤسسه مطالعات تاریخ اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس گروہ اور حزب صہیون کا بجٹ یہودی سرمایہ داروں خاص طور پر ان سرمایہ داروں میں سے «بارون ایڈمونڈ چیلڈ» نامی شخص کے ذریعہ فراہم ہوتا ہے۔ ان کی اس مدد کی وجہ سے انہوں نے فلسطین کی زمین کے کچھ چھوٹے چھوٹے پلاٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، نتیجتا ان مقامات پر یہودیوں کو بسانے لگے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ابتدائی مرحلہ میں «عشاق صہیون» نامی تحریک کوئی بہت مشہور یا قابل ذکر تحریک نہیں تھی اور نہ ہی اس کا کوئی واضح و روشن سیاسی مقصد تھا۔ یہاں تک کہ ایک یہودی قلمکار «تھیوڈور ہرٹسل» نامی ایک آسٹریایی باشندہ، کسی ایک یہودی کے ساتھ رونما ہونے والے حادثہ سے متأثر ہوکر یہودیوں کے لیے ایک مستقل سرزمین کے قیام پر جدی طور پر سرگرم عمل ہوگیا۔ ا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ور اسی بنیاد پر اس نے ۱۸۹۵ء میں «یہودی ریاست» نامی ایک کتاب تحریر کرکے اسے شائع کیا۔ اس کتاب میں اس نے اپنے اظہار خیال کو ان الفاظ کے گلدستہ میں پیش کیا: «یہودیوں کے پریشان کن مسائل کا حل یہ ہے کہ جو افراد کسی ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں اور وہ وہاں کہ حالات اور مشکلات کو تحمل نہیں کرسکتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ایک ایسے وسیع و عریض علاقہ میں جمع ہوں جو ایک بڑی قوم کے لیے کافی ہو»۔ ہرٹسل کی کتاب اور تشکیل حکومت صہیونیزم کا نظریہ یہودیوں کو بہت پسند آیا اور اس کا کافی استقبال کیا گیا، اسی بنا پر صہیونیزم کے حامیوں بالخصوص ہرٹسل وغیرہ کا ضمیر اس قدر بیدار ہوا، اس قدر بیدار ہوا کہ انہوں نے کچھ دنوں کے بعد ہی سوئٹزرلینڈ کے «بال» نامی شہر میں پہلی صہیونی کانفرنس منعقد کرڈالی»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوکولوف، تاریخ صهیونیسم، ج۱، ص۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیزم کی عالمی کانفرنس اور صہیونی حکومت کا قیام ==&lt;br /&gt;
صہیونیت کی پہلی عالمی کانفرنس یہودی دانشوروں اور سرمایہ داروں کے ایک بڑے اجتماع کے ساتھ منعقد کی گئی اور یہ کانفرنس اپنے مقاصد کے تحت بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے اہداف و مقاصد کی بنیاد پر صہیونیزم اپنے عملی میدان سے قریب تر ہو گیا۔ ہرٹسل نے «یہودی ریاست و حکومت» کے لیے اپنے بیان میں کسی خاص علاقہ یا کسی معین سرزمین کا ذکر نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس نے سرزمین فلسطین کے لیے اپنی جدّیّت اور مصمّم ہونے کی صراحت کی تھی۔ خلاصہ یہ کہ ہرٹسل نے اس سلسلہ میں کسی طرح کی کوئی صراحت نہیں کی۔ اگر چہ وہاں پر موجود یہودیوں میں سے بعض نے بعض ممالک جیسے اوگانڈا، ارجنٹائن وغیرہ کے سلسلے میں پیشنہاد اور تجویزیں بھی پیش کیں۔ ہرٹسل نے دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی کتاب میں اسی تحریک سے متعلق ایک بہت اہم تجویز پیش کی کہ: «یہودی نمائندگی کا ایک دفتر قائم کیا جائے جو صہیونی حزب کے سیاسی منصوبوں اور مذاکراتی پروگراموں کو مرتّب کرے اور ساتھ ہی ساتھ ایک یہودی کمپنی بھی بنائی جائے جس کے ذریعہ تحریک کی مالی مشکلیں حل ہوسکیں اور اس کی ضرورتیں اچھے طریقے سے پوری ہوسکیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ترجمه ابراهیم یونسی، تهران، مؤسسه انتشارات امیرکبیر، ۱۳۵۶ش، ص۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنابریں، [[صہیونیت]] کی تشکیل کے ابتدائی دور میں اس حزب کے رہنماؤں نے کسی خاص علاقہ اور کسی معین سرزمین کی طرف نہ ہی کوئی خاص توجہ دلائی اور نہ ہی زور دیا، بلکہ ان کا بنیادی اور اساسی مقصد «صہیونی ریاست» کا قیام اور اسی کے سایہ میں پوری دنیا کے یہودیوں کو یکجا کرنا تھا۔ پس «یہودی حکومت» کی تشکیل کا خیال صرف ایک معاون وسیلہ کی حیثیت کا حامل تھا۔ اسی وجہ سے صہیونیوں کے لیے اس مرکز کے انتخاب مقام کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔  جیسا کہ اس سلسلہ میں «لئوپینکر» تحریر کرتا ہے کہ: «ہمارے لیے یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ ہم قہرا و جبرا اسی جگہ اقامت کریں جہاں کبھی ہماری حکومت ختم ہوئی تھی ۔۔۔، ہمیں تو صرف ایک قطعہ زمین کی ضرورت ہے جس کے ہم مالک بن سکیں اور وہاں رہ سکیں ۔۔۔، ہم اپنی قدس الاقدس یعنی اپنے عزیز وطن کو کھونے کے بعد بھی خدا اور مقدس کتاب کو جسے ہم نے حفاظت کے ساتھ رکھا ہے اسے وہاں لے کر جائیں گے۔ چونکہ انہوں نے ہی ہمارے وطن کو ارض مقدس میں تبدیل کیا ہے نہ کہ اردن اور اورشیلم نے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صہیونی حکومت کے قیام میں دو اہم نظریے غالب تھے۔ اور جب تک صہیونیزم کا اصلی بانی ہرٹسل زندہ تھا اسے کسی بھی خاص خطہ یا معین سرزمین، خاص طور پر فلسطین کے سلسلہ میں کوئی خاص حساسیت نہیں تھی۔ انیسویں صدی عیسوی میں صہیونیوں کی چٹھی کانفرنس  میں اوگانڈا کو حکومت کے مرکز کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ اور اسی کانفرنس میں ہرٹسل نے یہ اعلان کیا کہ:&amp;lt;br&amp;gt; &lt;br /&gt;
::«مجھے اس بات میں کوئی شک و تردید نہیں ہے کہ یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی کانفرنس میں اس تجویز کو حق پسندی کے ساتھ قبول کرلیا جائے گ۔ اور وہ تجویز یہ ہے کہ ایک یہودی آبادی والا خود مختارسوسائٹی جو ایک یہودی ڈھانچہ اور مقامی حکومت کا حامل ہو مشرقی افریقہ میں قائم کیا جائے، جس کا سربراہ ایک اعلیٰ رتبہ اور عظیم مرتبہ کا یہودی افسر ہو۔ اور یہ بھی بات یاد رہے جسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ سارا کام برطانوی حکومت کی نگرانی میں انجام پائے گا.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۲۰-۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سلسلہ میں ایک دوسرا نظریہ بھی پیش کیا گیا۔ اس نظریہ کے طرفدار اور حامی افراد ابتدا سے ہی خاص طور پر سرزمین فلسطین کی نسبت سے حساسیت کے شکار تھے چونکہ اسی سرزمین کو اپنا موعودہ سرزمین سمجھ رہے تھے۔ چنانچہ اس نظریہ کے حامی افراد نے پہلے والے نظریہ کی رد میں اپنا اظہار خیال کیا، جن میں سے سر فہرست «حاییم وایزمن» تھا۔ اس نے بیان کیا کہ:&amp;lt;br&amp;gt; &lt;br /&gt;
::« جس علاقہ کی تجویز پیش کی گئی ہے وہ یا تو بہت سرد ہے یا بے انتہا گرم نیز ان کی آبادی اور ترقی میں برسوں وقت گزر جائے گا ساتھ ہی ساتھ ایک سنگین اور ناگفتہ بہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا.».&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۸۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ صہیونیزم کی قیادت میں کچھ ایسے بھی گروہ شریک تھے جو مختلف امپریالیستی حکومت کے نمائندہ تھے۔ کچھ شخصیتیں جیسے «آلفرد نوسیک» جو جرمنی کے حامی تھے، ایک گروہ جیسے «حاییم وایزمن» انگلینڈ کے طرفدار تھے، اور دوسرے گروہ کے لوگ بھی کسی نہ کسی دوسرے امریالیستی حکومتوں کے طرفدار اور حامی تھے۔ اس سلسلہ میں تشتّت آراء، متعدد نظریات کا باعث بنے، جس کے نتیجہ میں صہیونی رہنماؤں کے درمیان کشمکش کا بازار گرم ہو گیا اور بالاخرہ برطانیہ کے طرفدار اور حامییوں کو «حاییم وایزمن» کی قیادت میں کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب برطانیہ کے جلسات میں ایک ایسا گروہ سامنے آیا جو ایک طولانی عرصے سے ہی سرزمین فلسطین پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور جیسے ہی موقع فراہم ہوا ویسے ہی فلسطین میں اپنی ریست کا جھنڈا نصب کرکے حکومت قائم کرلی۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =سیاست&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =اسلامی دنیا&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =فلسطین&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:پیدایش ایده صهیونیسم]]&lt;br /&gt;
[[bn: জায়নবাদী ধারণার সৃষ্টি]]&lt;br /&gt;
[[es: El origen de la idea sionista]]&lt;br /&gt;
[[en: The Emergence of the Zionist Idea]]&lt;br /&gt;
[[ps: د صهیونزم نظریه]]&lt;br /&gt;
[[ru: Зарождение идеи сионизма]]&lt;br /&gt;
[[ms: Bagaimanakah Ide Zionisme Terbentuk]]&lt;br /&gt;
[[ar: نشأة فكرة الصهيونية]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%88_%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81&amp;diff=626</id>
		<title>محکم و متشابہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%88_%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81&amp;diff=626"/>
		<updated>2025-04-16T21:27:52Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں پائی جانے والی محکم اور متشابہ آیتوں سے کیا مراد ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;محکم و متشابہ&#039;&#039;&#039; آیتوں کے بارے میں [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر۷ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اور آیات محکم کو اصطلاح میں «[[ام الکتاب]]» بھی کہا جاتا ہے۔ محکم کا مطلب مستحکم اور ہر قسم کے خلل اور خرابی سے محفوظ ہونا ہے۔ اور اسی کے مقابلہ میں متشابہ ہے جو مشابہ، ہم شکل اور اسی جیسا کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اس طریقہ سے کہ یہی مشابہت حق و باطل کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں متشابہ آیتوں کے موجود ہونے پر کئی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے: عظیم معانی بیان کرنے میں الفاظ کی کمی، انسان کے افکار و خیالات میں محدودیت خاص طور پر آخرت ([[ما ورائے طبیعت]]) اور اس عالم کے علاوہ دوسرے عالم کے بارے میں افکار و خیالات کی محدودیت، عقل و خرد اور فکر و خیال کے حاملین افراد کو [[قرآن مجید]] میں غور و فکر کرنے کی دعوت، لوگوں کو «[[راسخون فی العلم]]» کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دینا جو [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] اور ان کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== محکم و متشابہ کے لغوی اور اصطلاحی معانی ==&lt;br /&gt;
=== محکمات ===&lt;br /&gt;
«محکم» مستحکم اور خلل ناپذیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جو «حَکَمَ حَکْماً» سے ماخوذ اور «مَنَعَ مَنعاً» کے معنی میں ہے۔ یعنی ہر طرح کی خلل اندازی، ناسازگاری، بربادی وغیرہ سے روکنا اور محفوظ کرنا ہے۔ [[راغب اصفہانی]] کہتے ہیں:&amp;lt;br&amp;gt;&lt;br /&gt;
:: «حکم» اصل میں منع کرنے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے بالخصوص برائی سے روکنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;راغب اصفهانى، حسين بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دار الشاميه، چاپ اول، ۱۴۱۲ق، ص۲۴۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طرح کہا گیا ہے کہ ہر وہ بات، ہر وہ قول جو کسی بھی شک و شبہ سے خالی ہو اور غلط فہمی کا شکار نہ بن سکے، مستحکم اور خلل ناپذیر ہو تو اسے «محکم» کہتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۷۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== متشابہ ===&lt;br /&gt;
لفظ «متشابہ» «شُبْه» سے مشتق (اسم مصدر) «مثل، شبہیہ، ہم شکل» کے معنی میں ہے یا «شَبَه» (مصدر) ہے جس کا معنی «ایک جیسا ہونا، ہم شکل ہونا » ہے، اس طرح سے کہ اس مشابہت میں حقیقت اور غیر حقیقت میں پتہ چل نہیں پاتا کہ حقیقت کیا ہے یعنی حقیقت پوشیدہ ہوجاتی ہے اور حق و باطل کا آپس میں امتزاج ہوجاتا ہے جس سے پتہ چل نہیں پاتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے جس کی وجہ سے انسان غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ راغب اصفہانی [[قرآن مجید]] میں موجود اس طرح کی آیتوں کو آیات متشابہات سمجھتے ہیں جس کی تفسیر کرنا ایک مشکل امر ہے، کیوں کہ اس کا جو ظاہر ہے وہ حقیقت میں ویسا نہیں ہوتا بلکہ وہ کسی دوسری چیز سے مشابہت رکھتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;راغب اصفهانى، حسين بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دار الشاميه، چاپ اول، ۱۴۱۲ق، ص۴۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; یا ہادی معرفت کے بقول: کلام حق یعنی قرآن مجید جب بھی حق و حقیقت کے علاوہ کوئی اور صورت میں جلوہ گر ہو تو باطل سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے جسے اصطلاح میں «متشابہ» کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۷۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات محکمات ==&lt;br /&gt;
آیات محکمات ان آیتوں کو کہا جاتا ہے جن کے معانی اتنے واضح و روشن ہوں کہ ان میں کسی طرح کی گفتگو، قیل و قال اور بحث کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہ ہو؛ جیسے «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کہو کہ وہ اللہ ہے، یتکا و بے نظیر ہے۔ ان آیتوں کو قرآن مجید میں ام الکتاب سے یاد کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران، آیه ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; ام الکتاب، جڑ اور اساس و بنیاد کے معنی میں ہے جنہیں متشابہ آیات کا مآخذ، مرجع اور ان کی تفسیر کرنے والا جانا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات متشابہات ==&lt;br /&gt;
خود قرآنی آیت کے مطابق «هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران: 7&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ ذات وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس میں سے کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو «ام الکتاب» (اصل کتاب) ہیں اور کچھ آیتیں متشابہ ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن کریم]] میں آیات متشابہات کے وجود کو آیات محکمات کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متشابہ آیتوں کا وجود اس وجہ سے ہوا کہ ان کے الفاظ مختصر ہیں لیکن ان کے معانی وسیع اور عمیق ہیں۔ مثال کے طور پر وہ آیتیں جو خود خداوند متعال اور اس کے افعال کے بارے میں مجاز، کنایہ، یا استعارہ کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ مثلاً وہ آیات جو [[خداوند]] متعال اور اس کے افعال کے بارے میں مجاز، کنایہ یا استعارہ کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ جیسے: «فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْهُ بَلاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره انفال:۱۷&amp;lt;/ref&amp;gt; پس تم لوگوں نے ان کفار کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کے گھاٹ اتارا ہے، اور پیغمبر آپ نے سنگریزے نہیں پھیکے ہیں بلکہ خدا نے پھیکے ہیں تاکہ اپنی طرف سے مومنوں کا بہتر طریقہ سے آزمائش کرے، خداوند متعال سننے والا، جاننے والا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض لوگ مذکورہ آیت سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سارا کام خداوند متعال انجام دیتا ہے انسان کو اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے جب کہ یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;رضا، محمد رشيد، تفسير القرآن الحكيم الشهير بتفسير المنار، بیروت، دار المعرفه، چاپ اول، ۱۴۱۴ق، ج۱۰، ص۱۳۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیت پر غور و خوض کیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ خداوند عالم اس آیت میں مسلمانوں کے قتل کرنے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیر چلانے کی نفی نہیں کررہا ہے، بلکہ یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ تمہارے فکر و خیال میں یہ بات بالکل نہ آئے کہ کفار پر غلبہ ایک عام، معمولی اور طبعی معاملہ تھا۔ بلکہ اس امر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خدا ہی تھا جس نے ملائکہ کو نازل کیا اور انہیں کے ذریعہ مومنین کو مستحکم بنا کر کفار کو مرعوب و خوفزدہ کیا، اور وہ سنگریزے جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پھینکی تھیں اسی کے ذریعہ انہیں فرار کرنے پر مجبور کیا اور مومنین کو ان کے قتل اور اسیر کرنے پر طاقت و قدرت عطا فرمائی۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبايى، محمدحسين، الميزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامى، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی ایک اور آیت جس میں ارشاد ہوتا ہے: «یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَیُدْعَوْنَ إِلَی السُّجُودِ فَلا یَسْتَطِیعُونَ»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قلم:۴۲&amp;lt;/ref&amp;gt; اس دن کو یاد کرو جس دن تمہاری پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدوں کی دعوت دی جائے گی تو یہ سجدہ کرنے کے لائق بھی نہیں رہیں گے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عربوں کے عام استعمال میں لفظ «ساق» کا استعمال کنایہ کے طور پر کسی امر میں اظہار شدت اور سختی کے لیے ہوتا ہے۔ «کشف ساق» کنایہ کے طور پر کسی کام کو انجام دینے پر مکمل آمادگی کو کہتے ہیں، یعنی کسی کام کو انجام دینے پر کمر کس لینے کو «کشف ساق» کہتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ پیر کی پنڈلی کو ظاہر کیا جائے۔ مذکورہ آیت عربوں کے عام استعمال کے اعتبار سے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ روز قیامت حالات بہت سخت اور ناسازگار ہوجائیں گے، اور کفار سخت پریشانی میں مبتلا ہوجائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;زمخشرى، محمود بن عمر، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل و عيون الأقاويل فى وجوه التأويل، بیروت، دار الكتاب العربي، چاپ سوم، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۹۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
اہل سنت کے دو مکتب فکر «[[اشاعرہ]]» اور «[[اہل تجسم]]» (جو اللہ کے جسم کے قائل ہیں) نے اس آیت میں لفظ «ساق» کا ظاہری معنی مراد لیا ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ «ساق» سے مراد خداوند متعال کا پاؤں ہے جو اس دن (قیامت کے دن) برہنہ ہوجائے گا اور کفار کو سجدے کرنے کا حکم ہوگا لیکن وہ سجدے نہیں کرسکیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات متشابہ کے وجود پر دلائل ==&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں آیات متشابہ کے وجود کی حکمت کے سلسلے میں متعدد وجہیں بیان کی گئی ہیں۔ جن میں سے کچھ کو ذیل میں ذکر کیا جارہا ہے:&lt;br /&gt;
* وہ الفاظ اور عبارتیں جو انسانوں کی گفتگو میں استعمال کی جاتی ہیں وہ صرف روز مرہ کی ضرورتوں کے لیے بنائی گئی ہیں، اور یہ الفاظ کی کمی اور تنگی ہے جو ماورائی معانی اور مطلوب کو پہنچانے سے قاصر ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی متشابہ آیتوں کا ایک قابل توجہ حصہ وجود میں آیا اور ان آیتوں یا آیتوں میں پائے جانے والے بعض کلمات کی تفسیر، تشریح، تأویل اور توضیح کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مطلوبہ معانی تک پہنچا جاسکے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* قرآن مجید کے بہت سے حقائق دوسرے عالم (آخرت ) کے لیے ہیں جو انسان کے افکار و خیالات کی پرواز سے کہیں بہت دور ہیں اور انسان ان کی گہرائیوں اور گیرائیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہماری یہ کوتاہ فکری اور ان معانی کا اعلیٰ و عظیم  ہونا قرآن مجید میں آیات متشابہات کے وجود کی ایک اور وجہ بنتی ہے۔ جیسے قیامت وغیرہ سے مربوط کچھ آیتیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پورا کا پورا قرآن محکم ہے، لیکن جب یہ فکر بشر تک پہنچتا ہے تو اس کی کچھ آیتوں میں انسان کو تشابہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ بارش زمین پر نازل ہونے سے پہلے بے کف (جھاگ) ہوتی ہے یعنی اس میں جھاگ اور بلبلے وغیرہ نہیں ہوتے لیکن جب وہی بارش کے قطرات زمین پر پڑکر رواں ہوتے ہیں تو اس میں جھاگ وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں، اسی طریقہ سے قرآن کی آیتیں آسمان معرفت سے متشابہ نازل نہیں ہوتی ہیں بلکہ افکار بشری کے نقائص اور فہم و ادراک میں کمی کی بنا پر تشابہ ایجاد ہوجاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوادی آملی، عبد الله، قرآن در قرآن، ص۴۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* علماء و دانشوران قوم اپنی سوچ و فکر کو بروے کار لاتے ہیں اور غور و خوض کے بعد خداوند متعال کے حقیقی مقصد اور حقیقی مراد متکلم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کی فضیلت و برتری کے درجات دوسرے عام لوگوں پر بڑھ جاتے ہیں اور وہ بلند و عظیم مراتب تک پہنچ جاتے ہیں جس تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا.&amp;lt;ref&amp;gt;طوسى، محمد بن حسن، التبيان في تفسير القرآن، بیروت، دار إحياء التراث العربي، چاپ اول، ج۲، ص۳۹۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* اس سلسلہ میں ایک اور دلیل، لوگوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا ہے جس کی تائید و تصدیق روایتوں کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اس طرح کی آیتوں کا پایا جانا، لوگوں کی الٰہی رہنماؤں، «راسخون فی العلم»، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اوصیائے برحق کی طرف شدید ضروریات کو واضح و روشن کرتا ہے نیز سبب بنتا ہے کہ لوگ اپنی علمی تشنگی کو بجھانے کے لیے ان کی طرف رجوع کریں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =قرآن کے علوم و معارف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = محکم و متشابه&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:محکم و متشابه]]&lt;br /&gt;
[[bn: মুহকাম ও মুতাশাবিহ]]&lt;br /&gt;
[[es: los versículos claros y los ambiguos en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[en: Firm and Ambiguous Verses]]&lt;br /&gt;
[[ps: محکم او متشابه]]&lt;br /&gt;
[[ru: Мухкам и муташабихат аяты в Коране]]&lt;br /&gt;
[[ms: Ayat Muhkamat Dan Mutasyabihat Dalam Alquran]]&lt;br /&gt;
[[ar: المحكم والمتشابه]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B4%DB%8C%D8%B9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5_%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A6%D8%AF&amp;diff=625</id>
		<title>شیعوں کے مخصوص عقائد</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B4%DB%8C%D8%B9%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5_%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A6%D8%AF&amp;diff=625"/>
		<updated>2025-04-16T21:25:53Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
شیعہ امامیہ فرقے کے مخصوص عقائد کیا ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[شیعہ]] فرقے کے مخصوص عقائد میں [[ولایت]]، [[بداء]]، [[رجعت]] اور [[امامت]] کا تسلسل شامل ہیں۔ دوسرےعقائد جیسے امامت، [[شفاعت]]، [[عدل الہی]]، وسیلہ اور [[امام مہدی (علیہ السلام)]] پر عقیدہ تمام مسلمانوں کے مشترکہ عقائد ہیں، اگرچہ ان کے معانی اور تشریحات میں فرق پایا جاتا ہے یا مثالوں پر ان کی تطبیق اور مصادیق کی شناخت میں بھی تنازعہ اور اختلاف پایا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ولایت ==&lt;br /&gt;
شہید مطہری کہتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«شیعوں میں امامت [معاشرے کی قیادت اور مذہبی مرجعیت کے علاوہ] ایک تیسرے مقام اور مرتبے کی حامل ہے جو امامت کے تصور کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے اور شیعہ کتابیں اس مطلب سے بھری پڑی ہیں اور وہ ہے امامت ولایت کے معنی میں [یعنی] ہر دور میں ایک کامل انسان (امام) پایا جاتا ہے جو انسانیت کی مطلق روحانیت کا حامل ہوتا ہے... اس معنی میں کہ امام ایک مطلق روح ہے اور تمام روحوں (اور دنیا کے امور) کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔».&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیعوں میں ولایت کا عنوان زمانے کی حُجّت کے معنی میں ہے اور شیعی تعلیمات کے مطابق زمین کبھی بھی حُجّت سے خالی نہیں ہوتی: &lt;br /&gt;
{{عربی|وَلَوْلَا الْحُجَّةُ لَسَاخَتِ الْأَرْضُ بِأَهْلِهَا|ترجمه=اگر حُجّت نہ ہوتو زمین اپنے اہل کے ساتھ ڈوب}} جائے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی بھی ایسا لمحہ نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا جب زمین ایک کامل انسان (اور الہیٰ خلیفہ) سے خالی ہو؛ اور اس کامل انسان کے لئے بے شمار مراتب اور درجات کے قائل ہیں اور ہم اکثر زیارتیں جو پڑھتے ہیں ان میں اس ولایت و امامت کا اقرار اور اعتراف کرتے ہیں، یعنی ہم یہ مانتے ہیں کہ امام ایسی مطلق روح کا حامل ہوتا ہے۔»&amp;lt;ref&amp;gt;امامت و رهبری، علامّه شہید مطہری، ص۵۶، انتشارات صدرا.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== بداء ==&lt;br /&gt;
قرآن میں بداء کا ذکر اس آیت میں آیا ہے: {{قرآن|یَمْحُو اللَّهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْکِتَابِ|ترجمه=اللہ جو چاہتا ہے وہ (لکھا ہوا) مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یعنی لوح محفوظ) ہے۔|سوره=رعد (۱۳)|آیه= ۳۹}}.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ [[بداء]] کا لغت میں معنی ہے «کسی شخص کے بارے میں کسی چیز کا ظاہر ہونا»۔ اور اصطلاح میں بداء کا معنی ہے کہ [[خداوند متعال]] کے ایک ایسے امر کا ظاہر ہونا جو انسانوں کے لئے اب تک غیر شناختہ تھا اور جسے انسانوں نے کسی اور طرح سے فرض کیا ہوا تھا&amp;lt;ref&amp;gt;اوائل المقالات، شیخ مفید قدس سرّه، ص۸۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; (&#039;&#039;اظهار بعد الخفاء&#039;&#039;)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شہید مطہری وضاحت فرماتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«بداء کا مفہوم (شیعی علم کلام میں) یہ ہے کہ [[تقدیر الہی]] میں تبدیلی واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کے تاریخی واقعات میں خدا نے انسانی تاریخ کے آگے پیچھے ہونے کے لئے کوئی حتمی اور مستقل صورت معین نہیں کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اے انسان، تم خود تقدیر الہی کے عمل کو پورا کرنے والے ہو، تم ہی تاریخ کو آگے بڑھا سکتے ہو یا پیچھے کر سکتے ہو۔ تم اسے برقرار رکھ سکتے ہو، کوئی بھی چیز، نہ طبعیت، نہ زندگی کے وسائل، نہ حتی کہ خدا کی مشیت تاریخ پر حکمرانی نہیں کرتی ہے۔».&amp;lt;ref&amp;gt;تکامل اجتماعی انسان، علامه مطہری، ص۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== رجعت ==&lt;br /&gt;
[[رجعت]] کا لغوی معنی «واپسی» ہے اور شیعی علم کلام میں رجعت سے مراد یہ ہے کہ [[قیامت]] سے پہلے [[امام مہدی (علیہ السلام)]] کی حکمرانی کے دوران رجعت پیش آئے گی اور اس دوران، مختلف ادوار کے کچھ صالحین اور بدکار افراد زمین پر واپس آئیں گے۔ صالحین واپس آئیں گے تاکہ وہ [[اہل بیت (علیہ السلام)]] کی حکومت میں عدل کا مشاہدہ کریں، منصفانہ حکومت کی اپنی خواہش کو پورا کریں، اور ان انعامات کو حاصل کریں جو خدا نے ان کے لئے اس دنیا میں مقرر کئے ہیں۔ جہاں تک کافروں اور مشرکوں کا تعلق ہے، وہ عذاب اور سزا کے لئے واپس آئیں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام جعفر صادق (علیہ السلام)]] فرماتے ہیں: {{عربی|إنّ الرجعة لیست بعامة و هی خاصة لا یرجع الا من محض الایمان محضا او محض الشرک محضا|ترجمه=رجعت عمومی نہیں ہے، یہ مخصوص ہے اور صرف وہی لوگ واپس آئیں گے جو خالص مومن یا خالص مشرک ہوں گے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;میزان الحکمه، ری شهری، ج۴، ص۱۹۸۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض روایات کے مطابق، [[امام حسین (علیہ السلام)]] پہلی وہ شخصیت ہوں گے جو اماموں میں سے واپس آئیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;میزان الحکمه، ری شهری، ج۴، ص۱۹۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[امام علی رضا (علیہ السلام)]] بھی فرماتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«۔۔۔ کہ رجعت ایک حقیقت ہے جو سابقہ امتوں میں پیش آئی ہے اور [[قرآن]] اس کا ذکر کرتا ہے».&amp;lt;ref&amp;gt;مانند: بقره:۲۴۳؛ نمل:۸۳؛ غافر:۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور [[نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]] نے بھی فرمایا کہ جو کچھ گذشتہ امتوں میں پیش آیا وہ اسی طرح اس امت میں بھی واقع ہوگا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== امامت کا تسلسل ==&lt;br /&gt;
شیعوں کے مطابق، [[امامت]] ایک ایسا الہیٰ نظام ہے جو منقطع ہونے والا نہیں ہے اور مسلسل بغیر کسی وقفے کے قائم ہے۔ یہ نظام نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں شروع ہوا اور آج تک جاری ہے، اور دنیا کے اختتام تک جاری رہے گا۔ جیسا کہ امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: &lt;br /&gt;
::{{عربی|لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، امّا ظاهراً مشهورا، و امّا خائفا مغمورا، لئلا تبطل حجج الله و بیّناته|ترجمه=زمین کبھی بھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں ہوگی، چاہے وہ ظاہر اور آشکار ہو یا مخفی اور پوشیدہ، تاکہ اللہ کے دلائل اور حجتیں منسوخ نہ ہوں۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، حکمت، ۱۴۷، تذکره الفقها، ذهبی، ج۱، ص۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس طرح زمین کبھی بھی امام (حجت) سے خالی نہیں رہے گی اور یہ امام یا تو ظاہر اور دکھائی دینے والا ہوگا، جیسے آئمہ کے دور میں تھا، یا مخفی اور پوشیدہ ہوگا جیسے [[امام مہدی (علیہ السلام)]] کی غیبت کے دوران میں ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) اگرچہ غائب ہیں لیکن دنیا کی امامت کا فریضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =ادیان و مذاہب&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =امامیہ شیعہ&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ = شیعہ عقائد&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[رده:اختلافات شیعه و سنی]]&lt;br /&gt;
[[fa:عقاید خاص شیعه]]&lt;br /&gt;
[[ps:د شیعیانو ځانګړي عقاید]]&lt;br /&gt;
[[ar:عقائد الشيعة الخاصة]]&lt;br /&gt;
[[fr:Croyances spécifiques des chiites]]&lt;br /&gt;
[[en:Distinctive Shia Beliefs]]&lt;br /&gt;
[[bn:শিয়াদের নিজস্ব আকিদা ও বিশ্বাস]]&lt;br /&gt;
[[ms:Akidah Khusus Syiah Imamiyah]]&lt;br /&gt;
[[ru:Особые верования шиитов]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7&amp;diff=624</id>
		<title>بحیرا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7&amp;diff=624"/>
		<updated>2025-04-16T21:24:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کے سفر میں ایک عیسائی راہب &amp;quot;بحیرا&amp;quot; سے ملاقات کی تھی اور قرآن اس سے سیکھا یا اسلام کی پیدائش میں اس کا اہم کردار تھا۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;بحیرا&#039;&#039;&#039; ایک عیسائی راہب تھا جس نے جناب [[ابوطالب]] اور پیغمبر گرامی اسلام [[حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واله وسلم]] سے ان کے شام کے تجارتی سفر کے دوران ملاقات کی۔ بحیرا نے ان کے سامنے پرزور انداز میں کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عام شخص نہیں ہیں بلکہ اُن میں نبوت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ منقولہ [[روایات]] کے مطابق بحیرا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رسالت کی علامتیں مشاہدہ کیں لیکن اُس نے آپ کو کچھ سکھایا نہیں۔ بحیرا ایک مختصر ملاقات میں پیغمبر اسلام کو [[قرآن]] نہیں پڑھا سکتا تھا، اور نہ ہی اُس کا اسلام کی پیدائش میں کوئی کردار تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بحیرا راہب سے ملاقات ==&lt;br /&gt;
بعض حدیثی اور تاریخی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ جناب ابو طالب نے تجارتی قافلے کے ساتھ شام کی جانب سفر کا فیصلہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جو اس وقت کم سن بچے تھے اپنے ہمراہ لے گئے۔ ایک پڑاؤ میں، قافلہ بحیرا راہب کی خانقاہ کے نزدیک آرام کرنے کے لئے رُکا۔ بحیرا راہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور کہا: &lt;br /&gt;
::«اے بچے! لات اور عزیٰ کی قسم دیتا ہوں جو میں تم سے پوچھوں اس کا جواب دو۔». &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے فرمایا: {{عربی|لَا تَسْأَلْنِي بِهِمَا فَوَ اللَّهِ مَا أَبْغَضْتُ شَيْئاً كَبُغْضِهِمَا|ترجمه=مجھے لات اور عزیٰ کی قسم نہ دو، خدا کی قسم! میں ان دونوں سے زیادہ کسی چیز سے نفرت نہیں رکھتا}}۔&lt;br /&gt;
بحیرا نے کہا: &lt;br /&gt;
::«خدا کی قسم دیتا ہوں جو کچھ پوچھوں اس کا جواب دو۔».&lt;br /&gt;
پیغمبر نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::«اب جو پوچھنا چاہو پوچھو.»۔&lt;br /&gt;
اس نے کچھ سوالات کئے، اور حضرت نے جواب دیا۔ اس کے بعد بحیرا نے ابو طالب سے کہا: &lt;br /&gt;
::«اپنے بھتیجے کی حفاظت کرو، آپ کا یہ بھتیجا بہت بلند مقام پانے والا ہے۔».&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، فضل بن حسن، زندگانی چهارده معصوم (ترجمه إعلام الوری)، مترجم: عزیزالله عطاردی قوچانی، تهران، اسلامیه، چاپ اول، ۱۳۹۰ق، ص۲۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سفر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر نو&amp;lt;ref&amp;gt;بلعمی، محمدبن محمد، تاریخنامه طبری، چاپ محمد روشن، تهران، ۱۳۶۶ش، ج ۱، ص۲۰–۲۱. یعقوبی، احمد بن‌اسحاق، تاریخ یعقوبی، ترجمة محمدابراهیم آیتی، تهران، ۱۳۶۲ش، ج ۱، ص۳۶۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; یا بارہ سال تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;بن‌سعد، الطبقات الکبری، ترجمة محمود مهدوی دامغانی، تهران ۱۳۶۵–۱۳۶۹ش، ج ۱، ص۱۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; مختصر اختلاف کے ساتھ بحیرا راہب کی ملاقات کا ذکر شیعہ&amp;lt;ref&amp;gt;حمیری، عبدالله بن جعفر، قرب الإسناد، قم، مؤسسه آل البیت، چاپ اول، ۱۴۱۳ق، ص۳۱۸. ابن بابویه، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمة، تهران، اسلامیه، چاپ دوم، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۱۸۲، باب۱۴، حدیث۳۵. مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیه، قم، انصاریان، چاپ سوم، ۱۳۸۴ش/ ۱۴۲۶ق، ص۱۱۵. طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدی، تهران، اسلامیه، چاپ سوم، ۱۳۹۰ ق، ص۱۷. قطب الدین راوندی، سعید بن هبة الله، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسه امام مهدی، چاپ اول، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۰۸۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور اہلسنت&amp;lt;ref&amp;gt;بیهقی، احمد بن حسین، دلائل النبوة فی احوال صاحب الشریعه، بیروت، دارالکتب العلمیه، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۳۵. ابن هشام، السیره النبویه، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۱۹۱. طبری، تاریخ الامم و الملوک، قاهره، دار المعارف، چاپ پنجم، ۱۳۸۷ هـ. ق، ج۲، ص۲۷۷. ابن سعد، محمد بن سعد، طبقات الکبری، بیروت، دارصادر، بی تا، ج ۱، ص ۱۵۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; کی کتابوں میں آیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== بحیرا کا اسلام کی پیدائش سے کوئی تعلق نہ ہونا ==&lt;br /&gt;
بعض مستشرقین نے یہ ادعا کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دین کی بنیادی باتیں ایک عیسائی راہب سے سیکھی تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;معروف حسنی، هاشم، سیرة المصطفی، بیروت، ۱۴۰۶م/۱۹۸۶ق، ص۵۳. رشیدرضا، محمد، الوحی المحمّدی، قاهره، ۱۳۸۰/م۱۹۶۰ق، ص۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس نظریے پر چند اعتراضات پیش کئے گئے ہیں:&lt;br /&gt;
* اس کھوکھلے دعوے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعلیمات، جو اس سفر کے ۲۸ سال بعد ظاہر فرمائیں، اس مختصر ملاقات میں بحیرا سے سیکھی ہوں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت، بی جا، مؤسسه مطبوعاتی دارالتبلیغ، ۱۳۴۵، ج۱، ص۱۴۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* یہ ملاقات عارضی اور مختصر تھی اور قافلے کے گزرتے وقت انجام پائی، اور بات چیت کا محور بھی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی پیشین گوئی تھی، لہذا یہ مختصر ملاقات کوئی ایسا معیار نہیں بن سکتی جس پر اسلام جیسے وسیع دین کی بنیاد قائم ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;زرگری نژاد، غلام حسین، تاریخ صدر اسلام، چاپ اوّل تهران، نشر سمت، ۱۳۷۸، ص۲۰۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[قرآن]] آسمانی وحی ہے اور یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن کے معارف بحیرا جیسے راہب کی جانب سے وضع کئے گئے ہوں۔&amp;lt;ref&amp;gt;رامیار، محمود، تاریخ قرآن، چاپ ۴، تهران، امیرکبیر، ۱۳۷۹ش، ص۱۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =قرآن کے علوم و معارف&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۱ =قرآن میں پیغمبر شناسی&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۲ = پیغمبر اسلام ﷺ&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
| شناسه = شد&lt;br /&gt;
| تیترها = شد&lt;br /&gt;
| ویرایش =&lt;br /&gt;
| لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
| ناوبری =&lt;br /&gt;
| نمایه =&lt;br /&gt;
| تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
| ارجاعات =&lt;br /&gt;
| بازبینی =شد&lt;br /&gt;
| تکمیل =&lt;br /&gt;
| اولویت = ج&lt;br /&gt;
| کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:بحیرا]]&lt;br /&gt;
[[es:Bahira]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B4%D8%A8%DB%8C%DB%81&amp;diff=623</id>
		<title>امام علی علیہ السلام کے کلام میں موت کی سفر سے تشبیہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%85%D9%88%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B3%D9%81%D8%B1_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D8%B4%D8%A8%DB%8C%DB%81&amp;diff=623"/>
		<updated>2025-04-16T21:23:44Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
موت کے سلسلے سے امام علی  علیہ السلام سے ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے:  {{متن عربی|تمہارا عزیز ایک سفر پر چلا گیا ہے، اور یہ سفر دیگر سفروں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ وہ واپس نہیں آئے گا، بلکہ تمہیں اس کی طرف جانا ہوگا۔}} اس روایت کے بارے میں وضاحت فرمائیے.&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[امام علی علیہ السلام]] نے ایک حدیث میں موت کو ایک ایسے سفر سے تشبیہ دی ہے جس سے واپسی نہیں ہوتی؛ یہ ایک ایسا سفر ہے جس کا مسافر لوٹ کر نہیں آتا، بلکہ زندہ انسانوں کو خود اس مسافر کی جانب سفر کرنا پڑتا ہے۔ روایات میں موت کے بارے میں دوسرے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں؛ مثلا موت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی یا کپڑوں کے بدلنے جیسی تشبیہات سے بھی بیان کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حدیث کا متن ==&lt;br /&gt;
ایک فوت شدہ مسلمان کے پسماندگان سے ملاقات میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا:&lt;br /&gt;
{{عربی بزرگ|إِنَّ هَذَا الْاَمْرَ لَیسَ لَکُمْ بَدَاَ وَ لَا إِلَیکُمُ انْتَهَی وَ قَدْ کَانَ صَاحِبُکُمْ هَذَا یسَافِرُ فَعُدُّوهُ فِی بَعْضِ اَسْفَارِهِ فَإِنْ قَدِمَ عَلَیکُمْ وَ إِلَّا قَدِمْتُمْ عَلَیهِ&lt;br /&gt;
|ترجمه=یہ (موت) نہ تمہارے ساتھ شروع ہوئی ہے اور نہ تمہارے اوپر ختم ہوگی۔ تمہارا یہ عزیز سفر پر جاتا تھا، اب اسے ایک سفر کا مسافر شمار کرو۔ اگر وہ تمہارے پاس واپس آگیا تو اس سے بہتر کیا ہوگا، ورنہ تمہیں خود اس کی طرف جانا ہوگا۔&amp;lt;ref&amp;gt;نهج‌البلاغه، ترجمه: جعفر شهیدی، تهران، انتشارات علمی و فرهنگی، ۱۳۷۸ش، حکمت ۳۵۷، ص۴۲۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== شرح ==&lt;br /&gt;
[[ابن میثم بحرانی]]، جو ساتویں صدی ہجری کے شیعہ متکلم اور فقیہ تھے، آپ نے اپنی شرح [[نہج البلاغہ]] میں موت کے سلسلے سے [[امام علی علیہ السلام]] کے بیان کو سوگواروں کے لئے تسلی بخش اور قانع کرنے والا قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن میثم بحرانی، میثم بن علی، شرح نهج البلاغه، تهران، دفتر نشر الکتاب، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۴۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[میرزا حبیب اللہ خوئی]] (۱۲۶۵-۱۳۲۴ھ۔ق۔)، فقیہ اور نہج البلاغہ کے شارح نے موت سے متعلق امام علی علیہ السلام کے اس بیان کو فصیح اور قائل کرنے والا بتایا ہے۔ ان کے مطابق امام علیہ السلام نے اس بیان میں موت کے بعد انسان کی بقا سے باخبر کیا ہے اس کے مطابق جو اس نے دنیا میں جمع کیا ہے۔ حبیب اللہ خوئی نے امام علیہ السلام کے نظریے کے مطابق موت کو ایک قابل مشاہدہ دنیا سے ایک ناقابل مشاہدہ دنیا کی جانب سفر کے طور پر پیش کیا ہے؛ ایسا سفر جس سے فوت شدہ شخص واپس نہیں آتا، بلکہ اس کے احباب آخرکار اس سے جاکر ملیں گے اور اس کے ساتھ انسیت حاصل کریں گے۔ یہ انسیت اسی طرح ہے جیسے کوئی دوست اپنے سفر پر گئے ہوئے دوست سے مل کرحاصل کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خویی، حبیب‌الله بن محمد هاشمی، منهاج البراعة فی شرح نهج البلاغه، تهران، مکتبة اسلامیة، ۱۴۰۰ق، ۲۱، ص ۴۳۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام سجاد علیہ السلام]] نے موت کی حقیقت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا: {{متن عربی|مؤمن کے لئے موت میلے کپڑوں کو اتارنے، بھاری زنجیروں کو توڑنے، اور نفیس ترین خوشبو دار لباس پہننے، آرام دہ سواریوں اور محفوظ ترین گھروں میں منتقل ہونے کی مانند ہے۔ اور کافر کے لئے موت بدن سے نفیس کپڑوں کو اتارنے، محفوظ گھروں سے نکلنے اور ان کی جگہ کثیف ترین اور کھردرے لباس پہننے، خوفناک ٹھکانوں میں منتقل ہونے کی مانند ہے اور عظیم عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;م‍ح‍م‍دی ری‌ش‍ه‍ری، م‍ح‍م‍د، میزان الحکمه، ترجمه: حمیدرضا شیخی، قم، مؤسسه علمی فرهنگی دارالحدیث،  ۱۳۸۶ش، ج۱۱، ص۱۹۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = فقه الحدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =معاد&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =موت&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:تشبیه مرگ به سفر در کلام امام علی(ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:Comparación de la Muerte con un Viaje en las Palabras del Imam Ali (P)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA&amp;diff=622</id>
		<title>خدا کی معرفت کی ضرورت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AE%D8%AF%D8%A7_%DA%A9%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA&amp;diff=622"/>
		<updated>2025-04-16T21:22:58Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
خدا کو جاننے اور پہچاننے کی کیا ضرورت اور اہمیت ہے؟ خدا کی معرفت پر توجہ نہ دینے کے کیا نقصانات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
متکلمین نے &#039;&#039;&#039;خدا کی معرفت کی ضرورت&#039;&#039;&#039; پر بحث کرتے ہوئے دو دلیلیں پیش کی ہیں۔ پہلی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر [[انبیاء]] اپنے بات میں سچے ہیں تو [[آخرت کے عذاب]] کا خطرہ ہے لہذا عقل کہتی ہے اس ممکنہ نقصان سے بچنے کے لئے انبیاء کی باتوں میں غور و خوض سے کام لیا جائے۔(دفع ضرر محتمل) یعنی عقل کہتی ہے ممکنہ خطرات سے خود کو بچانا واجب ہے۔ دوسری دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان کا شکر ادا کرنا ضروری ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اسے پہچانا جائے۔(وجوب شکر منعم) یعنی عقل کہتی ہے کہ نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
اور اسی طرح پوری بشری تاریخ میں انسان کا [[خدا]] کی جانب متوجہ ہونا اور انسان کا فطری رجحان کہ وہ خالق کائنات کو پہچانے۔ ان دونوں باتوں نے بھی خدا کی معرفت کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کی معرفت کی اہمیت ==&lt;br /&gt;
کائنات کے خالق کی شناخت کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی انسانوں کی توجہات اور فکرمندی کا مرکز رہا ہے، اور مختلف مذہبی لٹریچر اور کتابوں کا ایک بڑا حصہ خدا کی توصیف اور [[انسان]] اور دنیا کے ساتھ خدا کے تعلق کو بیان کرنے کے لئے وقف ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا کی معرفت کی اہمیت کو انسانی زندگی پر اس کے انفرادی اور اجتماعی اثرات کے نقطہ نظر سے بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کو پہچاننے(اور اس پر اعتقاد رکھنے) والے شخص کی زندگی، بنیادی طور پر اس شخص کی زندگی سے مختلف ہوتی ہے جو خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔ اسی طرح دو ایسے خدا پر اعتقاد رکھنے والے انسانوں کی زندگی کا موازنہ کرنے سے جن میں سے ہر ایک کا خدا کے بارے میں تصور دوسرے کے تصور سے مختلف ہے، بنیادی فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور یہ تمام فرق اس وجہ سے ہے کہ انسان کا خدا پر عقیدہ اور اس کی صفات کے بارے میں نظریہ، انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں، اس کے مقاصد، نیتوں، فیصلوں اور اعمال و رفتار پر مکمل طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا پر ایمان، انسانی زندگی کو ایک خاص رنگ اور اس کے لئے ایک مخصوص شخصیت اور پہچان عطا کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کی معرفت کی ضرورت ==&lt;br /&gt;
انسان کی فطرت میں خدا کی معرفت کا ایک درجہ رکھا گیا ہے اور یہ اس کے وجود کے ساتھ گھل مل گیا ہے۔ یہ فطری معرفت صرف انسان کے اندر خدا کی معرفت کو بڑھانے اور وسعت دینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ معرفت خدا حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے لئے مسلمان [[متکلمین]] نے خدا کی معرفت کی ضرورت کو سمجھنے کے دلیلیں پیش کی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;علامه حلی، کشف المراد، ص۲۶۰ و ۲۶۱؛ السیوری، جمال الدین مقداد بن عبدالله (فاضل مقداد)، ارشاد الطالبین الی نهج المسترشدین، ص۱۱۱–۱۱۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== دفع ضرر محتمل (ممکنہ نقصان سے بچاؤ) ===&lt;br /&gt;
جو شخص بھی [[انبیاء (علیہم السلام)]] کے بھیجے جانے اور ان کے ذریعہ خدا کی پرستش و عبادت کی دعوت سے آگاہ ہو، اس کے ذہن میں یہ احتمال و امکان ضرور پیدا ہوگا کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) اپنی دعوت میں سچے ہوئے، اور اس شخص نے ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا جو انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے ہیں، تو وہ عذاب اور برے انجام سے دوچار ہوگا اور اس طرح اسے ایک بڑا نقصان اور گھاٹا اٹھانا پڑے گا۔ دوسری طرف سے عقل و فہم یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان کو حتی الامکان ہر ممکنہ نقصان اور خسارت سے بچنا چاہیے، چاہے اس نقصان کا بہت کم ہی امکان کیوں نہ ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیونکہ ہر انسان کی نسبت یہ امکان پایا جاتا ہے کہ وہ [[مذہب]] کی پیروی نہ کرنے کی بناپر سزا اور عذاب میں مبتلا ہو، اور اسی طرح چونکہ [[عقل]] اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ [[خدا]] پر ایمان نہ لانے کے نقصانات سے بچا جائے، اس لئے عقل یہ حکم کرتی ہے کہ انسان کو خدا کے وجود اور اس کی صفات کے بارے میں تحقیق اور غور و فکر کرنا چاہیے۔ تاکہ اگر واقعا کوئی خدا موجود ہو اور انبیاء کی دعوت سچی ہو تو وہ ان کی پیروی کرکے اپنے کو [[خدا کے عذاب]] سے بچاسکے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== وجوب شکر منعم (نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کرنا ضروری ہے) ===&lt;br /&gt;
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی زندگی میں بے شمار نعمتیں پائی جاتی ہیں۔ دوسری جانب سے انسانی عقل، &amp;quot;منعم&amp;quot; (نعمت دینے والے) کا شکر ادا کرنا ضروری سمجھتی ہے؛ لہٰذا انسان پر یہ لازم ہے کہ نعمت دینے والے کا شکر ادا کرے، اور چونکہ کسی کا شکر ادا کرنا اسے پہچاننے پر موقوف ہے، لہذا انسانی عقل یہ حکم کرتی ہے کہ انسان کو حقیقی نعمت دینے والے (جو کہ خدا ہے) کی معرفت کے راستے پر چلنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =خالق&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =خدا کی پہچان اور اثبات&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:ضرورت خداشناسی]]&lt;br /&gt;
[[ar:وجوب معرفة الله تعالی]]&lt;br /&gt;
[[en:Necessity of Knowing God]]&lt;br /&gt;
[[es:La necesidad del teísmo]]&lt;br /&gt;
[[ps:دخدای پېژندنې ضرورت]]&lt;br /&gt;
[[fr:Nécessité de la connaissance de Dieu]]&lt;br /&gt;
[[ms:Pentingnya Mengenal Tuhan]]&lt;br /&gt;
[[ru:Необходимость и Важность Познания Бога]]&lt;br /&gt;
[[Category:اهمیت خداشناسی]]&lt;br /&gt;
[[Category:ضرورت خداشناسی]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[رده:اهمیت خداشناسی]]&lt;br /&gt;
[[رده:ضرورت خداشناسی]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%91_%DA%A9%DB%8C_25_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C&amp;diff=621</id>
		<title>امام علیؑ کی 25 سالہ خاموشی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%91_%DA%A9%DB%8C_25_%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%88%D8%B4%DB%8C&amp;diff=621"/>
		<updated>2025-04-16T21:22:06Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد ابتدائی سالوں میں امام علیؑ نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی کیوں اختیار کی؟ کیا ان کی خاموشی اسلام کے لیے مفید ثابت ہوئی یا ان کا اقدام زیادہ بہتر ہوتا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[پیغمبر اکرمؐ]] کی وفات کے بعد امام علیؑ کی 25 سالہ خاموشی کی وجہ اسلام کی حفاظت اور مسلم معاشرہ کے اتحاد کو برقرار رکھنا قرار دیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد مسلم معاشرہ شدید بحران کا شکار ہو گیا تھا اور جاہلیت کے کچھ رسم و رواج دوبارہ زندہ ہونے لگے تھے۔ ایسے حالات میں [[ابو سفیان]] اور [[عباس بن عبد المطلب]] جیسے افراد نے [[امام علیؑ]] کو خلیفہ کے خلاف اقدام کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ان سے [[بیعت]] کی پیشکش کی۔ لیکن امام علیؑ نے، قابل اعتماد حمایتیوں کی کمی اور اختلافات سے بچنے کے لیے، عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت ==&lt;br /&gt;
زیادہ تر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ [[پیغمبر اکرمؐ]] کی وفات کے وقت اسلام، جو کہ ابھی ایک نیا اور نازک انقلاب تھا، اتحاد اور ہم آہنگی کا محتاج تھا.&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، المذاهب الاسلامیه، ص۱۹۴، مؤسسه امام صادق ـ علیه السّلام ـ، جاول، ۱۴۲۳ قمری.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ مورخین کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد جاہلی عرب اپنی پرانی حالت کی طرف لوٹنے لگے، اور منافقین ظاہر ہو گئے.&amp;lt;ref&amp;gt;سیره ابن هشام، جلد ۴، ص۳۱۶، به نقل از مکارم، شیرازی، پیام امام، جاول، چ اول، ۱۳۷۵، ناشر دارالکتب الاسلامیه.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منافقین کی جانب سے اختلافات پیدا کرنے کی کوشش ==&lt;br /&gt;
مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ تھا کہ امام علیؑ کو حکومتی سربراہوں سے ٹکرایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ابو سفیان نے عباس کی حمایت حاصل کرتے ہوئے بنی ہاشم کے کچھ افراد کے ساتھ امام علیؑ کے پاس جا کر بیعت کی پیشکش کی۔ [[ابو سفیان]] نے [[امام علیؑ]] کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کہا: &lt;br /&gt;
::’’اے ابو الحسن، اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ ہم کب سے تیم کے خاندان (ابو بکر کے خاندان) کے پیروکار بن گئے ہیں؟‘‘&amp;lt;ref&amp;gt;اقتباس از: ری شهری، محمد، رهبری در اسلام، ص۲۳۴، دارالحدیث، چ اول، ۱۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امام علیؑ نے جواب میں فرمایا: &lt;br /&gt;
::’’تم خوب جانتے ہو کہ [[خلافت]] کے معاملے میں، میں سب سے زیادہ حق دار ہوں۔ خدا کی قسم، جب تک مسلمانوں کے معاملات درست رہیں گے اور صرف مجھ پر ظلم کیا جائے گا، میں خاموش رہوں گا‘‘۔&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۷۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ، اگر امام علیؑ نے حالات کو قیام کے لیے موزوں سمجھا ہوتا تو وہ کسی دعوت کے بغیر اقدام کر لیتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک اور وجہ قیام نہ کرنے کی حمایتیوں اور مددگاروں کی کمی تھی۔ ایک تحریک کے لیے عوامی حمایت ضروری ہوتی ہے اور اس کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ امام علیؑ نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::’’میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ میرے خاندان کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔ میں ان کی موت کو قبول نہیں کر سکتا تھا‘‘۔&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خاموشی کے دور میں امامت ==&lt;br /&gt;
تینوں خلفاء کے 25 سالہ دورِ حکومت میں امام علیؑ نے اسلامی معاشرے کی رہنمائی کے لیے اپنی پوری کوشش کی۔ معاصر مورخ جعفر شہیدی کے مطابق، جہاں کہیں لوگوں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی، امامؑ ان کی رہنمائی کرتے۔ جب کوئی مسئلہ پیش آتا، امامؑ اسے حل کرتے۔ جب کوئی غلط فیصلہ ہوتا، امامؑ درست راستہ دکھاتے۔ جو افراد ان سے پہلے خلافت پر قابض تھے، امامؑ نے ان کی رہنمائی سے کبھی دریغ نہیں کیا.&amp;lt;ref&amp;gt;شهیدی، جعفر، علی از زبان علی، ص۴۲ش، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، جششم، ۱۳۷۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی = تاریخ&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معصومین کی تاریخ و سیرت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =امام علی علیہ السلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ps:د امام علی(ع) په کور کې د کښیناستو سببونه]]&lt;br /&gt;
[[en:The 25 Years of Withdrawal of Imam Ali (peace be upon him)]]&lt;br /&gt;
[[es:El motivo por el que el Imam Ali (P) se queda en casa]]&lt;br /&gt;
[[fa:علت خانه‌نشینی امام علی(ع)]]&lt;br /&gt;
[[bn:ইমাম আলী’র (আ.) ঘরে অবস্থান করার রহস্য]]&lt;br /&gt;
[[ms:Sebab Imam Ali as Berdiam Diri di Rumah]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82&amp;diff=620</id>
		<title>پیغمبرِ اسلام (ص) کی عظیم اخلاق</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82&amp;diff=620"/>
		<updated>2025-04-16T21:20:58Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
سورہ قلم کی آیت نمبر 4 میں پیغمبر اکرم (ص) کے عالی  اخلاق  کا کیا مطلب ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[فائل:خلق عظیم.jpg|تصغیر]]&lt;br /&gt;
[[اللہ تعالیٰ]] نے [[پیغمبرِ اسلام (ص)]] کو کامل ترین انسانی اخلاق کے حامل ہونے کی وجہ سے &amp;quot;خُلُقِ عظیم؛ اخلاق کے اعلی درجہ&amp;quot;  کا مالک قرار دیا ہے۔ [[علامہ طباطبائی]] نے &amp;quot;خُلقِ عظیم&amp;quot; کو اخلاقی فضائل کے معنی میں لیا ہے، جبکہ بعض دیگر علماء نے اسے حسنِ اخلاق، خوش رفتاری اور نرمیِ مزاج سے تعبیر کیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خُلُقِ عظیم کے لیے مزید معانی بھی نقل کیے گئے ہیں، جن میں اسے دین کا حامل ہونا یا ایسی قوم کو برداشت کرنا شامل ہے جنہیں دوسرے برداشت نہیں کر سکتے۔ پیغمبرِ اسلام کو اخلاقی صفات جیسے صبر، عفو و درگزر، حق پر استقامت اور عقل کے مطابق امور کی تدبیر کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ پیغمبر بداخلاقی جیسی صفات سے بھی پاک تھے۔ کچھ محققین نے پیغمبر کے انہی اخلاقیات کے اظہار کو &amp;quot;خُلُقِ عظیم&amp;quot; کا مصداق قرار دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آیت کا متن ==&lt;br /&gt;
{{قرآن بزرگ|وَإِنَّکَ لَعَلَیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ&lt;br /&gt;
| سوره = قلم&lt;br /&gt;
| آیه = ۴&lt;br /&gt;
| ترجمه =اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== پیغمبرِ اسلام (ص) کے اخلاقی صفات ==&lt;br /&gt;
خلقِ عظیم کی سب سے اہم تفسیر اخلاقی صفات ہیں، جن میں حق پر استقامت، سخاوت کی وسعت، امور کی تدبیر، مدارا، مصائب پر صبر، تواضع اور عفو شامل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;قرشی، علی اکبر، احسن الحدیث، قم، دفتر نشر نوید اسلام، ۱۳۹۱، ج۱۱، ص ۲۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[پیغمبرِ اسلام (ص)]] کے خلقِ عظیم کی وجہ یہ ہے کہ تمام نیک اخلاقی صفات ان میں جمع تھیں۔ مفسرین نے &amp;quot;خلقِ عظیم&amp;quot; کو حق پر صبر، وسیع بخشش، عقل کے مطابق امور کی تدبیر، مؤمنوں کی مدد کی کوشش، اور [[حسد]] و [[حرص]] کو ترک کرنے کے معنی میں لیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طَبرِسی، فضل بن حسن، ترجمه مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مترجم محمد بیستونی، بی‌جا، انتشارات آستان قدس رضوی، بی‌تا، ج۲۵، ص۲۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض نے خلقِ عظیم کو دین کے طور پر تعبیر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;محمدی ری‌شهری، محمد، میزان الحکمه، قم، دار الحدیث، ۱۳۷۵، ج۳، ص۴۷۷؛ کاشانی، ملا فتح‌الله، منهج الصادقین فی الزام المخالفین، تهران، کتابفروشی محمد حسن علمی، ۱۳۳۶، ج۹، ص ۳۶۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ طباطبائی]] نے خلقِ عظیم کو اخلاقی صفات کے معنی میں بیان کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، ترجمه تفسیر المیزان، ترجمه موسوی همدانی، سید محمدباقر، قم، جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۸۷، ج۱۹، ص ۶۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; خلقِ عظیم کی ایک تعبیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس کا مطلب ایسی قوم کو برداشت کرنا ہے جسے دوسرے برداشت نہیں کر سکتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فیض کاشانی، محسن، تفسیر الصافی، قم، مؤسسة الهادی، ۱۴۱۶ق، ج۷، ص۲۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض نے اسے حسنِ اخلاق، نرم روی اور خوش اخلاقی سے تعبیر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;منتظری، حسینعلی، اسلام دین فطرت، تهران، نشر سایه، ۱۳۸۵، ص۳۶۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; رسالہ قشیریہ میں خلقِ عظیم کے معنی یہ دیے گئے ہیں کہ مخلوق کی جفا اس پر اثر نہ کرے، جبکہ وہ حق کو پہچان چکا ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;ترجمه رساله قشیریه، قشیری، عبدالکریم بن هوازن، ترجمه عثمانی، حسن بن احمد، تصحیح فروزانفر، بدیع الزمان، تهران، علمی فرهنگی، ۱۳۷۴، ج۱، ص۳۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== پیغمبرِ اسلام (ص) کے سماجی اخلاق ==&lt;br /&gt;
[[شہید مطہری]] کے مطابق، پیغمبرِ اسلام (ص) کا &amp;quot;خُلقِ عظیم&amp;quot; زیادہ تر ان کی سماجی اخلاقیات سے متعلق ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ اخلاق جو عظمتِ روح سے پیدا ہو، اسے اخلاقِ عظیم کہا جاتا ہے۔ اور [[اللہ تعالیٰ]] نے پیغمبر کو [[کفار]] اور [[مشرکین]] کے مقابلے میں ظاہر کیے گئے ردِعمل کی وجہ سے خلقِ عظیم کا حامل قرار دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، صدرا، ۱۳۹۰، ج۲۷، ص۵۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] کی تصریح کے مطابق، پیغمبر نرمی اور لچک کے لحاظ سے، جہاں نرم روی اور عفو کی ضرورت ہوتی تھی، اخلاقی بلندی کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے۔ وحی الٰہی نے [[پیغمبر]] کی کامیابی کی ایک وجہ ان کی عطوفت اور مہربانی قرار دی ہے&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، شیخ جعفر، منشور جاوید، قم، مؤسسه امام صادق، بی‌تا، ج۷، ص۳۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;:&lt;br /&gt;
{{قرآن|ترجمه= (اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے...|سوره=آل عمران|آیه=۱۵۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = قرآن میں پیغمبر شناسی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = پیغمبر اسلام ﷺ&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ps:د پيغمبر(ص) عظیم اخلاق]]&lt;br /&gt;
[[en:The Prophet&#039;s Great Character (Khuluq Azim)]]&lt;br /&gt;
[[ru:Великие черты Пророка (С)]]&lt;br /&gt;
[[fa:خلق عظیم پیامبر(ص)]]&lt;br /&gt;
[[bn:মহানবী (সা.)-এর মহান চরিত্র]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82&amp;diff=619</id>
		<title>پیغمبرِ اسلام (ص) کی عظیم اخلاق</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1%D9%90_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%8C_%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85_%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82&amp;diff=619"/>
		<updated>2025-04-16T21:20:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
سورہ قلم کی آیت نمبر 4 میں پیغمبر اکرم (ص) کے عالی  اخلاق  کا کیا مطلب ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[پرونده:خلق عظیم.jpg|بندانگشتی|تابلوی خوشنویسی از آیه ۴ سوره قلم]]&lt;br /&gt;
[[اللہ تعالیٰ]] نے [[پیغمبرِ اسلام (ص)]] کو کامل ترین انسانی اخلاق کے حامل ہونے کی وجہ سے &amp;quot;خُلُقِ عظیم؛ اخلاق کے اعلی درجہ&amp;quot;  کا مالک قرار دیا ہے۔ [[علامہ طباطبائی]] نے &amp;quot;خُلقِ عظیم&amp;quot; کو اخلاقی فضائل کے معنی میں لیا ہے، جبکہ بعض دیگر علماء نے اسے حسنِ اخلاق، خوش رفتاری اور نرمیِ مزاج سے تعبیر کیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خُلُقِ عظیم کے لیے مزید معانی بھی نقل کیے گئے ہیں، جن میں اسے دین کا حامل ہونا یا ایسی قوم کو برداشت کرنا شامل ہے جنہیں دوسرے برداشت نہیں کر سکتے۔ پیغمبرِ اسلام کو اخلاقی صفات جیسے صبر، عفو و درگزر، حق پر استقامت اور عقل کے مطابق امور کی تدبیر کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ پیغمبر بداخلاقی جیسی صفات سے بھی پاک تھے۔ کچھ محققین نے پیغمبر کے انہی اخلاقیات کے اظہار کو &amp;quot;خُلُقِ عظیم&amp;quot; کا مصداق قرار دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آیت کا متن ==&lt;br /&gt;
{{قرآن بزرگ|وَإِنَّکَ لَعَلَیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ&lt;br /&gt;
| سوره = قلم&lt;br /&gt;
| آیه = ۴&lt;br /&gt;
| ترجمه =اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== پیغمبرِ اسلام (ص) کے اخلاقی صفات ==&lt;br /&gt;
خلقِ عظیم کی سب سے اہم تفسیر اخلاقی صفات ہیں، جن میں حق پر استقامت، سخاوت کی وسعت، امور کی تدبیر، مدارا، مصائب پر صبر، تواضع اور عفو شامل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;قرشی، علی اکبر، احسن الحدیث، قم، دفتر نشر نوید اسلام، ۱۳۹۱، ج۱۱، ص ۲۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[پیغمبرِ اسلام (ص)]] کے خلقِ عظیم کی وجہ یہ ہے کہ تمام نیک اخلاقی صفات ان میں جمع تھیں۔ مفسرین نے &amp;quot;خلقِ عظیم&amp;quot; کو حق پر صبر، وسیع بخشش، عقل کے مطابق امور کی تدبیر، مؤمنوں کی مدد کی کوشش، اور [[حسد]] و [[حرص]] کو ترک کرنے کے معنی میں لیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طَبرِسی، فضل بن حسن، ترجمه مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مترجم محمد بیستونی، بی‌جا، انتشارات آستان قدس رضوی، بی‌تا، ج۲۵، ص۲۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض نے خلقِ عظیم کو دین کے طور پر تعبیر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;محمدی ری‌شهری، محمد، میزان الحکمه، قم، دار الحدیث، ۱۳۷۵، ج۳، ص۴۷۷؛ کاشانی، ملا فتح‌الله، منهج الصادقین فی الزام المخالفین، تهران، کتابفروشی محمد حسن علمی، ۱۳۳۶، ج۹، ص ۳۶۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ طباطبائی]] نے خلقِ عظیم کو اخلاقی صفات کے معنی میں بیان کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، ترجمه تفسیر المیزان، ترجمه موسوی همدانی، سید محمدباقر، قم، جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۸۷، ج۱۹، ص ۶۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; خلقِ عظیم کی ایک تعبیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس کا مطلب ایسی قوم کو برداشت کرنا ہے جسے دوسرے برداشت نہیں کر سکتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فیض کاشانی، محسن، تفسیر الصافی، قم، مؤسسة الهادی، ۱۴۱۶ق، ج۷، ص۲۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض نے اسے حسنِ اخلاق، نرم روی اور خوش اخلاقی سے تعبیر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;منتظری، حسینعلی، اسلام دین فطرت، تهران، نشر سایه، ۱۳۸۵، ص۳۶۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; رسالہ قشیریہ میں خلقِ عظیم کے معنی یہ دیے گئے ہیں کہ مخلوق کی جفا اس پر اثر نہ کرے، جبکہ وہ حق کو پہچان چکا ہو۔&amp;lt;ref&amp;gt;ترجمه رساله قشیریه، قشیری، عبدالکریم بن هوازن، ترجمه عثمانی، حسن بن احمد، تصحیح فروزانفر، بدیع الزمان، تهران، علمی فرهنگی، ۱۳۷۴، ج۱، ص۳۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== پیغمبرِ اسلام (ص) کے سماجی اخلاق ==&lt;br /&gt;
[[شہید مطہری]] کے مطابق، پیغمبرِ اسلام (ص) کا &amp;quot;خُلقِ عظیم&amp;quot; زیادہ تر ان کی سماجی اخلاقیات سے متعلق ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ اخلاق جو عظمتِ روح سے پیدا ہو، اسے اخلاقِ عظیم کہا جاتا ہے۔ اور [[اللہ تعالیٰ]] نے پیغمبر کو [[کفار]] اور [[مشرکین]] کے مقابلے میں ظاہر کیے گئے ردِعمل کی وجہ سے خلقِ عظیم کا حامل قرار دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، صدرا، ۱۳۹۰، ج۲۷، ص۵۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] کی تصریح کے مطابق، پیغمبر نرمی اور لچک کے لحاظ سے، جہاں نرم روی اور عفو کی ضرورت ہوتی تھی، اخلاقی بلندی کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے۔ وحی الٰہی نے [[پیغمبر]] کی کامیابی کی ایک وجہ ان کی عطوفت اور مہربانی قرار دی ہے&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، شیخ جعفر، منشور جاوید، قم، مؤسسه امام صادق، بی‌تا، ج۷، ص۳۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;:&lt;br /&gt;
{{قرآن|ترجمه= (اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے...|سوره=آل عمران|آیه=۱۵۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = قرآن میں پیغمبر شناسی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = پیغمبر اسلام ﷺ&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ps:د پيغمبر(ص) عظیم اخلاق]]&lt;br /&gt;
[[en:The Prophet&#039;s Great Character (Khuluq Azim)]]&lt;br /&gt;
[[ru:Великие черты Пророка (С)]]&lt;br /&gt;
[[fa:خلق عظیم پیامبر(ص)]]&lt;br /&gt;
[[bn:মহানবী (সা.)-এর মহান চরিত্র]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%84&amp;diff=618</id>
		<title>خاندان کے سکون کے لیے قرآن کے حل</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B3%DA%A9%D9%88%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%AD%D9%84&amp;diff=618"/>
		<updated>2025-04-16T21:19:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
خانوادہ کے آرام و سکون تک رسائی کے لئے قرآن نے کیا حل پیش کیا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[قرآن]] نے فیملی کے سکون حاصل کرنے کے لئے بتائے گئے راہ حل میں منجملہ مودت اور رحمت کو شامل کیا ہے، جس کا مفہوم ہے ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ کمال تک پہنچنا، اقتصادی رفاہ، اور اللہ کے ذکر سے دلوں کے سکون کو بھی قرآن نے دوسرے راہ حل کے طور پر پیش کیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن نے [[ازدواج]] اور خاندان کی تشکیل کا بنیادی مقصد سکون حاصل کرنا قرار دیا ہے: {{قرآن||ترجمه=اور اس کے نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن سے آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں محبت اور مودت پیدا کر دی|سوره=روم|آیه=۲۱}} ازدواج کو روحانی سکون اور زندگی کے اطمینان کا ذریعہ ہونا چاہیے۔&amp;lt;ref&amp;gt;. قرائتی، محسن، تفسیر نور، قم، مؤسسه در راه حق، چاپ اول، ۱۳۷۵ش، ج۴، ص۲۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اللہ کے ذکر سے دلوں کا سکون ==&lt;br /&gt;
خانواہ اور معاشرہ اللہ کے ذکر کے ذریعے سکون حاصل کر سکتے ہیں: &lt;br /&gt;
{{قرآن|أَلا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ|ترجمه=یاد رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں|سوره= رعد|آیه=۲۸}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== محبت اور مہربانی ==&lt;br /&gt;
{{همچنین ببینید|سورہ روم کی آیت ۲۱ میں میاں بیوی کے درمیان دوستی اور مہربانی}}&lt;br /&gt;
[[قرآن]] کے ثقافتی نظام میں عورت کو انسانی شکل میں خدا کے جمالی صفات کا مظہر تصور کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوادی آملی، عبدالله، زن در آیینه جلال و جمال، تهران، نشر فرهنگی رجاء، چاپ دوم، ۱۳۷۱ش، ص۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; قرآن مرد اور عورت کے سکون کو مودت (محبت) اور رحمت (مہربانی) کے دائرے میں بیان کرتا ہے: {{قرآن||ترجمه=اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان کے ذریعہ سکون حاصل کر سکو اور اس کے تمہارے درمیان مودت و رحمت قرار دی۔|سوره=روم|آیه=۲۱}} &lt;br /&gt;
تفسیر نمونہ نے &amp;quot;مودت&amp;quot; اور &amp;quot;رحمت&amp;quot; کو انسانی معاشرت میں تعلقات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسير نمونه، تهران، دارالكتب الإسلامیه، ۱۳۷۴ش، ج‏۱۶، ص۳۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس آیت میں مودت کا مطلب ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کریں، اور رحمت کا مطلب ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسينى شيرازى سيد محم، تبيين القرآن، بیروت، دارالعلوم، ۱۴۲۳ق، ص۴۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; خدا کی مودت اور رحمت حیوانی کشش اور غریزہ سے مختلف ہیں، کیونکہ یہ غریزہ حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوادی آملی، عبدالله، زن در آیینه جلال و جمال، تهران، نشر فرهنگی رجاء، چاپ دوم، ۱۳۷۱ش، ص۴۰. افروز، غلامعلی، همسران برتر، تهران، انجمن اولیاء و مربیان، چاپ اول، ۱۳۷۷ش، ص۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک دوسرے کے ساتھ کمال تک پہنچنا ==&lt;br /&gt;
قرآن میاں بیوی کے باہمی تعلقات کو خاندان کے سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کمال تک پہنچیں: {{قرآن| هُنَّ لِباسٌ لَکُمْ وَ أَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَّ |ترجمه=وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو.|سوره=بقره|آیه=۱۸۷}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک دوسرے کے عیب چھپانا، رازدار ہونا، آفتوں برائیوں سے تحفظ دینا، سکون کا ذریعہ ہونا، زندگی میں تنوع پیدا کرنا، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ایک دوسرے کے لیے لباس کی طرح موزوں ہونا، خانواہ کے سکون و آرامش کے اسباب ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;افروز، غلامعلی، همسران برتر، تهران، انجمن اولیاء و مربیان، چاپ اول، ۱۳۷۷ش، ص۴۶. ۶۰. ۱۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اقتصادی خوشحالی ==&lt;br /&gt;
{{همچنین ببینید|قرآن میں اقتصادی مسائل}}&lt;br /&gt;
خاندان کی بنیاد مضبوط کرنے میں معیشت کا کردار اہم ہے۔ قرآن نے ایک مستحکم معیشت کو خاندان کے ڈھانچے میں شامل کیا ہے۔ اس کی مثالیں یہ ہیں:&lt;br /&gt;
* مہر اور اس کی ادائیگی پر زور دینا.&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساءآ یه۴. ۱۹. ۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* زندگی کے اخراجات پورا کرنا.&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه۲۳۳. سوره نساء، آیه۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* شادیوں میں یتیموں کے مال کا تحفظ۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه۳–۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* مرد اور عورت کے وراثت میں قانونی حصے کا خیال رکھنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه۳۳. ۱۷۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* عورت کی اقتصادی خودمختاری کو یقینی بنانا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* یتیموں کی اقتصادی بلوغت کا جائزہ لینا، اس سے پہلے کہ انہیں وراثت دی جائے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* یتیموں کے ورثے کو ایک بھاری امانت سمجھنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه۱۰–۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* وغیرہ قرآن میں بیان ہونے والی بحثوں میں سے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =قرآن میں سماجی مسائل&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ps:راهکارهای قرآن برای آرامش خانواده]]&lt;br /&gt;
[[es:Soluciones del Corán para la tranquilidad familiar]]&lt;br /&gt;
[[fa:اهکارهای قرآن برای آرامش خانواده]]&lt;br /&gt;
[[bn:পারিবারিক শান্তির জন্য কুরআন প্রস্তাবিত উপায়সমূহ]]&lt;br /&gt;
[[ru:Коранические способы достижения семейного спокойствия]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%AF%D8%AB%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=617</id>
		<title>حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا محدثہ ہونا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D8%AF%D8%AB%DB%81_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=617"/>
		<updated>2025-04-16T21:17:02Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو &amp;quot;محدثہ&amp;quot; کیوں کہا جاتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&amp;quot;محدثہ&amp;quot; [[حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا]] کے القاب میں سے ایک ہے، جس کا مطلب ہے &amp;quot;وہ ہستی جس سے فرشتے بات کرتے ہیں۔&amp;quot; حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو یہ لقب اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ فرشتوں سے بات کرتی تھیں اور ان کی باتیں سنتی تھیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مفہوم شناسی محدث اور محدثہ ==&lt;br /&gt;
محدث اور محدثہ (دال پر زبر اور تشدید کے ساتھ) اس شخص کو کہا جاتا ہے جس سے بات کی جاتی ہے یا جسے الہام ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی زبیدی، محمد مرتضی، تاج العروس من جواهر القاموس، بیروت، دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۱۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اسلامی روایات میں محدث کو وہ شخص سمجھا گیا ہے جو فرشتوں کی آوازیں سنتا ہے، اس کے کان میں ندا دی جاتی ہے اور وہ اس کے دل میں اتر جاتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، قم، کتابخانه مرعشی نجفی، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق، ص۳۶۷، باب۱، حدیث۱ و ۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; دیگر کتابوں میں محدث کو وہ فرد بھی بیان کیا گیا ہے جو پیغمبر نہ ہونے   کے باوجود فرشتوں سے بات کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;امینی، عبد الحسین، الغدیر، مرکز الغدیر للداسات الاسلامیه، ج۵، ص۶۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام [[ائمہ معصومین (علیہم السلام)]] محدث تھے اور [[حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)]] بھی محدثہ تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، قم، کتابخانه مرعشی نجفی، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق، ص۳۶۷، باب۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; جیسے [[حضرت موسیٰ (علیہ السلام)]] کی والدہ پیغمبر نہ تھیں، لیکن اللہ نے ان کو وحی بھیجی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[حضرت مریم (سلام اللہ علیہا)]] بھی پیغمبر نہیں تھیں لیکن فرشتہ ان سے بات کرتا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مریم، آیات۲۶–۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== فرشتوں کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بات کرنا ==&lt;br /&gt;
کئی روایات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے محدثہ ہونے کی دلیل فراہم کرتی ہیں:&lt;br /&gt;
[[امام صادق (علیہ السلام)]] نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::&amp;quot;اس لیے فاطمہ کو محدثہ کہا گیا کیونکہ فرشتے آسمان سے نازل ہو کر، جیسے حضرت مریم سے بات کرتے تھے، ویسے ہی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بھی بات کرتے تھے&amp;quot;۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن بابویه، محمد بن علی، علل الشرائع، قم، کتابفروشی داوری، چاپ اول، ۱۳۸۵ش/ ۱۹۶۶م، ج۱، ص۱۸۲، باب۱۴۶، حدیث۱. طبری آملی صغیر، محمد بن جریر بن رستم، دلائل الإمامه، قم، بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۳ق، ص۸۰، حدیث۲۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::&amp;quot;جب [[خدا]] نے اپنے [[پیغمبر]] کی روح قبض کی، فاطمہ پر ایسا غم و اندوہ طاری ہوا کہ اس سے خدا کے سوا کوئی بھی آگاہ نہیں تھا۔ اس لئے خدا نے ان کے پاس ایک [[فرشتہ]] کو بھیجا تاکہ وہ ان کے غم و اندوہ کو کم کرے اور انہیں تسلی دے اور ان سے بات کرے&amp;quot;۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، قم، چاپ دوم، ۱۴۰۴ ق، باب۱۴، ص۱۵۷، حدیث۱۸. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ ق، ج۱، ص۲۳۸، بَابٌ فِیهِ ذِکْرُ الصَّحِیفَه وَ الْجَفْرِ وَ الْجَامِعَه وَ مُصْحَفِ فَاطِمَه، حدیث۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::&amp;quot;حضرت فاطمہ پیغمبر کے وصال کے بعد ۷۵ دن سے زیادہ زندہ نہ رہیں، اور والد کے فراق میں ہر روز ان پر جانسوز غم وارد ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے جبرئیل مسلسل ان کے پاس آتے اور انہیں والد کی وفات پر تسلیت دیتے، اور ان کے غمگین دل کو تسلی دیتے۔ کبھی وہ حضرت فاطمہ کو ان کے والد کی عظمت اور مرتبہ بتاتے، اور کبھی ان حوادث سے آگاہ کرتے جو پیغمبر کی وفات کے بعد ان کی نسل پر پیش آنے والے تھے&amp;quot;۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، قم، چاپ دوم، ۱۴۰۴ ق، باب۱۴، ص۱۵۴، حدیث۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)]] کی زیارت میں یہ الفاظ آئے ہیں: {{متن عربی|السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُحَدَّثَه الْعَلِيمَه| ترجمه=سلام ہو آپ پر، اے وہ جو فرشتوں سے بات کرتی ہیں اور بڑی دانا ہیں۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;ابن بابویه، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیه، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۷۳. طوسی، محمد بن الحسن، تهذیب الأحکام، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ ق، ج۶، ص۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مصحف فاطمہ، حضرت فاطمہ کی محدثہ ہونے کی دلیل ==&lt;br /&gt;
{{همچنین ببینید|مصحف فاطمہ}}&lt;br /&gt;
[[مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا)]] وہ کتاب ہے جس کے مضامین [[جبرئیل علیہ السلام]] نے [[پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]] کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو بتائے  اور [[امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام)]] نے انہیں تحریر کیا۔ روایات کے مطابق، اس کتاب کے وجود پر کوئی شک نہیں کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الکلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج ۱، ص ۵۹۹–۶۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی موجودگی سے متعلق روایات شیعہ کے قدیم ترین منابع میں آئی ہیں، جیسے بصائر الدرجات&amp;lt;ref&amp;gt;صفار قمی، محمد بن الحسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، تحقیق: محسن بن عباسعلی کوچه باغی، قم، مکتبة آیة الله المرعشی النجفی‏، ۱۴۰۴ق، ص ۱۷۰–۱۸۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور الکافی.&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ۱، ص ۵۹۲–۶۰۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کے فرشتے حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) سے بات کرتے تھے اور اس سے حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی محدثہ ہونے کی حقیقت ثابت ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =حدیثی معارف&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ps:د حضرت فاطمه(س) محدثه شونه]]&lt;br /&gt;
[[ar:المُحَدَّثة السيدة فاطمة (ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:Ser Muhaddiza de la Excelencia Fátima Zahra (P)]]&lt;br /&gt;
[[bn:হযরত ফাতেমা’র মুহাদ্দাসা হওয়া]]&lt;br /&gt;
[[fa:محدثه‌بودن حضرت فاطمه(س)]]&lt;br /&gt;
[[ms:Muhaddatsah (gelar)]]&lt;br /&gt;
[[en:Muhaddatha, the Title of Fatima (a)]]&lt;br /&gt;
[[ru:Мухаддаса титул Фатимы (да будет мир с ней)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=616</id>
		<title>قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام کی دعائیں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=616"/>
		<updated>2025-04-16T21:02:47Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام کی کون سی دعائیں ذکر ہوئی ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت موسی علیہ السلام کی قرآن میں&#039;&#039;&#039; موجود دعائیں مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔ مثلا [[خداوند متعال]] سے مغفرت کی درخواست، شرح صدر کی دعا، دنیا اور آخرت میں نیکی اور خیر کی دعا، ظالموں سے نجات کی درخواست، [[قرآن]] میں [[حضرت موسی علیہ السلام]] کی دعاؤں کے بعض عناوین ہیں۔ مندرجہ ذیل دعا حضرت موسی علیہ السلام سے منقول دعاؤں کا ایک فقرہ ہے {{قرآن|رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ|ترجمه=اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔|سوره=قصص|آیه=۲۴}}.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعا کے موضوعات ==&lt;br /&gt;
اپے اور کافروں کے درمیان جدائی کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مائده، آیه ۲۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور اپنے بھائی کی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره اعراف، آیه ۱۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، دنیا اور [[آخرت]] میں نیکی اور خیر کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره اعراف، آیه ۱۵۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، جابر و ظالم [[کافروں]] کی تباہی اور عذاب کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره یونس، آیه ۸۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;، شرح صدر اور کاموں میں آسانی اور زبان کی گرہوں کو دور کرنے کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره طه، آیات ۲۵ تا ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، ظالموں سے نجات کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[اللہ]] سے برکات اور انعامات کی بارش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۲۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;. [[قرآن|قرآن]] میں [[حضرت موسی علیہ السلام]] کی دعاؤں کے بعض عناوین ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب [[فرعون]] کے پاس جانے کی ذمہ داری سونپی گئی، تو آپ نے مشکلات اور سختیوں کو برداشت  کرنے کے لئے اللہ سے شرح صدر کی درخواست کی تاکہ آپ اپنی نبوت کے دوران آنے والی سخت مصیبتوں کو برداشت کرسکیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ترجمه محمدباقر بهبودی، تهران، جامعه مدرسین حوزه علمیه قم‏، ۱۳۷۴ش، ج۱۴، ص۲۰۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; حضرت موسی علیہ السلام نے شرح صدر کی دعا اور رکاوٹوں کے دور ہونے کے بعد، اللہ سے اپنی زبان کی گرہ کو کھولنے کی دعا کی۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۱ش، ج۱۳، ص۱۸۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت موسی علیہ السلام کی ایک اور دعا یہ تھی کہ اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات میں، بہت ادب اور احترام کے ساتھ پرودگار سے کہتے ہیں:&lt;br /&gt;
::«میں تیری عنایت اور احسان کا محتاج ہوں»۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۱۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر چیز اللہ سے مانگنی چاہیے)۔&amp;lt;ref&amp;gt;قرائتی، محسن، تفسیر نور، تهران، مرکز فرهنگی درس‌هایی از قرآن‏، ۱۳۸۸ش، ج۷، ص۳۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کی فہرست ==&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کردے۔|سوره= مائده| آیه= ۲۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|تب موسیٰ نے کہا۔ پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔|سوره= اعراف| آیه= ۱۵۱}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہونے کے لیے موسی نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا پھر جب ایک سخت زلزلہ نے انہیں آپکڑا (اور وہ ہلاک ہوگئے) تو موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان سب کو پہلے ہی ہلاک کر دیتا اور مجھے بھی۔ کیا تو ایسی بات کی وجہ سے جو ہمارے چند احمقوں نے کی ہے ہم سب کو ہلاک کرتا؟ یہ نہیں ہے مگر تیری طرف سے ایک آزمائش! اس کی وجہ سے تو جسے چاہتا ہے (توفیق سلب کرکے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے تو ہی ہمارا ولی و سرپرست ہے۔ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین مغفرت کرنے والا ہے۔|سوره =اعراف| آیه= ۱۵۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔|سوره =اعراف| آیه= ۱۵۶}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|اور موسی نے (دعا مانگتے ہوئے) کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں زیب و زینت (کی چیزوں) اور بہت سے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اے پروردگار! اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیرے راستہ سے بہکاتے ہیں۔ اے ہمارے مالک، ان کے مالوں کو نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں (اور اس وقت ایمان کا لانا سودمند نہ ہوگا).|سوره= یونس| آیه= ۸۸}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ فرما۔ (حوصلہ فراخ کر) اور میرے کام کو میرے لئے آسان فرما اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔ اور میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنادے۔ اس سے میری پشت کو مضبوط فرما اور اسے میرے کام میں شریک قرار دے۔ تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں۔ اور کثرت سے تجھے یاد کریں۔ یقینا تو ہمارے حالات سے بہتر باخبر ہے۔|سوره =طه|آیه= ۲۵ تا ۳۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے، تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔|سوره =قصص| آیه =۱۶}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| (پھر) موسی نے کہا اے میرے پروردگار! تونے جو مجھے اپنی نعمت سے نوازا ہے پس میں کبھی بھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔|سوره= قصص|آیه= ۱۷}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! مجھے قوم ظالم سے نجات عطا فرما۔|سوره= قصص| آیه= ۲۱}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|اور جب موسی نے (مصر سے نکل کر) مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار سیدھے راستہ کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔|سوره =قصص| آیه =۲۲}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| پس موسی نے کہا اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔|سوره =قصص| آیه= ۲۴}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآنی معارف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = دعا&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعاهای حضرت موسی در قرآن]]&lt;br /&gt;
[[es:Las súplicas del Profeta Moisés (P) en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[bn:কুরআনে হযরত মুসা (আ.)-এর দোয়া]]&lt;br /&gt;
[[ps:په قرآن کې د حضرت موسې(ع) دعاګانې]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=615</id>
		<title>قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=615"/>
		<updated>2025-04-16T21:01:47Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کون سی دعائیں ذکر ہوئی ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن میں&#039;&#039;&#039; موجود دعائیں دنیوی اور اخروی حاجتیں طلب کرنے نیز [[خدا]] سے مناجاتوں پر مشتمل ہیں۔ ان دعاؤں کو مومنوں کے لئے نمونہ اور آئیڈیل کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جن میں مومنین کو دعا کرنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ [[حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کی دعاؤں میں اپنے لئے، اپنے والدین اور مومنین کے لئے [[مغفرت کو طلب]] کیا گیا ہے؛ نیز یہ درخواست کی گئی ہے کہ انہیں صالحین (نیک لوگوں)، نمازگزاروں اور اہل بہشت میں قرار دیا جائے؛ اسی طرح حکمت، صالح فرزند اور نیک نامی کی درخواست، قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کے اہم عناوین ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کے عناوین ==&lt;br /&gt;
اپنے والد کے لئے مغفرت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۴، سوره شعراء، آیه ۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے لئے مغفرت کی درخواست اور [[کافروں]] کے لئے آزمایش کا ذریعہ نہ قرار پانے کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، صالح فرزند کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره صافات، آیه ۱۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[حکمت]] اور علم کی درخواست، اور نیک لوگوں میں شمار ہونے کی درخواست، نیک نامی کی دعا، جنت میں داخل ہونے اور آخرت میں ذلت سے بچنے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره شعراء، آیات ۸۳ تا ۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنی اولاد کے لئے رزق و روزی کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[نماز]] قائم کرنے کی دعا، اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے گناہوں، اپنے والدین کے گناہوں اور مومنین کے گناہوں کی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[خانہ کعبہ]] کے امن و امان کی دعا اور اس کے باایمان رہائشیوں کے لئے رزق کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خانہ کعبہ کی تعمیر کی قبولیت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خود کو اور اپنی نسل کو مسلمانوں میں قرار دئے جانے کی دعا، توبہ کے قبول ہونے کی درخواست، عبادت اور دینی آداب کے طریقوں کی جانب راہنمائی کی درخواست۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کی فہرست ==&lt;br /&gt;
* {{قرآن|... لِأَبِیهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ... رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ|ترجمه=؛ ۔۔۔(ابراہیمؑ نے) اپنے باپ سے یہ کہا کہ میں آپ کے لئے ضرور مغفرت مانگوں گا۔۔۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف لَوٹنا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِینَ کَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=پروردگار! ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے پروردگار! یقیناً تو غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی حُکْمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے (علم و حکمت) عطا فرما اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔ |سوره=شعرا|آیه=۸۳}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ|ترجمه=؛ اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھ ۔|سوره=شعراء|آیه=۸۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْنِی مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیمِ|ترجمه=؛ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔|سوره=شعراء|آیه=۸۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاغْفِرْ لِأَبِی إِنَّهُ کَانَ مِنَ الضَّالِّینَ|ترجمه=اور میرے باپ کی مغفرت فرما بےشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔|سوره=شعراء|آیه=۸۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَلَا تُخْزِنِی یَوْمَ یُبْعَثُونَ|ترجمه=اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔|سوره=شعراء|آیه=۸۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔|سوره=صافات|آیه=۱۰۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُونَ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس بے زراعت میدان میں آباد کیا ہے اے ہمارے مالک تاکہ (وہ یہاں) نماز قائم کریں اب تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ ان کی طرف مائل ہوں اور ان کو پھلوں سے رزق عطا فرما تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِی وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا یَخْفَیٰ عَلَی اللَّهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! بے شک جو کچھ ہم چھپاتے ہیں تو اسے بھی جانتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں اسے بھی اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ|ترجمه=ساری ستائش اللہ کے لئے ہے جس نے باوجود بڑھاپے کے مجھے اسماعیل(ع) و اسحاق(ع) (دو بیٹے) عطا فرمائے بے شک میرا پروردگار دعا کا بڑا سننے والا ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۹}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِیمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار اور میری دعا کو قبول فرما۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا (لیا جائے گا)۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۱}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ|ترجمه=اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (ع) نے کہا (دعا کی) اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو امن والا شہر بنا۔ اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ|ترجمه=اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (خانہ کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ (اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے جاتے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنا (حقیقی) مسلمان (فرمانبردار بندہ) بنائے رکھ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ (فرمانبردار امت) قرار دے۔ اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِمْ ۚ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار ان (امت مسلمہ) میں انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھیج جو انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے یقینا تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =رآنی معارف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = دعا&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعاهای حضرت ابراهیم(ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:Las súplicas del Profeta Ibrāhīm (P) en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[bn:হযরত ইব্রাহিম (আঃ)-এর দোয়াসমূহ]]&lt;br /&gt;
[[ps:د حضرت ابراهیم (ع) دعاګانې په قرآن]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81_%D8%B3%D9%82%DB%8C%D9%81%DB%81&amp;diff=614</id>
		<title>واقعہ سقیفہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81_%D8%B3%D9%82%DB%8C%D9%81%DB%81&amp;diff=614"/>
		<updated>2025-04-16T21:00:19Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
واقعہ سقیفہ کی وضاحت فرمائیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;سقیفہ بنی ساعدہ&#039;&#039;&#039; کا حادثہ، [[رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی وفات کے بعد، آپ کے جانشین کو چننے کے مقصد سے پیش آیا۔ امیرالمومنین حضرت [[امام علی علیہ السلام]] اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر ممتاز [[صحابہ]] کی غیر موجودگی میں، [[مہاجرین]] اور [[انصار]] کی ایک جماعت نے سقیفہ بنی ساعدہ میں اکھٹا ہوکر شدید اختلافات اور لڑائی جھگڑے کے بعد، [[ابو بکر]] کو خلیفہ منتخب کیا۔ اس کے فوراً بعد، انہوں نے مختلف طریقے اور حربے استعمال کرتے ہوئے دوسروں سے بیعت لی اور ابو بکر کی خلافت کو مضبوط بنایا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سقیفہ کا محل وقوع اور کارکردگی ==&lt;br /&gt;
سقیفہ بنی ساعدہ مسجد نبوی کے شمال مغرب میں واقع تھا۔ یہ چھوٹا سا ایک سایبان تھا جس میں سو سے کم افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ یہ جگہ انصار (مدینہ کے باشندے، منجملہ اوس و خزرج) کے اجتماعات کے لئے مخصوص تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسنی، علی اکبر، تاریخ تحلیلی و سیاسی اسلام از جاهلیت تا عصر اموی، نشر فرهنگ، اول، ۱۳۷۳، ص۳۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عربی زبان میں &amp;quot;سقیفہ&amp;quot; کا مطلب ایک سایہ دار جگہ یا چھت سے ڈھکا ہوا حصہ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;شهیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تهران، مرکز نشر دانشگاهی، چاپ دوم، ۶۳، ص۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سقیفہ میں نبی اکرم (ص) کے جانشین کے انتخاب کے لئے جلسہ ==&lt;br /&gt;
[[رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی وفات کے بعد، جب کہ [[امام علی علیہ السلام]] اور [[بنی ہاشم]]، پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل و کفن اور تدفین میں مصروف تھے، انصار کی ایک جماعت اور چند مہاجرین، نبی (ص) کے جانشین کو انتخاب کرنے کے لئے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سقیفہ میں اکٹھا ہونے والے لوگوں میں سے ہر ایک اپنے گروہ کو دوسروں سے زیادہ اہل سمجھ رہا تھا۔ [[انصار]] نے اپنے ایمان لانے اور رسول اکرم (ص) کی مدد و حمایت کو رسول کے جانشین بننے میں اپنی برتری کی بنیاد بنایا، جبکہ [[مہاجرین]] نے [[اسلام]] میں اپنی سبقت اور نبی اکرم (ص) کے ساتھ قرابت کو جانشینی میں تقدم کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ مہاجرین کی دلیلیں سننے کے بعد، انصار نے یہ تجویز پیش کی کہ &amp;quot;ایک امیر ہمارے درمیان سے اور ایک امیر تمہارے درمیان سے ہو&amp;quot;۔ لیکن [[ابو بکر]] نے قریش کی جانشینی پر نبی اکرم (ص) کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;شهیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تهران، مرکز نشر دانشگاهی، چاپ دوم، ۶۳، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
انصار، جو سعد بن عبادہ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے تھے ناکام ہوگئے اور آخرکارانہوں نے ابوبکر کو خلیفہ بنانے کی عمر بن خطاب کی تجویز کو قبول کرلیا اور فورا بیعت کرلی۔ وہاں موجود زیادہ تر حاضرین نے بھی ان کی پیروی کی۔ بعض محققین معتقد ہیں کہ اوس و خزرج قبیلوں کے مابین موجود دیرینہ دشمنی نے بھی مہاجرین کی رائے کے مورد قبول واقع ہونے میں کردار ادا کیا.&amp;lt;ref&amp;gt;شهیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تهران، مرکز نشر دانشگاهی، چاپ دوم، ۶۳، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لوگوں سے بیعت لیا جانا ==&lt;br /&gt;
سقیفہ سے نکلنے کے بعد، انہوں نے مختلف طریقوں اور حربوں سے دوسروں سے بیعت لی۔ امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام، صدیقہ کبری [[حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کی جانب سے ان کی مخالفت کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں اور ابوبکر کی خلافت مضبوط ہوگئی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ لوگوں کو یہ کہہ کر بیعت پر مجبور کیا گیا کہ مسلمانوں کی جماعت سے مخالفت جائز نہیں۔ نیز غاصبین خلافت نے بیعت حاصل کرنے کے لئے مغالطے، نصیحت، لالچ، دھمکیوں، قتل، دہشت پھیلانے اور احادیث کی جعل سازی جیسے مختلف ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر بہت ہی کم وقت میں زیادہ تر لوگوں سے بیعت لینے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ بیعت کرنے والوں میں سے بعض نے میل و رغبت کے ساتھ اور بعض نے ناخواستہ یا زبردستی بیعت کی۔&amp;lt;ref&amp;gt;رشاد، علی اکبر، دانشنامه امام علی(ع)، تهران، فرهنگ و اندیشه اسلامی، ۱۳۸۰، ج۸، صصص ۴۰۵ و ۴۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس انتخاب کے وقت، امام علی علیہ السلام، خاندان [[بنی ہاشم]]، [[مہاجرین]] و [[انصار]] کی بعض سرکردہ شخصیات اور  بزرگ صحابہ جیسے [[عباس بن عبدالمطلب]] نبی اکرم (ص) کے چچا، [[سلمان فارسی]]، [[مقداد]]، [[عمار]]، [[ابوذر غفاری]] اور دوسرے افراد موجود نہیں تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، خلافت میں پیدا ہونے والے اس انحراف و کجروی پر غم و غصے اور ناراض ہوتے ہوئے، قریش کی عورتوں کے جواب میں فرماتی ہیں: &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
::«میں تمہاری دنیا سے بیزار ہوں اور تم سے جدائی پر خوش ہوں کیونکہ تم نے میرے حقوق کی رعایت نہیں کی، نہ نبی اکرم (ص) سے کیا گیا عہد و پیمان اور وعدہ نبھایا، اور نہ ہی آپ کی وصیت کو قبول کیا.».&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ [[ابو بکر]] اور [[عمر]] کے ذریعہ خلافت کو غصب کرلینے سے، لوگ نبی اکرم (ص) کے [[اہل بیت (ع)]] سے دور ہوتے چلے گئے، اور اس کے برے اثرات ظاہر ہوئے؛ اگرچہ [[امام علی علیہ السلام]] اور [[آئمہ معصومین علیہم السلام]] کے موقف، اقدامات اور علمی کارکردگی نے اسلام کو مکمل انحراف سے بچا لیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسنی، علی اکبر، تاریخ تحلیلی سیاسی اسلام، نشر فرهنگ، اول، ۱۳۷۳، ص۳۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = تاریخ&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد کی حکومتیں&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ = خلفاء&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[ms:Peristiwa Saqifah]]&lt;br /&gt;
[[fa:جریان سقیفه]]&lt;br /&gt;
[[bn:সাকীফার ঘটনা]]&lt;br /&gt;
[[en:The Saqifa Incident]]&lt;br /&gt;
[[ps:دسقیفه پیښه]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%B6_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D9%86%D8%A7_%D8%AB%D9%88%D8%A7%D8%A8&amp;diff=613</id>
		<title>قرض دینے پر اٹھارہ گنا ثواب</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%B6_%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%DA%AF%D9%86%D8%A7_%D8%AB%D9%88%D8%A7%D8%A8&amp;diff=613"/>
		<updated>2025-04-16T13:51:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
وہ حدیث جو قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا بتا رہی ہے، کیا وہ صحیح حدیث ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;قرض دینے پر اٹھارہ گنا ثواب&#039;&#039;&#039; ملنے کا ذکر، ان احادیث میں بیان ہوا ہے جو &#039;&#039;[[الکافی]]&#039;&#039; اور &#039;&#039;[[تھذیب الاحکام]]&#039;&#039; جیسی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ اور ان میں سے ایک حدیث جو [[امام صادق علیہ السلام]] سے نقل ہوئی ہے، سند کے لحاظ سے معتبر ہے۔ اس حدیث کے مطابق، صدقہ دینے کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== پہلی حدیث ==&lt;br /&gt;
{{عربی|عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(ع): مَكْتُوبٌ عَلى بَابِ الْجَنَّةِ: الصَّدَقَةُ بِعَشَرَةٍ، وَ الْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ|ترجمه=؛ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے: صدقہ دینے کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔}}&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;کلینی، محمد، کافی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق، ج۴، باب القرض، ص۳۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== سند کی تحقیق ===&lt;br /&gt;
اس روایت کو [[شیخ کلینی]] نے کتاب [[الکافی]] میں [[امام صادق (ع)]] سے نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;/&amp;gt; اس حدیث کے راوی مندرجہ ذیل افراد ہیں: [[علی بن ابراہیم]]، ان کے والد، [[ابن ابی عمیر]]، [[منصور بن یونس]] اور [[اسحاق بن عمار]]۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ مجلسی]] نے &#039;&#039;[[کتاب مرآة العقول]]&#039;&#039; میں اس حدیث کی سند کو [[حدیث حَسَن|حَسَن]] یا [[حدیث مُوَثّق|مُوَثّق]] قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، مرآه العقول فی شرح اخبار آل الرسول، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دوم، ج۱۶، ص۱۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;[[شیعوں]] کے ماہر علم رجال جناب [[شیخ طوس|شیخ طوسی]] کے مطابق، اس حدیث کے ایک راوی منصور بن یونس واقفی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں،&amp;lt;ref&amp;gt;طوسی، رجال الطوسی، به تحقیق جواد قیومی اصفهانی، قم، جماعة المدرسین، ۱۳۷۳ش، ص۳۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;اگرچہ انہیں ثقہ اور قابل اعتماد راوی شمار کیا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نجاشی، رجال النجاشی، به تحقیق موسی شبیری زنجانی، قم، جماعة المدرسین، ۱۳۶۵ش، ص۴۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;لہذا یہ حدیث موثق اور معتبر ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[شیخ صدوق]] نے بھی اس حدیث کو [[کتاب من لا یحضره الفقیہ]] میں نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن بابویه، محمد، من لایحضره الفقیه، قم، جامعه مدرسین، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق، ج۲، باب ثواب القرض، ص۵۸، حدیث ۱۶۹۷ و ج۲، باب فضل الصدقه، ص۶۷، حدیث ۱۷۳۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دوسری حدیث ==&lt;br /&gt;
{{عربی|عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(ع)، قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ(ص): الصَّدَقَةُ بِعَشَرَةٍ، وَ الْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَر…|ترجمه=امام صادق علیہ السلام نے نبی گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کیا ہے: &amp;quot;صدقہ دینے کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے...}}.&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot;&amp;gt;کلینی، محمد، کافی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق، ج۴، باب الصدقه علی القرابه، ص۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== سند کی تحقیق ===&lt;br /&gt;
اس روایت کو [[شیخ کلینی]] نے اپنی &#039;&#039;[[کتاب الکافی]]&#039;&#039; میں [[امام صادق علیہ السلام]] سے اور آپ نے [[نبی گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]] سے نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس حدیث کے ایک راوی [[نوفلی]] کے بارے میں قدیم رجالی کتابوں میں نہ تو توثیق وارد ہوئی ہے اور نہ ہی تضعیف۔&amp;lt;ref&amp;gt;نجاشی، رجال النجاشی، به تحقیق موسی شبیری زنجانی، قم، جماعة المدرسین، ۱۳۶۵ش، ص۳۸؛ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، به تحقیق جواد قیومی اصفهانی، قم، جماعة المدرسین، ۱۳۷۳ش، ص۴۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; چودہویں صدی ہجری کے ماہر رجال جناب [[عبداللہ مامقانی]] کے مطابق، اگرچہ بعض ماہرین نے نوفلی کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن میں انہیں حسن کے درجے میں شمار کرتا ہوں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال فی علم الرجال، به تحقیق محی الدین مامقانی، و محمدرضا مامقانی، قم، مؤسسة آل البیت(ع) لاحیاء التراث، ۱۴۳۱ق، ص۱۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ حلی]] کے بقول، اس حدیث کے دوسرے راوی «سکونی»، [[اہل سنت]] سے تعلق رکھتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;علامه حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامة الحلی، به تصحیح محمدصادق بحرالعلوم، قم، الشریف الرضی، ۱۴۰۲ق، ص۱۹۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض علماء نے سکونی کو ثقہ جانا ہے اور ان کی روایات پر عمل کرتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;استرآبادی، محمد بن علی، منهج المقال فی تحقیق احوال الرجال، قم، مؤسسة آل البیت(ع) لاحیاء التراث، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۳۰۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; پس اس حدیث کی سند کو معتبر یا غیر معتبر ماننا، رجالی نظریہ پر موقوف ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ مجلسی]] نے اپنی کتابوں &#039;&#039;[[مرآة العقول]]&#039;&#039;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، مرآه العقول فی شرح اخبار آل الرسول، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دوم، ج۱۶، ص۱۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور &#039;&#039;[[کتاب ملاذ الأخیار|ملاذ الأخیار]]&#039;&#039;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، ملاذ الاخیار فی فهم تهذیب الاخبار، قم، کتابخانه مرعشی نجفی، چاپ اول، ج۶، ص۲۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیخ طوسی نے بھی اپنی &#039;&#039;[[کتاب تہذیب الأحکام]]&#039;&#039; میں اس حدیث کو اسی سلسلہ سند کے ساتھ شیخ کلینی سے نقل کیا ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;lt;ref&amp;gt;طوسی، محمد، تهذیب الاحکام، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق، ج۴، باب۲۹ باب الزیادات فی الزکاه، ص۱۰۶، حدیث۳۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =مآخذ شناسی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:ثواب هجده برابری قرض دادن]]&lt;br /&gt;
[[ps:د قرض ورکولو اتلس چنده ثواب]]&lt;br /&gt;
[[es:La recompensa dieciocho veces mayor por prestar]]&lt;br /&gt;
[[bn:ঋণ প্রদানের আঠারো গুণ সাওয়াব]]&lt;br /&gt;
[[ms:Pahala 18 Kali Lipat Bagi Pemberi Pinjaman]]&lt;br /&gt;
[[en:The Eighteen-Fold Reward of Giving Loans]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%DA%BA(%D8%B3%DB%8C%D8%A6%D8%A7%D8%AA)_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA(%D8%AD%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%AA)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=612</id>
		<title>برائیوں(سیئات) کا نیکیوں(حسنات) میں تبدیل ہونا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%88%DA%BA(%D8%B3%DB%8C%D8%A6%D8%A7%D8%AA)_%DA%A9%D8%A7_%D9%86%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA(%D8%AD%D8%B3%D9%86%D8%A7%D8%AA)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=612"/>
		<updated>2025-04-15T16:31:15Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
برائیوں کا نیکیوں میں تبدیل ہونا، اس سے قرآن میں کیا مراد ہے؟ &lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;برائیوں کا نیکیوں میں تبدیل ہونا&#039;&#039;&#039; ایک ایسا [[قرآنی]] تصور ہے  جس کے مطابق، مومن بندہ ایمان اور توبہ کی شرط کے ساتھ، اپنے نیک اور اچھے اعمال نیز عبادت و اطاعت الہی کے ذریعے، اپنی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ اسی طرح اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اچھائیوں اور خوبیوں کے ذریعے گناہ اور ان کے اثرات معاف کردئے جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سیئات اور حسنات کا معنی ==&lt;br /&gt;
قرآنی آیات کے مطابق، &#039;&#039;سیئات&#039;&#039; وہ [[گناہ]] ہیں جنہیں پروردگار اپنے بندوں کے نیک اعمال کے ذریعہ معاف کر دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۳، ص۲۲۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[علامہ طباطبائی]] فرماتے ہیں کہ [[قرآن]] میں &#039;&#039;سیئات&#039;&#039; سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۴، ص ۱۳۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[سورہ آل عمران]] کی آیت 193 میں ذکر ہوا ہے: {{قرآن|فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا|ترجمه=ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرما.|سوره=آل عمران|آیه=۱۹۳}}، یہاں &#039;&#039;سیئات&#039;&#039; کو گناہوں سے علیحدہ بیان کیا گیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سیئات سے مراد بری خصلتیں اور برے اعمال ہیں۔ اسی طرح تمام آیات کو مدنظر قرار دینے سے پتہ چلتا ہے کہ &#039;&#039;سیئات&#039;&#039;، [[گناہ]]&amp;lt;ref&amp;gt;سوره عنکبوت، آیه ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے اثرات کے معنی میں بھی ہے، جس کا نتیجہ [[اخروی عذاب]] ہے اور اسی طرح برے اعمال کے معنی میں بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مفسرین نے &#039;&#039;ذنوب&#039;&#039; (گناہوں) اور &#039;&#039;سیئات&#039;&#039; (برائیوں) کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ &#039;&#039;ذنوب&#039;&#039; وہ گناہ ہیں جو خود طاقتوں کی صورت میں کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں اور [[آخرت]] میں مجسم ہوں گے۔ اور &#039;&#039;سیئات&#039;&#039; ان گناہوں کے نتائج ہیں، جیسے دلوں کا سیاہ ہونا، آبرو کا جانا اور دنیاوی عذاب میں مبتلا ہونا۔&amp;lt;ref&amp;gt;قرشی، علی اکبر، قاموس قرآن، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ ششم، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۱۱۰&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ &amp;quot;سیئات&amp;quot; سے مراد برے اعمال نہیں ہیں بلکہ وہ برے اثرات ہیں جو اس کے ذریعہ روح و نفس پر مترتب ہوتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج۱۵، ص۱۶۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سیئات کو حسنات میں تبدیل کرنا ==&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حسنات (نیکیوں) کو انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ سیئات (برائیاں) مٹ سکیں: {{قرآن|إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ|ترجمه= بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں|سوره=هود|آیه=۱۱۴}}۔ [[علامہ طباطبائی]] اس آیت کریمہ کے ذیل میں رقمطراز ہیں: کہ [[نماز]] دل میں گناہوں کے اثرات کو مٹا دیتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، المیزان، ج۱۱، ص۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیات میں &#039;&#039;حسنات&#039;&#039; سے مراد تمام اچھائیاں اور خوبیاں ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سید بن قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، دار الشروق، چاپ سی و پنجم، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۱۹۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; نماز کے علاوہ [[سورہ آل عمران]] کی آیت 195 میں ہجرت، [[خدا]] کے راستے میں تکلیفیں اٹھانا اور شہادت بھی وہ اعمال ہیں جن کی وجہ سے خداوند متعال سیئات کو مٹا دیتا ہے۔ ایک اور مقام پر [[کبیرہ گناہ]] سے بچنا بھی سیئات کو مٹانے کا باعث بنتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره نساء، آیه ۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;[[تفسیر مجمع البیان]]&#039;&#039; میں [[سورہ الفرقان]] کی آیت 70 کے ذیل میں ایک روایت ذکر ہوئی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ دراصل سیئات کو حسنات میں تبدیل کرنے کا معنی یہ ہے کہ پروردگار عالم بندے کے گناہ کو مٹا کر اس کی جگہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، فضل بن الحسن، مجمع البیان، ترجمه: گروهی از مترجمان، تهران، فراهانی، چاپ اول، بی‌تا، ج۱۷، ص۲۲۶&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سیئات کو حسنات میں تبدیل کرنے کے معنی کے سلسلے سے اور بھی احتمالات ذکر ہوئے ہیں، جیسے کہ پروردگار عالم، [[توبہ]] کے ذریعے گذشتہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور اللہ انسان کی بری خصلتوں کو اچھی خصلتوں میں بدل دیتا ہے، یا یہ کہ اس سے مراد [[عقاب]] اور ثواب ہے۔ تاہم علامہ طباطبائی معتقد ہیں کہ آیات کا ظاہری معنی یہ ہے کہ گناہ نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، المیزان، ج۱۵، ص۳۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[سورہ الرعد]] کی 22 ویں آیت کریمہ اور [[سورہ قصص]] کی 54 ویں آیت میں سیئات کا حسنات میں تبدیل ہونا دو معنی میں استعمال ہوا ہے: &lt;br /&gt;
# خود انسان کی برائی کا اچھائی میں بدل جانا، &lt;br /&gt;
# دوسروں کی برائی کا نیکی سے جواب دینا، اچھائی میں بدل دینا: {{قرآن|وَیَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ|ترجمه=اور وہ برائی کو اچھائی سے دفع کرتے ہیں.|سوره=رعد|آیه=۲۲}}۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن]] میں سیئات (برائیوں) کو حسنات (نیکیوں) سے تبدیل کرنے کا یہ مفہوم، ظاہر کرتا ہے کہ انسان اپنے اچھے اور [[نیک اعمال]] کے ذریعہ اپنی گذشتہ برائیوں کا ازالہ کرتا ہے اور اس بلندی کے سفر کے ذریعہ، ایک برے انسان سے پاک اور باتقوا انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پروردگار عالم اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، عذاب کو اس سے اٹھا لیتا ہے اور اسے نیک بدلہ دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =قرآن میں اخلاقیات&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:تبدیل سیئات به حسنات]]&lt;br /&gt;
[[ar:تبديل السيئات إلى حسنات]]&lt;br /&gt;
[[bn:মন্দকে ভালোয় রূপান্তর]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90_%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C_(%D8%B5)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA&amp;diff=611</id>
		<title>عہدِ نبوی (ص) میں قرآن کی حفاظت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90_%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C_(%D8%B5)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA&amp;diff=611"/>
		<updated>2025-04-15T16:30:14Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
نبی اکرم (ص) نے اپنی زندگی ہی میں قرآن کریم کی کتابت کا کام کیوں مکمل نہیں کرلیا تاکہ اس میں کوئی اختلاف رائے نہ باقی رہتا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے [[قرآن کریم]] کو محفوظ کرنے اور اس کی حفاظت کے لئے اپنی زندگی ہی میں متعدد اقدامات انجام دئے۔ اپنے بعض صحابہ کے ساتھ مل کر قرآن کی آیات کو حفظ کرنے کا کام انجام دیا۔ اسی طرح قرآن کے متن کو محفوظ کرنے کے لئے آپ نے کاتبین وحی کو آیات لکھنے کا حکم دیا، جن میں سرفہرست [[امام علی علیہ السلام]] تھے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں لکھا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو جو مختلف کاغذوں پر لکھا ہوا تھا، ایک جگہ جمع کریں تاکہ قرآن [[تورات]] کی طرح ضائع نہ ہو جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن کو حفظ کرنے کا حکم ==&lt;br /&gt;
[[ابن عباس]] کہتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«جب [[جبرائیل]] [[وحی]] کو [[پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] پر نازل کرتے تو آپ اسے بھول نہ جائیں اس لئے اس کی تلاوت فرماتے تھے...»۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، فضل بن الحسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۶، ص۱۲۷؛ نگاه کنید به سوره قیامت، آیات۱۶–۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن کریم]] کے نزول کے آغاز میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عزیز ساتھیوں کے قوی حافظے اور تشویق و ترغیب سے مدد لیتے ہوئے قرآن کریم کو حفظ کرنے کی ترغیب دلائی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صرف حافظوں میں قرآن کریم کو محفوظ کرنے لینے پر اعتماد، قرآن کی حفاظت کا اطمینان فراہم نہیں کر سکتا تھا، اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے چند تعلیم یافتہ افراد سے درخواست کی کہ وہ قرآن کریم کو احتیاط کے ساتھ لکھیں اور اسے محفوظ کریں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن کی کتابت ==&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر قرآن کریم کو محفوظ کرنے اور اس کی حفاظت کے لئے اس کی آیات کو حفظ کرنے کا اہتمام کیا۔ نیز، قرآنی آیات کو محفوظ کرنے کے لئے، اپنے اور دوسروں کے حافظے سے استفادہ کرنے کے علاوہ، آپ نے قرآن کے کاتبوں (کاتبان وحی) کو حکم دیا کہ وہ قرآن کریم کو لکھیں، جن میں [[امام علی علیہ السلام]] سرفہرست تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمد هادی، التمهید فی علوم القرآن.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علی بن ابی طالب علیہ السلام [[کاتبان وحی]] میں سب سے ممتاز اور سرفہرست تھے، جبکہ [[ابوبکر]]، [[عمر بن خطاب]]، [[عثمان]]، [[زید بن ثابت]]، [[اُبی بن کعب]]، [[حنظلة بن ربیع]]، ثابت بن قیس اور دیگر حضرات [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے زمانے میں [[قرآن کریم]] کے مشہور کاتب تھے۔ حتیٰ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بعض افراد جیسے [[عبداللہ بن مسعود]]، اُبی بن کعب، مقداد وغیرہ نے صحیفے لکھے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به صبحی صالح، مباحث فی علوم القرآن، ص۱۰۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی جمع اور مرتب ہو گیا تھا۔ کاتبان وحی آیات کو مسلسل لکھتے تھے۔ [[امام صادق علیہ السلام]] فرماتے ہیں: {{عربی|کان یعرف انقضاء السوره بنزول بسم الله الرحمن الرحیم.|ترجمه=سورت کے اختتام کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نزول سے جو اگلی سورت کے آغاز میں نازل ہوتی تھی پہچانا جاتا تھا۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۸۹، ص۲۳۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; پس قرآن کریم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے لکھا جاتا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[آیت اللہ خوئی]] لکھتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کریم آپ کے زمانے میں ہی جمع اور مرتب ہو گیا تھا.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;خوئی، ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، ص۲۵۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[آیت اللہ معرفت]] بھی رقمطراز ہیں: &lt;br /&gt;
::«قرآن کا موجودہ شکل میں جمع اور ترتیب ہونا ایک ہی وقت میں انجام نہیں پایا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف افراد اور گروہوں کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہونچا ہے۔ سورتوں کی ترتیب، نظم اور آیات کی تعداد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اور آپ کے حکم سے انجام پائی، اور یہ توقیفی امر ہے، جسے تعبداً قبول کرنا چاہیے.».&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمدهادی، علوم قرآنی، ص۱۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیت الله معرفت نیز می‌گوید: «جمع و تألیف قرآن به شکل کنونی در یک زمان صورت نگرفته، بلکه به مرور زمان و به دست افراد و گروه‌های مختلف انجام شده است. ترتیب، نظم و عدد آیات در هر سوره در زمان حیات پیامبر اکرم(ص) و با دستور آن بزرگوار انجام شده و توقیفی است و باید آن را تعبداً پذیرفت».&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمدهادی، علوم قرآنی، ص۱۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== امام علی علیہ السلام کو جمع آوری شدہ قرآن کریم کی ترتیب و تدوین کا کام سونپا گیا ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|قرآن کے مرتب امام علی علیہ السلام}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اور آپ کے حکم سے قرآن کریم [[کاتبان وحی]] کے ذریعہ مختلف اشیاء پر لکھا گیا تھا، اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پر حضرت علی علیہ السلام نے ترتیب و تدوین کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ [[امام صادق علیہ السلام]] فرماتے ہیں: کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: {{متن عربی|يَا عَلِيُّ الْقُرْآنُ خَلْفَ‌ فِرَاشِي‌ فِي الصُّحُفِ وَ الْقَرَاطِيسِ فَخُذُوهُ وَ اجْمَعُوهُ وَ لَا تُضَيِّعُوهُ كَمَا ضَيَّعَتِ الْيَهُودُ التَّوْرَاةَ.|ترجمه=اے علی! یہ قرآن میرے بستر کے پیچھے صحیفوں اور کاغذوں کے درمیان رکھا ہوا ہے، اسے جمع کرو اور اسے اس طرح ضائع مت ہونے دو جس طرح یہودیوں نے تورات کو ضائع کر دیا۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجللسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۸۹، ص۴۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآن کی تالیف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:نگهداری از قرآن در عصر پیامبر(ص)]]&lt;br /&gt;
[[en:Preservation of the Quran During the Prophet&#039;s Era]]&lt;br /&gt;
[[ru:Сохранение Корана во времена Пророка (С)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90_%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C_(%D8%B5)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA&amp;diff=610</id>
		<title>عہدِ نبوی (ص) میں قرآن کی حفاظت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90_%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C_(%D8%B5)_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%8C_%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA&amp;diff=610"/>
		<updated>2025-04-15T16:29:51Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
نبی اکرم (ص) نے اپنی زندگی ہی میں قرآن کریم کی کتابت کا کام کیوں مکمل نہیں کرلیا تاکہ اس میں کوئی اختلاف رائے نہ باقی رہتا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے [[قرآن کریم]] کو محفوظ کرنے اور اس کی حفاظت کے لئے اپنی زندگی ہی میں متعدد اقدامات انجام دئے۔ اپنے بعض صحابہ کے ساتھ مل کر قرآن کی آیات کو حفظ کرنے کا کام انجام دیا۔ اسی طرح قرآن کے متن کو محفوظ کرنے کے لئے آپ نے کاتبین وحی کو آیات لکھنے کا حکم دیا، جن میں سرفہرست [[امام علی علیہ السلام]] تھے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں لکھا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو جو مختلف کاغذوں پر لکھا ہوا تھا، ایک جگہ جمع کریں تاکہ قرآن [[تورات]] کی طرح ضائع نہ ہو جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن کو حفظ کرنے کا حکم ==&lt;br /&gt;
[[ابن عباس]] کہتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«جب [[جبرائیل]] [[وحی]] کو [[پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] پر نازل کرتے تو آپ اسے بھول نہ جائیں اس لئے اس کی تلاوت فرماتے تھے...»۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، فضل بن الحسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۶، ص۱۲۷؛ نگاه کنید به سوره قیامت، آیات۱۶–۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن کریم]] کے نزول کے آغاز میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عزیز ساتھیوں کے قوی حافظے اور تشویق و ترغیب سے مدد لیتے ہوئے قرآن کریم کو حفظ کرنے کی ترغیب دلائی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صرف حافظوں میں قرآن کریم کو محفوظ کرنے لینے پر اعتماد، قرآن کی حفاظت کا اطمینان فراہم نہیں کر سکتا تھا، اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے چند تعلیم یافتہ افراد سے درخواست کی کہ وہ قرآن کریم کو احتیاط کے ساتھ لکھیں اور اسے محفوظ کریں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن کی کتابت ==&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر قرآن کریم کو محفوظ کرنے اور اس کی حفاظت کے لئے اس کی آیات کو حفظ کرنے کا اہتمام کیا۔ نیز، قرآنی آیات کو محفوظ کرنے کے لئے، اپنے اور دوسروں کے حافظے سے استفادہ کرنے کے علاوہ، آپ نے قرآن کے کاتبوں (کاتبان وحی) کو حکم دیا کہ وہ قرآن کریم کو لکھیں، جن میں [[امام علی علیہ السلام]] سرفہرست تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمد هادی، التمهید فی علوم القرآن.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علی بن ابی طالب علیہ السلام [[کاتبان وحی]] میں سب سے ممتاز اور سرفہرست تھے، جبکہ [[ابوبکر]]، [[عمر بن خطاب]]، [[عثمان]]، [[زید بن ثابت]]، [[اُبی بن کعب]]، [[حنظلة بن ربیع]]، ثابت بن قیس اور دیگر حضرات [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے زمانے میں [[قرآن کریم]] کے مشہور کاتب تھے۔ حتیٰ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بعض افراد جیسے [[عبداللہ بن مسعود]]، اُبی بن کعب، مقداد وغیرہ نے صحیفے لکھے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به صبحی صالح، مباحث فی علوم القرآن، ص۱۰۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی جمع اور مرتب ہو گیا تھا۔ کاتبان وحی آیات کو مسلسل لکھتے تھے۔ [[امام صادق علیہ السلام]] فرماتے ہیں: {{عربی|کان یعرف انقضاء السوره بنزول بسم الله الرحمن الرحیم.|ترجمه=سورت کے اختتام کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نزول سے جو اگلی سورت کے آغاز میں نازل ہوتی تھی پہچانا جاتا تھا۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج۸۹، ص۲۳۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; پس قرآن کریم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے لکھا جاتا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[آیت اللہ خوئی]] لکھتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کریم آپ کے زمانے میں ہی جمع اور مرتب ہو گیا تھا.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;خوئی، ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، ص۲۵۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[آیت اللہ معرفت]] بھی رقمطراز ہیں: &lt;br /&gt;
::«قرآن کا موجودہ شکل میں جمع اور ترتیب ہونا ایک ہی وقت میں انجام نہیں پایا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف افراد اور گروہوں کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہونچا ہے۔ سورتوں کی ترتیب، نظم اور آیات کی تعداد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اور آپ کے حکم سے انجام پائی، اور یہ توقیفی امر ہے، جسے تعبداً قبول کرنا چاہیے.».&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمدهادی، علوم قرآنی، ص۱۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیت الله معرفت نیز می‌گوید: «جمع و تألیف قرآن به شکل کنونی در یک زمان صورت نگرفته، بلکه به مرور زمان و به دست افراد و گروه‌های مختلف انجام شده است. ترتیب، نظم و عدد آیات در هر سوره در زمان حیات پیامبر اکرم(ص) و با دستور آن بزرگوار انجام شده و توقیفی است و باید آن را تعبداً پذیرفت».&amp;lt;ref&amp;gt;نگاه کنید به معرفت، محمدهادی، علوم قرآنی، ص۱۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== امام علی علیہ السلام کو جمع آوری شدہ قرآن کریم کی ترتیب و تدوین کا کام سونپا گیا ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|قرآن کے مرتب امام علی علیہ السلام}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اور آپ کے حکم سے قرآن کریم [[کاتبان وحی]] کے ذریعہ مختلف اشیاء پر لکھا گیا تھا، اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پر حضرت علی علیہ السلام نے ترتیب و تدوین کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ [[امام صادق علیہ السلام]] فرماتے ہیں: کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: {{متن عربی|يَا عَلِيُّ الْقُرْآنُ خَلْفَ‌ فِرَاشِي‌ فِي الصُّحُفِ وَ الْقَرَاطِيسِ فَخُذُوهُ وَ اجْمَعُوهُ وَ لَا تُضَيِّعُوهُ كَمَا ضَيَّعَتِ الْيَهُودُ التَّوْرَاةَ.|ترجمه=اے علی! یہ قرآن میرے بستر کے پیچھے صحیفوں اور کاغذوں کے درمیان رکھا ہوا ہے، اسے جمع کرو اور اسے اس طرح ضائع مت ہونے دو جس طرح یہودیوں نے تورات کو ضائع کر دیا۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجللسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۸۹، ص۴۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{تدوین قرآن}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآن کی تالیف&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:نگهداری از قرآن در عصر پیامبر(ص)]]&lt;br /&gt;
[[en:Preservation of the Quran During the Prophet&#039;s Era]]&lt;br /&gt;
[[ru:Сохранение Корана во времена Пророка (С)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D9%86%D8%AA%D9%87%DB%8C%E2%80%8C%D8%A7%D9%84%D8%A2%D9%85%D8%A7%D9%84&amp;diff=609</id>
		<title>منتهی‌الآمال</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D9%86%D8%AA%D9%87%DB%8C%E2%80%8C%D8%A7%D9%84%D8%A2%D9%85%D8%A7%D9%84&amp;diff=609"/>
		<updated>2025-04-15T16:28:00Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
منتھی الآمال کتاب کا مصنف کون ہے اور اس کا موضوع اور مواد کیا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[فائل:منتهی الآمال.jpg|تصغیر|کتاب منتهی‌الآمال فی ذکر تواریخ النبی و الآل]]&lt;br /&gt;
کتاب کا مکمل نام ہے &#039;&#039;&#039;منتهی‌الآمال فی ذکر تواریخ النبی و الآل&#039;&#039;&#039; یہ فارسی زبان میں چودہ [[معصومین علیہم السلام]] کی زندگی پر مشتمل ایک کتاب ہے، جسے محقق اور محدث [[شیخ عباس قمی]] رح (۱۲۹۴-۱۳۵۹ ھ۔ق) نے تحریر فرمایا ہے۔ شیخ عباس قمی نے اس کتاب میں معصومین علیہم السلام کی زندگی کے واقعات اور ان کی اخلاقی سیرت کو بیان کیا ہے۔ اس کے مباحث مختصر اور مستند ہیں اور زبان نہایت سلیس ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ کتاب اپنی تصنیف کے زمانہ (۱۳۵۰ ھ۔ق) سے لے کر آج تک متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے اور مختلف زبانوں جیسے عربی اور اردو میں اس کا ترجمہ بھی ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مصنف ==&lt;br /&gt;
[[شیخ عباس قمی]] ۱۲۹۴ ھ۔ق (۱۸۷۵ عیسوی) میں [[قم المقدسہ]] ایران میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم قم میں حاصل کی اور پھر اعلی دینی تعلیم کے لئے ۱۳۱۶ ھ۔ق۔ میں [[نجف اشرف]] عراق چلے گئے۔ نجف میں آپ کے اساتذہ میں آیہ اللہ [[محمد کاظم یزدی]] صاحب &#039;&#039;[[العروة الوثقی]]&#039;&#039;، آیہ اللہ [[میرزا حسین نوری]]، آیہ اللہ [[محمد تقی شیرازی]]، اور آیہ اللہ [[سید حسن صدر کاظمی]] جیسی نامور شخصیات شامل تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ادهم‌نژاد، محمدتقی، «حاج شیخ عباس قمی، حدیث نجابت»، مبلغان، شماره ۸۸، ۱۳۸۵ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیخ عباس قمی ایک بہت ہی متحرک عالم دین تھے اور آپ نے تاریخ، [[رجال]]، [[تراجم]]، [[قرآنیات]]، [[اخلاق]]، دعاؤں اور دیگر دینی علوم پر متعدد کتابیں لکھیں۔ آپ کی تصنیفات کی تعداد ۶۰ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کوشکی، فرشته، «بررسی و نقد کتاب منتهی‌الآمال نوشته شیخ عباس قمی»، تاریخنامه اسلام، سال دوم، شماره ۲، پاییز و زمستان ۱۳۹۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; شیخ عباس قمی نے ۱۳۵۹ ھ۔ق۔ میں ۶۵ سال کی عمر میں نجف میں وفات پائی اور [[حرم امام علی علیہ السلام]] میں اپنے استاد [[محدث نوری]] کے جوار میں دفن ہوئے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ادهم‌نژاد، «حاج شیخ عباس قمی، حدیث نجابت۲»، مبلغان، شماره ۹۰، ۱۳۸۶ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== کتاب کا تعارف اور مواد ==&lt;br /&gt;
کتاب &amp;quot;منتهی‌الآمال&amp;quot; [[پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] اور آپ کے خاندان کے حالات زندگی کے بارے میں تصنیف کی گئی ہے اور اسے اس موضوع پر لکھی گئی بہترین اور دستاویزی کتابوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ محدث قمی نے اس کتاب میں معتبر مصادر اور مآخذ سے استفادہ کیا ہے۔ [[شیخ عباس قمی]] نے اس کتاب کو عام قارئین کے لئے زیادہ پرکشش بنانے کے لئے کتاب میں شعراء کے اشعار نیز لغت، نحو، صرف، نسب نامہ اور تاریخی جغرافیہ کے شعبوں میں علماء کی کاوشوں کو بھی شامل کیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot;منتهی‌الآمال&amp;quot; کی زبان نہایت سلیس اور اپنے زمانے کے مطابق ہے اگرچہ دوسری کتابوں کے مقابلے میں اس میں نئے پہلو بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی شیعہ علماء کی توجہات کا مرکز بنی رہی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;«منتهی الآمال»، پگاه حوزه، شماره ۲۹۰، ۱۳۷۶ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منتھی الآمال کتاب، قاجار دور کے اواخر اور پہلوی دور کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت، مصنف کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے اخلاقی پہلوؤں پر توجہ دینا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کوشکی، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی».&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{| class=&amp;quot;wikitable&amp;quot;&lt;br /&gt;
|+ منتھی الآمال کا مواد&lt;br /&gt;
! جلد اول!! جلد دوم!! جلد تین&lt;br /&gt;
|-&lt;br /&gt;
| پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کی تاریخ [[امام حسن (ع)]] تک || زندگی [[امام حسین (ع)]] سے [[امام صادق (ع)]]] || ساتویں امام (ع) سے بارہویں امام (ع) کی زندگی کی تاریخ&lt;br /&gt;
|}&lt;br /&gt;
شیخ عباس قمی نے اس کتاب کی تالیف میں &#039;&#039;[[الکافی]]&#039;&#039; [[کلینی]]، &#039;&#039;[[الارشاد]]&#039;&#039; [[شیخ مفید]]، &#039;&#039;[[عیون اخبار الرضا]]&#039;&#039; [[شیخ صدوق]]، &#039;&#039;[[رجال کشی]]&#039;&#039;، &#039;&#039;[[الخرائج والجرائح]]&#039;&#039; راوندی، &#039;&#039;[[بحار الانوار]]&#039;&#039; اور &#039;&#039;[[جلاء العیون]]&#039;&#039; [[علامہ مجلسی]]، نیز &#039;&#039;[[نجم الثاقب]]&#039;&#039; [[محدث نوری]] جیسے مصادر اور کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کوشکی، فرشته، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی»، تاریخنامه اسلام سال دوم پاییز و زمستان ۱۳۹۹، شماره ۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== کتاب کی اشاعت ===&lt;br /&gt;
کتاب &#039;&#039;منتهی‌الآمال&#039;&#039; اپنی تصنیف کے وقت (۱۳۵۰ ھ۔ق) سے لے کر آج تک مختلف اشاعتی اداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔ عربی اور اردو جیسی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکی ہے۔ یہ کتاب ہمیشہ سے عام قارئین اور محققین دونوں کے درمیان مقبول رہی ہے۔ یہ کتاب مصنف کی زندگی ہی میں بارہا شائع ہوئی اور آپ کے ذریعہ اس کی نظر ثانی اور تصحیح انجام پائی۔&amp;lt;ref&amp;gt;«منتهی الآمال»، پگاه حوزه، شماره ۲۹۰، ۱۳۷۶ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ کتاب ناصر باقری بیدہندی کی تحقیق کے ساتھ &amp;quot;دلیل ما&amp;quot; اشاعتی ادارے کی جانب سے ۱۳۷۹ ھ۔ش۔ میں تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس سے قبل یہ کتاب ۱۳۷۱ ھ۔ش۔ میں سید ابوالحسن مرتضوی کورانی اصفہانی کی تصحیح کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ ایک اور ایڈیشن &amp;quot;ہجرت&amp;quot; اشاعتی ادارے کی جانب سے ۱۳۷۴ ھ۔ش۔ میں قم میں دو جلدوں میں منظر عام پر آیا۔ اسی طرح &amp;quot;اسلامیہ&amp;quot; اشاعتی ادارے کی جانب سے یہ کتاب ایک جلد میں بھی شائع ہوئی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کوشکی، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی».&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =تاریخ&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =معصومین کی تاریخ اور سیرت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =مشترکہ سیرت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:منتهی‌الآمال]]&lt;br /&gt;
[[ru:Мунтахаль Аамаль (книга)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%91%D9%B0%D9%87%D9%8F%D9%85%D9%8E%D9%91_%D9%83%D9%8F%D9%86%D9%92_%D9%84%D9%90%D9%88%D9%8E%D9%84%D9%90%D9%8A%D9%90%D9%91%D9%83%D9%8E&amp;diff=608</id>
		<title>دعائے اللّٰهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%91%D9%B0%D9%87%D9%8F%D9%85%D9%8E%D9%91_%D9%83%D9%8F%D9%86%D9%92_%D9%84%D9%90%D9%88%D9%8E%D9%84%D9%90%D9%8A%D9%90%D9%91%D9%83%D9%8E&amp;diff=608"/>
		<updated>2025-04-15T16:23:06Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا دعائے «اللّٰهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ» کی سند معتبر ہے؟ یہ دعا کس امام معصوم (ع) سے نقل ہوئی ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;دعائے اللّٰهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ&#039;&#039;&#039;، جو دعائے فرج اور دعائے سلامتی [[امام زمانہ (عج)]] کے نام سے مشہور ہے، [[شیعوں]] کی معتبر حدیثی کتابوں جیسے کہ &#039;&#039;[[کتاب الکافی|الکافی]]&#039;&#039; اور &#039;&#039;[[کتاب تھذیب الاحکام|تھذیب الاحکام]]&#039;&#039; میں نقل ہوئی ہے۔ اس دعا میں [[خداوند متعال]] سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ امام مہدی (عج) کا سرپست، نگہبان، مددگار، اور رہنما ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کتابوں میں یہ روایت، [[معصوم (ع)]] سے نقل ہوئی ہے، لیکن یہ دعا کس معصوم سے ہے یہ روشن نہیں ہے۔ اس دعا کے سلسلہ سند میں پائے جانے والے ایک راوی کی وثاقت کے سلسلے سے [[علم رجال]] کے ماہر علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے ثقہ اور قابل اعتماد قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے ضعیف اور غیر قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعا کا متن اور اس کا ترجمہ ==&lt;br /&gt;
{{دعا|اللّٰهُمَّ کُنْ لِوَلِیِّکَ الحُجَّةِ بْنِ الحَسَنِ فِی هٰذِهِ السَّاعَةِ وَفی کُلِّ ساعَةٍ وَلِیّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَلِیلاً وَعَیْناً حَتَّیٰ تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فِیها طَوِیلاً.&amp;lt;ref&amp;gt;الطوسی، محمد بن حسن، التهذیب الاحکام، تهران، دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۶۵ش، ج ۳، ص۱۰۲ ، ح ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;|ترجمه =اے اللہ! اپنے ولی، حجت ابن الحسن کے لئے — کہ تیری برکتیں ان پر اور ان کے اجداد پر ہوں — اس وقت اور ہر وقت، سرپرست، محافظ، پیشوا، مددگار، رہنما اور نگران بن جا۔ یہاں تک کہ تو انہیں رغبت کے ساتھ اپنی زمین میں ساکن فرما اور انہیں اس میں ایک لمبے عرصے تک بہرہ مند فرما۔&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==دعا کی سند کا جائزہ ==&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|دعا کی سند اللهم کن لولیک}}&lt;br /&gt;
&amp;quot;اللهم کن لولیّک&amp;quot; دعا، بعض الفاظ کے اختلاف کے ساتھ، &#039;&#039;[[کتاب الکافی|الکافی]]&#039;&#039;&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;الکلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۶۵ش، ج ۴، ص ۱۶۲، ح ۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور &#039;&#039;[[کتاب تھذیب الاحکام|تھذیب الاحکام]]&#039;&#039;&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot;&amp;gt;الطوسی، محمد بن حسن، التهذیب الاحکام، تهران، دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۶۵ش، ج ۳، ص۱۰۲ ، ح ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; جیسی شیعوں کی کتب اربعہ میں شمار ہونے والی کتابوں میں، [[۲۳ رمضان]] کی شب والے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس دعا کو دوسرے اوقات میں بھی پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان دونوں کتابوں میں اس دعا کی سلسلہ سند میں محمد بن عیسیٰ بن عبید بن یقطین کا نام بھی ملتا ہے۔ بعض شیعہ ماہرین [[علم رجال]] نے اس شخص کو ضعیف قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الطوسی، محمد بن الحسن، الفهرست، تحقيق الشيخ جواد القيومی، قم، مؤسسة النشر الفقاهة، ۱۴۱۷، ص ۲۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی]]، جو ایک مرجع تقلید اور علم الرجال کے ماہر [[شیعہ]] عالم تھے، آپ نے اسے ثقہ اور قابل اعتماد قرار دیا ہے نیز اس کو ضعیف قرار دینے والی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الخوئی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواة، قم، مرکز النشر آثار الشیعه، ج ۱۷، ص ۱۱۳-۱۲۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس حدیث کے سلسلہ سند میں اس امام کا نام ذکر نہیں ہوا ہے جن سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ البتہ اس کے بجائے کتاب الکافی میں &amp;quot;صالحین&amp;quot;&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot; /&amp;gt; اور کتاب تھذیب الاحکام میں&amp;quot;صادقین&amp;quot;&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot; /&amp;gt; کی تعبیر کا استعمال کیا گیا ہے۔ [[علم حدیث]] کے ماہر علماء کے مطابق روایات میں یہ تعبیر صرف آئمہ علیہم السلام کے لئے استعمال ہوتی ہے؛ لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس [[امام]] سے منقول ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[سید بن طاووس]] اپنی &#039;&#039;[[کتاب إقبال الاعمال]]&#039;&#039; میں معتقد ہیں کہ اس دعا کے مختلف اسناد پائے جاتے ہیں۔ آپ نے &#039;&#039;الکافی&#039;&#039; اور &#039;&#039;تھذیب الاحکام&#039;&#039; میں ذکر شدہ سند کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌الطاووس، رضی‌الدین علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الصالحه، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۶ش، ج ۱، ص ۱۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = کلام&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = مہدیت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعای اللهم کن لولیک]]&lt;br /&gt;
[[bn:দোয়া আল্লাহুম্মা কুন লি ওয়ালিয়্যিক]]&lt;br /&gt;
[[ms:Doa Keselamatan Imam Zaman as]]&lt;br /&gt;
[[en:The Dua Allahumma Kun Li-Waliyyik]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%DA%A9%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B6%DB%8C%D9%84%D8%AA&amp;diff=607</id>
		<title>جنازے میں شرکت کی فضیلت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%B4%D8%B1%DA%A9%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%D8%B6%DB%8C%D9%84%D8%AA&amp;diff=607"/>
		<updated>2025-04-15T16:22:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا جنازے میں شریک ہونا، میت اور شرکت کرنے والوں کے لئے فائدہ مند ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
جنازے میں حاضر ہونے کی تاکید اور سفارش کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ [[جنازے میں شرکت]] کرنے والے افراد، اس کے ذریعہ [[موت]] اور [[آخرت]] کو یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح جنازے میں شرکت کرنے کے فائدوں میں سے ایک فائدہ، وہ ثواب بتایا گیا ہے جو شرکت کرنے والوں اور میت دونوں کو حاصل ہوتا ہے۔ [[پیغمبر گرامی اسلام (ص)]] نے جنازے میں شرکت کی سفارش فرمائی ہے اور آپ کا ماننا تھا کہ یہ کام انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ [[امام جعفر صادق (ع)]] مصیبت زدہ افراد سے سفارش کرتے تھے کہ دوسروں کو موت کی اطلاع دیں تاکہ وہ بھی جنازے میں حاضر ہوسکیں، اور [[میت پر نماز]] پڑھ سکیں اور اس طرح خود انہیں بھی ثواب حاصل ہو اور میت کی بھی بخشش کا سبب بنے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== موت اور آخرت کو یاد کرنا ==&lt;br /&gt;
بعض روایات میں جنازے میں شرکت کا فائدہ، موت اور آخرت کی یاد کا آنا بتایا گیا ہے: [[پیغمبر اکرم (ص)]] نے جنازے میں شرکت کی سفارش فرمائی؛ کیونکہ یہ عمل انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ احادیث کے مطابق، جب پیغمبر اکرم (ص) جنازے میں شریک ہوتے تھے، تو وہ غمگین ہوجاتے تھے اور کم بولتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ عباس قمی، سفینه البحار، نشر اسوه، ج۴، ص۵۶۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;{{جعبه نقل قول| عنوان = | نقل‌قول = [[امام صادق (ع) نے فرمایا]]:{{-}}&#039;&#039;&#039;«جنازے میں شرکت کے دوران، یہ سوچا کرو کہ خدا نے تمہیں اس دنیا میں دوبارہ زندگی عطا کی ہے۔ اب دیکھو کہ تم کس طرح اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہو۔»&#039;&#039;&#039;&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی تهرانی، معادشناسی، ج۳، ص۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;| منبع = | تراز = چپ| عرض = ۲۳۰px| اندازه خط = 14px|رنگ پس‌زمینه =#FFF9E7| گیومه نقل‌قول =| تراز منبع = چپ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام باقر (ع)]] نے جنازے میں شریک ہونے کو ولیمہ کی تقریب میں شرکت سے زیادہ اہم سمجھا؛ کیونکہ جنازے میں شریک ہونا انسان کو موت اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;علامه مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۸، ص۲۸۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیغمبر گرامی اسلام (ص) نے جناب ابوذر غفاری کو جنازے میں شریک ہونے کے سلسلے سے نصیحتیں فرمائیں اور انہیں متوجہ کیا کہ جب بھی تم کسی میت کے پیچھے جاؤ تو تمہاری عقل کو غور و فکر اور خشوع کے ساتھ اس میں مشغول رہنا چاہئے، اور یہ جان لو کہ تمہیں بھی ایک دن وہیں پہنچنا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، مکارم الأخلاق‏، ۱۴۱۲ق، ص۴۶۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام علی (ع)]] نے سنا کہ ایک شخص جنازے میں ہنس رہا ہے تو آپ نے فرمایا: «ایسا لگتا ہے کہ اس دنیا میں موت کو دوسروں کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔»&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot;/&amp;gt; پھر خبردار کیا کہ یہ جنازے جو دفن کے لئے جارہے ہیں، واپس نہیں آئیں گے اور ہم بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:1&amp;quot;&amp;gt;صبحی صالح، نهج البلاغة، حکمت ۱۲۲، ص۴۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جنازے کے شرکاء اور میت کی بخشش ==&lt;br /&gt;
جنازے میں شرکت کے فائدوں میں سے ایک فائدہ وہ ثواب ہے جو شرکاء کو نصیب ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الانوار النعمانیه، ص۲۲۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; اسی طرح امام باقر (ع) سے منقول ایک [[روایت]] کے مطابق، جنازے می شرکت کرنے والوں کو چار شفاعتیں نصیب ہوتی ہیں&amp;lt;ref&amp;gt;قمی، شیخ عباس، سفینة البحار و مدینة الحکم، نشر اسوه، ج۴، ص۵۶۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[فرشتے]]، جنازے میں شرکت کرنے والوں کو جنت کا وعدہ دیتے ہیں۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;کلینی، الکافی، ۱۴۰۷، ج۳، ص۱۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک اور روایت میں نقل ہوا ہے کہ جو بھی، کسی مومن کے جنازے کی دفن ہونے تک ہمراہی کرے، [[خداوند متعال]] [[قیامت]] میں اس کے ساتھ ستر فرشتوں کو مقرر کرے گا، جو اس کے ساتھ رہیں گے اور اس کے لئے بخشش کی دعا فرمائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;محمد باقر مجلسی، زاد المعاد، ص۵۴ و ۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام جعفر صادق (ع)]] مصیبت زدہ افراد سے سفارش کرتے تھے کہ دوسروں کو موت کی اطلاع دیں، تاکہ وہ بھی جنازے میں حاضر ہوسکیں، اور [[میت پر نماز]] پڑھ سکیں اور اس طرح خود انہیں بھی ثواب حاصل ہو اور میت کی بھی بخشش کا سبب بنے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، مکارم الأخلاق‏، ۱۴۱۲ق، ص۳۶۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; امام باقر (ع) نے ایک روایت میں فرمایا ہے کہ بخشش ان لوگوں کا تحفہ ہے جو جنازے میں شریک ہوں۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot; /&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جنازے میں اصل، انسانی قدر و اہمیت پر رکھی گئی ہے، کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ ایک جنازہ لے جایا جارہا تھا جبکہ [[نبی گرامی اسلام (ص)]] اپنے [[اصحاب]] کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ (ص) اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ جنازہ گذر گیا، آپ سے دریافت کیا گیا کہ یہ ایک یہودی تھا اور پیغمبر(ص) کا اس کی لاش کا احترام کرنا کس وجہ سے تھا؟ آپ نے فرمایا: «کیا وہ انسان نہیں تھا؟!»&amp;lt;ref&amp;gt;بحار الانوار، ج۱۸، ص۲۵۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
|شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۲ =جنازې کے احکام&lt;br /&gt;
|شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:فضیلت تشییع جنازه]]&lt;br /&gt;
[[ps:د جنازې د مراسمو فضیلت]]&lt;br /&gt;
[[es:La virtud de acompañar el funeral]]&lt;br /&gt;
[[bn:মৃত ব্যক্তি দাফন অনুষ্ঠানে শরীক হওয়ার ফযিলত]]&lt;br /&gt;
[[ms:Keutamaan Menghadiri Proses Pemakaman]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_(%D8%B9)_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%D8%AF%D8%B9%D8%A7&amp;diff=606</id>
		<title>لشکر کوفہ کے بارے میں امام حسین (ع) کی بد دعا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1_%DA%A9%D9%88%D9%81%DB%81_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_(%D8%B9)_%DA%A9%DB%8C_%D8%A8%D8%AF_%D8%AF%D8%B9%D8%A7&amp;diff=606"/>
		<updated>2025-04-15T16:18:49Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
روایات میں آیا ہے کہ امام حسین (ع) نے عاشورہ کے دن اہل کوفہ کو بددعا دی۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
امام حسین (ع) نے عاشورہ کے دن لشکر کوفہ کے بارے میں بددعا کی تھی، اور امام (ع) نے [[کوفہ]] کی فوج کے بارے میں بددعا ان کی وعدہ خلافی کی وجہ سے کی تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;نجمی، محمدصادق، سخنان حسین بن علی(ع) از مدینه تا کربلا، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۱ش، ص۲۵۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ بددعا [[عاشور]] کے دن دئے گئے [[امام حسین (ع)]] کے دوسرے خطبے کے آخر میں ذکر ہوئی ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیه السلام، بی‌جا، انوار الهدی، ۱۴۲۳ق، ج۲، ص۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; امام حسین (ع) نے اس دعا میں، [[اللہ]] سے درخواست کی ہے کہ وہ اہل کوفہ پر ان کے ظلم اور وعدہ خلافی کی وجہ سے وہ مصیبتیں نازل کرے جو ذیل میں ذکر ہوں گی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== امام حسین (ع) کی بددعائیں ==&lt;br /&gt;
امام حسین (ع) نے عاشورہ کے دن جو بددعائیں کیں، وہ دو قسم کی تھیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
* بارش کا نہ آنا اور قحط کا پڑنا حضرت یوسف (ع) کے زمانے کی طرح۔&lt;br /&gt;
* ان پر قبیلہ ثقیف کے ایک غلام کا مسلط ہونا۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot; /&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام حسین (ع)]] [[روزعاشورہ]] کسی لمحہ اس طرح بددعا فرماتے ہیں: &lt;br /&gt;
::«اے اللہ! ان پر اپنی رحمت کی بارش نہ بھیج، اور حضرت یوسف کے زمانے کی طرح انہیں قحط اور خشک سالی میں مبتلا فرما، اور ان پر قبیلہ ثقیف کے ایک شخص کو مسلط کر دے تاکہ وہ انہیں ایک تلخ اور زہر آلود پیالہ سے سیراب کرے۔».&amp;lt;ref&amp;gt;اللهوف فی قتلی الطفوف، سید بن طاووس، ص ۹۹، تهران، نشر جهان، چاپ اول، ۱۳۴۸ش&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض نے یہ تفسیر کی ہے کہ امام (ع) کی جانب سے ذکر کئے گئے شخص سے مراد [[مختار ثقفی]] ہوسکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی شهرستانی، هبةالدین، نهضة الحسين عليه السلام، کربلا، رابطة النشر الاسلامی، ۱۹۶۹م، ص۱۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس کے علاوہ، [[حجاج بن یوسف الثقفی]] بھی جو کہ ثقیف قبیلے سے تعلق رکھتا تھا&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌قتيبة، المعارف‏، تحقيق ثروت عكاشة، القاهرة، الهيئة المصرية العامة للكتاب، ۱۹۹۲م، ص۳۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; کوفہ کا گورنر رہا، شیعوں کا سخت دشمن تھا اور اس نے کوفہ کے کثیر افراد کو قتل کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;جعفریان، رسول، تاریخ خلفا، ج۲، ص. &amp;lt;bdi&amp;gt;۶۸۷&amp;lt;/bdi&amp;gt;.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{نقل قول دوقلو تاشو&lt;br /&gt;
| تیتر = لشکر کوفہ کے بارے میں امام حسین (ع) کی بد دعا&lt;br /&gt;
| عنوان ستون راست = متن&lt;br /&gt;
| عنوان ستون چپ = ترجمہ|اللّهُمَّ احْبِسْ عَنْهُمْ قَطْرَ السَّماءِ وَابْعَثْ عَلَیْهِمْ سِنِینَ کَسِنی یُوسُفَ وَسَلِّط عَلَیْهِمْ غُلامَ ثَقیف یَسْقیهِمْ کَاساً مُصَبَّرَةً فَلا یَدَعُ فیهم اَحَداً قَتْلَةً بَقَتْلَةٍ وَضَرْبَةً بِضَرْبَةٍ یَنْتَقِمُ لی وَلاَوْلیائی وَلاهْلِ بَیْتی وَاشْیاعِی مِنْهُمْ فَاِنَّهُمْ کَذَّبُونا وَخَذَلُونا وَاَنْتَ رَبُّنا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنا وَاَلیْکَ الْمَصیرُ.|اے میرے پروردگار! ان سے آسمان کی بارش واپس لے لے اور انہیں یوسف (ع) کے زمانے کی طرح قحط سالی میں مبتلا فرما۔ ان پر قبیلہ ثقیف کے شخص کو مسلط فرما جو انہیں ایک تلخ اور زہر آلود پیالہ سے سیراب کرے، اور ان میں سے کسی کو بھی بغیر سزا کے نہ چھوڑے؛ قتل کے بدلے انہیں قتل کرے۔ اور ضرب و شتم کے مقابل ان کے ساتھ ضرب و شتم سے پیش آئے، ان سے میرا انتقام اور میرے خاندان اور پیروکاروں کا انتقام لے؛ کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایا اور دشمن کے مقابل ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ تو ہی ہمارا رب ہے، ہم تجھ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اور تیرے ہی پاس واپس لوٹنا ہے۔&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =تاریخ&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = معصومین کی تاریخ اور سیرت&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =امام حسین علیہ السلام&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[رده:پورٹل امام حسین علیہ السلام]]&lt;br /&gt;
[[fa:نفرین شدن سپاه کوفه توسط امام حسین(ع)]]&lt;br /&gt;
[[ru:Проклятие куфийского войска Имамом Хусейном (А)]]&lt;br /&gt;
[[bn:কুফার সৈন্যদলকে ইমাম হুসাইনের (আ.) অভিশাপ]]&lt;br /&gt;
[[ms:Imam Husain as Melaknat Tentara Kufah]]&lt;br /&gt;
[[en:The Curse on the Army of Kufa by Imam Hussein (AS)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B3%D9%86%DB%8C%D9%86_(%D8%B9)_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=605</id>
		<title>حسنین (ع) کا رسول خدا (ص) کے کاندھوں پر سوار ہونا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B3%D9%86%DB%8C%D9%86_(%D8%B9)_%DA%A9%D8%A7_%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84_%D8%AE%D8%AF%D8%A7_(%D8%B5)_%DA%A9%DB%92_%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D9%88%DA%BA_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1_%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7&amp;diff=605"/>
		<updated>2025-04-15T16:15:57Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث کا مفہوم اور ماخذ جو آپ نے فرمایا:&amp;quot;نعم الجمل جملکما و نعم العدلان انتما&amp;quot;  کا کیا مطلب ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[امام حسن (ع)]] اور [[امام حسین (ع)]] کا [[رسول خدا (ص)]] کی پشت پر سوار ہونا ایک [[روایت]] میں نقل ہوا ہے جو مختلف الفاظ کے ساتھ [[شیعہ]] اور [[اہل سنت]] کی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔ اس روایت کے مضمون سے رسول خدا (ص) کی اپنے نواسوں، امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[شیعہ]] راویوں میں سے اس روایت کو نقل کرنے والوں میں [[ابن شہرآشوب]] نے &#039;&#039;مناقب&#039;&#039; میں اور [[علامہ حلی]] نے &#039;&#039;کشف الیقین&#039;&#039; میں ذکر کیا ہے۔ اس روایت کو نقل کرنے کا سب سے معروف طریق، [[سفیان ثوری]] سے ہے، آپ [[جابر بن عبداللہ انصاری]] کے ذریعے رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حدیث کا متن ==&lt;br /&gt;
یہ روایت شیعہ اور اہل سنت کی حدیثی اور تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔ حدیث کا متن اس طرح ہے:&lt;br /&gt;
{{عربی|عن جابر بن عبدالله قال: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ وَ هُوَ يَجْثُو بِهِمَا وَ يَقُولُ نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا وَ نِعْمَ الْعَدْلَانِ أَنْتُمَا.|ترجمه=جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ کی پشت پر امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) سوار تھے۔ رسول خدا (ص) ان دونوں کے لئے جھک رہے تھے اور فرما رہے تھے: &amp;quot; تم دونوں کی سواری کتنی اچھی ہے اور تم دونوں کتنے اچھے سوار ہو!&amp;quot;}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مصادر اور روات ==&lt;br /&gt;
یہ روایت مختلف الفاظ اور مشابہ معنی کے ساتھ [[اہل سنت]] کی متعدد کتابوں میں نقل ہوئی ہے، جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
# ابن عدی جرجانی (277-365ھ)، شافعی محدّث اور رجالی، نے اپنی کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن عساکر، عبدالله بن عدی جرجانی، الکامل في ضعفاء الرجال،‌ تحقیق سهیل زکار، یحیی مختار غزاوی، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۲۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# ابن بطہ عکبری (304-387ھ)، حنبلی فقیہ، محدّث اور متکلم، نے اپنی کتاب الابانہ صغری میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن شهرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبی‌طالب، تحقیق محمدحسین آشتیانی، سید هاشم رسولی محلاتی، قم، علامه، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۳۸۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# ابوسعد خرگوشی (وفات: 406 یا 407ھ)، شافعی محدّث اور صوفی، نے اپنی کتاب شرف النبی میں اس موضوع پر دو روایات نقل کی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;خرگوشی، ابوسعد عبدالملک بن محمد، مناحل الشفا و مناهل الصفا بتحقیق کتاب شرف المصطفی صلی الله علیه و سلم، روایت عبدالکریم بن هوازن قشیری، مکه، دار البشائر الإسلامیة، ۱۴۲۴ق، ج۵، ص۲۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# [[ابن عساکر]] (499-571ھ)، اہل سنت کے محدّث اور مورخ، نے اپنی کتاب &#039;&#039;تاریخ دمشق&#039;&#039; میں یہ حدیث نقل کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینة دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر،‌ ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
# [[ذهبی]] (673-748ھ)، اہل سنت کے رجالی اور محدّث، نے اپنی دو کتابوں &#039;&#039;[[سیر اعلام النبلاء]]&#039;&#039;&amp;lt;ref&amp;gt;ذهبی، شمس‌الدين محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، تحقیق مجموعة من المحققين بإشراف شعيب الأرناؤوط، مؤسسة الرسالة، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۲۵۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور &#039;&#039;میزان الاعتدال&#039;&#039; میں اس روایت کو ذکر کیا ہے، لیکن دوسری کتاب میں اسے غیر صحیح قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ذهبی، شمس‌الدين محمد بن أحمد، ميزان الاعتدال فی نقد الرجال، تحقيق علی محمد البجاوی، بیروت، دار المعرفة للطباعة والنشر،۱۳۸۲ق،  ج۴، ص۹۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ روایت [[شیعہ]] مصادر میں بھی مختلف الفاظ اور مشابہ معانی کے ساتھ موجود ہے، ان کتابوں میں یہ روایت اہل سنت مصادر سے نقل کی گئی ہے۔ جن میں سے چند مصادر درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
* [[ابن شہرآشوب]] (488-588ھ)، شیعہ فقیہ اور محدّث، نے اپنی کتاب &#039;&#039;مناقب&#039;&#039; میں یہ روایت اہل سنت کے طریقوں سے بیان کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن شهرآشوب، مناقب آل أبی‌طالب، ج۲، ص۳۸۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* اربلی (وفات: 692ھ)، شیعہ محدّث اور مورخ، نے اپنی کتاب &#039;&#039;[[کشف الغمہ]]&#039;&#039; میں اس روایت کا ذکر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اربلی، علی بن عیسی، كشف الغمة فی معرفة الأئمة( ط- القديمة) تحقیق سید هاشم رسولی محلاتی، تبریز، بنى هاشمى‌، ۱۳۸۱ق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[علامہ حلی]] (648-726ھ)، نے اپنی کتاب &#039;&#039;کشف الیقین&#039;&#039; میں یہ روایت [[جابر بن عبداللہ انصاری]] سے نقل کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;علامه حلی، حسن بن یوسف، کشف الیقین فی فضائل امیرالمؤمنین، تهران وزارة الثقافة و الإرشاد الإسلامی، مؤسسة الطبع و النشر، ۱۴۱۱ق، ص۳۰۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[علامہ مجلسی]] (1037-1110ھ)، نے یہ روایت مختلف صورتوں میں اپنی &#039;&#039;[[کتاب بحار الانوار]]&#039;&#039; میں نقل کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بِحارالانوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار بیروت، دار إحياء التراث العربی، ۱۴۰۳ق، ج۴۳، ص۲۸۵-۲۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* یہ روایت [[سفیان ثوری]] (97-161ھ)، فقیہ محدّث اور صوفی سے مختلف طرق سے نقل ہوئی ہے، جو ابی الزبیر سے، اور وہ جابر بن عبداللہ انصاری، [[رسول خدا (ص)]] کے مشہور صحابی، سے نقل کرتے ہیں۔ ایک اور طریق میں یہ روایت [[عمر بن خطاب]] سے بھی نقل ہوئی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی بِحارالانوار، ج۴۳، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =فقه الحدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[bn:ইমাম হুসাইন (আ.) এবং ইমাম হাসান (আ.) রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর পিঠে আরোহী]]&lt;br /&gt;
[[fa:سوار شدن حسنین(ع) بر پشت پیامبر(ص)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%AA%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7&amp;diff=604</id>
		<title>قرآن کے ظاہری معنی پر اکتفا کرنا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%AA%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7&amp;diff=604"/>
		<updated>2025-04-15T16:14:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا ہم قرآن کے ظاہری معنی پر اکتفا کر سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
قرآن کے ظاہری معنی سمجھنے کے لئے کچھ شرائط ضروری ہیں، جیسے عربی زبان پر مہارت، سیاق و سباق اور قرائن کو مدنظر رکھنا، محکم (محکمات) اور متشابہ (متشابہات) آیات کا علم ہونا۔ عمومی طور پر، قرآن کی آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: [[محکم و متشابہ|محکم آیات]] (محکمات)، جن کی تاویل کی ضرورت نہیں ہوتی، اور متشابہ آیات (متشابہات)، جن کی تاویل محکم آیات کی روشنی میں کی جانی چاہیے۔ لہذا اگر ظاہری معنی سے مراد باطنی معنی کے مقابل معنی ہیں، تو [[قرآن]] کے ظواہر حجت ہیں۔ لیکن اگر &amp;quot;ظاہری معنی&amp;quot; سے مراد، کسی آیت کو سیاق و سباق اور آیت کی تفہیم کے قرائن اور اصولوں سے الگ کرکے سمجھنا مراد ہے، تو کسی بھی صورت ظاہری معنی پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآنی آیات میں ظاہری معنی سے تمسک کرنا ==&lt;br /&gt;
قرآنی آیات ایک عمومی تقسیم کے تحت دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:&lt;br /&gt;
* محکم آیات (محکمات) جو کسی تاویل کی محتاج نہیں ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[محکم و متشابہ|متشابہ آیات]] (متشابہات) جو تاویل کی محتاج ہیں، یعنی انہیں محکم آیات کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے جو کہ (اُمُّ الکتاب) کا درجہ رکھتی ہیں.&amp;lt;ref&amp;gt;آیه ۷ سوره آل عمران.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر ظاہری معنی سے مراد باطنی معنی کے مقابل معنی ہیں، تو [[قرآن]] کے ظواہر پر اکتفا کیا جاسکتا ہے اور ظواہر قرآن حجت ہیں، کیونکہ قرآن کے باطنی معنی کو صرف [[معصومین (ع)]] ہی سمجھ سکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;واقعه/ ۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور یہ کہ قرآن باطنی معنی اور بطون رکھتا ہے اس کا ذکر متعدد حدیثوں میں ہوا ہے۔ [[امام علی (علیہ السلام)]] نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::{{متن عربی||ترجمه=قرآن کا ایک خوبصورت ظاہر اور ایک عمیق و گہرا باطن ہے، اس کے عجائبات بے شمار ہیں اور اس کے پوشیدہ راز کبھی ختم نہیں ہوتے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج‌البلاغه، ترجمه محمد دشتی، خطبه ۱۸، ص۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[جابر بن عبداللہ انصاری]] نے [[امام محمد باقر (علیہ السلام)]] سے ایک آیت کی تفسیر دریافت کی؟ امام نے جواب دیا، جابر نے دوبارہ اسی آیت کے بارے میں سوال کیا، تو امام نے دوسرے انداز میں جواب دیا۔ جابر نے کہا: &amp;quot;آپ نے پہلے مجھے ایک دوسرا جواب دیا تھا۔&amp;quot; امام نے فرمایا: {{متن عربی||ترجمه=جابر! قرآن کا ایک باطنی معنی ہے اور اس باطنی معنی کا بھی ایک اور باطنی معنی ہے، اور حتیٰ کہ ظاہری معنی کے بھی مراتب ہیں۔ اے جابر! قرآن کی کوئی بھی چیز انسانی عقل سے تفسیر نہیں کی جاسکتی؛ کیونکہ ممکن ہے کسی آیت کا آغاز ایک موضوع سے متعلق ہو جب کہ اس کا آخر دوسرے موضوع سے متعلق ہو، قرآن ایک مسلسل خطاب ہے جو مختلف پہلو رکھتا ہے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ج۸۹، ص۹۱ و ص۹۴ و ۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آیات کے ظاہری معنی پر اکتفا کرنے کی شرائط ==&lt;br /&gt;
اگر &amp;quot;ظاہری معنی پر اکتفا کرنے&amp;quot; سے مراد، آیات کو سیاق و سباق اور قرائن کے بغیر سمجھنا مراد ہو، تو ظاہری معنی پر اکتفا کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے؛ کیونکہ آیات کے معنی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف عربی زبان کے قواعد پر عبور حاصل ہو اور قرآن کی زبان کو گہرائی سے سمجھا جائے، بلکہ سیاق و سباق اور قرائن یعنی دوسری آیات و روایات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ بات حتی کہ ان آیات کے لیے بھی ضروری ہے جن کے ظاہری معنی واضح اور روشن ہیں اور ان کا شمار [[محکم و متشابہ|محکم آیات]] میں ہوتا ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور بعض آیات دوسری آیات کے لئے قرینہ (ان کو سمجھنے کا ذریعہ) بنتی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح [[پیغمبر اکرم (صلى الله عليه و آلہ و سلم)]] کی حدیثوں اور آپ کی پیروی میں آپ کے بعد [[ائمہ اہلبیت (علیہم السلام)]] کی حدیثوں کو بھی جو کہ [[قرآن]] کی تفسیر کرنے والی اور وضاحت دینی والی ہیں، ان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قرآن خود کہتا ہے: {{قرآن|«ہم نے آپ پر الذکر (قرآن مجید) اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے (وہ معارف و احکام) کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نحل/ ۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لیکن متشابہ آیات میں، آیات کے ظاہری معنی پر کسی بھی صورت اکتفا کرنا صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر آیت مبارکہ {{قرآن|وَجَاءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا}}&amp;lt;ref&amp;gt;فجر/ ۲۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ خداوند متعال آیا اور فرشتے صف در صف حاضر ہو گئے۔ یا آیت کریمہ {{قرآن|الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی}}&amp;lt;ref&amp;gt;طه/ ۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ خداوند متعال عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان آیات اور اس جیسی دوسری متشابہ آیات کو محکم آیات جیسے کہ یہ آیت کریمہ {{قرآن|... لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ}}&amp;lt;ref&amp;gt;شوری / ۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; کی روشنی میں سمجھنا اور تفسیر کرنا ضروری ہے، پس خدا کے آنے سے مراد، امر [[خدا]] کا آنا مراد ہے، اور «استوی» سے مراد، خدا کا تسلط ہے، اور اگر ان آیات کے صرف ظاہری معنی پر اکتفا کیا جائے، تو اس کا لازمہ خدا کی جسمانیت ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[وہابی]] ان آیات کے صرف ظاہری معنی پر اکتفا کرتے ہوئے اور ان آیات کو سمجھنے کے لئے محکم آیات پر توجہ کئے بغیر اور عقلی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ: &lt;br /&gt;
::«اللہ کے لئے ایک سمت اور مکان ہے، اور وہ آسمانوں کے اوپر عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کے حقیقی ہاتھ اور آنکھیں ہیں۔»&amp;lt;ref&amp;gt;ابن حجر عسقلانی، الدر الکاهنه، بیروت، ص۱۴۵؛ احمد بن زینی چلان مفتی مکه، سرگذشت وهابیّت، ترجمه ابراهیم وحید دامغانی، نشر گلستان کوثر، چاپ اوّل، ۱۳۷۶، ص۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ «اللہ ہر رات زمین پر اترتا ہے اور صبح دوبارہ واپس چلا جاتا ہے۔»&amp;lt;ref&amp;gt;عمر عبدالسلام، مخالف الوهابیّه للقرآن و السنه، دارالهدایه، چاپ اوّل، ۱۴۱۶، ص۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; حتی کہ [[ابن تیمیہ]] بھی کھلے طور پر کہتا ہے: &lt;br /&gt;
::«[[قرآن]]، [[سنت]]، اور [[اجماع]] میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ملتی جو اللہ کی جسمانیت یا تشبیہ کو رد کرتی ہو۔»&amp;lt;ref&amp;gt;ابن تیمیّه، الفتاوی الکبری، بیروت، دارالمعرفه، ص۲۳–۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; ایسے ہی عقائد، [[حنبلیوں]]، [[حشویہ]] اور [[اباضیہ]] فرقے کے بھی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، قم، لجنه اِداره الحوزه العلمیه، چاپ دوّم، ۱۴۱۵، ج۲، ص۲۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآن کا صریح متن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =قرآن کا نص اور ظاہری معنی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:اکتفا به ظاهر قرآن]]&lt;br /&gt;
[[ar:الاكتفاء بظاهر القرآن]]&lt;br /&gt;
[[ms:Mengandalkan Makna Lahiriah Al-Qur&#039;an]]&lt;br /&gt;
[[bn:কুরআনের প্রকাশ্য অর্থের উপর নির্ভর করা]]&lt;br /&gt;
[[ps:د قرآن په ظاهر بسنه]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=603</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=603"/>
		<updated>2025-04-15T16:12:25Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =معاد کی اہمیت اور ضرورت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
[[رده:معاد پر ایمان کے اثرات]]&lt;br /&gt;
[[رده:معاد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=602</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=602"/>
		<updated>2025-04-15T16:11:50Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =معاد کی اہمیت اور ضرورت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
[[رده:معاد پر ایمان کے اثرات]]&lt;br /&gt;
[[رده:معاد]]&lt;br /&gt;
[[رده:معاد پر ایمان کے اثرات و فوائد]]&lt;br /&gt;
[[رده:معاد معاد پر یقین کے نتائج]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=601</id>
		<title>لفظ شیعہ قرآن میں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=601"/>
		<updated>2025-04-15T16:03:50Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا قرآن پاک میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا لفظ منفی معنی رکھتا ہے؟ قرآن میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کے معانی بیان کریں۔&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] پاک میں استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی گروہ، دستہ یا پیروکار کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ کبھی مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسے کہ جب [[حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کو [[حضرت نوح (علیہ السلام)]] کا [[شیعہ]] (پیروکار) بتایا گیا ہے، اور کبھی منفی معنوں میں، جیسے کہ ان لوگوں کے بارے میں جو اپنے دین کو پراگندہ کرتے ہیں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض آیات میں یہ لفظ صرف مخصوص گروہوں کے ذکر کے لیے استعمال ہوا ہے، بغیر کسی مثبت یا منفی ارادے کے۔ مثال کے طور پر، گذشتہ اقوام کے بارے میں &amp;quot;امم&amp;quot; (یعنی گروہ یا قوم) کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی ==&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;[[شیعہ]]&amp;quot; لغت میں مقدار، گروہ، دستہ، قوم، پیروکار اور پیچھے چلنے والے کے معنی میں آتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فراهیدی، خلیل بن احمد، العين، تحقيق: مهدي مخزومي - إبراهيم سامرائي، قم، مؤسسة دار الهجرة، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;جوهری، اسماعیل بن حماد، الصحاح، تحقيق: أحمد عبد الغفور العطار، بیروت، دار العلم للملايين، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م، ج۳، ص۱۲۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; جو قوم کسی ایک امر یا حقیقت پر متفق ہو، اسے شیعہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، قم،  نشر أدب الحوزة، ۱۴۰۵ق،ج۸، ص۱۸۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; اگر [[اہل بیت (ع)]] کے پیروکاروں کو شیعہ کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل بیت (ع) کے افکار و نظریات کی پیروی کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ شیعہ وقت گزرنے کے ساتھ اسلامی فرقوں میں اس گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا جو اہل بیت معصومین (ع) کی [[امامت]] کے قائل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن اثیر جزری، مبارک بن محمد، النهاية في غريب الحديث والأثر، تحقيق: طاهر أحمد الزاوي ، محمود محمد الطناحي، قم، مؤسسة إسماعيليان للطباعة والنشر والتوزيع، چاپ چهارم، ۱۳۶۴ش، ج۲، ص۵۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; آج کل ان مسلمانوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو [[حضرت علی (ع)]] کی [[خلافت]] اور امامت کے فوری جانشین ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس عقیدے پر ہیں کہ [[پیغمبر (ص)]] کا جانشین شرعی نص کے ذریعے تعین ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات، ص۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، ج۱، ص۱۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کو شیعہ کہلانے کی ابتدا سب سے پہلے پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ہوئی۔ سیوطی (اہل سنت کے علماء میں سے) نے [[جابر بن عبداللہ انصاری]]، [[ابن عباس]] اور علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے آیت {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}} کی تفسیر میں حضرت علی (ع) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: {{متن عربی|تو اور تیرے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[اہل سنت]] کی کتابوں میں آیا ہے کہ ہم رسول خدا (ص) کے پاس تھے کہ حضرت علی (ع) تشریف لائے؛ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (علی) اور ان کے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}}۔ پیغمبر (ص) کے اصحاب جب بھی حضرت علی (ع) کو دیکھتے تو کہتے: {{متن عربی| جاء خير البرية|ترجمه=خدا کی بہترین مخلوق آ گئی۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌‏بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ قرآن میں ==&lt;br /&gt;
=== گروہ یا دستہ ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] میں بنیادی طور پر &amp;quot;گروہ&amp;quot; یا &amp;quot;دستہ&amp;quot; کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی میں، شیعہ کا کوئی مثبت یا منفی مفہوم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر:&lt;br /&gt;
یکی از معانی عمده شیعه در قرآن به معنای دسته و گروه است، در این معنا، شیعه نه بار مثبت و نه بار منفی دارد. از جمله:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلی أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِکُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَّیُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ؕ— اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ |ترجمه=آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے(1) یا تمہارے پاؤں تلے سے(2) یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے(3)۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دﻻئل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وه سمجھ جائیں۔|سوره=انعام|آیه=۶۵}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی شِیَعِ الْأَوَّلینَ|ترجمه=ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے.|سوره=حجر|آیه=۱۰}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شیعَه أَیُّهُمْ أَشَدُّ عَلَی الرَّحْمنِ عِتِیًّا|ترجمه=ہم پھر ہر ہر گروه سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمنٰ سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے.|سوره=مریم|آیه=۶۹}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِی الْأَرْضِ وَ جَعَلَ أَهْلَها شِیَعاً |ترجمه=یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی(1) اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا|سوره=قصص|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن| مِنَ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِما لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ|ترجمه=ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے(1) ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.|سوره=روم|آیه=۳۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== پیروکار ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا دوسرا استعمال قرآن میں &amp;quot;پیروکار&amp;quot; یا &amp;quot;اتباع کرنے والے&amp;quot; کے معنی میں ہے۔ اگر کوئی اچھے اور کامل انسان کی پیروی کرے تو شیعہ کا مفہوم مثبت ہو جاتا ہے، اور اگر ظالم کی پیروی کرے تو منفی ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِهِ لَإِبْراهیمَ|ترجمه=اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.|سوره=صافات|آیه=۸۳}} اس آیت میں [[حضرت ابراہیم (ع)]] کو [[حضرت نوح (ع)]] کا پیروکار بتایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ دَخَلَ الْمَدینَه عَلی حینِ غَفْلَه مِنْ أَهْلِها فَوَجَدَ فیها رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلانِ هذا مِنْ شیعَتِهِ وَ هذا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغاثَهُ الَّذی مِنْ شیعَتِهِ عَلَی الَّذی مِنْ عَدُوِّهِ فَوَکَزَهُ مُوسی فَقَضی عَلَیْهِ قالَ هذا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبینٌ|ترجمه=اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے(1) ۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے(2)، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے(3)، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے.|سوره=قصص|آیه=۱۵}} اس آیت میں حضرت موسیٰ (ع) کے پیروکار اور فرعون کے پیروکار دونوں کو &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کہا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ حیلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ ما یَشْتَهُونَ کَما فُعِلَ بِأَشْیاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ کانُوا فی شَکٍّ مُریبٍ|ترجمه=ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا(1) جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا(2)، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.|سوره=سبا|آیه=۵۴}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== اختلاف اور پراکندگی ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کبھی اختلاف اور پراکندگی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جو قرآن میں مذموم ہے:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً لَسْتَ مِنْهُمْ فی شَیْءٍ|ترجمه=بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے(1) ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔|سوره=انعام|آیه=۱۵۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;references /&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =قرآن کے علم اور معرفت&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =قرآن کی انفرادی اصطلاحات&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کلمه شیعه در قرآن]]&lt;br /&gt;
[[ar: كلمة شيعة في القرآن الكريم]]&lt;br /&gt;
[[bn: কুরআনে শিয়া শব্দ]]&lt;br /&gt;
[[en: The Term Shi‘a in the Quran]]&lt;br /&gt;
[[ms: Kata Syiah Dalam Al-Quran]]&lt;br /&gt;
[[ru:Слово шиа в Коране]]&lt;br /&gt;
[[es:La palabra Chiíta en el Corán]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=600</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=600"/>
		<updated>2025-04-15T13:01:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{اصول دین و فروع دین}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =جایگاه و ضرورت معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =کارکرد اعتقاد به معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۴ =تاثیر اعتقاد به معاد&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=599</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=599"/>
		<updated>2025-04-15T12:59:34Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{اصول دین و فروع دین}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =جایگاه و ضرورت معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[رده:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[رده:تاثیر اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=598</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=598"/>
		<updated>2025-04-15T12:56:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{اصول دین و فروع دین}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =جایگاه و ضرورت معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;br /&gt;
[[رده:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[رده:تاثیر اعتقاد به معاد]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=597</id>
		<title>آخرت پر ایمان کے اثرات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AB%D8%B1%D8%A7%D8%AA&amp;diff=597"/>
		<updated>2025-04-15T12:53:25Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
آخرت اور قیامت پر ایمان کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{اصول دین و فروع دین}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
آخرت پر ایمان، انسانی عقائد، انسانی رویوں اور اخلاقیات پر اس قدر اثرگذار ہے کہ [[توحید]] پر ایمان بھی ایسا اثر نہیں رکھتا۔ [[آخرت]] اور قیامت پر ایمان، [[اسلام]] کے بنیادی اعتقادات میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قیامت کو تسلیم نہ کرے تو گویا اُس نے دوسرے دو بنیادی ارکان (یعنی توحید اور [[نبوت]]) کو بھی قبول نہیں کیا ہے اور وہ دینِ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۰؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو شخص قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے۔ اور کائنات ابدی اور دائمی عالم کی جانب گامزن ہے۔ اور جب انسان دنیا کی حقیقت اور اس کے عارضی ہونے کے بارے میں اس نظریہ کا حامل ہو تو انسان اپنے احساسات اور اندرونی جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں اُس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جو اُس کے سامنے ہے۔ قیامت اور [[الہی عقاب]] و ثواب پر ایمان، انسان کے اندر ذمہ داریوں کو بجالانے کے جذبے کو قوت بخشتا ہے۔ اسی طرح قیامت پر ایمان، اجتماعی قوانین کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کی ضمانت بھی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیاوی زندگی کے عارضی ہونے کا علم ==&lt;br /&gt;
[[قیامت]] اور آخرت پر ایمان اور اسے یاد رکھنے کے انسانی فکر پر اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اور دنیا کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ خود کو اس بے ثبات دنیا کا حصہ سمجھتا ہے جو ایک دائمی اور ابدی عالم کی جانب گامزن ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جذبات کو قابو میں رکھنا اور خوبیوں کی پرورش ==&lt;br /&gt;
جب کوئی انسان اس عارضی دنیا کو حقیقت پسند نگاہ سے دیکھتا ہے، تو وہ اپنے جذبات اور اندرونی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس مقصد کے مطابق جو اس کے سامنے ہے قدم بڑھاتا ہے۔ قیامت اور ثواب و عقاب الہی پر ایمان، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا پابند بناتا ہے۔ جو شخص آخرت اور اس میں سخت سزاؤں پر ایمان رکھتا ہے، وہ لاپرواہ نہیں ہوسکتا۔ عارضی دنیا اور ہمیشہ باقی رہنے والی  آخرت کا موازنہ، انسان کو آخرت میں ابدی آسانیاں اور سکون حاصل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در حقیقت قیامت پر ایمان، موت اور قیامت کو یاد رکھنا، [[انسان]] کے سامنے سے غفلت کے پردے ہٹا دیتا ہے اور انسان کو آخرت کی ابدی زندگی کی جانب متوجہ کردیتا ہے، تاکہ وہ [[گناہ]]، جرم اور فساد سے بچ سکے۔ لہذا اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارا انجام بھی موت ہے اور ہم بہت جلد اس دنیا سے دوسرے عالم میں منتقل ہوجائیں گے، جہاں ہمیں اپنے اعمال، کردار اور عقائد کے نتائج سے روبرو ہونا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر انسان کی تربیت موت اور آخرت کو یاد رکھنے کے ساتھ ہو، تو یہ اعتقاد ایک &amp;quot;عملی ضمانت&amp;quot; فراہم کرتا ہے۔ اور انسان اپنے اسی عقیدے اور یقین کی بنیاد پر اپنے تمام اخلاق، کردار اور اعتقادات کو منظم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص موت اور قیامت کی یاد سے غافل ہے، اس کے لیے قانون کی پاسداری کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اور وہ ہر کام انجام دیتا ہے۔ پس موت، قیامت اور آخرت کو یاد رکھنا اور ان پر ایمان، نہ صرف یہ کہ انسان کے جذبات اور دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کی طبیعت کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ انسانی خوبیوں کی پرورش اور نشو و نما میں بھی موثر ہے، کیونکہ جو شخص ہمیشہ قیامت کو یاد رکھتا ہے وہ اپنے تمام اعمال اور رویوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تمام سعی و کوشش کو [[پروردگار عالم]] کی رضا اور خشنودی کے حصول میں لگا دیتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲–۱۳۴؛ مصباح یزدی، محمد تقی، پند جاوید، ص۲۸۵–۲۸۹؛ سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۷؛ جوادی آملی، عبدالله، معاد در قرآن تفسیر موضوعی، ج۴، ص۲۲ و ۲۴ و ۲۹–۳۰ و ۳۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سماجی انصاف کی ضمانت ==&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں عدلیہ اور حکومتیں، ایک حد تک انسانی معاشروں میں عارضی نظم اور امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن یہ صرف ظاہری فساد اور ظاہری بدعنوانی کو قابو کرنے تک محدود ہیں۔ جبکہ پوشیدہ جرائم کو قابو پانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، اسی طرح اگر قانون کو نافذ کرنے والے ہی اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنا چاہیں تو انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسی صورتوں میں انسانی حکومتیں، سماجی انصاف کو قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں؛ لیکن ایسا معاشرہ جہاں ایمان اور خدا کا خوف تمام قوانین کی بنیاد ہو، وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ گناہوں کے نتائج اور آخرت میں ملنے والی سزائیں ہی قوانین پر عمل درآمد کی بہترین ضمانت ہوں گی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، معاد انسان و جهان، ص۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== زندگی میں سرگرمی اور کوشش ==&lt;br /&gt;
[[موت]] اور قیامت کے دن کا خیال اور آخرت کا تصور، انسان کی زندگی کو تلخ کام نہیں بناتا اور نہ ہی اسے زندگی کے امور میں سرگرم رہنے اور کوشش سے روکتا ہے۔ کیونکہ انسان کا زندگی میں مصروف رہنے کا سبب اس کی ضرورت کا احساس ہے، اور یہ ضرورت کا احساس موت اور قیامت کو یاد رکھنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ آخرت اور قیامت کی یاد انسان کو نفسانی خواہشات میں غرق ہونے سے روکتی ہے اور اسے ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں اسے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو بھی اچھا عمل انجام دے گا اس کی جزا دی جائے گی، اسی لیے وہ اپنی کوششوں کا رخ اس راستے میں لگا دے گا.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، مجموعه مقالات، ج۲، ص۱۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =جایگاه و ضرورت معاد&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[ar:آثار الإيمان بالمعاد]]&lt;br /&gt;
[[ES:La función de la creencia en la resurrección]]&lt;br /&gt;
[[ps:پر قيامت باندي د اعتقاد رول]]&lt;br /&gt;
[[fr:Effets de la croyance en le Retour à Dieu]]&lt;br /&gt;
[[bn:আখিরাতের প্রতি বিশ্বাসের উপকারিতা]]&lt;br /&gt;
[[رده:کارکرد اعتقاد به معاد]]&lt;br /&gt;
[[رده:تاثیر اعتقاد به معاد]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=596</id>
		<title>لفظ شیعہ قرآن میں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=596"/>
		<updated>2025-04-15T12:48:04Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا قرآن پاک میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا لفظ منفی معنی رکھتا ہے؟ قرآن میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کے معانی بیان کریں۔&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] پاک میں استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی گروہ، دستہ یا پیروکار کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ کبھی مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسے کہ جب [[حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کو [[حضرت نوح (علیہ السلام)]] کا [[شیعہ]] (پیروکار) بتایا گیا ہے، اور کبھی منفی معنوں میں، جیسے کہ ان لوگوں کے بارے میں جو اپنے دین کو پراگندہ کرتے ہیں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض آیات میں یہ لفظ صرف مخصوص گروہوں کے ذکر کے لیے استعمال ہوا ہے، بغیر کسی مثبت یا منفی ارادے کے۔ مثال کے طور پر، گذشتہ اقوام کے بارے میں &amp;quot;امم&amp;quot; (یعنی گروہ یا قوم) کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی ==&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;[[شیعہ]]&amp;quot; لغت میں مقدار، گروہ، دستہ، قوم، پیروکار اور پیچھے چلنے والے کے معنی میں آتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فراهیدی، خلیل بن احمد، العين، تحقيق: مهدي مخزومي - إبراهيم سامرائي، قم، مؤسسة دار الهجرة، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;جوهری، اسماعیل بن حماد، الصحاح، تحقيق: أحمد عبد الغفور العطار، بیروت، دار العلم للملايين، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م، ج۳، ص۱۲۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; جو قوم کسی ایک امر یا حقیقت پر متفق ہو، اسے شیعہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، قم،  نشر أدب الحوزة، ۱۴۰۵ق،ج۸، ص۱۸۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; اگر [[اہل بیت (ع)]] کے پیروکاروں کو شیعہ کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل بیت (ع) کے افکار و نظریات کی پیروی کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ شیعہ وقت گزرنے کے ساتھ اسلامی فرقوں میں اس گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا جو اہل بیت معصومین (ع) کی [[امامت]] کے قائل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن اثیر جزری، مبارک بن محمد، النهاية في غريب الحديث والأثر، تحقيق: طاهر أحمد الزاوي ، محمود محمد الطناحي، قم، مؤسسة إسماعيليان للطباعة والنشر والتوزيع، چاپ چهارم، ۱۳۶۴ش، ج۲، ص۵۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; آج کل ان مسلمانوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو [[حضرت علی (ع)]] کی [[خلافت]] اور امامت کے فوری جانشین ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس عقیدے پر ہیں کہ [[پیغمبر (ص)]] کا جانشین شرعی نص کے ذریعے تعین ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات، ص۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، ج۱، ص۱۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کو شیعہ کہلانے کی ابتدا سب سے پہلے پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ہوئی۔ سیوطی (اہل سنت کے علماء میں سے) نے [[جابر بن عبداللہ انصاری]]، [[ابن عباس]] اور علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے آیت {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}} کی تفسیر میں حضرت علی (ع) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: {{متن عربی|تو اور تیرے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[اہل سنت]] کی کتابوں میں آیا ہے کہ ہم رسول خدا (ص) کے پاس تھے کہ حضرت علی (ع) تشریف لائے؛ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (علی) اور ان کے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}}۔ پیغمبر (ص) کے اصحاب جب بھی حضرت علی (ع) کو دیکھتے تو کہتے: {{متن عربی| جاء خير البرية|ترجمه=خدا کی بہترین مخلوق آ گئی۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌‏بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ قرآن میں ==&lt;br /&gt;
=== گروہ یا دستہ ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] میں بنیادی طور پر &amp;quot;گروہ&amp;quot; یا &amp;quot;دستہ&amp;quot; کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی میں، شیعہ کا کوئی مثبت یا منفی مفہوم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر:&lt;br /&gt;
یکی از معانی عمده شیعه در قرآن به معنای دسته و گروه است، در این معنا، شیعه نه بار مثبت و نه بار منفی دارد. از جمله:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلی أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِکُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَّیُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ؕ— اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ |ترجمه=آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے(1) یا تمہارے پاؤں تلے سے(2) یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے(3)۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دﻻئل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وه سمجھ جائیں۔|سوره=انعام|آیه=۶۵}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی شِیَعِ الْأَوَّلینَ|ترجمه=ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے.|سوره=حجر|آیه=۱۰}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شیعَه أَیُّهُمْ أَشَدُّ عَلَی الرَّحْمنِ عِتِیًّا|ترجمه=ہم پھر ہر ہر گروه سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمنٰ سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے.|سوره=مریم|آیه=۶۹}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِی الْأَرْضِ وَ جَعَلَ أَهْلَها شِیَعاً |ترجمه=یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی(1) اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا|سوره=قصص|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن| مِنَ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِما لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ|ترجمه=ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے(1) ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.|سوره=روم|آیه=۳۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== پیروکار ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا دوسرا استعمال قرآن میں &amp;quot;پیروکار&amp;quot; یا &amp;quot;اتباع کرنے والے&amp;quot; کے معنی میں ہے۔ اگر کوئی اچھے اور کامل انسان کی پیروی کرے تو شیعہ کا مفہوم مثبت ہو جاتا ہے، اور اگر ظالم کی پیروی کرے تو منفی ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِهِ لَإِبْراهیمَ|ترجمه=اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.|سوره=صافات|آیه=۸۳}} اس آیت میں [[حضرت ابراہیم (ع)]] کو [[حضرت نوح (ع)]] کا پیروکار بتایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ دَخَلَ الْمَدینَه عَلی حینِ غَفْلَه مِنْ أَهْلِها فَوَجَدَ فیها رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلانِ هذا مِنْ شیعَتِهِ وَ هذا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغاثَهُ الَّذی مِنْ شیعَتِهِ عَلَی الَّذی مِنْ عَدُوِّهِ فَوَکَزَهُ مُوسی فَقَضی عَلَیْهِ قالَ هذا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبینٌ|ترجمه=اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے(1) ۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے(2)، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے(3)، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے.|سوره=قصص|آیه=۱۵}} اس آیت میں حضرت موسیٰ (ع) کے پیروکار اور فرعون کے پیروکار دونوں کو &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کہا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ حیلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ ما یَشْتَهُونَ کَما فُعِلَ بِأَشْیاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ کانُوا فی شَکٍّ مُریبٍ|ترجمه=ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا(1) جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا(2)، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.|سوره=سبا|آیه=۵۴}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== اختلاف اور پراکندگی ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کبھی اختلاف اور پراکندگی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جو قرآن میں مذموم ہے:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً لَسْتَ مِنْهُمْ فی شَیْءٍ|ترجمه=بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے(1) ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔|سوره=انعام|آیه=۱۵۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;references /&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = مفردات قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کلمه شیعه در قرآن]]&lt;br /&gt;
[[ar: كلمة شيعة في القرآن الكريم]]&lt;br /&gt;
[[bn: কুরআনে শিয়া শব্দ]]&lt;br /&gt;
[[en: The Term Shi‘a in the Quran]]&lt;br /&gt;
[[ms: Kata Syiah Dalam Al-Quran]]&lt;br /&gt;
[[ru:Слово шиа в Коране]]&lt;br /&gt;
[[es:La palabra Chiíta en el Corán]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=595</id>
		<title>لفظ شیعہ قرآن میں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%84%D9%81%D8%B8_%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81_%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;diff=595"/>
		<updated>2025-04-15T12:46:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا قرآن پاک میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا لفظ منفی معنی رکھتا ہے؟ قرآن میں &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کے معانی بیان کریں۔&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] پاک میں استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی گروہ، دستہ یا پیروکار کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ کبھی مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسے کہ جب [[حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کو [[حضرت نوح (علیہ السلام)]] کا [[شیعہ]] (پیروکار) بتایا گیا ہے، اور کبھی منفی معنوں میں، جیسے کہ ان لوگوں کے بارے میں جو اپنے دین کو پراگندہ کرتے ہیں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض آیات میں یہ لفظ صرف مخصوص گروہوں کے ذکر کے لیے استعمال ہوا ہے، بغیر کسی مثبت یا منفی ارادے کے۔ مثال کے طور پر، گذشتہ اقوام کے بارے میں &amp;quot;امم&amp;quot; (یعنی گروہ یا قوم) کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی ==&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;[[شیعہ]]&amp;quot; لغت میں مقدار، گروہ، دستہ، قوم، پیروکار اور پیچھے چلنے والے کے معنی میں آتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فراهیدی، خلیل بن احمد، العين، تحقيق: مهدي مخزومي - إبراهيم سامرائي، قم، مؤسسة دار الهجرة، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۹۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;جوهری، اسماعیل بن حماد، الصحاح، تحقيق: أحمد عبد الغفور العطار، بیروت، دار العلم للملايين، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م، ج۳، ص۱۲۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; جو قوم کسی ایک امر یا حقیقت پر متفق ہو، اسے شیعہ کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، قم،  نشر أدب الحوزة، ۱۴۰۵ق،ج۸، ص۱۸۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; اگر [[اہل بیت (ع)]] کے پیروکاروں کو شیعہ کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل بیت (ع) کے افکار و نظریات کی پیروی کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ شیعہ وقت گزرنے کے ساتھ اسلامی فرقوں میں اس گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا جو اہل بیت معصومین (ع) کی [[امامت]] کے قائل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن اثیر جزری، مبارک بن محمد، النهاية في غريب الحديث والأثر، تحقيق: طاهر أحمد الزاوي ، محمود محمد الطناحي، قم، مؤسسة إسماعيليان للطباعة والنشر والتوزيع، چاپ چهارم، ۱۳۶۴ش، ج۲، ص۵۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; آج کل ان مسلمانوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو [[حضرت علی (ع)]] کی [[خلافت]] اور امامت کے فوری جانشین ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس عقیدے پر ہیں کہ [[پیغمبر (ص)]] کا جانشین شرعی نص کے ذریعے تعین ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;شیخ مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات، ص۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &amp;lt;ref&amp;gt;شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، ج۱، ص۱۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کو شیعہ کہلانے کی ابتدا سب سے پہلے پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ہوئی۔ سیوطی (اہل سنت کے علماء میں سے) نے [[جابر بن عبداللہ انصاری]]، [[ابن عباس]] اور علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے آیت {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}} کی تفسیر میں حضرت علی (ع) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: {{متن عربی|تو اور تیرے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[اہل سنت]] کی کتابوں میں آیا ہے کہ ہم رسول خدا (ص) کے پاس تھے کہ حضرت علی (ع) تشریف لائے؛ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (علی) اور ان کے شیعہ قیامت کے دن نجات پانے والے ہوں گے۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: {{قرآن|إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ |سوره= بینه|آیه=۷}}۔ پیغمبر (ص) کے اصحاب جب بھی حضرت علی (ع) کو دیکھتے تو کہتے: {{متن عربی| جاء خير البرية|ترجمه=خدا کی بہترین مخلوق آ گئی۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;سيوطى، عبدالرحمن بن ابى‌‏بكر، الدر المنثور فى التفسير بالماثور، قم، كتابخانه عمومى مرعشى نجفى، چاپ اول، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۳۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== لفظ شیعہ قرآن میں ==&lt;br /&gt;
=== گروہ یا دستہ ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; [[قرآن]] میں بنیادی طور پر &amp;quot;گروہ&amp;quot; یا &amp;quot;دستہ&amp;quot; کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی میں، شیعہ کا کوئی مثبت یا منفی مفہوم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر:&lt;br /&gt;
یکی از معانی عمده شیعه در قرآن به معنای دسته و گروه است، در این معنا، شیعه نه بار مثبت و نه بار منفی دارد. از جمله:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلی أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِکُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَّیُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ؕ— اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ |ترجمه=آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے(1) یا تمہارے پاؤں تلے سے(2) یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے(3)۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دﻻئل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وه سمجھ جائیں۔|سوره=انعام|آیه=۶۵}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِکَ فی شِیَعِ الْأَوَّلینَ|ترجمه=ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے.|سوره=حجر|آیه=۱۰}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شیعَه أَیُّهُمْ أَشَدُّ عَلَی الرَّحْمنِ عِتِیًّا|ترجمه=ہم پھر ہر ہر گروه سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمنٰ سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے.|سوره=مریم|آیه=۶۹}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِی الْأَرْضِ وَ جَعَلَ أَهْلَها شِیَعاً |ترجمه=یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی(1) اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا|سوره=قصص|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
*{{قرآن| مِنَ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِما لَدَیْهِمْ فَرِحُونَ|ترجمه=ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے(1) ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.|سوره=روم|آیه=۳۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== پیروکار ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کا دوسرا استعمال قرآن میں &amp;quot;پیروکار&amp;quot; یا &amp;quot;اتباع کرنے والے&amp;quot; کے معنی میں ہے۔ اگر کوئی اچھے اور کامل انسان کی پیروی کرے تو شیعہ کا مفہوم مثبت ہو جاتا ہے، اور اگر ظالم کی پیروی کرے تو منفی ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِهِ لَإِبْراهیمَ|ترجمه=اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے.|سوره=صافات|آیه=۸۳}} اس آیت میں [[حضرت ابراہیم (ع)]] کو [[حضرت نوح (ع)]] کا پیروکار بتایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ دَخَلَ الْمَدینَه عَلی حینِ غَفْلَه مِنْ أَهْلِها فَوَجَدَ فیها رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلانِ هذا مِنْ شیعَتِهِ وَ هذا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغاثَهُ الَّذی مِنْ شیعَتِهِ عَلَی الَّذی مِنْ عَدُوِّهِ فَوَکَزَهُ مُوسی فَقَضی عَلَیْهِ قالَ هذا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبینٌ|ترجمه=اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے(1) ۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے(2)، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے(3)، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے.|سوره=قصص|آیه=۱۵}} اس آیت میں حضرت موسیٰ (ع) کے پیروکار اور فرعون کے پیروکار دونوں کو &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کہا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
*{{قرآن|وَ حیلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ ما یَشْتَهُونَ کَما فُعِلَ بِأَشْیاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ کانُوا فی شَکٍّ مُریبٍ|ترجمه=ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا(1) جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا(2)، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے.|سوره=سبا|آیه=۵۴}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== اختلاف اور پراکندگی ===&lt;br /&gt;
لفظ &amp;quot;شیعہ&amp;quot; کبھی اختلاف اور پراکندگی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جو قرآن میں مذموم ہے:&lt;br /&gt;
*{{قرآن|إِنَّ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَهُمْ وَ کانُوا شِیَعاً لَسْتَ مِنْهُمْ فی شَیْءٍ|ترجمه=بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے(1) ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے۔|سوره=انعام|آیه=۱۵۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;references /&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:کلمه شیعه در قرآن]]&lt;br /&gt;
[[ar: كلمة شيعة في القرآن الكريم]]&lt;br /&gt;
[[bn: কুরআনে শিয়া শব্দ]]&lt;br /&gt;
[[en: The Term Shi‘a in the Quran]]&lt;br /&gt;
[[ms: Kata Syiah Dalam Al-Quran]]&lt;br /&gt;
[[ru:Слово шиа в Коране]]&lt;br /&gt;
[[es:La palabra Chiíta en el Corán]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%88%D9%8E%D8%B9%D9%8E%D8%AC%D9%90%D9%91%D9%84%D9%92_%D9%81%D9%8E%D8%B1%D9%8E%D8%AC%D9%8E%D9%87%D9%8F%D9%85%D9%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7&amp;diff=580</id>
		<title>صلوات کے بعد وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ کا پڑھنا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA_%DA%A9%DB%92_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D9%88%D9%8E%D8%B9%D9%8E%D8%AC%D9%90%D9%91%D9%84%D9%92_%D9%81%D9%8E%D8%B1%D9%8E%D8%AC%D9%8E%D9%87%D9%8F%D9%85%D9%92_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DA%91%DA%BE%D9%86%D8%A7&amp;diff=580"/>
		<updated>2025-03-08T11:01:00Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صلوات کے بعد &amp;quot;وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ&amp;quot; کا پڑھنا آئمہ علیہم السلام سے منقول روایت کی بناپر ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
صلوات کے بعد &#039;&#039;وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ&#039;&#039; کا پڑھنا معتبر اسلامی [[روایات]] میں آیا ہے۔ اور علماء انہی روایات کی بنیاد پر صلوات کے بعد اسے پڑھنے کو مستحب جانتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صلوات کے بعد وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ کا ذکر روایات میں ==&lt;br /&gt;
* [[امام صادق علیہ السلام]] نے اسحاق بن عمار کو بچھو کے شر سے بچنے کی [[دعا]] سکھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ ذکر تین بار پڑھو: {{متن عربی|اللَّهُمَّ رَبَّ أَسْلَمَ‏ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ‏ فَرَجَهُمْ|ترجمه=اے وہ اللہ جو ستارہ اسلم کا رب ہے! محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیج، اُن کے فرج (ظہور اور نصرت) میں تعجیل فرما، اور ہمیں محفوظ رکھ۔‏}}&amp;lt;ref&amp;gt;كلينى، محمد، الكافي، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق، ج‏۲، ص۵۷۰، حدیث۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;.&lt;br /&gt;
* امام صادقؑ نے ایک دعا کے فراز میں یوں صلوات بھیجی ہے: {{متن عربی|اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ‏ فَرَجَهُمْ‏ وَ رُوحَهُمْ وَ رَاحَتَهُمْ وَ سُرُورَهُمْ وَ أَذِقْنِي طَعْمَ فَرَجِهِمْ وَ أَهْلِكْ أَعْدَاءَهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ|ترجمه=خدایا! محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیج، اُن کے فرج، راحت، سکون اور سعادت میں تعجیل فرما، اُن کی راحت کا ذائقہ مجھے چکھا، اور اُن کے دشمنوں کو جن و انس میں سے ہلاک کردے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt; كلينى، محمد، الكافي، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق، ج‏۲، ص۵۸۳، حدیث۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[شیخ طوسی]] نے اپنی [[کتاب تہذیب الاحکام]] میں امیرالمؤمنینؑ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں صلوات کے بعد &amp;quot;&#039;&#039;عجل فرجهم&#039;&#039;&amp;quot; کا ذکر آیا ہے: {{متن عربی| صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ‏ فَرَجَهُمْ|ترجمه=محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیج اور اُن کے فرج میں تعجیل فرما۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;طوسى، محمد، تهذيب الأحكام، تهران، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ ق، ج‏۳، ص۸۲، حدیث۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو بھی [[نماز صبح]] اور [[نماز ظہر]] کے بعد اس [[صلوات]] کو پڑھے گا وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک قائم عج کودرک نہ کرلے: {{متن عربی|اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ‏ فَرَجَهُمْ‏|ترجمه=اے پروردگار! محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیج اور اُن کے فرج میں تعجیل فرما۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;طوسى، محمد، مصباح المتهجّد و سلاح المتعبّد، بيروت، چاپ اول، ۱۴۱۱ ق، ج۱، ص۳۶۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ مجلسی نے پہلی روایت کو معتبر قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسى، محمد باقر، مرآه العقول في شرح أخبار آل الرسول، تهران، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق، ج‏۱۲، ص۴۳۹ .&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان میں سے بعض روایات کے معتبر ہونے کی بنیاد پر، صلوات کے بعد &amp;quot;وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ&amp;quot; کے پڑھنے کا مستحب ہونا، معصومین علیہم السلام کی روایات سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = دعا&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ = &lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ = &lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = &lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری = &lt;br /&gt;
 | نمایه = &lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات = &lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی = &lt;br /&gt;
 | تکمیل = &lt;br /&gt;
 | اولویت = ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:ذکر «و عجل فرجهم» بعد از صلوات]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AC%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92&amp;diff=579</id>
		<title>پروردگار عالم جنہیں دوست رکھتا ہے</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85_%D8%AC%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA_%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92&amp;diff=579"/>
		<updated>2025-03-08T10:58:33Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن کریم کے مطابق وہ کون لوگ ہیں جنہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[پروردگار]] عالم جنہیں دوست رکھتا ہے ان افراد کا تذکرہ [[قرآن کریم]] میں صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ خداوند متعال نے قرآن کریم میں پانچ جگہوں پر احسان کرنے والوں کو دوست رکھنے کا تذکرہ کیا ہے۔ دوسرا گروہ جنہیں خدا وند متعال دوست رکھتا ہے وہ متقین ہیں۔ تیسرا گروہ جنہیں خدا وند متعال دوست رکھتا ہے وہ صابرین ہیں۔ چوتھا گروہ جنہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے وہ مطہرین ہیں، پانچواں گروہ جنہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے وہ تائبین (توبہ کرنے والے) ہیں، چھٹا گروہ جنہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے وہ عدالت سے پیش آنے والے افراد ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== احسان کرنے والے ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|محسنین (احسان کرنے والے) قرآن کریم کی روشنی میں}} &lt;br /&gt;
قرآن کریم کے مطابق خداوند متعال احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: «وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره:۱۹۵&amp;lt;/ref&amp;gt; احسان کرو، نیکی کرو کہ اللہ تبارک و تعالیی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس گروہ کو دوست رکھنے کا تذکرہ قرآن کریم میں پانچ جگہوں پر آیا ہے: &lt;br /&gt;
* سورہ بقرہ کی آیت نمبر۱۹۵ &lt;br /&gt;
* سورہ آل عمران کی آیت نمبر۱۳۴ اور ۱۴۸&lt;br /&gt;
* سورہ مائدہ کی آیت نمبر۱۳ اور۹۳ یہ وہ پانچ جگہیں ہیں جہاں پر خداوند متعال نے احسان کرنے والوں سے اپنی محبت کا اعلان فرمایا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[علامہ طباطبائی]] علیہ الرحمہ احسان کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ عمل جسے اچھے طریقہ سے بغیر نقص و عیب کے انجام دیا جائے وہ احسان ہے اور یہ ایسا عمل ہے جو صرف اور صرف خدااوند متعال سے مخصوص ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۴، ص۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محسنین سے خداوند متعال کی محبت کے سلسلے میں دو طرح کے آثار ذکر کیے گئے ہیں ایک دنیوی آثار اور دوسرے اخروی آثار: ہدایت، جلد از جلد اسی دنیا میں انجام دیے گئے اعمال کی جزا کا حصول، پروردگار عالم کی خاص مدد، رحمت الٰہی سے فیضیاب ہونا، اعلیٰ مقام و منزلت پر فائز ہونا وغیرہ وغیرہ محسنین کے دنیاوی آثار میں شمار کیے گئے ہیں۔ جب کہ بہشتی نعمتیں، بہت سارے انعامات، پاداش، جزا و صلہ، اعمال کی قبولیت اور عذاب سے محفوظ رہنا وغیرہ وغیرہ اخروی آثار میں شمار کیے گئے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابوذر تشکّری صالح، آثار محبت خداوند به محسنین در قرآن، نشریه معرفت، مؤسسه آموزشی پژوهشی امام خمینی (ره)، شماره ۱۸۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== تائبین (توبہ کرنے والے) اور مطہرین (پاک و پاکیزہ رہنے والے) ==&lt;br /&gt;
[[سورہ بقرہ]] کی آیت نمبر۲۲۲ کی بنا پر خداوند متعال تائبین اور مطہرین کو دوست رکھتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۲، ص۳۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; توبہ کا مطلب خداوند متعال کی طرف پلٹنا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ اول، بی‌تا، ج۶، ۴۶۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; «توّابین» انہیں کہا جاتا ہے جو بہت زیادہ توبہ کرتے ہیں۔ پروردگار عالم ہر طرح کی توبہ کو دوست رکھتا ہے مثلا استغفار کے ساتھ توبہ، عملی طور پر توبہ، سچھے دل سے توبہ و...۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۲، ص۳۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
  &lt;br /&gt;
ایک دوسری آیت میں پروردگار عالم مطہرین (پاک و پاکیزہ افراد) کو دوست رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: «وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره توبه:۱۰۸&amp;lt;/ref&amp;gt; اور خداوند متعال پاک و پاکیزہ افراد کو دوست رکھتا ہے ۔ طہارت اور پاکیزگی کا اطلاق وسیع معانی و مفاہیم پر ہوتا ہے جو روحانی طہارت جیسے شرک اور گناہ کے آثار سے پاک و پاکیزگی کو شامل ہے اسی طریقہ سے جسمانی طہارت جیسے نجاست وغیرہ سے پاک و پاکیزہ ہونے کو شامل ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۸، ص۱۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== متقین اور جہاد ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|متقین کے اوصاف قرآن مجید کی روشنی میں}}&lt;br /&gt;
[[فائل:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ.jpg|150px|تصغیر|إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ]] &lt;br /&gt;
خداوند عالم کی طرف سے متقین اور پرہیزگاروں کو دوست رکھنے کی بات قرآن مجید میں [[سورہ توبہ]] کی آیات نمبر۴ اور۷ «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ» نیز [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر۷۶ «بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ» میں آئی ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں «تقویٰ» حرام کاموں سے پرہیز کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۲۰۲&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
اور متقین تبہکاروں، گمراہوں، سرکشوں، ستمگاروں اور مجرموں جیسے گروہ کے مقابلہ میں قرار پاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;عباسی، بابک، «تقوا»، دانشنامه بزرگ اسلامی، بنیاد دائرة المعارف اسلامی، ۱۳۹۳ش، ج۷، ذیل مدخل.&amp;lt;/ref&amp;gt; سورہ بقرہ میں متقین کے لیے پانچ خصوصیتیں ذکر کی گئی ہیں۔ &lt;br /&gt;
* [[غیب پر ایمان]]&lt;br /&gt;
* اقامۂ [[نماز]]&lt;br /&gt;
* جو کچھ بھی انہیں روزی کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے اس میں انفاق&lt;br /&gt;
* پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور گزشتہ انبیائے کرام کے اوپر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر ایمان&lt;br /&gt;
* آخرت پر یقین۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیات ۲ تا ۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
خداوند عالم [[سورہ صف]]&amp;lt;ref&amp;gt;سوره صف، آیه ۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[سورہ مائدہ]]&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مائده، آیه ۵۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں ان لوگوں کو دوست رکھنے کی بات کررہا ہے جو اس کی راہ میں [[جہاد]] کرتے ہیں ارشاد ربانی ہوتا ہے: « إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِهِ» پروردگار عالم ان کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ۔ دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہے: «فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره صف، آیه ۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی، مومنین کے سامنے خاکسار، کفار کے سامنے صاحبِ عزت، راہ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== توکل ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|توکل}}&lt;br /&gt;
قرآن کی آیتوں کی بنیاد پر خداوند متعال توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: «إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلینَ»&amp;lt;ref&amp;gt;آل عمران:۱۵۹&amp;lt;/ref&amp;gt; پروردگار عالم متوکلین کو دوست رکھتا ہے۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
[[توکل]] کا معنی خداوند متعال پر اعتما، تکیہ اور بھروسہ کرنا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۵۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; توکل ایمان کا ایک دروازہ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، اخلاق در قرآن، قم، مدرسه علی بن ابی طالب، چاپ اول، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۲۶۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; توکل کرنے والا وہ شخص ہے جو یہ جانتا ہے کہ اس کا رزق اور اس کے تمام امور خداوند متعال نے اپنے ذمہ لے رکھے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی، مالک، و دیگران، «توکل»، دانشنامه جهان اسلام، بنیاد دائرة المعارف اسلامی، ۱۳۹۳ش، ج۸، ذیل مدخل.&amp;lt;/ref&amp;gt; اسی وجہ سے وہ صرف اور صرف خدااند متعال پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے علاوہ وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا ۔ جو لوگ خداوندعالم کے اوپر اعتماد اور بھروسہ (توکل) کرتے ہیں اور دوسروں سے کسی طرح کی امید نہیں رکھتے انہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسی، فضل، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمه: گروهی از مترجمان، تهران، فراهانی، چاپ اول، بی‌تا، ج۴، ص ۳۱۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مفسرین قرآن نے [[قضا و قدر]] الٰہی پر [[رضا]] و تسلیم کو توکل سے تعبیر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;میبدی، تفسیر کشف الاسرار و عده الابرار، به نقل از دانشنامه جهان اسلام، بنیاد دائرة المعارف اسلامی، ج۱، ص۴۰۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے ایک عظیم عالم دین غزالی کا بیان ہے کہ: «توکل» مقربین کے مقامات میں سے ایک ہے اور قلب کا خداوند متعال کے اوپر اعتماد و بھروسہ کرنا ہی توکل ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;غزالی، کیمای سعادت، به نقل از شهیدی، سید جعفر، شرح مثنوی، ج۶، ص۳۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[آیت اللہ جعفر سبحانی]] کہتے ہیں کہ توکل سے مراد اپنے کاموں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا ہے، البتہ ایسا نہیں ہے کہ ہم عالم اسباب اور مسبّبات کو نظر انداز کرکے ہمیشہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس کے انتطار میں رہیں کہ کوئی غیبی ہاتھ ظاہر ہوکر ہماری مدد کرے گا اور ہمارے کاموں کو مرحلہ تکمیل تک پہنچا دے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، منشور جاوید، ج۳، ص۴۱۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
== صابرین ==&lt;br /&gt;
جو لوگ مصیبتوں اور کافروں کے مقابلہ میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہ کر صبر کو گلے لگائے رہتے ہیں انہیں خداوند متعال دوست رکھتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: «وَ اللَّهُ یُحِبُّ الصَّابِرینَ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران:۱۴۶&amp;lt;/ref&amp;gt; پروردگار عالم صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند متعال سے ایسا یقین چاہتے ہیں جس کے ذریعہ دنیا کی مصیبتیں ان کے اوپر آسان ہوجائیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;محمد صادق عارف، راه روشن (ترجمه المحجة البیضاء)، الفیض الکاشانی، ج۷، ص۱۶۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عدل و انصاف کرنے والے ==&lt;br /&gt;
قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو دوست رکھنے کا ذکر تین جگہوں پر ہوا ہے۔ چنانچہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے: «إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ» قسط و عدل برپا کرنے والوں کو خداوند متعال دوست رکھتا ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مائده، آیه ۴۲. سوره حجرات، آیه ۹. سوره ممتحنه، آیه ۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عدل، ظلم و جور کے مقابلہ میں ایک اہم مسائل میں سے ہے جس کے بارے میں قرآن مجید نے بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اس پر بہت زور دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، شیخ جعفر، منشور جاوید، ج۱۳، ص۱۶۸&amp;lt;/ref&amp;gt; اور قرآن کریم میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ خداوند متعال نے انبیائے کرام کو لوگوں کے درمیان قسط و عدل برپا کرنے کے لیے مبعوث کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ»۔ بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ سماج و معاشرہ میں عدل وانصاف برپا کریں (عدل و انصاف سے پیش آئیں)۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره حدید، آیه ۲۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = خداشناسی در قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = افعال الهی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها =شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش =شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی =شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =شد&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی = &lt;br /&gt;
 | ارزیابی کیفی = &lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت = ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: کسانی که خداوند دوست می‌دارد]]&lt;br /&gt;
[[bn: আল্লাহ যাদেরকে পছন্দ করেন]]&lt;br /&gt;
[[en: Those Whom God Loves]]&lt;br /&gt;
[[ru: Кто любимцы Бога]]&lt;br /&gt;
[[ms: Orang-orang Yang Dicintai Allah Swt]]&lt;br /&gt;
[[ar: الذين يحبهم الله]]&lt;br /&gt;
[[es:Las personas que Dios ama]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%88_%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81&amp;diff=578</id>
		<title>محکم و متشابہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85_%D9%88_%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81&amp;diff=578"/>
		<updated>2025-03-08T10:58:03Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں پائی جانے والی محکم اور متشابہ آیتوں سے کیا مراد ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;محکم و متشابہ&#039;&#039;&#039; آیتوں کے بارے میں [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر۷ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اور آیات محکم کو اصطلاح میں «[[ام الکتاب]]» بھی کہا جاتا ہے۔ محکم کا مطلب مستحکم اور ہر قسم کے خلل اور خرابی سے محفوظ ہونا ہے۔ اور اسی کے مقابلہ میں متشابہ ہے جو مشابہ، ہم شکل اور اسی جیسا کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اس طریقہ سے کہ یہی مشابہت حق و باطل کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں متشابہ آیتوں کے موجود ہونے پر کئی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے: عظیم معانی بیان کرنے میں الفاظ کی کمی، انسان کے افکار و خیالات میں محدودیت خاص طور پر آخرت ([[ما ورائے طبیعت]]) اور اس عالم کے علاوہ دوسرے عالم کے بارے میں افکار و خیالات کی محدودیت، عقل و خرد اور فکر و خیال کے حاملین افراد کو [[قرآن مجید]] میں غور و فکر کرنے کی دعوت، لوگوں کو «[[راسخون فی العلم]]» کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دینا جو [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] اور ان کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== محکم و متشابہ کے لغوی اور اصطلاحی معانی ==&lt;br /&gt;
=== محکمات ===&lt;br /&gt;
«محکم» مستحکم اور خلل ناپذیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جو «حَکَمَ حَکْماً» سے ماخوذ اور «مَنَعَ مَنعاً» کے معنی میں ہے۔ یعنی ہر طرح کی خلل اندازی، ناسازگاری، بربادی وغیرہ سے روکنا اور محفوظ کرنا ہے۔ [[راغب اصفہانی]] کہتے ہیں:&amp;lt;br&amp;gt;&lt;br /&gt;
:: «حکم» اصل میں منع کرنے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے بالخصوص برائی سے روکنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;راغب اصفهانى، حسين بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دار الشاميه، چاپ اول، ۱۴۱۲ق، ص۲۴۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طرح کہا گیا ہے کہ ہر وہ بات، ہر وہ قول جو کسی بھی شک و شبہ سے خالی ہو اور غلط فہمی کا شکار نہ بن سکے، مستحکم اور خلل ناپذیر ہو تو اسے «محکم» کہتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۷۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== متشابہ ===&lt;br /&gt;
لفظ «متشابہ» «شُبْه» سے مشتق (اسم مصدر) «مثل، شبہیہ، ہم شکل» کے معنی میں ہے یا «شَبَه» (مصدر) ہے جس کا معنی «ایک جیسا ہونا، ہم شکل ہونا » ہے، اس طرح سے کہ اس مشابہت میں حقیقت اور غیر حقیقت میں پتہ چل نہیں پاتا کہ حقیقت کیا ہے یعنی حقیقت پوشیدہ ہوجاتی ہے اور حق و باطل کا آپس میں امتزاج ہوجاتا ہے جس سے پتہ چل نہیں پاتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے جس کی وجہ سے انسان غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ راغب اصفہانی [[قرآن مجید]] میں موجود اس طرح کی آیتوں کو آیات متشابہات سمجھتے ہیں جس کی تفسیر کرنا ایک مشکل امر ہے، کیوں کہ اس کا جو ظاہر ہے وہ حقیقت میں ویسا نہیں ہوتا بلکہ وہ کسی دوسری چیز سے مشابہت رکھتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;راغب اصفهانى، حسين بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دار الشاميه، چاپ اول، ۱۴۱۲ق، ص۴۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; یا ہادی معرفت کے بقول: کلام حق یعنی قرآن مجید جب بھی حق و حقیقت کے علاوہ کوئی اور صورت میں جلوہ گر ہو تو باطل سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے جسے اصطلاح میں «متشابہ» کہا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۷۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات محکمات ==&lt;br /&gt;
آیات محکمات ان آیتوں کو کہا جاتا ہے جن کے معانی اتنے واضح و روشن ہوں کہ ان میں کسی طرح کی گفتگو، قیل و قال اور بحث کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہ ہو؛ جیسے «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کہو کہ وہ اللہ ہے، یتکا و بے نظیر ہے۔ ان آیتوں کو قرآن مجید میں ام الکتاب سے یاد کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران، آیه ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; ام الکتاب، جڑ اور اساس و بنیاد کے معنی میں ہے جنہیں متشابہ آیات کا مآخذ، مرجع اور ان کی تفسیر کرنے والا جانا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات متشابہات ==&lt;br /&gt;
خود قرآنی آیت کے مطابق «هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران: 7&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ ذات وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس میں سے کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو «ام الکتاب» (اصل کتاب) ہیں اور کچھ آیتیں متشابہ ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[قرآن کریم]] میں آیات متشابہات کے وجود کو آیات محکمات کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متشابہ آیتوں کا وجود اس وجہ سے ہوا کہ ان کے الفاظ مختصر ہیں لیکن ان کے معانی وسیع اور عمیق ہیں۔ مثال کے طور پر وہ آیتیں جو خود خداوند متعال اور اس کے افعال کے بارے میں مجاز، کنایہ، یا استعارہ کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ مثلاً وہ آیات جو [[خداوند]] متعال اور اس کے افعال کے بارے میں مجاز، کنایہ یا استعارہ کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ جیسے: «فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْهُ بَلاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ»&amp;lt;ref&amp;gt;سوره انفال:۱۷&amp;lt;/ref&amp;gt; پس تم لوگوں نے ان کفار کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کے گھاٹ اتارا ہے، اور پیغمبر آپ نے سنگریزے نہیں پھیکے ہیں بلکہ خدا نے پھیکے ہیں تاکہ اپنی طرف سے مومنوں کا بہتر طریقہ سے آزمائش کرے، خداوند متعال سننے والا، جاننے والا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض لوگ مذکورہ آیت سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سارا کام خداوند متعال انجام دیتا ہے انسان کو اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے جب کہ یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;رضا، محمد رشيد، تفسير القرآن الحكيم الشهير بتفسير المنار، بیروت، دار المعرفه، چاپ اول، ۱۴۱۴ق، ج۱۰، ص۱۳۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آیت پر غور و خوض کیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ خداوند عالم اس آیت میں مسلمانوں کے قتل کرنے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیر چلانے کی نفی نہیں کررہا ہے، بلکہ یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ تمہارے فکر و خیال میں یہ بات بالکل نہ آئے کہ کفار پر غلبہ ایک عام، معمولی اور طبعی معاملہ تھا۔ بلکہ اس امر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خدا ہی تھا جس نے ملائکہ کو نازل کیا اور انہیں کے ذریعہ مومنین کو مستحکم بنا کر کفار کو مرعوب و خوفزدہ کیا، اور وہ سنگریزے جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پھینکی تھیں اسی کے ذریعہ انہیں فرار کرنے پر مجبور کیا اور مومنین کو ان کے قتل اور اسیر کرنے پر طاقت و قدرت عطا فرمائی۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبايى، محمدحسين، الميزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامى، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی ایک اور آیت جس میں ارشاد ہوتا ہے: «یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَیُدْعَوْنَ إِلَی السُّجُودِ فَلا یَسْتَطِیعُونَ»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قلم:۴۲&amp;lt;/ref&amp;gt; اس دن کو یاد کرو جس دن تمہاری پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدوں کی دعوت دی جائے گی تو یہ سجدہ کرنے کے لائق بھی نہیں رہیں گے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عربوں کے عام استعمال میں لفظ «ساق» کا استعمال کنایہ کے طور پر کسی امر میں اظہار شدت اور سختی کے لیے ہوتا ہے۔ «کشف ساق» کنایہ کے طور پر کسی کام کو انجام دینے پر مکمل آمادگی کو کہتے ہیں، یعنی کسی کام کو انجام دینے پر کمر کس لینے کو «کشف ساق» کہتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ پیر کی پنڈلی کو ظاہر کیا جائے۔ مذکورہ آیت عربوں کے عام استعمال کے اعتبار سے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ روز قیامت حالات بہت سخت اور ناسازگار ہوجائیں گے، اور کفار سخت پریشانی میں مبتلا ہوجائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;زمخشرى، محمود بن عمر، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل و عيون الأقاويل فى وجوه التأويل، بیروت، دار الكتاب العربي، چاپ سوم، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۹۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
اہل سنت کے دو مکتب فکر «[[اشاعرہ]]» اور «[[اہل تجسم]]» (جو اللہ کے جسم کے قائل ہیں) نے اس آیت میں لفظ «ساق» کا ظاہری معنی مراد لیا ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ «ساق» سے مراد خداوند متعال کا پاؤں ہے جو اس دن (قیامت کے دن) برہنہ ہوجائے گا اور کفار کو سجدے کرنے کا حکم ہوگا لیکن وہ سجدے نہیں کرسکیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمد هادی، علوم قرآنی، ص۲۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآن مجید میں آیات متشابہ کے وجود پر دلائل ==&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں آیات متشابہ کے وجود کی حکمت کے سلسلے میں متعدد وجہیں بیان کی گئی ہیں۔ جن میں سے کچھ کو ذیل میں ذکر کیا جارہا ہے:&lt;br /&gt;
* وہ الفاظ اور عبارتیں جو انسانوں کی گفتگو میں استعمال کی جاتی ہیں وہ صرف روز مرہ کی ضرورتوں کے لیے بنائی گئی ہیں، اور یہ الفاظ کی کمی اور تنگی ہے جو ماورائی معانی اور مطلوب کو پہنچانے سے قاصر ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی متشابہ آیتوں کا ایک قابل توجہ حصہ وجود میں آیا اور ان آیتوں یا آیتوں میں پائے جانے والے بعض کلمات کی تفسیر، تشریح، تأویل اور توضیح کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مطلوبہ معانی تک پہنچا جاسکے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* قرآن مجید کے بہت سے حقائق دوسرے عالم (آخرت ) کے لیے ہیں جو انسان کے افکار و خیالات کی پرواز سے کہیں بہت دور ہیں اور انسان ان کی گہرائیوں اور گیرائیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہماری یہ کوتاہ فکری اور ان معانی کا اعلیٰ و عظیم  ہونا قرآن مجید میں آیات متشابہات کے وجود کی ایک اور وجہ بنتی ہے۔ جیسے قیامت وغیرہ سے مربوط کچھ آیتیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پورا کا پورا قرآن محکم ہے، لیکن جب یہ فکر بشر تک پہنچتا ہے تو اس کی کچھ آیتوں میں انسان کو تشابہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ بارش زمین پر نازل ہونے سے پہلے بے کف (جھاگ) ہوتی ہے یعنی اس میں جھاگ اور بلبلے وغیرہ نہیں ہوتے لیکن جب وہی بارش کے قطرات زمین پر پڑکر رواں ہوتے ہیں تو اس میں جھاگ وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں، اسی طریقہ سے قرآن کی آیتیں آسمان معرفت سے متشابہ نازل نہیں ہوتی ہیں بلکہ افکار بشری کے نقائص اور فہم و ادراک میں کمی کی بنا پر تشابہ ایجاد ہوجاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوادی آملی، عبد الله، قرآن در قرآن، ص۴۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* علماء و دانشوران قوم اپنی سوچ و فکر کو بروے کار لاتے ہیں اور غور و خوض کے بعد خداوند متعال کے حقیقی مقصد اور حقیقی مراد متکلم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کی فضیلت و برتری کے درجات دوسرے عام لوگوں پر بڑھ جاتے ہیں اور وہ بلند و عظیم مراتب تک پہنچ جاتے ہیں جس تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا.&amp;lt;ref&amp;gt;طوسى، محمد بن حسن، التبيان في تفسير القرآن، بیروت، دار إحياء التراث العربي، چاپ اول، ج۲، ص۳۹۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* اس سلسلہ میں ایک اور دلیل، لوگوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا ہے جس کی تائید و تصدیق روایتوں کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اس طرح کی آیتوں کا پایا جانا، لوگوں کی الٰہی رہنماؤں، «راسخون فی العلم»، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اوصیائے برحق کی طرف شدید ضروریات کو واضح و روشن کرتا ہے نیز سبب بنتا ہے کہ لوگ اپنی علمی تشنگی کو بجھانے کے لیے ان کی طرف رجوع کریں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ دهم، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = محکم و متشابه&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده = &lt;br /&gt;
 | بازبینی =&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت = ب&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:محکم و متشابه]]&lt;br /&gt;
[[bn: মুহকাম ও মুতাশাবিহ]]&lt;br /&gt;
[[es: los versículos claros y los ambiguos en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[en: Firm and Ambiguous Verses]]&lt;br /&gt;
[[ps: محکم او متشابه]]&lt;br /&gt;
[[ru: Мухкам и муташабихат аяты в Коране]]&lt;br /&gt;
[[ms: Ayat Muhkamat Dan Mutasyabihat Dalam Alquran]]&lt;br /&gt;
[[ar: المحكم والمتشابه]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%DB%81%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%DB%8C%D8%B3&amp;diff=577</id>
		<title>صہیونیزم کی تأسیس</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%DB%81%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%B2%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%A3%D8%B3%DB%8C%D8%B3&amp;diff=577"/>
		<updated>2025-03-08T10:56:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
صہیونیزم (صہیونیت) کا تصور کیسے وجود میں آیا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;صہیونیزم (صہیونیت) کے خیال کی پیدائش&#039;&#039;&#039; اصل میں پوری دنیا کے کسی بھی علاقہ میں [[یہودیوں]] کی کوئی مستقل حکومت نہیں تھی ان کا وجود بھی دنیا کے الگ الگ ملکوں میں بکھرا ہوا تھا چنانچہ دنیاکے یہودیوں کو انتشار اور بکھرنے سے بچانے کے لیے اس کا تصور ذہن میں آیا، جس کی وجہ سے فلسطین میں ایک مستقل یہودی حکومت و ریاست کی تأسیس اور قیام کے ساتھ ساتھ بھر پور تلاش و کوشش اس بات پر تھی کہ پوری دنیا میں ہر طرف بکھرے اور پھیلے ہوئے یہودیوں کو وہاں جمع کیا جائے۔ مختلف ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں یہودیوں پر فشار، دباؤ اور جو پریشانیاں انہیں اٹھانی پڑرہی تھیں ان کے اندر جذبۂ اتحاد پیدا کرنے کا سبب بنی اور یہ جذبہ دھیرے دھیرے قوی سے قوی تر ہوتا چلا گیا۔ ایک آسٹریائی باشندہ «تھیوڈرو ہرٹسل» نامی یہودی مصنف کے فکر و خیال نے اس صہیونی نظریہ اور ایک مستقل حکومت کی تشکیل میں ایک بنیادی اور اہم کردار ادا کیا۔ لہذا اس نے اپنے اس فکر و خیال کو ۱۸۹۵ء میں «یہودی ریاست» نامی کتاب تحریر کر کے پوری دنیا میں اسے شائع کردیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنابریں، [[صہیونیت]] کی پہلی عالمی کانفرنس یہودی دانشوروں اور سرمایہ داروں کے ذریعہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی اور اپنے مقاصد کے تحت بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ صہیونیت کے شروعاتی مرحلہ میں اس جماعت کے رہنماؤں نے نہ کسی خاص علاقہ پر زور دیا اور نہ ہی کسی معین جگہ اور سرزمین کی تاکید کی، بلکہ ان کا اصلی مقصد اور زیادہ تر تاکید ایک صہیونی ریاست کے قیام اور وہاں پر تمام ممالک سے بکھرے اور پراکندہ یہودیوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ البتہ صہیونیوں کا ایک گروہ پہلے سے ہی سرزمین فلسطین کی نسبت حساسیت کا شکار اور اس کی طرف خاص توجہ رکھتے ہوئے اسے سرزمین موعود تصور کررہا تھا۔ آخر کار یہ گروہ غالب حیثیت کے حصول میں کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اسی بنا پر انہوں نے سرزمین فلسطین پر اپنی حکومت کا جھنڈا گاڑ کر  اپنی ریاست کا اعلان کردیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیت کی حقیقت ==&lt;br /&gt;
صہیونیت یا صہیونیزم، یہودیوں کی ایک قومی تحریک کا نام ہے۔ جس کا بنیادی مقصد فلسطین میں ایک خودمختار یہودی حکومت اور یہودی سماج و معاشرہ کی تشکیل ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;آشوری، داریوش، دانشنامه سیاسی، تهران، انتشارات مروارید، ۱۳۸۰ش، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس تحریک کا نام «یروشیلم» میں واقع «صہیون» نامی پہاڑ (جہاں جناب [[داؤود نبی علیہ السلام]] کی قبر مطہر ہے) سے لیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس تحریک کے رہنماؤں نے نسل پرستی اور یہودیوں کے تسلط کے نظریہ کے پیش نظر مختلف ممالک میں پائے جانے والے یہودیوں کو سرزمین فلسطین پر بلایا، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس نعرہ «فلسطین سرزمین موعود» کے تحت یہودیوں کو وہاں آباد کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فلسطین کے اصلی باشندوں یعنی مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کیا اور ان کے ساتھ ظلم و تشدد کا برتاؤ کرتے ہوئے یا تو انہیں ان کی اصلی سرزمین سے نکال باہر کیا یا تو انہیں قتل کر کے ابدی نیند کی آغوش میں بھیج دیا۔ نتیجتاً اس رویہ کے تحت انہوں نے اس سرزمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جماکر اپنی ریاست کو بڑھاتے چلے آرہے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، اکرم، سرگذشت فلسطین، ترجمه اکبر هاشمی رفسنجانی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش، ص۹۲–۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صہیونیزم (صہیونیت) ایک سیاسی گروہ ہے جو اپنی قدرت و طاقت اور آلات ظلم و تشدد کے ذریعہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ «فلسطین» اور اس کے اطراف کے عربی ممالک میں ایک مستقل یہودی ریاست تشکیل دے اور دنیا میں پائے جانے والے تمام یہودیوں کو اس سرزمین پر جمع کرے۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، سرگذشت فلسطین، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیزم کی پیدائش کا پس منظر ==&lt;br /&gt;
ابتدائی طور پر اس گروہ کا مقصد [[فلسطین]] میں حکومت قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری دنیا کے مختلف ممالک سے بکھرے ہوئے یہودیوں کو یکجا کرکے انہیں انتشار اور پراکندگی سے نجات دینا تھا۔ اسی فکر و خیال کی بنا پر اس تحریک کی سنگ بنیاد رکھی گئی۔&amp;lt;ref&amp;gt;زعیتر، سرگذشت فلسطین، ص۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مشرقی یورپی کے مختلف ممالک جیسے روس، پولینڈ، رومانیہ وغیرہ میں جو یہودیوں کے اوپر فشار اور دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ اسی چیز نے یہودیوں کے اتحاد کی تحریک میں کلیدی رول ادا کر کے ان کی تحریک کو تقویت بخشی۔ اسی سلسلہ میں یہودیوں کے اعلیٰ شخصیت کے حامل افراد میں سے «پینکر» نامی شخص نے «خود مختاری» نام کی ایک کتاب تحریر کی اور اسے جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے یہودیوں کو ترغیب دلائی۔ اس نے اس کتاب میں یہ کہا کہ:&amp;lt;br&amp;gt;&lt;br /&gt;
::«دنیا یہودیوں کو ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے، کیوں کہ ہم پوری دنیا کے کسی خطہ اور کسی سرزمین پر کوئی مستقل مرکز اور وطن نہیں رکھتے ہیں نیز ہر طرف ہمیں بیگانہ ہی بیگانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس درد کا بنیادی علاج صرف یہ ہے کہ پوری دنیا کے تمام یہودی وطن (فلسطین) کی سرزمین پر جمع ہوں اور ایک مستقل یہودی ریاست قائم کریں ۔۔۔»۔&lt;br /&gt;
اس تجویز کا اثر یہ ہوا کہ فورا «عشّاق صہیون» نامی ایک تنظیم تشکیل پائی جس نے مندرجہ ذیل مقاصد کے تحقق پر کام کرنا شروع کردیا:&lt;br /&gt;
* عبری زبان کی بحالی (احیا)۔&lt;br /&gt;
* تمام یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت اور ترغیب و تشویق۔&lt;br /&gt;
* فلسطین کی سرزمینوں پر قبضہ جمانا اور اس پر یہودیوں کو آباد کرنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوکولوف، ناحوم، تاریخ صهیونیسم، ترجمه داود حیدری، تهران، مؤسسه مطالعات تاریخ اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس گروہ اور حزب صہیون کا بجٹ یہودی سرمایہ داروں خاص طور پر ان سرمایہ داروں میں سے «بارون ایڈمونڈ چیلڈ» نامی شخص کے ذریعہ فراہم ہوتا ہے۔ ان کی اس مدد کی وجہ سے انہوں نے فلسطین کی زمین کے کچھ چھوٹے چھوٹے پلاٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، نتیجتا ان مقامات پر یہودیوں کو بسانے لگے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ابتدائی مرحلہ میں «عشاق صہیون» نامی تحریک کوئی بہت مشہور یا قابل ذکر تحریک نہیں تھی اور نہ ہی اس کا کوئی واضح و روشن سیاسی مقصد تھا۔ یہاں تک کہ ایک یہودی قلمکار «تھیوڈور ہرٹسل» نامی ایک آسٹریایی باشندہ، کسی ایک یہودی کے ساتھ رونما ہونے والے حادثہ سے متأثر ہوکر یہودیوں کے لیے ایک مستقل سرزمین کے قیام پر جدی طور پر سرگرم عمل ہوگیا۔ ا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ور اسی بنیاد پر اس نے ۱۸۹۵ء میں «یہودی ریاست» نامی ایک کتاب تحریر کرکے اسے شائع کیا۔ اس کتاب میں اس نے اپنے اظہار خیال کو ان الفاظ کے گلدستہ میں پیش کیا: «یہودیوں کے پریشان کن مسائل کا حل یہ ہے کہ جو افراد کسی ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں اور وہ وہاں کہ حالات اور مشکلات کو تحمل نہیں کرسکتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ایک ایسے وسیع و عریض علاقہ میں جمع ہوں جو ایک بڑی قوم کے لیے کافی ہو»۔ ہرٹسل کی کتاب اور تشکیل حکومت صہیونیزم کا نظریہ یہودیوں کو بہت پسند آیا اور اس کا کافی استقبال کیا گیا، اسی بنا پر صہیونیزم کے حامیوں بالخصوص ہرٹسل وغیرہ کا ضمیر اس قدر بیدار ہوا، اس قدر بیدار ہوا کہ انہوں نے کچھ دنوں کے بعد ہی سوئٹزرلینڈ کے «بال» نامی شہر میں پہلی صہیونی کانفرنس منعقد کرڈالی»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوکولوف، تاریخ صهیونیسم، ج۱، ص۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== صہیونیزم کی عالمی کانفرنس اور صہیونی حکومت کا قیام ==&lt;br /&gt;
صہیونیت کی پہلی عالمی کانفرنس یہودی دانشوروں اور سرمایہ داروں کے ایک بڑے اجتماع کے ساتھ منعقد کی گئی اور یہ کانفرنس اپنے مقاصد کے تحت بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے اہداف و مقاصد کی بنیاد پر صہیونیزم اپنے عملی میدان سے قریب تر ہو گیا۔ ہرٹسل نے «یہودی ریاست و حکومت» کے لیے اپنے بیان میں کسی خاص علاقہ یا کسی معین سرزمین کا ذکر نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس نے سرزمین فلسطین کے لیے اپنی جدّیّت اور مصمّم ہونے کی صراحت کی تھی۔ خلاصہ یہ کہ ہرٹسل نے اس سلسلہ میں کسی طرح کی کوئی صراحت نہیں کی۔ اگر چہ وہاں پر موجود یہودیوں میں سے بعض نے بعض ممالک جیسے اوگانڈا، ارجنٹائن وغیرہ کے سلسلے میں پیشنہاد اور تجویزیں بھی پیش کیں۔ ہرٹسل نے دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی کتاب میں اسی تحریک سے متعلق ایک بہت اہم تجویز پیش کی کہ: «یہودی نمائندگی کا ایک دفتر قائم کیا جائے جو صہیونی حزب کے سیاسی منصوبوں اور مذاکراتی پروگراموں کو مرتّب کرے اور ساتھ ہی ساتھ ایک یہودی کمپنی بھی بنائی جائے جس کے ذریعہ تحریک کی مالی مشکلیں حل ہوسکیں اور اس کی ضرورتیں اچھے طریقے سے پوری ہوسکیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ترجمه ابراهیم یونسی، تهران، مؤسسه انتشارات امیرکبیر، ۱۳۵۶ش، ص۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنابریں، [[صہیونیت]] کی تشکیل کے ابتدائی دور میں اس حزب کے رہنماؤں نے کسی خاص علاقہ اور کسی معین سرزمین کی طرف نہ ہی کوئی خاص توجہ دلائی اور نہ ہی زور دیا، بلکہ ان کا بنیادی اور اساسی مقصد «صہیونی ریاست» کا قیام اور اسی کے سایہ میں پوری دنیا کے یہودیوں کو یکجا کرنا تھا۔ پس «یہودی حکومت» کی تشکیل کا خیال صرف ایک معاون وسیلہ کی حیثیت کا حامل تھا۔ اسی وجہ سے صہیونیوں کے لیے اس مرکز کے انتخاب مقام کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔  جیسا کہ اس سلسلہ میں «لئوپینکر» تحریر کرتا ہے کہ: «ہمارے لیے یہ لازم و ضروری نہیں ہے کہ ہم قہرا و جبرا اسی جگہ اقامت کریں جہاں کبھی ہماری حکومت ختم ہوئی تھی ۔۔۔، ہمیں تو صرف ایک قطعہ زمین کی ضرورت ہے جس کے ہم مالک بن سکیں اور وہاں رہ سکیں ۔۔۔، ہم اپنی قدس الاقدس یعنی اپنے عزیز وطن کو کھونے کے بعد بھی خدا اور مقدس کتاب کو جسے ہم نے حفاظت کے ساتھ رکھا ہے اسے وہاں لے کر جائیں گے۔ چونکہ انہوں نے ہی ہمارے وطن کو ارض مقدس میں تبدیل کیا ہے نہ کہ اردن اور اورشیلم نے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صہیونی حکومت کے قیام میں دو اہم نظریے غالب تھے۔ اور جب تک صہیونیزم کا اصلی بانی ہرٹسل زندہ تھا اسے کسی بھی خاص خطہ یا معین سرزمین، خاص طور پر فلسطین کے سلسلہ میں کوئی خاص حساسیت نہیں تھی۔ انیسویں صدی عیسوی میں صہیونیوں کی چٹھی کانفرنس  میں اوگانڈا کو حکومت کے مرکز کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ اور اسی کانفرنس میں ہرٹسل نے یہ اعلان کیا کہ:&amp;lt;br&amp;gt; &lt;br /&gt;
::«مجھے اس بات میں کوئی شک و تردید نہیں ہے کہ یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی کانفرنس میں اس تجویز کو حق پسندی کے ساتھ قبول کرلیا جائے گ۔ اور وہ تجویز یہ ہے کہ ایک یہودی آبادی والا خود مختارسوسائٹی جو ایک یہودی ڈھانچہ اور مقامی حکومت کا حامل ہو مشرقی افریقہ میں قائم کیا جائے، جس کا سربراہ ایک اعلیٰ رتبہ اور عظیم مرتبہ کا یہودی افسر ہو۔ اور یہ بھی بات یاد رہے جسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ سارا کام برطانوی حکومت کی نگرانی میں انجام پائے گا.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۲۰-۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سلسلہ میں ایک دوسرا نظریہ بھی پیش کیا گیا۔ اس نظریہ کے طرفدار اور حامی افراد ابتدا سے ہی خاص طور پر سرزمین فلسطین کی نسبت سے حساسیت کے شکار تھے چونکہ اسی سرزمین کو اپنا موعودہ سرزمین سمجھ رہے تھے۔ چنانچہ اس نظریہ کے حامی افراد نے پہلے والے نظریہ کی رد میں اپنا اظہار خیال کیا، جن میں سے سر فہرست «حاییم وایزمن» تھا۔ اس نے بیان کیا کہ:&amp;lt;br&amp;gt; &lt;br /&gt;
::« جس علاقہ کی تجویز پیش کی گئی ہے وہ یا تو بہت سرد ہے یا بے انتہا گرم نیز ان کی آبادی اور ترقی میں برسوں وقت گزر جائے گا ساتھ ہی ساتھ ایک سنگین اور ناگفتہ بہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا.».&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۸۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ صہیونیزم کی قیادت میں کچھ ایسے بھی گروہ شریک تھے جو مختلف امپریالیستی حکومت کے نمائندہ تھے۔ کچھ شخصیتیں جیسے «آلفرد نوسیک» جو جرمنی کے حامی تھے، ایک گروہ جیسے «حاییم وایزمن» انگلینڈ کے طرفدار تھے، اور دوسرے گروہ کے لوگ بھی کسی نہ کسی دوسرے امریالیستی حکومتوں کے طرفدار اور حامی تھے۔ اس سلسلہ میں تشتّت آراء، متعدد نظریات کا باعث بنے، جس کے نتیجہ میں صہیونی رہنماؤں کے درمیان کشمکش کا بازار گرم ہو گیا اور بالاخرہ برطانیہ کے طرفدار اور حامییوں کو «حاییم وایزمن» کی قیادت میں کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب برطانیہ کے جلسات میں ایک ایسا گروہ سامنے آیا جو ایک طولانی عرصے سے ہی سرزمین فلسطین پر نظریں جمائے ہوئے تھا اور جیسے ہی موقع فراہم ہوا ویسے ہی فلسطین میں اپنی ریست کا جھنڈا نصب کرکے حکومت قائم کرلی۔&amp;lt;ref&amp;gt;ایوانف، یوری، صهیونیسم، ص۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی =سیاست&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ =جهان اسلام&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =فلسطین&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{ارزیابی&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | عکس = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | درگاه = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ادبیات = شد&amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | پیوند = شد&amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ناوبری = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | تغییرمسیر = شد&amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارجاعات = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کیفی = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | اولویت = ج &amp;lt;!--الف | ب | ج | د--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | کیفیت = خوب &amp;lt;!--خیلی خوب | خوب | متوسط | ضعیف--&amp;gt;&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa:پیدایش ایده صهیونیسم]]&lt;br /&gt;
[[bn: জায়নবাদী ধারণার সৃষ্টি]]&lt;br /&gt;
[[es: El origen de la idea sionista]]&lt;br /&gt;
[[en: The Emergence of the Zionist Idea]]&lt;br /&gt;
[[ps: د صهیونزم نظریه]]&lt;br /&gt;
[[ru: Зарождение идеи сионизма]]&lt;br /&gt;
[[ms: Bagaimanakah Ide Zionisme Terbentuk]]&lt;br /&gt;
[[ar: نشأة فكرة الصهيونية]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7&amp;diff=576</id>
		<title>حضرت مریم سلام اللہ علیہا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%A7&amp;diff=576"/>
		<updated>2025-03-08T10:55:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا کیا مقام و مرتبہ تھا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت مریم سلام اللہ علیہا&#039;&#039;&#039; وہ واحد خاتون ہیں جن کا [[قرآن]] میں ذکر کیا گیا ہے اور تمام مومنین کے لیے رول ماڈل کے طور پر پہچنوایا گیا ہے۔ قرآنی آیات کے مطابق، حضرت مریم (س) بڑے بلند درجہ پر فائز تھیں جیسے خدا کی طرف سے منتخب ہونا. صدیقہ (انتہائی سچی)، طاھرہ ،عفیفہ (پاکیزگی)اور فرشتوں سے بات کرنے جیسے عہدے ہیں۔ کچھ مسلمان علماء دین، حضرت مریم علیہا السلام کی نبوت پر یقین رکھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنی والدہ کی نذرکے مطابق، مریم (س) کو خدا کی خدمت اور عبادت کے لیے [[بیت المقدس]] لے جایا گیا۔ عبادتگاہ کے پجاریوں میں مریم کی سرپرستی پر جھگڑا ہوا۔ انہوں نے جھگڑا طے کرنے کے لیے قرعہ ڈالا اور قرعہ [[زکریا (ع)]] کے نام نکل آیا اور وہ مریم (س) کے ولی بن گئے۔ حضرت مریم (س) بیت المقدس کے مشرقی حصے میں عبادت کرتی تھیں۔ مریم (س) لوگوں کے درمیان تقویٰ کے لیے مشہور تھیں۔ قرآنی آیات کے مطابق زکریا (علیہ السلام) نے مریم کے ساتھ کھانا دیکھا اور ان سے ـ ان کے کھانے کے بھیجنے والے کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں مریم (س)نے کہا یہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی نعمتیں ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآنی آیات اور احادیث سے روشن ہوتا ہے کہ حضرت مریم (س) نارمل طریقے سے [[مریم (س) کا حمل|حاملہ]] نہیں ہوئیں تھیں۔ قرآن ان کے حمل کی مدت کے بارے میں کچھ نہیں کہتاہے۔ کچھ مفسرین کے مطابق حضرت مریم (س) کے حمل کی مدت دوسری عورتوں کی طرح نو ماہ تھی۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ مریم کے حمل کی مدت معجزانہ تھی۔ وہ اس مدت کو ایک گھنٹہ سمجھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ ==&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|حضرت مریم(س) بہترین نمونہ عمل}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن نے تمام مومنین کے لیے مریم (س) کو نمونہ عمل کے طور پر تعارف کرایا ہے: «اور خدا نے عمران کی بیٹی مریم کیو ایمان لانے والوں کے لئے ایک مثال(نمونہ عمل) دی جنہوں نے اپنے کردار کو(گناہوں) سے محفوظ رکھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره تحریم: 12-11&amp;lt;/ref&amp;gt; [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر 42 میں حضرت مریم (س)کے لیے اصطفاء اور طاھرہ جیسے مقامات بیان کیے گیےہیں۔&lt;br /&gt;
::«يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِين ؛ (فرشتے): اے مریم، خدا نے تمہیں چن لیا، پاکیزہ رکھا اورپوری دنیا کی عورتوں پر فضیلت دی ہے.»۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره آل عمران: 42&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن میں سوائے  حضرت مریم (س) کے کسی عورت کا نام نہیں لیا گیاہے۔ قرآنی آیات کےمطابق فرشتے ،مریم (س)سے بات کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیات ۴۲-۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دو آیتوں میں ـ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (س) کی [[عفت]] و پاکیزگی کو واضح، بیان فرمایا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲؛ نیز: سورهٔ انبیاء، آیهٔ ۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اسی طرح، ان کا تعارف صدیقہ&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مائده، آیهٔ ۷۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے طور پر کراتا ہے، قرآن میں [[خداوند متعال]]، مریم (س) کو عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۴۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور انہیں «قانتین» میں شمار کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مفسرین نے قانتین کی تعریف ان لوگوں سے کی ہے جوہمیشہ خدا کی اطاعت میں مشغول رہتے  ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير احسن الحديث، علی‌اکبر قرشی، ج ۱۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ساتویں صدی (قمری تقویم)کے مفسر محمد بن احمد قرطبی&amp;lt;ref&amp;gt;قرطبی، الجامع لأحكام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج ۴، ص ۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اور تقی الدین سبکی&amp;lt;ref&amp;gt;آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج ۲، ص ۱۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;، جوآٹھویں صدی کے سنی فقہاء اور محدث علماء میں سے ایک ہیں، حضرت مریم (س) کی نبوت پر یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ـدوسرے انبیاء کی طرح فرشتے کے ذریعےان پربھی وحی نازل ہوتی تھی۔  [[سورہ آل عمران]] کی آیت نمبر 42 میں مریم کی نمایاں خصوصیات کو یہ لوگ ان کی نبوت پر دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج ۲، ص ۱۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; عرفانی دنیاں میں، حضرت مریم (س) کو خدا کے اولیاء میں سے ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے اور انہیں ولایت خاصہ (خصوصی ولایت) کے مقام پر فائز جانا جاتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;بازتاب مقامات حضرت مریم(س) در متون عرفانی فارسی از قرن چهارم تا پایان قرن نهم، طاهره خوشحال دستجردی و زینب رضاپور، مجلهٔ علمی پژوهشی مطالعات عرفانی، شمارهٔ دوازدهم، ۱۳۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سوانح حیات ==&lt;br /&gt;
قرآن، بائبل کے بر خلاف، حضرت مریم (ص) کی پیدائش سے پہلے کے حالات کو بیان کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; مریم کی والدہ کے پیٹ میں بچہ تھا اور ان کا خیال تھا کہ ان کے یہاں لڑکا ہوگا۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير نمونه، ج۲، ص۵۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں وقف کرنے کی قسم کھائی تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچہ ـ ماں کے خیال کے برعکس بیٹی ہوئی۔ تاہم ماں اپنی نذر پر قائم رہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچی کا نام مریم رکھا گیا۔ نذرکے مطابق، مریم (س) کو [[بیت المقدس]] میں خدمت کرنے اور خدا کی عبادت کرنے کے لیے لے جایا گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ۲، ص ۵۴۴، دارالکتب الإسلامیة، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; بنی اسرائیل کے علماء اور بزرگوں سے کہا گیا کہ وہ اس کے کی ذمہ داری لیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ۲، ص ۵۴۴، دارالکتب الإسلامیة، تهران، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مریم (س)چونکہ عمران کی اولادسے تھیں کہ جس کا تعلق ایک شریف خاندان سے تھا۔ اسی وجہ سے مریم کی سرپرستی کےدعویداروں میں ان کی سرپرستی کو لے کر جھگڑا ہونے لگا۔ قرعہ اندازی میں، زکریاعلیہ السلام ـ جن کی اس وقت کوئی اولاد نہیں تھی، کو مریم (س) کی سرپرستی کے لیے چنا گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت مریم (س) بیت المقدس کے مشرقی حصے میں عبادت کرتی تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; مریم (س) لوگوں میں تقویٰ کے لیے مشہور تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; قرآنی آیات کے مطابق زکریا (علیہ السلام) نے مریم (س) کے ساتھ کھانا دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا۔ مریم (س) نے کہا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم کا حاملہ ہونا اورحضرت عیسیٰ کی پیدائش ==&lt;br /&gt;
{{اہم مضامین|حضرت مریم (س) کے حمل کی مدت اور حضرت مریم (س) کا حمل}}&lt;br /&gt;
[[قرآنی آیات]] اور [[احادیث]] سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم (س) نارملی طریقے سے حاملہ نہیں ہوئیں تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، ۱۳۷۲ش، ج ۶، ص ۷۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; قرآن میں حضرت مریم (س) کے حاملہ ہونے کے طریقے کا تذکرہ «فانفخنا» (ہم نےروح کو ڈالا)&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ تحریم، آیهٔ ۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ساتھ کیا ہے اور حضرت آدم (ع) کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ آل‌عمران، آیهٔ ۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مریم (س) کی حاملگی کا وعدہ ان کو ایک ہستی نے دیا تھا، جسے قرآن نے «روح» کہا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; مفسرین نے روح کو جبرائیل (علیہ السلام) سمجھا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج ۱۳، ص ۳۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن میں مریم کے حمل کی مدت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج‏ ۱۳، ص ۴۰، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض مفسرین کی رائے کے مطابق مریم کے حاملہ ہونے کی مدت دوسری عورتوں کی طرح نو ماہ تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌کثیر دمشقی، تفسیر القرآن العظیم، ج ۵، ص ۱۹۶، بیروت، دارالکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان لوگوں کا خیال ہے کہ خدا اس واقعہ میں مریم (س) کی تعریف کرنا چاہتا تھا اور اگر مریم (س) کا حمل معجزانہ تھا تو ان آیات میں اس کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن‌کثیر دمشقی، تفسیر القرآن العظیم، ج ۵، ص ۱۹۶، بیروت، دارالکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک گروہ کا خیال ہے کہ مریم کا حمل بھی معجزانہ تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان کا کہنا تھا کہ ان کے حاملہ ہونے کا وقت ایک گھنٹہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ ان آیات میں حضرت مریم کے حمل کی کہانی کے فوراً بعد فا کا استعمال کیا گیا ہے اور فاء تعقیب اور جلدی کسی کام کے کرنے کے معنی میں آتا ہے، ان کے حمل کا قصہ مختصر اور معجزانہ تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ حدیثیں اس بات کی تائید کرتی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۴، ص ۲۲۵، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۱۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد حضرت مریم (س) اپنی قوم کی طرف واپس آگئیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے  حکم خدا کی بناء پر [[خاموشی کا روزہ]] رکھ لیا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیهٔ ۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;  مریم( س) پر [[بنی اسرائیل]] کی طرف سے بد کرداری کا الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بغیر باپ کے بچے کو جنم دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیات ۲۷-۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; خدا نے اس الزام کو دور کرنے کے لیے بچے کو گویائی عطا کردی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سورهٔ مریم، آیات ۳۰- ۳۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; بچہ نے اپنا تعارف کرایا اور اپنی ماں کی پاکیزگی کا دفاع کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;تفسير نمونه، ج ‏۱۳، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حضرت مریم( س) کا موت کی تمنا کرنا ==&lt;br /&gt;
{{اہم مضامین|حضرت مریم( س) کا موت کی تمنا کرنا}}&lt;br /&gt;
قرآنی آیات کے مطابق، حضرت مریم (س) نے ولادت کے مشکل حالات میں مرنے کی خواہش کی&amp;lt;ref&amp;gt;طیب، اطيب البيان في تفسير القرآن، ج۸، ص ۴۳۱، تهران، اسلام، ۱۳۷۸ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; «کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا۔».&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مریم: 23&amp;lt;/ref&amp;gt; دور معاصر کے [[شیعہ]] مفسر، [[محمد جواد مغنیہ]] صاحب کا ماننا ہے کہ مشکل میں پڑنے والے ہر شخص کے لیے اس قسم کی تعبیرات کا اظہار کرنا فطری امر ہے اور جب تک ایسی باتوں کے کرنے سےـ دین میں شک و شبہ نہ پیش آے ـ  تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مغنیه، تفسیر الکاشف، ج ۵، ص ۱۷۷، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۴۲۴ق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
مذہب قرآن نے صرف مریم (س) کے کلام کو بیان کیا ہے اور ان کے تمنائےموت کے سبب کو نہیں بیان کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;فخر رازی، مفاتیح الغیب، ج ۲۱، ص ۵۲۵، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; مفسرین نے مریم کی اس خواہش کی وجوہات درج کی ہیں&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt;: &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* مریم علیہا السلام بنی اسرائیل میں زہد کے لیے مشہور تھیں۔ یہاں تک کہ خدا وند متعال ان کےلئے جنتی کھانے بھیجتا تھا۔ ان کی جو سماجی حیثیت تھی اس کے باعث وہ بغیر شوہر کے بچہ پیدا کرنے&amp;lt;ref&amp;gt;فخر رازی، مفاتیح الغیب، ج ۲۱، ص ۵۲۵، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.&amp;lt;/ref&amp;gt; سے ڈر رہی تھیں اور اپنے لوگوں کی تہمت سے خوف زدہ تھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۱، تهران، دارالکتب الإسلامیة، ۱۳۷۴ش.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* حضرت مریم (س) ہمیشہ دنیا اور اس کےچکرات سے آزاد ہو کر [[نماز]] میں مصروف رہتی تھیں۔ وہ ـ اس وقت تک زندگی کی مشکل ذمہ داریوں سے آزاد تھیں، اچانک حاملہ ہو گئی اور زچگی کا وقت بھی آگیا۔ اس وقت احساس تنہائی اور بیچارگی کی وجہ سے موت کی تمنا کرنے لگی۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی، محمدتقی، من هدی القرآن، ج ۷، ص۳۲ ، تهران، دار محبی‌ الحسین، ۱۴۱۹ق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی =تاریخ&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ =زنان اسوه&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ =حضرت مریم&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{ارزیابی&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | عکس = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | درگاه = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ادبیات = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | پیوند = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ناوبری = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | تغییرمسیر = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارجاعات = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کیفی = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | اولویت = الف &amp;lt;!--الف | ب | ج | د--&amp;gt;&lt;br /&gt;
 | کیفیت = متوسط &amp;lt;!--خیلی خوب | خوب | متوسط | ضعیف--&amp;gt;&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: حضرت مریم(س)]]&lt;br /&gt;
[[bn: হযরত মরিয়ম (আ.)]]&lt;br /&gt;
[[es: La señora María (P)]]&lt;br /&gt;
[[en: Lady Mary (PBUH)]]&lt;br /&gt;
[[ps: حضرت مریم (س)]]&lt;br /&gt;
[[ru: Марьям (А)]]&lt;br /&gt;
[[ms: Sayidah Maryam Sa]]&lt;br /&gt;
[[ar: السيدة مريم (عليها السلام)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D9%88%DB%8C%D9%86&amp;diff=575</id>
		<title>قرآن مجید کی تدوین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%AA%D8%AF%D9%88%DB%8C%D9%86&amp;diff=575"/>
		<updated>2025-03-08T10:55:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی تدوین کب اور کس نے کی؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
اسلامی علماء و مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ [[قرآن]] مجید کی تدوین کس نے کی اور کب کی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی آیتوں اور سوروں کی ترتیب ایک توقیفی عمل ہے جسے [[پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] نے اپنے حیات کے دوران خود انجام دیا تھا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس قول کے مقابلے میں ایک دوسرا بھی قول ہے جس کے قائلین معتقد ہیں کہ قرآن مجید کی تدوین اور جمع آوری کا کام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انجام پایا ہے جو صحابائے کرام کے اجتہاد، اختیار اور ابتکار کا نتیجہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== سوروں اور آیتوں کی ترتیب ==&lt;br /&gt;
=== عصر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں قرآن مجید کی جمع آوری ===&lt;br /&gt;
قرآنی علوم کے بعض دانشوروں کا یہ ماننا ہے کہ جو قرآن مجید سوروں اور آیتوں کی ترتیب کے ساتھ اس وقت ہمارے درمیان موجود ہے بالکل اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تدوین کا کام انجام پاچکا تھا۔ یعنی اس وقت کا قرآن مجید ویسے ہی ہے جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا اس میں کسی طرح کا کوئی رد و بدل نہیں ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خرمشاهی، بهاءالدین. دانشنامه قرآن کریم. ج. ۱. ص. ۴۵۹. ؛ زقزوق، محمود حمدی (۱۴۲۳). الموسوعة القرآنیة المتخصصة. القاهرة: وزارة الاوقاف. المجلس الاعلی للشئون الاسلامية. ص. ۲۲۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس نظریہ کے قائل افراد نے اپنے مدعا کی دلیلیں پیش کی ہیں جن میں سے چند کو ذیل میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے&amp;lt;ref&amp;gt;مرتضی عاملی، سید جعفر (۱۳۶۸). تاریخ تدوین قرآن کریم. کیهان اندیشه.&amp;lt;/ref&amp;gt;:&lt;br /&gt;
* پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کے سلسلہ میں ایک خاص اہتمام برتتے تھے اور اس کی تلاوت اور اس کے حفظ (یاد کرنے) میں خاص توجہ کرتے تھے۔&lt;br /&gt;
* جو قرآن مجید کے حافظ تھے وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسے سناتے تھے۔&lt;br /&gt;
* اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں [[کاتبان قرآن کریم]] موجود تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو وحی ہوتی تھی اسے وہ املا کرکے لکھواتے اور نوشتہ شدہ متن کے اشتباہات کی نشاندہی فرماتے اور اس کی تصحیح فرماتے تھے۔ یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی کتابت کے سلسلے میں کس قدر حسّاس و محتاط اور خاص توجہ رکھتے تھے۔&lt;br /&gt;
* قرآن مجید کا ختم کرنا اس زمانہ میں رائج تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کا آغاز کہاں سے ہے اور اس کا اختتام کہاں پر ہے، یعنی قرآن مجید کہاں سے شروع ہوکر کہاں پر ختم ہورہا ہے اسی زمانہ میں موجود تھا۔&lt;br /&gt;
* متعدد روایتیں موجود ہیں کے صحابائے کرام نے قرآن مجید کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہی جمع کیا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور بھی دوسری غیر تاریخی دلائل موجود ہیں جن کی بنا پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تدوین قرآن مجید کے قائل نہ ہوں تو پھر اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تسامح اور سہل انگاری کا مسئلہ پیش آئے گا جو اصلاً قابل قبول نہیں ہے، کیوں کہ اگر قرآن مجید کی تدوین، ترتیب اور جمع آوری کا کام پیغمبر اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا ان کے ذریعہ انجام نہیں پاتا تو پھر قرآن مجید کے سلسلے میں تحریف، پراکندگی اور متعدد نسخوں کا دروازہ کھل جاتا اور طول تاریخ قرآن کریم میں تحریف ممکن ہوجاتی۔ اور دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ قرآن مجید کی ترتیب، تدوین اور جمع آوری خود کار رسالت کاایک حصہ تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کار رسالت کو چھوڑ دیتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام دلیلیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ سوروں اور آیتوں کی ترتیب خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ انجام پائی ہیں۔ یا اگر صحابائے کرام کے ذریعہ بھی یہ کام انجام پایا ہے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارشات، ہدایات اور نگرانی میں انجام پایا ہے، کیوں کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ تمام صحابائے کرام کا کام اور اجتہاد کا محور ایک ہو کہ کون سا سورہ کہاں ہونا چاہیے اور کون سی آیت کہاں ہونی چاہیے ساتھ ہی ساتھ قرآن مجید کی ابتدا کس سورہ سے اور اس کی انتہا کس سورہ پر ہونی چاہیے۔ یقینی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں اپنا نظریہ پیش کیا تھا تبھی تو صحابائے کرام کا کام ایک ہی محور پر تمام ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== قرآن مجید کی تدوین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ===&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|قرآن مجید کے سوروں کی ترتیب صحابائے کرام کے توسط سے}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن مجید کی تدوین و ترتیب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابائے کرام کے توسط سے انجام پائی ہے۔ اہل سنت کے بزرگ عالم دین سیوطی کا کہنا ہے کہ علمائے اسلام سب اس عقیدے پر متفق ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر (۱۳۹۴). الاتقان فی علوم القرآن. ج. ۱. القاهرة: الهيئة المصرية العامة للكتاب. ص. ۱۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سلسلہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ پہلی بار خلیفہ اول (ابو بکر) کے زمانہ میں زید بن ثابت کی کوشش و کاوش سے قرآن مجید کی تدوین ہوئی۔ اس سے پہلے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام  ایک مصحف (قرآن مجید) تدوین کرچکے تھے۔  صحابائے کرام میں سے بھی کچھ بزرگوں نے قرآن مجید کی تدوین اور جمع آوری کا کام انجام دیا تھا۔ اسی وجہ سے قرآن مجید کے الگ الگ نسخے وجود میں آئے۔ اور چونکہ اس زمانہ میں اعراب گزاری کا رواج نہیں تھا جس کی وجہ سے متعدد قرائت یا قرائت میں اختلاف نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد نسخے عثمان بن عفان (خلیفہ سوم) کے زمانہ میں تمام مصاحف کو ایک کرنے کے محرک بنے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوان آراسته، حسین. درسنامه علوم قرآنى. ج. ۱. ص. ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مصحف واحد کا اہتمام ==&lt;br /&gt;
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں وحی کی کتابت کا کام چل رہا تھا، چونکہ ابھی نزول وحی کا سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے قرآن مجید کی جمع آوری ایک واحد نسخہ میں نہیں ہوسکی تھی۔ قرآن مجید کے اہم ترین کاتبوں میں سے [[امام علی علیہ السلام]]، [[أبی بن کعب]] اور [[زید بن ثابت]] تھے، جب کے ان کے علاوہ اور بھی کاتبین وحی تھے جن کا شمار دوسرے درجہ میں ہوتا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادى. تاريخ قرآن. ج. ۱. ص. ۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; البتہ بعض لوگوں نے مکی زمانہ کی زندگی میں کاتبان وحی [[خلفائے راشدین]]، [[طلحہ]]، [[زبیر]] اور [[سعد بن ابی وقاص]] وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خرمشاهی، بهاءالدین. دانشنامه قرآن کریم. ج. ۱. ص. ۴۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[خلیفہ اول]] کے زمانہ میں قرآن مجید کی تدوین ’’زین بن ثابت‘‘ کے ذریعہ انجام پائی، صحابائے کرام میں سے بعض بزرگ صحابہ جیسے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام بھی قرآن مجید کی تدوین میں مشغول ہوئے، چنانچہ مصحف کی جمع آوری میں جن کی حیثیت ممتاز تھی ان کے مصاحف بڑی جلدی مسلمانوں کے مورد توجہ قرار پاگئے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جوان آراسته، حسین. درسنامه علوم قرآنى. ج. ۱. ص. ۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سب سے اصلی اور اہم ترین کام قرآن کریم کے متعدد نسخوں میں سے وہ نسخے جو آپس میں متعارض اور ایک دوسرے سے اختلاف کے حامل تھے انہیں حذف کرکے ایک مصحف واحد کا اعلان کرنا تھا، جو [[عثمان بن عفان]] (خلیفہ سوم) کے زمانہ میں حافظوں اور کاتبوں کی مدد سے انجام پایا۔ بہت سے لوگ مصحف کی جمع آوری میں مشغول تھے، لیکن یہ افراد اپنی صلاحیت، استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے ایک ہی طرح کے نہیں تھے بلکہ ان میں اختلاف پایا جاتا تھا اور ان کی آپس میں ایک دوسرے سے ہماہنگی بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہر ایک نسخہ روش، ترتیب، قرائت وغیرہ کے اعتبار سے فرق کرتا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصاحف اور قرائت میں اختلاف کی وجہ سے لوگوں کے درمیان اختلاف کی بذر پاشی ہورہی تھی، لہذا خلیفہ سوم عثمان بن عفان نے ’’[[حذیفہ بن یمانی]]‘‘ کے مشورہ پر مصاحف کو ایک کرنے کا مصمم ارادہ بنایا اور پھر صحابائے کرام کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مصاحف کو یکساں کیا جائے لہٰذا اس کام کے لیے ’’ابی بن کعب‘‘ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور مصحف کے نسخوں کو ایک کرنے کا کام شروع کردیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادی. التمهید فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۳۳۴–۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سیوطی کا بیان ہے کہ: حضرت علیؑ نے بھی اس سلسلہ میں اپنی رائے موافق کو ایک بڑے اچھے اسلوب اور اصولی انداز میں پیش کیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;الاتقان فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۱۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; کیوں کہ متعدد مصاحف، الگ الگ قرائت کی روش اور مختلف لہجے، قرآن مجید کی آیتوں میں واقعی اختلاف کا سبب بن رہے تھے تو خلیفہ سوم نے قرآن مجید کی تلاوتوں میں بے ترتیبی اور اضطراب کو دیکھتے ہوئے ایک مصحف واحد کی تدوین اور جمع آوری کے بعد دوسرے تمام مصاحف کو نذر آتش کرنے کا حکم دے دیا، البتہ ان کا یہ عمل عوام کی طرف سے تنقید اور سرزنش کا باعث بنا۔&amp;lt;ref&amp;gt;معرفت، محمدهادی. التمهید فی علوم القرآن. ج. ۱. ص. ۳۳۴–۳۸۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== قرآن مجید کی تدوین پر ائمہ علیہم السلام کی تائید ===&lt;br /&gt;
[[ائمہ معصومین علیہم السلام]] اس بات کے قائل ہیں کہ [[قرآن مجید]] کو ایک معیاری اور مرسوم نسخے اور قرائت کے مطابق تلاوت کرنی چاہیے۔ جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے جب خلافت ظاہری کی باگ ڈور سنبھالی تو لوگوں کو حکم دیا کہ اسی مصحف کو اپنائیں یعنی تلاوت کے لیے اسی مصحف کو اپنی زندگی کا جز بنالیں جو عثمان کے توسط سے تدوین ہوا ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی انجام نہ دیں۔ انہوں نے یہ حکم اس لیے دیا تھا کہ اس کے بعد اب کوئی بھی قرآن کریم میں اصلاح کے نام پر کوئی تبدیلی اور تحریف انجام نہ دے پائے۔&amp;lt;ref&amp;gt;پژوهشی در تاریخ قرآن. ص. ۴۴۸–۴۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح [[شیعہ]] اپنے معصوم اماموں کی پیروی کرتے ہوئے معتقد ہیں کہ یہی قرآن مجید جو حال حاضر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے جامع اور مکمل قرآن ہے۔ اس میں کبھی بھی کسی طرح کی کوئی تبدیلی یا تحریف نہیں ہوئی ہے، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کے حضور میں ایک شخص نے قرآن مجید کی تلاوت میں ایک آیت کو دوسروں کی قرائت کے برخلاف پڑھا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سے فرمایا: آئندہ اس طرح قرائت نہ کرنا جس طرح سب قرائت کرتے ہیں اسی طرح قرائت کرو۔&amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد. وسائل الشیعه. ج. ۴. ص. ۸۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید مطالعہ کے لیے درج ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں ==&lt;br /&gt;
# تاریخ و علوم قرآن، میر محمدی زرندی&lt;br /&gt;
# نگاہی بہ قرآن، علی اکبر قرشی&lt;br /&gt;
# تاریخ قرآن، آیت اللہ معرفت&lt;br /&gt;
# علوم قرآن، آیت اللہ معرفت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
| شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = تدوین قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = &lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ = &lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{ارزیابی&lt;br /&gt;
| شناسه = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| عکس = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| درگاه = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| ادبیات = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| پیوند = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| ناوبری = &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| تغییرمسیر = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| ارجاعات = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| ارزیابی کمی = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| ارزیابی کیفی = شد &amp;lt;!--خالی | شد--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| اولویت = ب &amp;lt;!--الف | ب | ج | د--&amp;gt;&lt;br /&gt;
| کیفیت = متوسط &amp;lt;!--خیلی خوب | خوب | متوسط | ضعیف--&amp;gt;&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: جمع‌آوری و تدوین قرآن کریم]]&lt;br /&gt;
[[bn: কুরআন শরীফের সংগ্রহ ও সংকলন]]&lt;br /&gt;
[[es: Recopilación y compilación del Sagrado Corán]]&lt;br /&gt;
[[en: Collection and Compilation of the Quran]]&lt;br /&gt;
[[ps: د قرآن کریم راغونډول او تدوینول]]&lt;br /&gt;
[[ru: Сбор и составление Священного Корана]]&lt;br /&gt;
[[ms: Pengumpulan Dan Penyusunan Alquran]]&lt;br /&gt;
[[ar: جمع وتدوين القرآن الكريم]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B9_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%82&amp;diff=574</id>
		<title>اصول دین اور فروع دین میں فرق</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%81%D8%B1%D9%88%D8%B9_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%81%D8%B1%D9%82&amp;diff=574"/>
		<updated>2025-03-08T10:54:49Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
اصول دین اور فروع دین کے درمیان فرق کو مکمل طور پر بیان کریں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اصول دین کا تعلق اعتقادات سے ہے اور [[فروع دین]] کا تعلق اعمال اور رفتار سے ہے۔ [[اصول دین]] کے لیے یقین اور اطمینان ضروری ہے، اور فروع دین میں تقلید جائز ہے۔ اصول دین میں انسان کو چاہیے کہ وہ عقل کے ذریعہ یقین تک پہنچے، لیکن فروع دین کو عقل کے ذریعہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== جایگاہ ==&lt;br /&gt;
علمائے دین کہتے ہیں کہ ہر دین و شریعت میں اصول و فروع پایا جاتے ہیں۔ اصول سے مراد، دین کی بنیادیں اور اساسی چیزیں ہیں جن کی ابتدائی طور پر پابندی کرنا لازم و ضروری ہے، پھر اس کے بعد ان فروع کے اوپر عمل کرنا ضروری ہے جس کی بنیاد انہیں اصول کے اوپر رکھی گئی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;سجادی، جعفر، فرهنگ معارف اسلامی، کومش، ج۱، ص۲۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت سے علمائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ اصول دین میں تقلید جائز نہیں ہے نیز اصول دین میں یقین یا اطمینان کو دلیل کے اوپر مبنی ہونا چاہیے۔ البتہ اس بات کے اوپر علماء کے اجماع کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔ ایک دوسرا گروہ جس کے سرکردہ ابو حنیفہ، سفیان ثوری، اوزاعی، مالک، شافعی، احمد بن حبنل اور اہل حدیث ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر چہ اعتقادی اصول پر استدلال واجب ہے اور اس کا ترک کرنا معصیت کے زمرہ میں شمار ہوتا ہے لیکن تقلید کے ذریعہ حصول ایمان کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔ یعنی اصول دین میں بھی تقلید جائز ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از محققین، «اصول دین»، دانشنامه کلام اسلامی، ص۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیعہ علماء نے اصول دین کی تعداد پانچ بتائی ہیں جب کہ فروع دین کی تعداد آٹھ یا دس شمار کیا ہے۔ حتی کہ بسا اوقات ہر وہ چیز جو اصول کے ہم پلہ ہے اور عملی احکام میں شامل ہے تو اسے بھی فروع دین میں شمار کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خطیبی کوشکک، محمد و همکاران، فرهنگ شیعه، قم، زمزم هدایت، ۱۳۸۶ش، ص۳۶۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
== اصول دین ==&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|اصول دین}} &lt;br /&gt;
علمائے اسلام توحید، نبوت اور معاد پر ایمان اور اعتقاد رکھنے کو اسلام کے اعتقادی اصول جانتے ہیں اور ان تینوں اصل کو دیانت اسلام کی اساس و بنیاد سمجھتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از نویسندگان، «اسلام»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، تهران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، ذیل مدخل.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور علمائے شیعہ نے ان تینوں اصول کے علاوہ دو اور اصل یعنی عدل اور امامت کو بھی اصول دین کا جز مانا ہے۔ اسی وجہ سے شیعوں کے نزدیک اصول دین کی تعداد پانچ ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از محققین، «اصول دین»، دانشنامه کلام اسلامی، ص۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== فروع دین ==&lt;br /&gt;
{{نوشتار اصلی|فروع دین}} &lt;br /&gt;
اسلامی ثقافت میں انسان کے عبادی اعمال و رفتار کے مجموعہ کے ایک اہم حصہ کو فروع دین کے اعتبار سے جانا و پہچانا جاتا ہے۔ اعتقادی مجموعہ جسے اصول دین سے یاد کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ فروع دین بھی اسلام کی عملی دیانت پر نظارت کرتا ہے۔ شیعہ اثنا عشری کے تعلیماتی نظام میں فروع دین کو [[نماز]]، [[روزہ]]، [[حج]]، [[زکات]]، [[خمس]]، [[جہاد]]، [[امر بالمعروف]]، [[نہی عن المنکر]]، [[تولا اور تبرا]] کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اہل سنت کے مختلف مذاہب میں سے بعض نے ان میں سے بعض فروع پر اتنی زیادہ تاکید کا اظہار نہیں کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از نویسندگان، «اسلام»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، تهران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، ذیل مدخل.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اصول دین اور فروع دین میں فرق ==&lt;br /&gt;
* اصول دین ان اعتقادی مسائل کو کہا جاتا ہے جن میں عقل، معرفت اور اعتقاد کی شرط پائی جاتی ہے۔ لیکن فروع دین ان مسائل کو کہا جاتا ہے جن میں عمل حائز اہمیت ہے چاہے اب وہ عمل کسی فعل کو انجام دینے کی صورت میں ہو یا اسے ترک کرنے کی صورت میں ہو پس دونوں صورت میں عمل کرنا لازم ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از محققین، «اصول دین»، دانشنامه کلام اسلامی، ص۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*دینی عقائد کے بخش کو «اصول دین» اور عملی احکام کے بخش کو «فروع دین» کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
*اصول دین میں تقلید جائز نہیں ہے، لیکن فروع دین میں تقلید کا دروازہ کھلا ہے اس میں تقلید جائز ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خطیبی کوشکک، محمد و همکاران، فرهنگ شیعه، قم، زمزم هدایت، ۱۳۸۶ش، ص۳۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; دین کے عملی مسائل میں دین کے ماہرین کی طرف رجوع اور ان کے اوپر اعتماد کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی اعتماد اور ان کی باتوں پر عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;کاشفی، محمدرضا، کلام شیعه، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۲۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; لیکن اصول دین میں انسان کو چاہیے کہ وہ خود تحقیق اور مطالعہ و مباحثہ کے ذریعہ مرحلۂ یقین و اطمینان تک پہنچے۔&lt;br /&gt;
*اصول دین میں انسان کو چاہیے کہ عقل کے ذریعہ یعنی دلیل عقلی کی بنا پر یقین تک پہنچے لیکن فروع دین کے لیے لازم نہیں ہے کہ اسے عقل کے ذریعہ ثابت کیا جائے۔&lt;br /&gt;
*انسان کے اعمال و رفتار میں سے کچھ اہم اعمال عبادات کی شکل میں ہیں جو اسلامی ثقافت میں «فروع دین» کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ اور یہی فروع دین اعتقادی مجموعہ جسے «اصول دین» سے یاد کیا جاتا ہے اس کے ساتھ اسلام کی عملی دیانت کے پہلووں پر نظارت کرتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;جمعی از نویسندگان، «اسلام»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، تهران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، ذیل مدخل.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*اصول دین انسان کے افکار و عقائد سے جڑے ہوتے ہیں اسی وجہ سے انہیں ایمان اور اعتقاد کی صورت میں ہی ہونا چاہیے۔ اور فروع دین انسان کے عمل، کردار اور ان کے رویّوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ حقیقت میں اصول دین انسان کی فکری، نظریاتی اور عقائدی شناخت اور ساخت کو تشکیل دیتے ہیں نیز مومنوں کے رفتار و کردار کے طور طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ اصول دین، بنیاد دین اور اساس دین کو تشکیل دیتے ہیں بغیر ان کے دین کی بنیاد مضبوط نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے اصول ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑا تو دین اور اس کے مقاصد تباہ و برباد ہوجائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;نشریه حوزه، مخلصی عباس، سیری در اندیشه‌های کلامی، ج۸۱، ص۸۹&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*اصول دین میں خبر دی جاتی ہے خبری ہیں اور اس میں وصف بیان کیا جاتا ہے لیکن فروع دین انشائی ہیں اس میں دستور اور حکم دیا جاتا ہے، امر و نہی ہوتی ہے برخلاف اصول دین کے۔  &lt;br /&gt;
* فروع دین میں نسخ پایا جاتا ہے یعنی یک حکم دوسرے حکم کے ذریعہ منسوخ ہوسکتا ہے لیکن اصول دین میں کسی بھی اعتبار سے یہ بات نہیں پائی جاتی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;خطیبی کوشکک، محمد و همکاران، فرهنگ شیعه، قم، زمزم هدایت، ۱۳۸۶ش، ص۳۵۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = کلام&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = &lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ = &lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
| شناسه = شد&lt;br /&gt;
| تیترها = شد&lt;br /&gt;
| ویرایش = شد&lt;br /&gt;
| لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
| ناوبری =&lt;br /&gt;
| نمایه =&lt;br /&gt;
| تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
| بازبینی =شد&lt;br /&gt;
| تکمیل =&lt;br /&gt;
| اولویت = الف&lt;br /&gt;
| کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: فرق بین اصول دین و فروع دین]]&lt;br /&gt;
[[bn: উসুলে দ্বিন এবং ফুরূয়ে দ্বিনের মধ্যে পার্থক্য]]&lt;br /&gt;
[[es: la diferencia entre los principios de la religión y las ramas de la religión]]&lt;br /&gt;
[[en: Difference between the fundamentals of faith (Usul al-Din) and the branches of faith (Furu&#039; al-Din)]]&lt;br /&gt;
[[ps: د اصول دین او فروع دین تر مینځ فرق]]&lt;br /&gt;
[[ru: Разница между основами религии и её ответвлениями]]&lt;br /&gt;
[[ms: Perbedaan Antara Ushuluddin Dan Furu’uddin]]&lt;br /&gt;
[[ar: الفرق بين أصول الدين وفروع الدين]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D8%B1&amp;diff=573</id>
		<title>تکبر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AA%DA%A9%D8%A8%D8%B1&amp;diff=573"/>
		<updated>2025-03-08T10:52:56Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* منابع */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;تکبر کیا ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;تکبر&#039;&#039;&#039; یا &#039;&#039;&#039;غرور&#039;&#039;&#039;، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا سمجھنا اور دوسروں کو اپنی گفتگو یا رویے سے نیچا دکھانا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنے اندر حقارت اور [[ذلت]] کا احساس اور [[شیطان]] کا [[انسان]] پر غلبہ، [[تکبر]] کے عوامل میں سے شمار کیا گیا ہے۔ نیز [[تکبر کے علاج]] کے لئے [[خودشناسی]]، [[موت کو یاد رکھنا]] اور [[عزت نفس کو مضبوط کرنے]] کا حکم دیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا کے سامنے غرور کو تکبر کی بدترین قسم جانا گیا ہے۔ بعض اوقات [[انبیاء]] اور [[اولیاء الہی]] کے مقابل تکبر کیا جاتا ہے، اس طرح کہ انسان اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھتا ہے اور ان کی اطاعت نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معنی کی وضاحت ==&lt;br /&gt;
«کِبْر» خود کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا سمجھنا &amp;lt;ref&amp;gt; راغب اصفهانی، المفردات فی غریب القرآن، تہران، نشر کتاب، ۱۴۰۴ ہ۔ق۔، ص۴۲۱ و ۴۲۲؛ علم اخلاق اسلامی، ترجمه جامع السعادات، حکمت پبلیکیشنز، تیسرا ایڈیشن، ۱۳۶۳ہ۔ش۔، پہلی جلد، ص۴۱۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور «تکبر» اسی کو گفتگو اور رویے میں ظاہر کرنا ہے؛ جب تک خود کو برتر سمجھنے کا احساس انسان کے اندر ہی موجود ہو اور وہ اسے ظاہر نہ کرے، تو اسے کبر کہتے ہیں، اور جب یہ سوچ ظاہر ہو جائے اور انسان اپنے طرز عمل یا گفتگو کے ذریعہ دوسروں کو حقیر سمجھے، تو اسے تکبر کہتے ہیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، ملا احمد، معراج السعاده، مشهد، ندای اسلامی پبلیکیشنز، پہلا ایڈیشن، ۱۳۶۲ہ۔ش۔، ص۱۷۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارسی زبان میں دو الفاظ «غرور» اور «تکبر»، مترادف اور ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں؛ اگرچہ عربی زبان میں لفظ غرور [[دھوکہ دینے]] کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ تکبر کے معنی سے مختلف ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== تکبر اور عُجب میں فرق ===&lt;br /&gt;
[[عجب|عُجْب]] اور خودبینی کا مطلب خودپسندی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; امام خمینی، سید روح الله، شرح چهل حدیث، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی رح، دوسرا ایدیشن، ۱۳۷۱ہ۔ش۔، ص۷۹۔ &amp;lt;/ref&amp;gt; خودپسند انسان، اپنے کو بڑا دکھاتا ہے؛ لیکن خود کو دوسروں سے بڑا نہیں پاتا؛&amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، ملامحمد مهدی، جامع السعادات، تعلیقہ اور تصحیح سید محمد کلانتر، مطبعه النجف، مؤسسه مطبوعاتی اسماعیلیان، ج۱، ص۳۴۴–۳۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; یا یہ کہ متکبر اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو چھوٹا سمجھتا ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:03&amp;quot;&amp;gt; امام خمینی، سید روح الله، شرح چهل حدیث، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی رح، دوسرا ایڈیشن، ۱۳۷۱ہ۔ش۔، ص۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== انسان اور خدا میں تکبر کا فرق ===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{یہ بھی ملاحظہ کیجئے|خدا کے متکبر ہونے کا معنی}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[خدا]] اور [[انسان]] میں تکبر کی صفت میں فرق، اس کے سرچشمہ میں فرق کی وجہ سے ہے؛ خدا میں تکبر کا سرچشمہ، [[خدا کا علم|علم]]، [[خدا کی قدرت|قدرت]] اور [[خدا کی حکمت|حکمت]] ہے؛ لیکن انسانی تکبر کا سرچشمہ، حقارت، [[جاہلیت|نادانی]] اور قوت ارادی کی کمزوری ہے۔ [[امام صادق(ع)]] کی ایک روایت کے مطابق انسان میں تکبر کا سبب وہ پستی اور ذلت ہے جو وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ترجمه و شرح سید جواد مصطفوی، ج۳، باب کبر۔&amp;lt;/ref&amp;gt; انسان اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے غرور کرتا ہے اور ایسے منصب کا دعوی کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اہمیت ==&lt;br /&gt;
[[قرآن]] میں تکبر اور متکبر شخص کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، اس [[آیت]] میں {{قرآن|کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللَّهُ عَلَیٰ کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّار&lt;br /&gt;
| سوره = غافر&lt;br /&gt;
| آیه = ۳۵&lt;br /&gt;
| ترجمہ = اللہ اسی طرح، ہر متکبر و سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
}} متکبر انسان کی جانب اشارہ ہے۔ اسی طرح [[سوره بقره]] کی آیت ۳۴ میں بھی، [[ابلیس]] کے تکبر کی جانب اشارہ ہے، جب کہ خداوند متعال نے اسے حکم دیا کہ [[حضرت آدم(ع)]] کو سجدہ کرے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تکبر کو وہ پہلا [[گناه]] جانا گیا ہے جو دنیا میں واقع ہوا ہے۔ امیرالمومنین حضرت [[امام علی(ع)]]، [[خطبہ قاصعہ]] میں فرماتے ہیں کہ: ابلیس کا تکبر سبب بنا، کہ اس کی چھ ہزار سال کی [[عبادت|عبادتیں]] ضائع ہوجائیں۔ &amp;lt;ref&amp;gt;ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، دار احیاء الکتب العربیه، دوسرا ایڈیشن، ج۱۳، ص۱۲۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک دوسری [[روایت]] میں، تکبر کو بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ہ۔ش۔، ج۱، ص۲۸۰۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اقسام ==&lt;br /&gt;
تکبر کی کئی قسمیں ہیں:&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;خدا کی نسبت تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[خدا]] کے مقابل ہوتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دستغیب، سید عبدالحسین، گناهان کبیره، آرمان پبلیکیشنز، ج۲، ص۱۱۱–۱۳۲۔&amp;lt;/ref&amp;gt; اس معنی میں کہ انسان [[بندگی|خدا کی بندگی]] کا اقرار نہ کرے اور [[عبادت]] کو خدا سے مخصوص نہ جانے۔ جیسے کہ وہ تکبر جو [[نمرود]] اور [[فرعون]] نے انجام دیا۔ اس تکبر کا سبب، بغاوت اور [[جهالت]] کو جانا گیا ہے اور اسے تکبر کی سب سے بڑی صورت شمار کیا گیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; راغب اصفهانی، حسین، المفردات فی غریب القرآن، تهران، کتاب پبلیکیشنز، ۱۴۰۴ہ۔ق۔، ص۴۲۱ و ۴۲۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;پیمبروں اور اولیاء دین کی نسبت تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[پیمبروں|انبیاء]] اور [[اولیاء الهی|اولیاء]] کے مقابل ہوتا ہے، اس طرح سے کہ انسان اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھتا ہے اور ان کی اطاعت نہیں کرتا۔ آیت کریمہ میں {{قرآن|فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُون&lt;br /&gt;
| سوره = مؤمنون&lt;br /&gt;
| آیه = ۴۷&lt;br /&gt;
| ترجمہ = وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں حالانکہ ان کی قوم ہماری خدمت گزار ہے؟&lt;br /&gt;
}} اس قسم کے تکبر کی جانب اشارہ ہے۔&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;&#039;اللہ کے بندوں کے مقابل تکبر&#039;&#039;&#039;: کبھی کبھی تکبر [[مومن|مومنین]] اور اللہ کے بندوں کے مقابل ہوتا ہے؛ اس معنی میں کہ انسان خود کو بڑا سمجھے اور دوسروں کو حقیر جانے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; نراقی، احمد، معراج السعاده، ص۱۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس قسم کا تکبر، کیونکہ خدا کی مخالفت کا باعث بنتا ہے، لہذا انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی صفات میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;علم اخلاق اسلامی، ترجمہ جامع السعادات، حکمت پبلیکیشنز، تیسرا ایڈیشن سوم، ۱۳۶۳ہ۔ش۔، پہلی جلد، ص ۴۱۷۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عوامل ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|تکبر کے عوامل}}&lt;br /&gt;
شخصیت میں خرابی، اپنی کمزوریوں سے ناواقفیت اور [[شیطان]] کا [[انسان]] پر غلبہ؛ تکبر کے عوامل میں شمار کئے جاتے ہیں۔ نیز احساس حقارت اور ذلت، شخصیت کے ان عوارض میں سے ہیں کہ جن کے باعث انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== علاج ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|تکبر کے علاج کے طریقے}} تکبر کے علاج کے لئے مختلف طریقے بیان ہوئے ہیں، جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:&lt;br /&gt;
{{کالم۲}}&lt;br /&gt;
* [[خودشناسی]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، ج۷۸، ص۹۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[موت کو یاد کرنا]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ہ۔ش۔، ج۱، ص۴۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[عبادت]]؛&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;&amp;gt;محمدی ری شهری، محمد، میزان الحکمه، دارالحدیث، پہلا ایڈیشن، ج۳، ص۲۶۵۷؛ شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۰ش، ج۱، ص۴۹۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[تواضع]]؛&amp;lt;ref&amp;gt;شفیعی، محمد، پرورش روح در پرتو چهل حدیث، دفتر تبلیغات اسلامی، ج۱، ص۴۹۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[تکبر کے نتائج]] پر توجہ؛&lt;br /&gt;
* عزت نفس کو مضبوط بنانا.&lt;br /&gt;
{{اختتام}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنے ضعف، فقر اور محتاجی کو پہچاننا، خاص طور پر پیدائش اور [[موت]] کے وقت، [[انسان]] میں تکبر کو ختم کر دیتا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، ج۷۸، ص۹۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; عبادت، جو کہ خدا کے سامنے عاجزی اور فروتنی ہے، انسان میں تکبر کے احساس کو کمزور بنادیتی ہے۔&amp;lt;ref name=&amp;quot;:0&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[تکبر کے عوامل]] میں سے ایک عامل، اپنے اندر [[ذلت کا احساس]] ہے، اور اس بیماری کے علاج کے لئے، عزت نفس کو مضبوط بنانا موثر جانا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عورتوں کے لئے تکبر کا حکم ==&lt;br /&gt;
{{حقیقی|عورتوں کے لئے تکبر کا حکم}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام علی علیہ السلام]] کی ایک روایت میں [[نامحرم]] کے سامنے عورت کے تکبر کرنے کو اچھا سمجھا گیا ہے۔ اور روایات کے مطابق اس حکم کی وجہ، نامحرم کے سامنے عورت کی عزت و کرامت کی حفاظت اور ممکنہ خطرات سے اسے بچانا ہے۔ &amp;lt;ref name=&amp;quot;:02&amp;quot;&amp;gt; محمدی ری شهری، محمد، منتخب الحکمه، مترجم: حمیدرضا شیخی، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۲ہ۔ش۔، جلد ۲، ص۹۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; عورت کے تکبر کرنے کا مطلب، نامحرم کو حقیر سمجھنا نہیں ہے؛ بلکہ عورت اس کے سامنے تکبر دکھا کر، خود کو اس کی لذتوں کا سامان بننے سے بچاتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لہذا تکبر یعنی «دوسروں کو حقیر سمجھنا»، اس معنی میں تکبر کسی بھی مرد یا عورت کے لئے جائز نہیں ہے اور اس کا شمار [[گناه]] میں ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = اخلاق&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = رذائل اخلاقی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = تکبر&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده = &lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی =&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت = ب&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: تکبر]]&lt;br /&gt;
[[bn:অহংকার]]&lt;br /&gt;
[[es:orgullo]]&lt;br /&gt;
[[en:Arrogance]]&lt;br /&gt;
[[ps:تکبر]]&lt;br /&gt;
[[ru:Такабор]]&lt;br /&gt;
[[ms:Sombong]]&lt;br /&gt;
[[ar:التکبر]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_(%D8%B3)&amp;diff=572</id>
		<title>مصحف فاطمہ (س)</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81_%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81_(%D8%B3)&amp;diff=572"/>
		<updated>2025-03-08T10:52:18Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (س) کیسی کتاب ہے؟ کیا اس کتاب کو اخت قرآن بھی کہا جاتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;مصحف فاطمہ&#039;&#039;&#039; وہ کتاب ہے جسکو [[جبرائیل]] نے [[پیغمبر اسلام (ص)]] کی وفات کے بعد [[حضرت فاطمہ زہرا]] کو سنائی تھی اور امام علی (ع) نے لکھا ہے۔ احادیث کے مطابق ایسی کتاب کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے وجود سے متعلق روایات شیعہ کے قدیمی ترین منابع، جیسے بصائر الدرجات اور [[الکافی]] میں ملتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا کسی کو دستیاب نہیں تہی اور شیعہ ائمہ کے پاس محفوظ ہے۔ اس مصحف سے متعلق زیادہ تر روایات [[علامہ مجلسی]] نے علوم اہل بیت علیہم السلام سے متعلق ابواب میں نقل کی ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس مصحف کے مشمولات میں مستقبل کے واقعات اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کی تقدیر جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اس مصحف کے وجود سے شیعہ تعلیم کے میدان میں استفادہ کیا گیا ہے۔ مصحف فاطمہ (س) سے متعلق بعض روایات کے مواد میں اختلاف اور بعض اوقات ان کے ظاہری اختلاف نے اس مصحف کی تفصیلات کے بارے میں علماء کے فیصلے مختلف ہو گئے ہیں۔ معتبر ذرائع میں اس کتاب کے قرآن کی بہن کے طور پر پڑھے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==تعارف اور خصوصیات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اہل بیت (علیہم السلام) کی روایات میں مذکور ہے کہ حضرت فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) کا مصحف انکو الہام ہوا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt; مهدوی‌راد، محمدعلی، «مصحف فاطمه(س)»، دانشنامهٔ فاطمی، زیرنظر علی‌اکبر رشاد، تهران، انتشارات پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی، ۱۳۹۳، ج ۳، ص ۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان میں سے بعض احادیث کی سندیں معتبر ہیں۔ اس وجہ سے ایسی کتاب کے وجود میں شک و شبہ کی گنجایش نہیں ہے۔ ان صحیح احادیث میں سے ایک روایت [[امام صادق (علیہ السلام)]] سے بھی ہے۔ جس میں آپ نے مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: اس اقتباس میں اس مصحف کی تفصیل ہے اس کے املاء سمیت، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کے 75 دنوں میں وفات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے بعد پیش کیا گیا تھا.&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج ۱، ص ۵۹۹–۶۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے وجود سے متعلق روایت، شیعہ کی قدیمی ترین منابع میں ہے کیونکہ یہ بصار [[الدرجات]]&amp;lt;ref&amp;gt;صفار قمی، محمد بن الحسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، تحقیق: محسن بن عباسعلى‏ كوچه باغى، قم، مکتبة آیة الله المرعشی النجفی‏، ۱۴۰۴ق، ص ۱۷۰–۱۸۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[الکافی]]&amp;lt;ref&amp;gt;الکلینی، الکافی، ج ۱، ص ۵۹۲–۶۰۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; سے آئی ہے۔ علامہ مجلسی نے علوم [[اہل بیت علیہم السلام]] کے ابواب میں اس مصحف سے متعلق سب سے زیادہ روایات نقل کی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۰۳ق، ج۲۶، ص۴۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اہل بیت (علیہم السلام) کی روایات کے مطابق یہ مصحف کسی تک نہیں پہنچا ہے اور ائمہ (علیہم السلام) نے حفاظت کی ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان میں سے بعض احادیث کے ظاہری اختلاف کی وجہ سے بھی اس مصحف کی تفصیلات کے بارے میں علماء کے نظریا ت مختلف ہیں۔ مصحف کا حجم قرآن کے حجم سے تین برابر ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۹ق، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ایسے مصحف کا وجود شیعہ معارف میں استعمال ہوا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی طباطبایی، حسین، میراث مکتوب شیعه، قم، نشر مورخ، ۱۳۸۶ش، ص۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چونکہ مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے مطالب کے سلسلہ میں بعض روایات میں اختلاف ہے اس وجہ سے علماء کے نطریات بھی مختلف ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۶۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==املا کرنے اور لکھنے والے== &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے املا کرنے والے کے بارے میں [[احادیث]] میں مختلف لوگوں کا ذکر آیا ہے جیسے خدا، [[فرشتہ]]، [[جبرائیل]] اور رسول۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۶۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; علامہ مجلسی نے ان احادیث کو جمع کیا ہے۔ بعض محققین نے اس وجہ جمع کو اقوال کا بہترین وجہ جمع قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; انہوں نے رسول کے معنی کو ان روایات میں جبرائیل (علیہ السلام) قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، ج ۲۶، ص ۴۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[سید محسن امین عاملی]]&amp;lt;ref&amp;gt;امین، محسن، اعیان الشیعه، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۳۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[سید جعفر مرتضی عاملی]]&amp;lt;ref&amp;gt;عاملی، جعفر مرتضی، مأساة الزهراء(س) شبهات و ردود، بیروت، دارالسیرة، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص ۱۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اور [[سید محمد حسین فضل اللہ]]&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، هاشم، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، بیروت، دارالهدی، ۱۴۲۲ق، ص۱۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; سمیت دیگر علماء نے ان روایات کو جمع کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تمام شیعہ احادیث اورعلما جنہوں نے اس مصحف کا ذکر کیا ہے، [[امام علی (علیہ السلام)]] کو اس مصحف کے کاتب اور مرتب کے طور پر متعارف کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مطالب مصحف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصحف فاطمہ (سلام اللہ علیہا) چند مطالب پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
* [[رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)]] کا مقام و مرتبہ اور [[حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)]] کی اولاد کا مستقبل۔&amp;lt;ref&amp;gt;الصفار القمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، ص۱۷۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* مستقبل کے واقعات کا بیان۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفتال النیسابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، قم، منشورات الرضی، ۱۳۷۵، ج۱، ص۲۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[انبیاء (علیہم السلام)]] کے اسماء اور انکے اوصیاء کا تذکرہ۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، ج۲۶، ص۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* [[قیامت]] تک کے تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام۔&amp;lt;ref&amp;gt;الفتال النیسابوری، روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، ج۱، ص۲۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* شیعہ علماء میں سے ایک [[عبدالحسین شرف الدین]] نے اس مصحف میں دیگر مطالب کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں کہاوتیں، احکام، خطبات اور خبریں شامل ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;شرف الدین، عبدالحسین، المراجعات، قم، المجمع العالمی لاهل البیت(ع)، ۱۴۲۶، ص۶۰۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; لیکن اس رائے کو بعض محققین نے رد کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص ۱۷۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* بعض دوسرے محققین ایک روایت&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، الکافی، ج ۷، ص ۳۷–۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; کا حوالہ دیتے ہیں (جس میں شرعی احکام کی تفصیلات پر مشتمل کتاب فاطمہ کا ذکر کیا گیا ہے)انہوں نے کہا ہے کہ اس مصحف میں شریعت کے تمام مفصل احکام اور فوجداری قوانین کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;قزوینی، محمدکاظم، فاطمة الزهراء(س) من المهد الی اللحد، بی‌جا، بی‌نا،بی‌تا، ص۹۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; سید محمد حسین فضل اللہ نے اس رائے کی تصدیق کی ہے اور کتاب فاطمہ کو مصحف فاطمہ کے برابر قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص ۱۶۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; بعض محققین نے اس رائے کو رد کیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;امین، محسن، اعیان الشیعه، ج۱، ص۳۵۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ بھی ممکن ہے کہ فاطمہ کی یہ کتاب مصحف فاطمہ سے مختلف ہو اور فاطمہ کی کتاب کے عنوان میں فاطمہ کے معنی فاطمہ بنت الحسین ہوں۔&amp;lt;ref&amp;gt;هاشمی، حوار مع فضل‌الله حول الزهراء(س)، ص۱۸۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* سید حسین مدرسی طباطبائی، شیعہ اسکالر اور پرنسٹن یونیورسٹی میں اسلامی قانون کے پروفیسر، نے مصحف فاطمہ (ص) کو ایسے مواد پر مشتمل سمجھا جس کا ذکر تقریباً تمام معاملات میں شیعہ باطنی افکار کے حوالے سے کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مدرسی طباطبایی، میراث مکتوب شیعه، ص ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس پر تنقید کی گئی ہے&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج ۳، ص ۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; ذرائع میں اس کتاب کے قرآن کی بہن کے طور پر پڑھے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مصحف کے بارے میں شکوک و شبہات==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مستشرقین اور [[سنی]] علماء نے شیعوں پر الزام لگایا ہے کہ مسلمانوں میں موجودہ قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن موجود ہے، مصحف فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) کے عنوان میں لفظ مصحف کی موجودگی کو لفظ قرآن میں محدود کر دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض مستشرقین اور سنی علماء نے مصحف فاطمہ (س) کے عنوان میں لفظ مصحف کی موجودگی اور اس لفظ کو صرف قرآن تک محدود کرتے ہوئے شیعوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن رکھتے ہیں۔ جو مسلمانوں میں موجود ہے۔ ان لوگوں میں سے ہم اگناس گولڈزیہر&amp;lt;ref&amp;gt;گلدزیهر، ایگناس، گرایش‌های تفسیری در میان مسلمانان، مقدمهٔ سید محمدعلی ایازی، ترجمهٔ سید ناصر طباطبایی، تهران، انتشارات ققنوس، ۱۳۸۳، ص ۲۵۶-۲۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; جو ہنگری کے مشہور عالم اسلام اور عبداللہ القاسمی، سعودی [[سلفی]] مصنف کا ذکر کر سکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;عمیدی، ثامر هاشم حبیب، دفاع عن الکافی: دراسة نقدیة مقارنة لأهم الطعون والشبهات المثارة حول کتاب الکافی للشیخ الکلینی، قم، مرکز الغدیر للدرسات الاسلامیة، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۳۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس رائے کے جواب میں بعض محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مصحف فاطمہ (ص) اس میں قرآن موجود نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مهدوی‌راد، «مصحف فاطمه(س)»، ج۳، ص۷۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان کے نزدیک اس کمی کی دلیل بہت سی روایات ہیں جو فاطمہ (س) کے مصحف کے بارے میں شیعہ ائمہ سے نقل ہوئی ہیں۔ مختلف تشریحات کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مصحف فاطمہ (س) میں قرآن نہیں ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلّی الله علیهم، ص ۱۷۰. کلینی، محمد، الکافی، ج۱، ص۵۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = حدیث&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = منبع‌شناسی&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه = شد&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر =شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی = &lt;br /&gt;
 | ارزیابی کیفی = &lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت =ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت =ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[fa: مصحف فاطمه(س)]]&lt;br /&gt;
[[bn: ফাতেমা (সা.)-এর মুসহাফ]]&lt;br /&gt;
[[en:Mushaf of Fatima (a)]]&lt;br /&gt;
[[ru: Мусхаф Фатимы (а)]]&lt;br /&gt;
[[ms: Mushaf Fatimah Sa]]&lt;br /&gt;
[[ar: مصحف فاطمة (ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:El Mus&#039;haf de Fátima (P)]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=570</id>
		<title>قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام کی دعائیں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=570"/>
		<updated>2025-03-01T00:04:50Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام کی کون سی دعائیں ذکر ہوئی ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت موسی علیہ السلام کی قرآن میں&#039;&#039;&#039; موجود دعائیں مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں۔ مثلا [[خداوند متعال]] سے مغفرت کی درخواست، شرح صدر کی دعا، دنیا اور آخرت میں نیکی اور خیر کی دعا، ظالموں سے نجات کی درخواست، [[قرآن]] میں [[حضرت موسی علیہ السلام]] کی دعاؤں کے بعض عناوین ہیں۔ مندرجہ ذیل دعا حضرت موسی علیہ السلام سے منقول دعاؤں کا ایک فقرہ ہے {{قرآن|رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ|ترجمه=اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔|سوره=قصص|آیه=۲۴}}.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعا کے موضوعات ==&lt;br /&gt;
اپے اور کافروں کے درمیان جدائی کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره مائده، آیه ۲۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور اپنے بھائی کی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره اعراف، آیه ۱۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، دنیا اور [[آخرت]] میں نیکی اور خیر کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره اعراف، آیه ۱۵۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، جابر و ظالم [[کافروں]] کی تباہی اور عذاب کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره یونس، آیه ۸۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;، شرح صدر اور کاموں میں آسانی اور زبان کی گرہوں کو دور کرنے کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره طه، آیات ۲۵ تا ۳۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، ظالموں سے نجات کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[اللہ]] سے برکات اور انعامات کی بارش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره قصص، آیه ۲۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;. [[قرآن|قرآن]] میں [[حضرت موسی علیہ السلام]] کی دعاؤں کے بعض عناوین ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب [[فرعون]] کے پاس جانے کی ذمہ داری سونپی گئی، تو آپ نے مشکلات اور سختیوں کو برداشت  کرنے کے لئے اللہ سے شرح صدر کی درخواست کی تاکہ آپ اپنی نبوت کے دوران آنے والی سخت مصیبتوں کو برداشت کرسکیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ترجمه محمدباقر بهبودی، تهران، جامعه مدرسین حوزه علمیه قم‏، ۱۳۷۴ش، ج۱۴، ص۲۰۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; حضرت موسی علیہ السلام نے شرح صدر کی دعا اور رکاوٹوں کے دور ہونے کے بعد، اللہ سے اپنی زبان کی گرہ کو کھولنے کی دعا کی۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۱ش، ج۱۳، ص۱۸۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت موسی علیہ السلام کی ایک اور دعا یہ تھی کہ اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات میں، بہت ادب اور احترام کے ساتھ پرودگار سے کہتے ہیں:&lt;br /&gt;
::«میں تیری عنایت اور احسان کا محتاج ہوں»۔&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۷۱ش، ج۱۶، ص۱۶۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر چیز اللہ سے مانگنی چاہیے)۔&amp;lt;ref&amp;gt;قرائتی، محسن، تفسیر نور، تهران، مرکز فرهنگی درس‌هایی از قرآن‏، ۱۳۸۸ش، ج۷، ص۳۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کی فہرست ==&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کردے۔|سوره= مائده| آیه= ۲۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|تب موسیٰ نے کہا۔ پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔|سوره= اعراف| آیه= ۱۵۱}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہونے کے لیے موسی نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا پھر جب ایک سخت زلزلہ نے انہیں آپکڑا (اور وہ ہلاک ہوگئے) تو موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان سب کو پہلے ہی ہلاک کر دیتا اور مجھے بھی۔ کیا تو ایسی بات کی وجہ سے جو ہمارے چند احمقوں نے کی ہے ہم سب کو ہلاک کرتا؟ یہ نہیں ہے مگر تیری طرف سے ایک آزمائش! اس کی وجہ سے تو جسے چاہتا ہے (توفیق سلب کرکے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے تو ہی ہمارا ولی و سرپرست ہے۔ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین مغفرت کرنے والا ہے۔|سوره =اعراف| آیه= ۱۵۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔|سوره =اعراف| آیه= ۱۵۶}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|اور موسی نے (دعا مانگتے ہوئے) کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں زیب و زینت (کی چیزوں) اور بہت سے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اے پروردگار! اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیرے راستہ سے بہکاتے ہیں۔ اے ہمارے مالک، ان کے مالوں کو نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں (اور اس وقت ایمان کا لانا سودمند نہ ہوگا).|سوره= یونس| آیه= ۸۸}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ فرما۔ (حوصلہ فراخ کر) اور میرے کام کو میرے لئے آسان فرما اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔ اور میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنادے۔ اس سے میری پشت کو مضبوط فرما اور اسے میرے کام میں شریک قرار دے۔ تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں۔ اور کثرت سے تجھے یاد کریں۔ یقینا تو ہمارے حالات سے بہتر باخبر ہے۔|سوره =طه|آیه= ۲۵ تا ۳۵}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے، تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔|سوره =قصص| آیه =۱۶}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| (پھر) موسی نے کہا اے میرے پروردگار! تونے جو مجھے اپنی نعمت سے نوازا ہے پس میں کبھی بھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔|سوره= قصص|آیه= ۱۷}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن|موسی نے کہا اے میرے پروردگار! مجھے قوم ظالم سے نجات عطا فرما۔|سوره= قصص| آیه= ۲۱}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|اور جب موسی نے (مصر سے نکل کر) مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار سیدھے راستہ کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔|سوره =قصص| آیه =۲۲}}&lt;br /&gt;
* [موسیٰ] نے کہا: {{قرآن| پس موسی نے کہا اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔|سوره =قصص| آیه= ۲۴}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = معارف قرآنی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = دعا&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = شد&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر =شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده =&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی =شد&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت = ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعاهای حضرت موسی در قرآن]]&lt;br /&gt;
[[es:Las súplicas del Profeta Moisés (P) en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[bn:কুরআনে হযরত মুসা (আ.)-এর দোয়া]]&lt;br /&gt;
[[ps:په قرآن کې د حضرت موسې(ع) دعاګانې]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=569</id>
		<title>قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=569"/>
		<updated>2025-02-28T21:44:21Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کون سی دعائیں ذکر ہوئی ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن میں&#039;&#039;&#039; موجود دعائیں دنیوی اور اخروی حاجتیں طلب کرنے نیز [[خدا]] سے مناجاتوں پر مشتمل ہیں۔ ان دعاؤں کو مومنوں کے لئے نمونہ اور آئیڈیل کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جن میں مومنین کو دعا کرنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ [[حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کی دعاؤں میں اپنے لئے، اپنے والدین اور مومنین کے لئے [[مغفرت کو طلب]] کیا گیا ہے؛ نیز یہ درخواست کی گئی ہے کہ انہیں صالحین (نیک لوگوں)، نمازگزاروں اور اہل بہشت میں قرار دیا جائے؛ اسی طرح حکمت، صالح فرزند اور نیک نامی کی درخواست، قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کے اہم عناوین ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کے عناوین ==&lt;br /&gt;
اپنے والد کے لئے مغفرت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۴، سوره شعراء، آیه ۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے لئے مغفرت کی درخواست اور [[کافروں]] کے لئے آزمایش کا ذریعہ نہ قرار پانے کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، صالح فرزند کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره صافات، آیه ۱۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[حکمت]] اور علم کی درخواست، اور نیک لوگوں میں شمار ہونے کی درخواست، نیک نامی کی دعا، جنت میں داخل ہونے اور آخرت میں ذلت سے بچنے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره شعراء، آیات ۸۳ تا ۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنی اولاد کے لئے رزق و روزی کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[نماز]] قائم کرنے کی دعا، اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے گناہوں، اپنے والدین کے گناہوں اور مومنین کے گناہوں کی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[خانہ کعبہ]] کے امن و امان کی دعا اور اس کے باایمان رہائشیوں کے لئے رزق کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خانہ کعبہ کی تعمیر کی قبولیت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خود کو اور اپنی نسل کو مسلمانوں میں قرار دئے جانے کی دعا، توبہ کے قبول ہونے کی درخواست، عبادت اور دینی آداب کے طریقوں کی جانب راہنمائی کی درخواست۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کی فہرست ==&lt;br /&gt;
* {{قرآن|... لِأَبِیهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ... رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ|ترجمه=؛ ۔۔۔(ابراہیمؑ نے) اپنے باپ سے یہ کہا کہ میں آپ کے لئے ضرور مغفرت مانگوں گا۔۔۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف لَوٹنا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِینَ کَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=پروردگار! ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے پروردگار! یقیناً تو غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی حُکْمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے (علم و حکمت) عطا فرما اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔ |سوره=شعرا|آیه=۸۳}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ|ترجمه=؛ اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھ ۔|سوره=شعراء|آیه=۸۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْنِی مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیمِ|ترجمه=؛ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔|سوره=شعراء|آیه=۸۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاغْفِرْ لِأَبِی إِنَّهُ کَانَ مِنَ الضَّالِّینَ|ترجمه=اور میرے باپ کی مغفرت فرما بےشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔|سوره=شعراء|آیه=۸۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَلَا تُخْزِنِی یَوْمَ یُبْعَثُونَ|ترجمه=اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔|سوره=شعراء|آیه=۸۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔|سوره=صافات|آیه=۱۰۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُونَ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس بے زراعت میدان میں آباد کیا ہے اے ہمارے مالک تاکہ (وہ یہاں) نماز قائم کریں اب تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ ان کی طرف مائل ہوں اور ان کو پھلوں سے رزق عطا فرما تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِی وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا یَخْفَیٰ عَلَی اللَّهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! بے شک جو کچھ ہم چھپاتے ہیں تو اسے بھی جانتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں اسے بھی اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ|ترجمه=ساری ستائش اللہ کے لئے ہے جس نے باوجود بڑھاپے کے مجھے اسماعیل(ع) و اسحاق(ع) (دو بیٹے) عطا فرمائے بے شک میرا پروردگار دعا کا بڑا سننے والا ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۹}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِیمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار اور میری دعا کو قبول فرما۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا (لیا جائے گا)۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۱}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ|ترجمه=اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (ع) نے کہا (دعا کی) اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو امن والا شہر بنا۔ اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ|ترجمه=اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (خانہ کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ (اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے جاتے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنا (حقیقی) مسلمان (فرمانبردار بندہ) بنائے رکھ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ (فرمانبردار امت) قرار دے۔ اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِمْ ۚ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار ان (امت مسلمہ) میں انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھیج جو انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے یقینا تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = معارف قرآنی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = دعا&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه =شد&lt;br /&gt;
 | تیترها =شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش =شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی =شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر =&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده =&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی =شد&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت =ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت =ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعاهای حضرت ابراهیم(ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:Las súplicas del Profeta Ibrāhīm (P) en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[bn:হযরত ইব্রাহিম (আঃ)-এর দোয়াসমূহ]]&lt;br /&gt;
[[ps:د حضرت ابراهیم (ع) دعاګانې په قرآن]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%AA%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7&amp;diff=568</id>
		<title>قرآن کے ظاہری معنی پر اکتفا کرنا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%AA%D9%81%D8%A7_%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7&amp;diff=568"/>
		<updated>2025-02-28T20:36:55Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{نیازمند گسترش}}&lt;br /&gt;
{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا ہم قرآن کے ظاہری معنی پر اکتفا کر سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
قرآن کے ظاہری معنی سمجھنے کے لئے کچھ شرائط ضروری ہیں، جیسے عربی زبان پر مہارت، سیاق و سباق اور قرائن کو مدنظر رکھنا، محکم (محکمات) اور متشابہ (متشابہات) آیات کا علم ہونا۔ عمومی طور پر، قرآن کی آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: [[محکم و متشابہ|محکم آیات]] (محکمات)، جن کی تاویل کی ضرورت نہیں ہوتی، اور متشابہ آیات (متشابہات)، جن کی تاویل محکم آیات کی روشنی میں کی جانی چاہیے۔ لہذا اگر ظاہری معنی سے مراد باطنی معنی کے مقابل معنی ہیں، تو [[قرآن]] کے ظواہر حجت ہیں۔ لیکن اگر &amp;quot;ظاہری معنی&amp;quot; سے مراد، کسی آیت کو سیاق و سباق اور آیت کی تفہیم کے قرائن اور اصولوں سے الگ کرکے سمجھنا مراد ہے، تو کسی بھی صورت ظاہری معنی پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== قرآنی آیات میں ظاہری معنی سے تمسک کرنا ==&lt;br /&gt;
قرآنی آیات ایک عمومی تقسیم کے تحت دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:&lt;br /&gt;
* محکم آیات (محکمات) جو کسی تاویل کی محتاج نہیں ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[محکم و متشابہ|متشابہ آیات]] (متشابہات) جو تاویل کی محتاج ہیں، یعنی انہیں محکم آیات کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے جو کہ (اُمُّ الکتاب) کا درجہ رکھتی ہیں.&amp;lt;ref&amp;gt;آیه ۷ سوره آل عمران.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر ظاہری معنی سے مراد باطنی معنی کے مقابل معنی ہیں، تو [[قرآن]] کے ظواہر پر اکتفا کیا جاسکتا ہے اور ظواہر قرآن حجت ہیں، کیونکہ قرآن کے باطنی معنی کو صرف [[معصومین (ع)]] ہی سمجھ سکتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;واقعه/ ۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور یہ کہ قرآن باطنی معنی اور بطون رکھتا ہے اس کا ذکر متعدد حدیثوں میں ہوا ہے۔ [[امام علی (علیہ السلام)]] نے فرمایا: &lt;br /&gt;
::{{متن عربی||ترجمه=قرآن کا ایک خوبصورت ظاہر اور ایک عمیق و گہرا باطن ہے، اس کے عجائبات بے شمار ہیں اور اس کے پوشیدہ راز کبھی ختم نہیں ہوتے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج‌البلاغه، ترجمه محمد دشتی، خطبه ۱۸، ص۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[جابر بن عبداللہ انصاری]] نے [[امام محمد باقر (علیہ السلام)]] سے ایک آیت کی تفسیر دریافت کی؟ امام نے جواب دیا، جابر نے دوبارہ اسی آیت کے بارے میں سوال کیا، تو امام نے دوسرے انداز میں جواب دیا۔ جابر نے کہا: &amp;quot;آپ نے پہلے مجھے ایک دوسرا جواب دیا تھا۔&amp;quot; امام نے فرمایا: {{متن عربی||ترجمه=جابر! قرآن کا ایک باطنی معنی ہے اور اس باطنی معنی کا بھی ایک اور باطنی معنی ہے، اور حتیٰ کہ ظاہری معنی کے بھی مراتب ہیں۔ اے جابر! قرآن کی کوئی بھی چیز انسانی عقل سے تفسیر نہیں کی جاسکتی؛ کیونکہ ممکن ہے کسی آیت کا آغاز ایک موضوع سے متعلق ہو جب کہ اس کا آخر دوسرے موضوع سے متعلق ہو، قرآن ایک مسلسل خطاب ہے جو مختلف پہلو رکھتا ہے۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ج۸۹، ص۹۱ و ص۹۴ و ۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آیات کے ظاہری معنی پر اکتفا کرنے کی شرائط ==&lt;br /&gt;
اگر &amp;quot;ظاہری معنی پر اکتفا کرنے&amp;quot; سے مراد، آیات کو سیاق و سباق اور قرائن کے بغیر سمجھنا مراد ہو، تو ظاہری معنی پر اکتفا کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے؛ کیونکہ آیات کے معنی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف عربی زبان کے قواعد پر عبور حاصل ہو اور قرآن کی زبان کو گہرائی سے سمجھا جائے، بلکہ سیاق و سباق اور قرائن یعنی دوسری آیات و روایات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ بات حتی کہ ان آیات کے لیے بھی ضروری ہے جن کے ظاہری معنی واضح اور روشن ہیں اور ان کا شمار [[محکم و متشابہ|محکم آیات]] میں ہوتا ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور بعض آیات دوسری آیات کے لئے قرینہ (ان کو سمجھنے کا ذریعہ) بنتی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح [[پیغمبر اکرم (صلى الله عليه و آلہ و سلم)]] کی حدیثوں اور آپ کی پیروی میں آپ کے بعد [[ائمہ اہلبیت (علیہم السلام)]] کی حدیثوں کو بھی جو کہ [[قرآن]] کی تفسیر کرنے والی اور وضاحت دینی والی ہیں، ان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قرآن خود کہتا ہے: {{قرآن|«ہم نے آپ پر الذکر (قرآن مجید) اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے (وہ معارف و احکام) کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نحل/ ۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لیکن متشابہ آیات میں، آیات کے ظاہری معنی پر کسی بھی صورت اکتفا کرنا صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر آیت مبارکہ {{قرآن|وَجَاءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا}}&amp;lt;ref&amp;gt;فجر/ ۲۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ خداوند متعال آیا اور فرشتے صف در صف حاضر ہو گئے۔ یا آیت کریمہ {{قرآن|الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی}}&amp;lt;ref&amp;gt;طه/ ۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ خداوند متعال عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان آیات اور اس جیسی دوسری متشابہ آیات کو محکم آیات جیسے کہ یہ آیت کریمہ {{قرآن|... لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ}}&amp;lt;ref&amp;gt;شوری / ۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; کی روشنی میں سمجھنا اور تفسیر کرنا ضروری ہے، پس خدا کے آنے سے مراد، امر [[خدا]] کا آنا مراد ہے، اور «استوی» سے مراد، خدا کا تسلط ہے، اور اگر ان آیات کے صرف ظاہری معنی پر اکتفا کیا جائے، تو اس کا لازمہ خدا کی جسمانیت ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[وہابی]] ان آیات کے صرف ظاہری معنی پر اکتفا کرتے ہوئے اور ان آیات کو سمجھنے کے لئے محکم آیات پر توجہ کئے بغیر اور عقلی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ: &lt;br /&gt;
::«اللہ کے لئے ایک سمت اور مکان ہے، اور وہ آسمانوں کے اوپر عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کے حقیقی ہاتھ اور آنکھیں ہیں۔»&amp;lt;ref&amp;gt;ابن حجر عسقلانی، الدر الکاهنه، بیروت، ص۱۴۵؛ احمد بن زینی چلان مفتی مکه، سرگذشت وهابیّت، ترجمه ابراهیم وحید دامغانی، نشر گلستان کوثر، چاپ اوّل، ۱۳۷۶، ص۱۶.&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ «اللہ ہر رات زمین پر اترتا ہے اور صبح دوبارہ واپس چلا جاتا ہے۔»&amp;lt;ref&amp;gt;عمر عبدالسلام، مخالف الوهابیّه للقرآن و السنه، دارالهدایه، چاپ اوّل، ۱۴۱۶، ص۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; حتی کہ [[ابن تیمیہ]] بھی کھلے طور پر کہتا ہے: &lt;br /&gt;
::«[[قرآن]]، [[سنت]]، اور [[اجماع]] میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ملتی جو اللہ کی جسمانیت یا تشبیہ کو رد کرتی ہو۔»&amp;lt;ref&amp;gt;ابن تیمیّه، الفتاوی الکبری، بیروت، دارالمعرفه، ص۲۳–۲۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; ایسے ہی عقائد، [[حنبلیوں]]، [[حشویہ]] اور [[اباضیہ]] فرقے کے بھی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، قم، لجنه اِداره الحوزه العلمیه، چاپ دوّم، ۱۴۱۵، ج۲، ص۲۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = نص قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = نص و ظاهر قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه = -&lt;br /&gt;
 | تیترها = شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش = شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی = شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر = شد&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده = &lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی =&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت = ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت = ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:اکتفا به ظاهر قرآن]]&lt;br /&gt;
[[ar:الاكتفاء بظاهر القرآن]]&lt;br /&gt;
[[ms:Mengandalkan Makna Lahiriah Al-Qur&#039;an]]&lt;br /&gt;
[[bn:কুরআনের প্রকাশ্য অর্থের উপর নির্ভর করা]]&lt;br /&gt;
[[ps:د قرآن په ظاهر بسنه]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=567</id>
		<title>قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA_%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D8%AF%D8%B9%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA&amp;diff=567"/>
		<updated>2025-02-27T17:01:05Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Ejazhmusavi: /* حوالہ جات */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کون سی دعائیں ذکر ہوئی ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن میں&#039;&#039;&#039; موجود دعائیں دنیوی اور اخروی حاجتیں طلب کرنے نیز [[خدا]] سے مناجاتوں پر مشتمل ہیں۔ ان دعاؤں کو مومنوں کے لئے نمونہ اور آئیڈیل کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جن میں مومنین کو دعا کرنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ [[حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کی دعاؤں میں اپنے لئے، اپنے والدین اور مومنین کے لئے [[مغفرت کو طلب]] کیا گیا ہے؛ نیز یہ درخواست کی گئی ہے کہ انہیں صالحین (نیک لوگوں)، نمازگزاروں اور اہل بہشت میں قرار دیا جائے؛ اسی طرح حکمت، صالح فرزند اور نیک نامی کی درخواست، قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کے اہم عناوین ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کے عناوین ==&lt;br /&gt;
اپنے والد کے لئے مغفرت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۴، سوره شعراء، آیه ۸۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے لئے مغفرت کی درخواست اور [[کافروں]] کے لئے آزمایش کا ذریعہ نہ قرار پانے کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ممتحنه، آیه ۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;، صالح فرزند کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره صافات، آیه ۱۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[حکمت]] اور علم کی درخواست، اور نیک لوگوں میں شمار ہونے کی درخواست، نیک نامی کی دعا، جنت میں داخل ہونے اور آخرت میں ذلت سے بچنے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره شعراء، آیات ۸۳ تا ۸۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنی اولاد کے لئے رزق و روزی کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۳۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[نماز]] قائم کرنے کی دعا، اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;، اپنے گناہوں، اپنے والدین کے گناہوں اور مومنین کے گناہوں کی بخشش کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره ابراهیم، آیه ۴۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;، [[خانہ کعبہ]] کے امن و امان کی دعا اور اس کے باایمان رہائشیوں کے لئے رزق کی درخواست&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خانہ کعبہ کی تعمیر کی قبولیت کی دعا&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;، خود کو اور اپنی نسل کو مسلمانوں میں قرار دئے جانے کی دعا، توبہ کے قبول ہونے کی درخواست، عبادت اور دینی آداب کے طریقوں کی جانب راہنمائی کی درخواست۔&amp;lt;ref&amp;gt;سوره بقره، آیه ۱۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دعاؤں کی فہرست ==&lt;br /&gt;
* {{قرآن|... لِأَبِیهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ... رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ|ترجمه=؛ ۔۔۔(ابراہیمؑ نے) اپنے باپ سے یہ کہا کہ میں آپ کے لئے ضرور مغفرت مانگوں گا۔۔۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف لَوٹنا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِینَ کَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=پروردگار! ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے پروردگار! یقیناً تو غالب (اور) بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=ممتحنه|آیه=۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی حُکْمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے (علم و حکمت) عطا فرما اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔ |سوره=شعرا|آیه=۸۳}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ|ترجمه=؛ اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھ ۔|سوره=شعراء|آیه=۸۴}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاجْعَلْنِی مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیمِ|ترجمه=؛ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔|سوره=شعراء|آیه=۸۵}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَاغْفِرْ لِأَبِی إِنَّهُ کَانَ مِنَ الضَّالِّینَ|ترجمه=اور میرے باپ کی مغفرت فرما بےشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔|سوره=شعراء|آیه=۸۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَلَا تُخْزِنِی یَوْمَ یُبْعَثُونَ|ترجمه=اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔|سوره=شعراء|آیه=۸۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ هَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِینَ|ترجمه=اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔|سوره=صافات|آیه=۱۰۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُونَ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس بے زراعت میدان میں آباد کیا ہے اے ہمارے مالک تاکہ (وہ یہاں) نماز قائم کریں اب تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ ان کی طرف مائل ہوں اور ان کو پھلوں سے رزق عطا فرما تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا إِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِی وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا یَخْفَیٰ عَلَی اللَّهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! بے شک جو کچھ ہم چھپاتے ہیں تو اسے بھی جانتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں اسے بھی اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ|ترجمه=ساری ستائش اللہ کے لئے ہے جس نے باوجود بڑھاپے کے مجھے اسماعیل(ع) و اسحاق(ع) (دو بیٹے) عطا فرمائے بے شک میرا پروردگار دعا کا بڑا سننے والا ہے۔|سوره=ابراهیم|آیه=۳۹}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِیمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ|ترجمه=اے میرے پروردگار! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے پروردگار اور میری دعا کو قبول فرما۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۰}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا (لیا جائے گا)۔|سوره=ابراهیم|آیه=۴۱}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ|ترجمه=اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (ع) نے کہا (دعا کی) اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو امن والا شہر بنا۔ اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۶}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ|ترجمه=اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (خانہ کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ (اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے جاتے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۷}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ۖ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنا (حقیقی) مسلمان (فرمانبردار بندہ) بنائے رکھ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ (فرمانبردار امت) قرار دے۔ اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۸}}&lt;br /&gt;
* {{قرآن|رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِمْ ۚ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ|ترجمه=اے ہمارے پروردگار ان (امت مسلمہ) میں انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھیج جو انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے یقینا تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔|سوره=بقره|آیه=۱۲۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== حوالہ جات ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = علوم و معارف قرآن&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = معارف قرآنی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = دعا&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۴ =&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{تکمیل مقاله&lt;br /&gt;
 | شناسه =شد&lt;br /&gt;
 | تیترها =شد&lt;br /&gt;
 | ویرایش =شد&lt;br /&gt;
 | لینک‌دهی =شد&lt;br /&gt;
 | ناوبری =&lt;br /&gt;
 | نمایه =&lt;br /&gt;
 | تغییر مسیر =&lt;br /&gt;
 | ارجاعات =&lt;br /&gt;
 | بازبینی نویسنده =&lt;br /&gt;
 | ارزیابی کمی =شد&lt;br /&gt;
 | تکمیل =&lt;br /&gt;
 | اولویت =ج&lt;br /&gt;
 | کیفیت =ب&lt;br /&gt;
}}&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;br /&gt;
[[fa:دعاهای حضرت ابراهیم(ع)]]&lt;br /&gt;
[[es:Las súplicas del Profeta Ibrāhīm (P) en el Corán]]&lt;br /&gt;
[[bn:হযরত ইব্রাহিম (আঃ)-এর দোয়াসমূহ]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Ejazhmusavi</name></author>
	</entry>
</feed>