<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="ur">
	<id>https://ur.wikipasokh.com/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Mbaqirraza</id>
	<title>ویکی پاسخ - صارف کی شراکتیں [ur]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://ur.wikipasokh.com/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Mbaqirraza"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/view/%D8%AE%D8%A7%D8%B5:%D8%B4%D8%B1%D8%A7%DA%A9%D8%AA%DB%8C%DA%BA/Mbaqirraza"/>
	<updated>2026-05-26T18:43:04Z</updated>
	<subtitle>صارف کی شراکتیں</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.43.3</generator>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA&amp;diff=111</id>
		<title>آخری زمانہ کی نشانیاں</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA&amp;diff=111"/>
		<updated>2022-11-16T11:50:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک، آخری زمانے کی نشانیاں کیا ہیں؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} &amp;#039;&amp;#039;آخری زمانہ کی نشانیاں&amp;#039;&amp;#039; ان مسائل میں سے ایک ہے جن کا ذکر شیعہ اور اہل سنت روایات اور الہی مذاہب کی نصوص میں کیا گیا ہے۔ آخری زم...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک، آخری زمانے کی نشانیاں کیا ہیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&#039;&#039;آخری زمانہ کی نشانیاں&#039;&#039; ان مسائل میں سے ایک ہے جن کا ذکر [[شیعہ]] اور [[اہل سنت]] روایات اور الہی مذاہب کی نصوص میں کیا گیا ہے۔ آخری زمانہ سے صرف ایک مخصوص دور مراد نہیں ہے، بلکہ آخری زمانہ کا ایک خاص دور مراد ہے۔&lt;br /&gt;
اس دور کے وقت کو سمجھنا اور اس کا تعین بہت مشکل یا ناممکن سمجھا جاتا رہا ہے۔ روایات میں اس دور کا وقت متعین نہیں کیا گیا ہے لیکن علامات اور خصوصیات کو بیان کرکے اس دور کو دوسرے ادوار سے ممتاز کیا ہے۔ دینداری کی سختی، بدعنوانی کا فروغ، دین میں ریاکاری آخری زمانہ کی نشانیاں ہیں۔&lt;br /&gt;
==آخری زمانہ==&lt;br /&gt;
آخری زمانہ ان الفاظ میں سے ایک ہے جو شیعہ، سنی اور دیگر مذہبی روایات میں نظر آتے ہیں۔ مختلف مذاہب نے اس دور کی خصوصیات کا اظہار کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آخری زمانہ میں اتنا وقت ہے کہ کوئی اس بات کا یقین کر سکتا ہے کہ وقت کے اختتام تک ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانی مذاہب میں پیغمبر آخر الزماں کہا گیا ہے اور امام عصر عج کے ظہور کے وقت کو آخری زمانہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ آخری زمانہ سے صرف ایک مخصوص دور مراد نہیں ہے، بلکہ آخری اس دور کے وقت کو سمجھنا اور اس کا تعین بہت مشکل یا ناممکن سمجھا جاتا رہا ہے۔ روایات میں اس دور کا وقت متعین نہیں کیا گیا ہے لیکن علامات اور خصوصیات کو بیان کرکے اس دور کو دوسرے ادوار سے ممتاز کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخری زمانہ کی خصوصیات ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{ظهور-عمودی}}&lt;br /&gt;
دینی متون میں &amp;quot;آخری زمانہ&amp;quot; کی تعبیر کئی بار آئی ہے، ان میں آخری زمانہ کی مختلف خصوصیات بیان کی گئی ہیں، اور ان کو ایک ساتھ رکھنے سے ہم زمانہ کے اختتام کی واضح تصویر پیش کر سکتے ہیں:&lt;br /&gt;
*پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {{عربی|يَكُونُ فِي آخِرِ اَلزَّمَانِ عِبَادٌ جُهَّالٌ وَ قُرَّاءٌ فَسَقَةٌ، ترجمہ=آخری زمانے میں جاہل بندے اور فاسق قاری ہوں گے}}۔ &amp;lt;ref&amp;gt;سبزواری، محمد بن محمّد، معارج الیقین فی اصول الدین، تحقیق علاء آل جعفر، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۱۳ھ، ص۱۳۱؛ مستدرک حاکم، ج۴، ص۳۱۵۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ آخری زمانہ میں آئے گا جو [[مسجد|مسجدوں]] میں جائے گا اور ایک ساتھ بیٹھ کر مسجد میں دنیا سے محبت کی باتیں کرے گا۔ تم ان کے ساتھ مت بیٹھو۔&amp;lt;ref&amp;gt;سبزواری، محمد بن محمّد، معارج الیقین فی اصول الدین، تحقیق علاء آل جعفر، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۱۳ھ، ص۱۷۹ و ۳۵۶؛ مجموعه ورّام، ج۱، ص۶۹۔&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*بعض ریاکار علماء کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وہ لوگوں کو آخرت کی طرف ترغیب دیتے ہیں اور خود اس میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں، اور دنیا میں لوگوں کو زہد کی دعوت دیتے ہیں، لیکن خود زہد اختیار نہیں کرتے۔&amp;lt;ref&amp;gt;دیلمی، حسن بن ابی الحسن، اعلام الدین فی صفات المؤمنین، مؤسسہ آل البیت، ص۹۰؛ تنبیہ الخواطر، ج۱، ص۳۰۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*ایک اور روایت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی صحبت میں ایک بچے کی طرف دیکھا اور فرمایا: آخر زمانہ کے بچوں پر ان کے باپ کی وجہ سے افسوس! آپ سے کہا گیا: کیا اپنے مشرک اور کافر باپ کی وجہ سے؟ کہنے لگے: نہیں! ان کے مسلمان باپ سے جو انہیں واجبات کے بارے میں کچھ نہیں سکھاتے اور اگر سیکھنا چاہیں تو منع کر دیتے ہیں اور اس کے بدلے وہ اپنے بچوں کے لیے دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;معارج الیقین، ص۲۸۵، مستدرک الوسائل، ج۱۵، ص۱۱۶، ح۱۷۷۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری زمانہ میں صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ تمام لوگوں کی حالت کے بارے میں ایک روایت میں فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان کے چہرے انسانی چہرے ہوں گے اور ان کے دل شیطانی ہوں گے۔ وہ صحرائی بھیڑیوں کی طرح خون بہاتے ہوں گے، ایک دوسرے کو برے کاموں سے نہیں روکتے ہوں گے۔ اگر آپ ان کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کو شک میں ڈال دیں گے، اگر آپ ان کے حق میں بات کریں گے تو وہ آپ کو جھٹلائیں گے اور اگر آپ انہیں چھوڑ دیں گے تو وہ آپ سے نفرت کریں گے۔ ان کے لیے سنت الٰہی بدعت ہے اور ان کے لیے بدعت ہی سنت ہے۔ ایسے معاشرے میں ایک حلیم آدمی کو فریب خوردہ سمجھا جاتا ہے اور دھوکے بازوں کو حلیم لوگوں کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔ ان میں مومن مظلوم ہے اور گنہگار عزت دار ہے۔۔۔ ان سے پناہ لینا ندامت کے برابر ہے، ان کی عزت کرنا ذلت کے برابر ہے اور ان سے سوال کرنا غربت کے مترادف ہے.&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار، ج۲۲، ص۴۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ان کے پیٹ ان کا خدا ہوں گے اور ان کی عورتیں ان کا قبلہ ہوں گی اور ان کے دینار ان کا دین ہوں گے اور ان کی عزت ان کی خرید و فروخت کا سامان ہو گی۔ ایمان سے سوائے اس کے نام کے، اسلام سے سوائے اس کے آداب کے، اور قرآن سے سوائے اس کی تعلیم کے کچھ نہیں بچے گا۔ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی اور ان کے دل ہدایت سے ہٹ جائیں گے۔ ان کے دانشمندوں کو زمین کی بدترین مخلوق سمجھا جائے گا۔ کچھ لوگ آخری زمانے میں قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ ایمان اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;المکتبه الشامله، صحیح کنوز السنه النبویّه، السنن الکبری للنسائی.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==آخری زمانہ میں مومنین کی خصوصیات==&lt;br /&gt;
آخری زمانہ کے لوگوں کی زندگیوں میں دنیا کی قدروقیمت کے علاوہ، جو آخرت کی طرف ان کی عدم توجہ کی وجہ سے ہے، ان لوگوں کی ایک اور خصوصیت روایات کے مطابق آخری زمانہ میں دنیا کی برائیوں اور ان کی پریشانیوں سے  بعض لوگوں کی نجات ہے۔ اگرچہ یہ لوگ اقلیت میں رہتے ہیں اور ہمیشہ ہر طرح سے مظلوم ہوتے ہیں لیکن اپنے عقیدے پر ڈٹے رہتے ہیں۔ اس گروہ کی دینداری میں تین محور شامل ہیں:&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;1۔ غیب پر ایمان&#039;&#039;&#039;: غیب کے بارے میں ان کا نظریہ اس دنیا سے ماوراء ہے، اور ان کی نظر میں غیب کوئی علمی مسئلہ نہیں ہے بلکہ کائنات کی ایک مسلم حقیقت ہے۔ جیسا کہ بعض احادیث میں ہے کہ غیب حضرت بقیۃ اللہ کے وجود کا مسئلہ ہے اور آخری زمانہ میں غیب پر یقین رکھنے والوں کا یہ تعارف کرایا گیا ہے کہ وہ امام کے غیب کے معاملے میں ثابت قدم ہیں۔&lt;br /&gt;
آخر زمانہ کے لوگوں کے اس گروہ کی تفصیل میں آپ [[حضرت علی علیہ السلام]] سے کہتے ہیں: &amp;quot;اے علی! ایمان میں سب سے عجیب لوگ اور اجر میں سب سے بڑے وہ لوگ ہیں جو آخری زمانہ میں آئیں گے۔ انہوں نے پیغمبر کو نہیں دیکھا اور امام بھی ان کی نظروں سے پوشیدہ ہے اور وہ تاریکی میں روشنی پر ایمان رکھتے ہوں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;معارج الیقین، ص۵۰۸؛ خصال ص۵۹۴؛ من لایحضره الفقیہ، ج۴، ص۳۶۶؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج۵۲، ص۱۲۵، ح۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;2۔ دینداری میں دشواری&#039;&#039;&#039;: آخری زمانے کے لوگوں کی ایک اور خصوصیت آخر زمانہ میں ان کی دینداری ہے، روایات میں آیا ہے کہ دینداری پر توجہ دینا اور اس پر عمل کرنا مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے، اور مذہبی لوگ اپنی سخت ترین مشکلات میں بھی دین کو برقرار رکھتے ہیں۔اور یقیناً خدا اپنی مدد ان لوگوں کو بھیجے گا جو آخری زمانے میں دین کے پابند ہوں گے۔&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;3. نجات دہندہ کے ظہور کا انتظار&#039;&#039;: اسلامی عقائد میں نجات دہندہ کے ظہور پر عقیدہ کی ایک غیر معمولی وسعت ہے اور اسے بنیادی عقیدہ کے طور پر جانا جاتا ہے، اور نہ صرف اسلامی مذاہب میں سے کوئی ایک اس پر یقین رکھتا ہے، بلکہ تمام مذاہب اس پر یقین رکھتے ہیں اس طرح سے کہ آخری زمانہ کے لوگوں کو انتظار ظہور کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور انہوں نے ظہور امام کو آخری زمانہ کے فتنوں سے نجات کا باعث قرار دیا۔&lt;br /&gt;
10 ہجری میں غدیر خم کے اس منفرد اجتماع میں جس میں تمام عالم اسلام اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے لوگوں نے شرکت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر کے مشہور خطبہ میں 4 مرتبہ آپ کے نام مبارک کا ذکر فرمایا۔ کہا: &amp;quot;... آگاہ رہو کہ ہم میں سے آخری خلیفہ، قائم (علیہ السلام) ہیں&amp;quot; اور پھر لگاتار چند جملوں میں اس امام کی صفات اور خصوصیات کو یوں بیان کیا: «وہ مذاہب پر غلبہ کرنے والا، ظالموں سے بدلہ لینے والا، قلعوں کا فاتح اور ان کو تباہ کرنے والا ہے۔ وہ علوم کا وارث اور ادراک کا حاکم ہے۔ وہ زمین پر خدا کا ولی ہے اور بالآخر وہی ہے جس کے ظہور کی پیشین گوئی تمام پچھلی نسلوں نے  کی ہے»۔&amp;lt;ref&amp;gt;بحارالأنوار، وہی، ج۵۱، ص۱۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
آپ کے ظہور کے یقینی ہونے کے بارے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر زمانہ میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تب بھی خدا میرے خاندان میں سے ایک شخص کو اٹھائے گا جو زمین کو عدل سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی۔&amp;lt;ref&amp;gt;سجستانی، سنن ابو داود، ج۲، ص۲۰۷؛ التذکره، ص۲۰۴؛ منہاج السنّه، ص۲۱۱.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مطالعه بیشتر ==&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;مہدی موعود&#039;&#039;، علامہ مجلسی، ترجمہ علی دوانی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;آخر الزمان در آئینہ روایات&#039;&#039;، جابر رضوانی، چاپ اول، ۱۳۸۰.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;آئنده بشر و پایان جہان&#039;&#039;، احمد امیری پور، انتشارات ترنّم، سال ۱۳۸۲.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;اوضاع در آخر الزمان&#039;&#039;، رضا کوشیاری، انتشارات تہذیب چاپ اول، سال ۱۳۸۳.&lt;br /&gt;
{{پایان مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات|2}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%86%DA%BE_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%A7&amp;diff=106</id>
		<title>چھ لوگوں کی شورا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%86%DA%BE_%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%A7&amp;diff=106"/>
		<updated>2022-10-28T14:45:03Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} خلیفہ دوم نے خلیفہ کے انتخاب کی چھ افراد پر مشتمل شورا کے لیے کیا شرائط رکھی تھیں؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} ابوبکر کی مختصر خلافت کے بعد، انہوں نے عمر بن خطاب کو اپنا جانشین منتخب کیا۔ لیکن عمر نے جانشین کے انتخاب کے لیے ایک...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
خلیفہ دوم نے خلیفہ کے انتخاب کی چھ افراد پر مشتمل شورا کے لیے کیا شرائط رکھی تھیں؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
[[ابوبکر]] کی مختصر [[خلافت]] کے بعد، انہوں نے [[عمر بن خطاب]] کو اپنا جانشین منتخب کیا۔ لیکن عمر نے جانشین کے انتخاب کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے خلیفہ کے انتخاب کی ذمہ داری چھ رکنی کونسل کو سونپی جو کہ [[امیر المومنین]] علی علیہ السلام، [[عثمان]]، [[طلحہ]]، [[زبیر]]، [[سعد بن ابی وقاص]] اور [[عبد الرحمن بن عوف]] پر مشتمل تھی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شوریٰ کا اجلاس عمر کی وفات کے تین دن بعد [[ذی الحجہ]] [[سنہ23 ھ]] میں منعقد ہوا۔ اس عجیب و غریب طریقہ سے خلیفہ کا انتخاب جس کا آغاز عمر نے کیا اور جو عثمان کے انتخاب کا باعث بنا، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اور انھوں نے چھ افراد میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے جو شرائط رکھی تھیں وہ بھی منفرد تھیں اور کسی مستحکم انداز اور طریقہ پر مبنی نہیں تھیں۔ بلکہ یہ ایک ذاتی نظر تھی جس کی وجہ سے ایک شخص کو حمایت حاصل ہوئی اور ایک شخص سے حق چھینا گیا۔ کیونکہ اگر عمر اس تبصرے سے گریز کرتے تو شاید خلافت کا تعین کوئی اور راستہ اختیار کرتا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کونسل کے اراکین کو مقرر کرنے کے بعد عمر نے ابو طلحہ بن زید بن سہل انصاری کو اس کونسل کا سربراہ مقرر کیا اور کہا کہ اگر چار لوگ متفق ہوں اور دو مخالف ہوں تو ان دونوں کا سر قلم کر دیں اور اگر تین متفق ہوں اور باقی تین متفق نہ ہوں تو ان میں سے عبدالرحمٰن کے مخالف تینوں کے سر قلم کر دینا۔ اور اگر تین دن گزر جائیں اور وہ کسی پر اتفاق نہ کر سکیں تو ان سب کا سر قلم کر دینا۔ یہ وہ شرطیں تھیں جن کو عمر نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے پیش نظر رکھا تھا، جس میں ایک قسم کی جانبداری محسوس ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلیفہ کے انتخاب کے لیے اجلاس میں عبدالرحمٰن نے [[حضرت علی علیہ السلام]] سے کہا: اگر میں آپ سے بیعت کروں تو کیا آپ [[خدا کی کتاب]] اور [[[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر و عمر کے طریقہ کے مطابق عمل کرنے پر راضی ہو جائیں گے؟&lt;br /&gt;
امام نے عبدالرحمٰن سے فرمایا: میں خدا کی کتاب اور سنت رسول (ص) کے مطابق عمل کروں گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عثمان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی شرائط کو قبول کرلیا، حالانکہ وہ شروع سے شیخین کی پیروی کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ صرف حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انھوں نے عبدالرحمٰن کی اعلان کردہ شرائط کا خیرمقدم کیا اور قبول کرلیا، اس لیے دوسروں کی [[بیعت]] ان کے حق میں جاری ہوگئی اور کونسل کے دیگر اراکین اس کی خلافت سے مطمئن تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مطالعه بیشتر==&lt;br /&gt;
* معالم المدرستین، سید مرتضی عسگری.&lt;br /&gt;
{{پایان مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان متن}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1&amp;diff=105</id>
		<title>فطرت میں توحید اور مسئلہ اختیار</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1&amp;diff=105"/>
		<updated>2022-10-28T12:17:57Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا خدائی فطرت، انسان میں جبر پیدا نہیں کرتی؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
انسانی فطرت کا مطلب ہے خاص فطرت اور انسان کی خاص تخلیق۔ یہ لفظ قرآن مجید میں انسان کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; مطہری، مرتضیٰ، فطرت، ناشر انجمن اسلامی دانشجویان، پہلا ایڈیشن، 1361، صفحہ 13-14۔&amp;lt;/ref&amp;gt; فطرت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں خدا جوئی، خدا شناسی اور توحید کی خصوصیات رکھی گئی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علماء کا نظریہ ہے کہ فطرت، آزادی کے مسئلے سے متصادم نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کی توحید پرستانہ فطرت صرف علم تک محدود ہے، یعنی وہ فطری طور پر خدا کو اس کی وحدانیت کی صفت سے جانتا ہے، اور اگر گناہ، ماحول، شیطان وغیرہ اس فطرت کے سامنے دیوار نہ کھڑی کریں تو وہ توحید پرست ہی رہے گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محققین کا خیال ہے کہ فطرت کے علم سے لیکر توحید پر ایمان تک اور پھر اس پر عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔ علم کے بغیر ایمان ممکن نہیں، لیکن علم کے علاوہ عمل اور دل کا اقرار بھی اس میں شامل ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیز خدا کو جاننے کی فطرت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ خدا کی شناخت رکھتا ہے اور ہمیشہ خدا کو توحید کی صفت سے جانتا ہے اور اس کی شناخت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ماحولیاتی، خاندانی، تعلیمی جیسے عوامل ادراک کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم نے فطرت، عقل و دانش اور انبیاء بھیج کر تمام لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی ہے۔ انسان ہی ہے جو ہدایت پر کفر کو ترجیح دیتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 {{قرآن|إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا|ترجمه=یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے۔|سوره=انسان|آیه=۳}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1&amp;diff=104</id>
		<title>فطرت میں توحید اور مسئلہ اختیار</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D9%81%D8%B7%D8%B1%D8%AA_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81_%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1&amp;diff=104"/>
		<updated>2022-10-28T10:58:34Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} کیا خدائی فطرت انسان میں جبر پیدا نہیں کرتی؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} انسانی فطرت کا مطلب ہے خاص فطرت اور انسان کی خاص تخلیق۔ یہ لفظ قرآن مجید میں انسان کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; مطہری، مرتضیٰ، فطرت، ناشر انجمن اسلامی دانشجو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا خدائی فطرت انسان میں جبر پیدا نہیں کرتی؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
انسانی فطرت کا مطلب ہے خاص فطرت اور انسان کی خاص تخلیق۔ یہ لفظ قرآن مجید میں انسان کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; مطہری، مرتضیٰ، فطرت، ناشر انجمن اسلامی دانشجویان، پہلا ایڈیشن، 1361، صفحہ 13-14۔&amp;lt;/ref&amp;gt; فطرت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں خدا جوئی، خدا شناسی اور توحید کی خصوصیات رکھی گئی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علماء کا نظریہ ہے کہ فطرت، آزادی کے مسئلے سے متصادم نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کی توحید پرستانہ فطرت صرف علم تک محدود ہے، یعنی وہ فطری طور پر خدا کو اس کی وحدانیت کی صفت سے جانتا ہے، اور اگر گناہ، ماحول، شیطان وغیرہ اس فطرت کے سامنے دیوار نہ کھڑی کریں تو وہ توحید پرست ہی رہے گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محققین کا خیال ہے کہ فطرت کے علم سے لیکر توحید پر ایمان تک اور پھر اس پر عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔ علم کے بغیر ایمان ممکن نہیں، لیکن علم کے علاوہ عمل اور دل کا اقرار بھی اس میں شامل ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیز خدا کو جاننے کی فطرت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ خدا کی شناخت رکھتا ہے اور ہمیشہ خدا کو توحید کی صفت سے جانتا ہے اور اس کی شناخت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ماحولیاتی، خاندانی، تعلیمی جیسے عوامل ادراک کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم نے فطرت، عقل و دانش اور انبیاء بھیج کر تمام لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی ہے۔ انسان ہی ہے جو ہدایت پر کفر کو ترجیح دیتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 {{قرآن|إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا|ترجمه=یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے۔|سوره=انسان|آیه=۳}}&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_(%D8%A2%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AC%DB%8C%DA%88%D9%86)&amp;diff=103</id>
		<title>دنیا کا خاتمہ (آرماجیڈن)</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_(%D8%A2%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AC%DB%8C%DA%88%D9%86)&amp;diff=103"/>
		<updated>2022-10-28T10:20:35Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
دنیا کے خاتمے کے بارے میں نجومیوں اور دانشمندوں کی پیشنگوئی کے سلسلے میں اسلامی نظریہ کیا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|مهدویت}}&lt;br /&gt;
آخری زمانے، ایک نجات دینے والے شخص اور دنیا کے خاتمے وغیرہ جیسے موضوعات پر بہت سے لوگوں کی طرف سے بہت سی پیشن گوئیاں کی گئیں ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بہت سی پیشن گوئیاں صحیح ثابت ہوئی ہیں لیکن اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دنیا کے خاتمے کا مسئلہ ایک غیبی امر ہے اور تمام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ قرآن کی آیات میں علم غیب کو اللہ یا اس کے رسول یا آپ کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص سمجھا گیا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* {{قرآن|يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ|ترجمه=اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے یا برقر ار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے |سوره=رعد|آیه=۳۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* {{قرآن|إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ|۱|وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ|۲|وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ|۳|ترجمه= (1)  جب چادر آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا (2) جب تارے گر پڑیں گے (3) جب پہاڑ حرکت میں آجائیں گے|سوره=تکویر|آیه=۱-۳}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
: {{قرآن|عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا|ترجمه=وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے|سوره=جن|آیه=۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسلام کے زاویہ نگاہ سے اللہ ہے جو ہر طرح کے غیب کا علم رکھتا ہے وہ بھی ایسا علم ہے جو اسی سے مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس سے آگاہ نہیں ہے البتہ آیت کے اگلے حصے میں کچھ استثناء رکھا گیا ہے؛ {{قرآن|إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ|ترجمه=مگر جس رسول کو پسند کرلے}}.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان، ترجمه موسوی همدانی، سید محمد باقر، ج۲۰، ص۳۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض پیشنگوئیاں اگر واقع ہوئی ہوں تو چونکہ پیشن گوئیوں کی بنیادیں اور اصول ہی اسلام کی نظر میں باطل ہیں اور دوسری طرف بہت سی پیشنگوئیاں سچ بھی ثابت نہیں ہوئی ہیں لہذا اسلام ان پر کسی بھی طرح کی مہر تصدیق نہیں لگاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیخ انصاری کا نظریہ تھا: «علم نجوم اور علم ہیئت کے علماء کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں اسی وجہ سے علم ہیئت کے قابل اعتماد علماء کی معلومات پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے، ناقابل اعتماد اور فاسق کی تو بات ہی الگ ہے۔ کیونکہ ان کے محاسبات کچھ نظری امور کے اوپر مبنی ہیں اور وہ امور نظری خود دوسرے نظریات کے اوپر مبنی ہیں».&amp;lt;ref&amp;gt;انصاری، مرتضی مکاسب محرمه (۵ جلدی)، قم، انتشارات مجمع الفکر السلامی، چاپ یازدهم، ج۱، ص۲۰۳ و ۲۰۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ ان کی دلیلوں کی بنیادیں بھی بےوقعت ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں ہے،&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، سوگندهای پربار قرآن، قم، انتشارات امیر المؤمنین علی(ع)، چاپ اول، ص۳۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیونکہ وہ ایک تو وہ معمولا زیادہ تیز اور چالاک ہونے کے سبب اپنی تیزی اور چالاکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ شیاطین اور جنات سے رابطہ برقرار کرتے ہیں:&amp;lt;ref&amp;gt;جعفری، بهزاد، متن و ترجمه کتاب احتجاج، ج۲، ص۲۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور وہ خود اس کے دعویدار ہیں کہ شیاطین سے رابطہ میں ہیں اور ان سے معلومات لیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ بعض اوقات جھوٹ، جیسا کہ بائبل میں بیانات ہیں، عیسائیوں کی نظر میں پیشین گوئی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نتیجہ یہ ہے کہ سائنسدانوں کی پیشین گوئیاں فلکیات پر مبنی ہیں، اور بائبل برائے آرماجیڈون اور ان کی دنیا کے خاتمے کے بارے میں پیشین گوئیاں ہماری آیات اور روایات کے بالکل خلاف ہیں، اور اسلام فلکیات کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس طرح ان کے پاس تھا۔&lt;br /&gt;
لہٰذا چونکہ ان پیشگوئیوں کی بنیاد غیر منطقی اور جھوٹی ہے اور ان میں سے بہت سی سچی نہیں ہوئی ہیں اس لیے ان پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_(%D8%A2%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AC%DB%8C%DA%88%D9%86)&amp;diff=102</id>
		<title>دنیا کا خاتمہ (آرماجیڈن)</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D8%AA%D9%85%DB%81_(%D8%A2%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%AC%DB%8C%DA%88%D9%86)&amp;diff=102"/>
		<updated>2022-10-28T10:14:50Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} دنیا کے خاتمے کے بارے میں نجومیوں اور دانشمندوں کی پیشنگوئی کے سلسلے میں اسلامی نظریہ کیا ہے؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} {{درگاه|مهدویت}} آخری زمانے، ایک نجات دینے والے شخص، اور دنیا کے خاتمے وغیرہ جیسے موضوعات پر بہت سے لوگوں کی طرف...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
دنیا کے خاتمے کے بارے میں نجومیوں اور دانشمندوں کی پیشنگوئی کے سلسلے میں اسلامی نظریہ کیا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|مهدویت}}&lt;br /&gt;
آخری زمانے، ایک نجات دینے والے شخص، اور دنیا کے خاتمے وغیرہ جیسے موضوعات پر بہت سے لوگوں کی طرف سے بہت سی پیشن گوئیاں کی گئیں ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بہت سی پیشن گوئیاں صحیح ثابت ہوئی ہیں لیکن اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دنیا کے خاتمے کا مسئلہ ایک غیبی امر ہے اور تمام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ قرآن کی آیات میں علم غیب کو اللہ یا اس کے رسول یا آپ کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص سمجھا گیا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* {{قرآن|يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ|ترجمه=اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے یا برقر ار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے |سوره=رعد|آیه=۳۹}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* {{قرآن|إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ|۱|وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ|۲|وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ|۳|ترجمه= (1)  چادر آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا (2) جب تارے گر پڑیں گے (3) جب پہاڑ حرکت میں آجائیں گے|سوره=تکویر|آیه=۱-۳}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
: {{قرآن|عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا|ترجمه=[او] وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے|سوره=جن|آیه=۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسلام کے زاویہ نگاہ سے اللہ ہے جو ہر طرح کے غیب کا علم رکھتا ہے وہ بھی ایسا علم ہے جو اسی سے مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس سے آگاہ نہیں ہے البتہ آیت کے اگلے حصے میں کچھ استثناء رکھا گیا ہے؛ {{قرآن|إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ|ترجمه=مگر جس رسول کو پسند کرلے}}.&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان، ترجمه موسوی همدانی، سید محمد باقر، ج۲۰، ص۳۴۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض پیشنگوئیاں اگر واقع ہوئی ہوں تو چونکہ پیشن گوئیوں کی بنیادیں اور اصول ہی اسلام کی نظر میں باطل ہیں اور دوسری طرف بہت سی پیشنگوئیاں محقق بھی نہیں ہوئی ہیں لہذا اسلام ان پر کسی بھی طرح کی مہر تصدیق نہیں لگاتا ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیخ انصاری کا نظریہ تھا: «علم نجوم اور علم ہیئت کے علماء کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں اسی وجہ سے علم ہیئت کے قابل اعتماد علماء کی معلومات پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے، ناقابل اعتماد اور فاسق کی تو بات ہی الگ ہے۔ کیونکہ ان کے محاسبات کچھ نظری امور کے اوپر مبنی ہیں اور وہ امور نظری خود دوسرے نظریات کے اوپر مبنی ہیں».&amp;lt;ref&amp;gt;انصاری، مرتضی مکاسب محرمه (۵ جلدی)، قم، انتشارات مجمع الفکر السلامی، چاپ یازدهم، ج۱، ص۲۰۳ و ۲۰۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ وہ ان کی دلیلوں کی بنیادیں بھی بےوقعت ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں ہے،&amp;lt;ref&amp;gt;مکارم شیرازی، ناصر، سوگندهای پربار قرآن، قم، انتشارات امیر المؤمنین علی(ع)، چاپ اول، ص۳۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیونکہ وہ ایک تو وہ معمولا زیادہ تیز اور چالاک ہونے کے سبب اپنی تیزی اور چالاکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ شیاطین اور جنات سے رابطہ برقرار کرتے ہیں:&amp;lt;ref&amp;gt;جعفری، بهزاد، متن و ترجمه کتاب احتجاج، ج۲، ص۲۱۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور وہ خود اس کے دعویدار ہیں کہ شیاطین سے رابطہ میں ہیں اور ان سے معلومات لیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ بعض اوقات جھوٹ، جیسا کہ بائبل میں بیانات ہیں، مسیحیوں کی نظر میں پیشین گوئی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
نتیجہ یہ ہے کہ سائنسدانوں کی پیشین گوئیاں فلکیات پر مبنی ہیں، اور بائبل برائے آرماجیڈون اور ان کی دنیا کے خاتمے کے بارے میں پیشین گوئیاں ہماری آیات اور روایات کے بالکل خلاف ہیں، اور اسلام فلکیات کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس طرح ان کے پاس تھا۔&lt;br /&gt;
لہٰذا چونکہ ان پیشگوئیوں کی بنیاد غیر منطقی اور جھوٹی ہے اور ان میں سے بہت سی سچی نہیں ہوئی ہیں اس لیے ان پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=100</id>
		<title>صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=100"/>
		<updated>2022-10-20T06:31:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات کو اسلام کی نظر میں چھوت چھات کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[اسلام کی نظر میں چھوت چھات]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=99</id>
		<title>اسلام کی نظر میں چھوت چھات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=99"/>
		<updated>2022-10-20T06:31:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات کو اسلام کی نظر میں چھوت چھات کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا «لاعدوی فی الاسلام» یعنی اسلام میں چھوت چھات یعنی بیماری کا پھیلنا نہیں ہے۔ اب جبکہ سماج میں کرونا کا پھیلاؤ اور لوگوں کے درمیان اس کے پھیلنے کے بارے میں حساسیت ایک مسلم چیز ہے تو کیا یہ فرمان علم و عقل کے خلاف نہیں لگتا ہے؟&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|کرونا}}&lt;br /&gt;
[[اسلام]] نہ صرف یہ کہ کچھ بیماریوں کے پھیلنے کا قائل ہے بلکہ بنیادی طور سے ہر بیماری کو پھیلنے والی شمار کرتا ہے مگر یہ کہ کسی بیماری کا نہ پھیلنا ثابت ہو جائے۔ بیمار کی [[عیادت]] کی سفارش بھی صرف اسی صورت میں  کرتا ہے جب بیماری پھیلنے والی نہ ہو۔&lt;br /&gt;
اور یہ [[روایت]] کہ {{عربی|لا عَدْوَى...‏|ترجمه= بیماری پھیلتی نہیں ہے...}} کئی غلط فہمیوں کا سبب بنی ہے۔ اس روایت کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ بد قسمتی ہے کہ [[روایتی طب]] یعنی [[دیسی طب]] پر جنون کی حد تک یقین رکھنے والے  کچھ لوگ اس روایت کو دلیل بناکر پھیلنے والی وبا اور بیماری سے پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی پر اکساتے ہیں۔ مذکورہ روایت دوسری ان روایتوں کے برخلاف ہے جو بیماروں کے پاس بیٹھنے سے روکتی ہیں۔&lt;br /&gt;
اگر اس کی سند کو مان بھی لیا جائے تو اس روایت کا مقصد یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ چھوت چھات کے حکم کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کو پھیلنے کی وجہ سے بیماری لگ گئی تو بیمار کے اوپر اس کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا ہے اور وہ اس بیمار سے نقصان کی تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے یا اس کو اپنی بیماری کا سبب نہیں بتا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
== بیماری کا پھیلنا روایات میں ==&lt;br /&gt;
دینی منابع میں بعض بیماریوں کی سرایت کی تصریح موجود ہے اور بیماری کے پھیلنے کا سرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* ایک [[روایت]] میں [[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: «بیمار شخص کو صحیح سالم لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ روایت ان روایات سے متعارض ہے جو بیماروں کی [[عیادت]] کے سلسلہ میں ہیں۔ لیکن یہ روایت اس بیماری کے بارے میں ہو سکتی ہے جس کا مسری ہونا یا نہ ہونا واضح نہ ہو۔ لہذا اس روایت کے مطابق بیماریاں بنیادی طور پر مسری ہوتی ہیں، اور عیادت کا مستحب عمل اسی وقت جائز ہے جب ہمیں بیماری کے مسری نہ ہونے کا اطمینان ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ  «جزامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۲، ص۱۳۱&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک اور روایت کے مطابق ایک کوڑھ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آیا لیکن آپ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اس کی بیعت کو قبول کر لیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دوسری طرف کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[اہل بیت علیہم السلام]]&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن‌ یعقوب بن اسحق، الأصول، فروع، الروضه من الکافی، مصحح علی‌اکبر الغفاری، تهران: دارالکتب الإسلامیه، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; نے کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کوڑھ سے پرہیز کرنے اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ کوڑھ کی بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک خشک ہوتی ہے جو پھیلتی نہیں ہے اور دوسری وہ ہوتی ہے جو پھیلتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوت والے کوڑھیوں کو شہروں میں اور لوگوں کے درمیان جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جن کوڑھیوں کے ساتھ [[معصومین علیہم السلام]] نے کھانا کھایا وہ چھوت والے کوڑھی نہیں تھے.&lt;br /&gt;
* ایک شخص نے [[امام کاظم علیہ السلام]] سے پوچھا کہ اگر کسی شہر میں طاعون کی بیماری آ گئی ہو تو کیا مجھے وہاں سے نکل جانا چاہئے؟ امام نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر کسی گاؤں دیہات میں ہو تو؟ آپ نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر گھر میں ہو تو؟ آپ نے فرمایا ہاں باہر نکل جاؤ۔ راوی نے سوال کیا ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ &amp;quot;طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے&amp;quot; امام نے فرمایا &amp;quot;یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کے لئے کہا جو سرحدوں پر دشمنوں سے جنگ میں مصروف تھے اور جب وہاں طاعون آیا تو فوجی وہاں سے بھاگ گئے اور میدان جنگ خالی کردیا&amp;quot;۔ &amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد بن‌ حسن، تفصیل وسائل الشیعه، قم: مؤسسه آل‌ البیت(ع)، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۴۳۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: &amp;quot;جذام یا کوڑھ کے بیماروں کو زیادہ مت دیکھو اور جب ان سے گفتگو کرو تو ایک نیزہ کے برابر ان سے دور رہو&amp;quot;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
ان کو دیکھنے سے روکنے کی سفارش میں ممکن ہے مخاطب کے لئے نفسیاتی صحت کا پہلو پوشیدہ ہو۔ اور ایک نیزہ کا فاصلہ جو روایت میں آیا ہے وہ دو میٹر کے قریب ہوتا ہے اور آج کے ڈاکٹر بھی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اس فاصلہ کی سفارش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[امام سجاد]] علیہ السلام نے دشمنان اسلام کو نفرین کرنے کے لئے فرمایا ہے:  «خدایا ان کے پانیوں میں وبا کو اور ان کی غذاؤں میں درد (بیماری) کو ملا دے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفه سجادیه، دعای۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
اس روایت میں امام نے ایک طرف وبا کے میکروب کے مرکز کو بیان کیا ہے جو کہ پانی ہوتا ہے، دوسری طرف خدا سے دعا کی ہے کہ اس میکروب کو دشمنوں کے پانیوں میں ملا دے تاکہ وہ اس میں مبتلا ہو جائیں۔ اس روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ امام بیماری کے پھیلنے کو مانتے تھے اور پھیلنے والی بیماری کا وجود اسلام کے مسلمات میں سے ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== روایت «لا عدوی فی الإسلام» کا جائزہ ==&lt;br /&gt;
روایت {{عربی|لَا عَدْوَى‏ فی الاسلام|ترجمہ=اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے}} سے کچھ غلط نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اس روایت کی شیعہ سند بہت ضعیف ہے۔ لیکن صحیح مسلم و صحیح بخاری&amp;lt;ref&amp;gt;بخاری، محمد بن‌ إسماعیل، صحیح البخاری، محقق: محمد زهیر بن‌ ناصر الناصر، بیروت: دارطوق النجاه، ۱۴۲۲ق، ج۷، ص۱۹، ۲۶، ۲۷ و ۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں نقل ہونے کی وجہ سے اہل سنت کے درمیان اس کو صحیح السند مانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اہل سنت کے درمیان بھی اختلاف کا سبب بنی ہے اور دوسری روایتوں سے تعارض کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دیکھئے أبوالحسن القشیری النیسابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، محقق: محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت: دار إحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ق، ج۷، ص۳۱و۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ روایت شیعہ منابع میں اس طرح نقل ہوئی ہے: «نضر بن قرواش جمّال (اونٹ والا) سے روایت ہے کہ: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس اونٹ کے بارے سوال کیا جسے جرب (جلد کی ایک بیماری) لگ گئی ہو کہ کیا میں بیماری پھیلنے کی وجہ سے اس کو دوسرے اونٹوں سے الگ کردوں؟ امام نے فرمایا: ایک بادیہ نشین رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے سستے گوسفند اور اونٹ دیکھے ہیں جو کہ جرب میں مبتلا ہیں، مجھے ان کو خریدنا پسند نہیں ہے کہ کہیں ان کا جرب میرے گوسفندوں اور اونٹوں کو نہ لگ جائے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تو پھر ان کو کس نے مبتلا کیا ہے؟ پھر فرمایا: اسلام میں بیماری کا پھیلنا (عدوی) نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۵۵، ص۳۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[روایتی طب]] کے کچھ کٹر حمایتی اس روایت کے ظاہر سے استناد کرتے ہوئے پھیلنے والی بیماریوں سے پرہیز نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے کوئی مسلمان بیمار نہیں ہوگا اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے متعلق [[معصومین]] علیہم السلام سے منقول روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے [[توکل]] کو مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ توجیہ ان روایتوں سے متعارض ہے جو پھیلنے والی بیماریوں سے دور رہنے کی سفارش کرتی ہیں۔ اور کوڑھ کے مرض کی دو قسمیں یعنی پھیلنے والا اور نہ پھیلنے والا کوڑھ بھی ان کے استدلال کو کمزور کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
=== حقیقت سرایت کو ماننا اور اس کے حکم کو مسترد کرنا ===&lt;br /&gt;
دوسری روایتوں میں «عدوی» یعنی پھیلنے والے بیماری کا لفظ «طیره» یعنی ([[فال بد]]) کے ساتھ آیا ہے۔ طیرہ ان 9 چیزوں میں سے ایک ہے جو [[حدیث رفع]] میں بیان ہوئی ہیں۔ علماء کی مشہور نظر کے مطابق حدیث رفع میں ان 9 چیزوں کی حقیقت سے انکار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ان 9 چیزوں کا حکم مسلمانوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ طیرہ وغیرہ کی طرح سرایت سے بھی صرف اس کا حکم اور اس کے قانونی اور شرعی آثار کو اٹھا لیا گیا ہے۔ خود سرایت اور بیماری کا پھیلنا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;
یہ بات [[حضرت علی]] علیہ السلام کے فرمان سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ {{عربی|و الطیره لیست بحق، والعدوی لیست بحق|ترجمہ=فال بد لگانا حق نہیں ہے اور سرایت حق نہیں ہے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، حکمت۴۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس روایت میں حضرت علیہ السّلام کا یہ مقصد نہیں ہے کہ سرایت ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ آپ نے اس کے حکم کی نفی کی ہے یعنی جس شخص کے ذریعہ بیماری پھیلی ہے وہ ضامن نہیں ہوتا ہے اور اگر بیماری کسی دوسرے کو لگ جائے تو بیمار شخص پر کوئی حق نہیں بنے گا۔ اور وہ اس بہانے سے تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اس کو اپنی بیماری کا سبب قرار نہیں دے سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
* یہ مقالہ مندرجہ ذیل مقالہ سے ماخوذ ہے: «میکروب، سرایت و قرنطینہ در اسلام» تالیف: روح الله رضوی، مجلہ پاسخ، شماره 18 تابستان ۱۳۹۹.&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81&amp;diff=82</id>
		<title>سجدہ گاہ پر سجدہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81&amp;diff=82"/>
		<updated>2022-10-05T10:07:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کے لئے شیعوں کے پاس کیا دلیل ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} [[شیعہ]] حضرات [[سجدہ گاہ]] پر سجدہ کرنے کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے ہیں کیونکہ آپ [[سجده]] کرتے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔ روایتیں کہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے ایک شخص کو فرش پر سجدہ کرنے سے روکا، اسی طرح آپ نے اس شخص کی تائید کی جو [[مسجد]] میں پتھر لیکر آیا تھا اور اسی پر سجدہ کر رہا تھا۔ حضرت [[فاطمہ زہرا]] سلام اللہ علیہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا جناب [[حمزه]] علیہ اسلام کی قبر کی مٹی سے سجدہ گاہ بنائی تھی۔ [[امام سجاد]] نے [[شہادت امام حسین]] کے بعد خاک [[کربلا]] سے سجدہ گاہ بنائی اور اسی پر نماز پڑھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== رسول ص اور آپ کے اصحاب کی سیرت==&lt;br /&gt;
{{اسی طرح دیکھئے|زمین کا پاک کرنے والی اور قابل سجدہ گاہ ہونا}}&lt;br /&gt;
{{جعبه نقل قول| عنوان = | نقل‌قول = اہل سنت کے عالم عبد الوہاب شافعی:{{-}} «مجھے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں ایک بھی روایت ایسی نہیں ملی جو فرش اور لباس پر سجدہ کرنے کے جواز کی صراحت کرتی  ہو۔».&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;|تاریخ بایگانی| منبع = | تراز = چپ| عرض = ۲۳۰px| اندازه خط = 14px|رنگ پس‌زمینه =#ffed98| گیومه نقل‌قول =| تراز منبع = چپ}} شیعہ اور [[اہل‌سنت]] دونوں نے اچھی خاصی ایسی روایتیں نقل کی ہیں کہ [[رسول خدا]] صلی اللہ علیہ وآلہ [[سجده]] میں اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیه، اول، ۱۳۷۲ش، ص۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; روایات کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا فرمان تھا کہ زمین کو آپ کے لئے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;امینی، راه و روش ما راه و روش پیامبر ما است، مترجم سید باقر موسوی، تہران، مکتبۃ الامام امیر المؤمنین، چاپ دوم، ۱۳۹۴، ص۲۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[کنز العمال (کتاب)|کتاب کنز العمال]] کی ایک روایت کے مطابق رسول نے اس شخص کو روکا جو فرش پر نماز پڑھ رہا تھا (فرش پر سجدہ کر رہا تھا) اور آپ نے فرش ہٹا دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;الهندی، کنز العمال، ص۱۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے دوسرے خلیفہ کے بیٹے [[عبد اللہ بن عمر]] سے نقل ہوا ہے کہ وہ ایک بارش والی رات میں نماز صبح کے لئے مسجد میں گئے۔ ایک شخص نے نماز کے لئے ایک مناسب سا پتھر لیا اور ایک کپڑا پھیلاکر اس پر پتھر کو رکھ دیا اور نماز پڑھ لی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس کو دیکھا اور اس کے عمل کی تحسین کی۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، ص۳۸ و ۳۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
انھیں سب روایات کی بنیاد پر شیعہ علماء کا یہ نظریہ ہے کہ سجدہ یا تو زمین پر ہونا چاہئے یا ان چیزوں پر ہونا چاہئے جن پر سجدہ کرنا سنت رسول میں جائز ہے۔&lt;br /&gt;
پیغمبر کی اتباع کرتے ہوئے مسلمان خاک پر سجدہ کرتے تھے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اہل سنت کے پہلے خلیفہ [[ابوبکر]] ہمیشہ زمین پر نماز پڑھتے تھے اور اگر فرش پر نماز پڑھتے تھے تو اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الہندی، علامہ علاء الدین المتقی بن حسام الدین، کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، سال ۱۴۰۹ ق، ج۸، ص۱۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے اس شخص کو روکا جو فرش پر نماز پڑھ رہا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، ص۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے دوسرے خلیفہ [[عمر بن خطاب|عمر]] کی نظر میں سجدے کا مطلب پیشانی اور چہرے کو زمین پر رکھنا تھا اور وہ زمین پر سجدہ کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفہانی، ص۵۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے تیسرے خلیفہ [[عثمان]] بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفہانی، ص۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[صحابی]] رسول اور صدر اسلام کے محدث [[عبدالله بن مسعود]] بھی صرف زمین پر نماز پڑھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ مسلمان جب [[مدینہ]] سے باہر کا سفر کرتے تھے تو مدینہ کی خاک سے سجدہ گاہ بناکر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اس پر نماز پڑھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، صص ۶۹–۶۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== اہل بیت علیہم السلام کا سجدہ گاہ استعمال کرنا ==&lt;br /&gt;
حضرت [[فاطمہ زہرا]] نے [[جنگ احد|جنگ اُحُد]] میں رسول کے چچا [[حمزه بن عبدالمطلب]] کی شہادت کے بعد ان کی قبر کی مٹی سے ذکر کے لئے تسبیح اور نماز کے لئے سجدہ گاہ بنائی۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزہ علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۶۷–۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام سجاد]] نے بھی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد خاک کربلا سے تسبیح بنائی اور اس سے ذکر پڑھتے تھے اور سجدہ گاہ بھی بنائی جس پر سجدہ کرتے تھے۔ شیعہ بھی اپنے ائمہ کی اتباع کرتے ہوئے کربلا کی سجدہ گاہ استعمال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ کام شیعوں کا شعار اور ان کا طور طریقہ بن گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزہ علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۶۶–۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81&amp;diff=81</id>
		<title>سجدہ گاہ پر سجدہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81_%DA%AF%D8%A7%DB%81_%D9%BE%D8%B1_%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81&amp;diff=81"/>
		<updated>2022-10-05T10:06:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کے لئے شیعوں کے پاس کیا دلیل ہے؟  {{پایان سوال}} {{پاسخ}} شیعہ ا حضرات سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے ہیں کیونکہ آپ سجده کرتے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔ روایت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کے لئے شیعوں کے پاس کیا دلیل ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} [[شیعہ]] ا حضرات [[سجدہ گاہ]] پر سجدہ کرنے کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے ہیں کیونکہ آپ [[سجده]] کرتے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔ روایتیں کہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے ایک شخص کو فرش پر سجدہ کرنے سے روکا، اسی طرح آپ نے اس شخص کی تائید کی جو [[مسجد]] میں پتھر لیکر آیا تھا اور اسی پر سجدہ کر رہا تھا۔ حضرت [[فاطمہ زہرا]] سلام اللہ علیہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا جناب [[حمزه]] علیہ اسلام کی قبر کی مٹی سے سجدہ گاہ بنائی تھی۔ [[امام سجاد]] نے [[شہادت امام حسین]] کے بعد خاک [[کربلا]] سے سجدہ گاہ بنائی اور اسی پر نماز پڑھتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== رسول ص اور آپ کے اصحاب کی سیرت==&lt;br /&gt;
{{اسی طرح دیکھئے|زمین کا پاک کرنے والی اور قابل سجدہ گاہ ہونا}}&lt;br /&gt;
{{جعبه نقل قول| عنوان = | نقل‌قول = اہل سنت کے عالم عبد الوہاب شافعی:{{-}} «مجھے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں ایک بھی روایت ایسی نہیں ملی جو فرش اور لباس پر سجدہ کرنے کے جواز کی صراحت کرتی  ہو۔».&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;|تاریخ بایگانی| منبع = | تراز = چپ| عرض = ۲۳۰px| اندازه خط = 14px|رنگ پس‌زمینه =#ffed98| گیومه نقل‌قول =| تراز منبع = چپ}} شیعہ اور [[اہل‌سنت]] دونوں نے اچھی خاصی ایسی روایتیں نقل کی ہیں کہ [[رسول خدا]] صلی اللہ علیہ وآلہ [[سجده]] میں اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیه، اول، ۱۳۷۲ش، ص۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; روایات کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا فرمان تھا کہ زمین کو آپ کے لئے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;امینی، راه و روش ما راه و روش پیامبر ما است، مترجم سید باقر موسوی، تہران، مکتبۃ الامام امیر المؤمنین، چاپ دوم، ۱۳۹۴، ص۲۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[کنز العمال (کتاب)|کتاب کنز العمال]] کی ایک روایت کے مطابق رسول نے اس شخص کو روکا جو فرش پر نماز پڑھ رہا تھا (فرش پر سجدہ کر رہا تھا) اور آپ نے فرش ہٹا دیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;الهندی، کنز العمال، ص۱۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے دوسرے خلیفہ کے بیٹے [[عبد اللہ بن عمر]] سے نقل ہوا ہے کہ وہ ایک بارش والی رات میں نماز صبح کے لئے مسجد میں گئے۔ ایک شخص نے نماز کے لئے ایک مناسب سا پتھر لیا اور ایک کپڑا پھیلاکر اس پر پتھر کو رکھ دیا اور نماز پڑھ لی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس کو دیکھا اور اس کے عمل کی تحسین کی۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، ص۳۸ و ۳۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
انھیں سب روایات کی بنیاد پر شیعہ علماء کا یہ نظریہ ہے کہ سجدہ یا تو زمین پر ہونا چاہئے یا ان چیزوں پر ہونا چاہئے جن پر سجدہ کرنا سنت رسول میں جائز ہے۔&lt;br /&gt;
پیغمبر کی اتباع کرتے ہوئے مسلمان خاک پر سجدہ کرتے تھے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اہل سنت کے پہلے خلیفہ [[ابوبکر]] ہمیشہ زمین پر نماز پڑھتے تھے اور اگر فرش پر نماز پڑھتے تھے تو اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;الہندی، علامہ علاء الدین المتقی بن حسام الدین، کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، سال ۱۴۰۹ ق، ج۸، ص۱۲۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; انھوں نے اس شخص کو روکا جو فرش پر نماز پڑھ رہا تھا۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، ص۵۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے دوسرے خلیفہ [[عمر بن خطاب|عمر]] کی نظر میں سجدے کا مطلب پیشانی اور چہرے کو زمین پر رکھنا تھا اور وہ زمین پر سجدہ کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفہانی، ص۵۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اہل سنت کے تیسرے خلیفہ [[عثمان]] بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفہانی، ص۵۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; [[صحابی]] رسول اور صدر اسلام کے محدث [[عبدالله بن مسعود]] بھی صرف زمین پر نماز پڑھتے تھے۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزه علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۵۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ مسلمان جب [[مدینہ]] سے باہر کا سفر کرتے تھے تو مدینہ کی خاک سے سجدہ گاہ بناکر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اس پر نماز پڑھیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;عطائی اصفهانی، صص ۶۹–۶۷.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
== اہل بیت علیہم السلام کا سجدہ گاہ استعمال کرنا ==&lt;br /&gt;
حضرت [[فاطمہ زہرا]] نے [[جنگ احد|جنگ اُحُد]] میں رسول کے چچا [[حمزه بن عبدالمطلب]] کی شہادت کے بعد ان کی قبر کی مٹی سے ذکر کے لئے تسبیح اور نماز کے لئے سجدہ گاہ بنائی۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌ رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزہ علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۶۷–۶۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[امام سجاد]] نے بھی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد خاک کربلا سے تسبیح بنائی اور اس سے ذکر پڑھتے تھے اور سجدہ گاہ بھی بنائی جس پر سجدہ کرتے تھے۔ شیعہ بھی اپنے ائمہ کی اتباع کرتے ہوئے کربلا کی سجدہ گاہ استعمال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ کام شیعوں کا شعار اور ان کا طور طریقہ بن گیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;عرفانیان یزدی خراسانی، غلام‌رضا، الوضوء و السجود فی الکتاب و السنۃ، قم، حوزہ علمیہ، اول، ۱۳۷۲ش، ص۶۶–۴۶.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84&amp;diff=80</id>
		<title>انبیاء اور معصومین علیہم السلام سے توسل</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84&amp;diff=80"/>
		<updated>2022-10-05T08:33:15Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا انبیاء اور معصومین علیہم السلام سے توسل جائز ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں غیر خدا سے توسل کی سفارش کی گئی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ  کہ یہ توسل اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ بنے۔ اسی طرح مسلمانوں اور علمائے دینی کا طور طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ معصومین علیہم السلام سے توسل کرتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غیر خدا سے توسل میں انبیائے الہی اور ائمہ سے توسل آتا ہے۔ خداوند عالم سے نزدیک کرنے والا یہ توسل، [[قرآن]] و روایات سے تصدیق شدہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==وسیلہ کا ضروری ہونا==&lt;br /&gt;
کسی نتیجہ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ اور ذریعہ سے استفادہ کرنا ایک مسلم بات ہے اور اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ اسی طرح معنوی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے اللہ نے کچھ وسیلے قرار دئے ہیں کہ انسان ان وسیلوں کے ذریعہ مقامات عالیہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں آیا ہے: {{قرآن|یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَ اتْبَغُوا اِلیهِ الوَسیلَه وَ جاهِدُوا فی سَبیلِهِ لَعَلَّکُم تُفلِحوُن}} (مائده، ۳۵) ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==قرآن و روایات میں غیر خدا کا وسیلہ==&lt;br /&gt;
«وسیلہ» سے مراد ہر وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ سے نزدیک کرے اور یہ کبھی کبھی خود انسان سے متعلق ہوتی ہے جیسے علم و آگاہی، [[نماز]]، [[حجّ|حج]]، [[زکات]] اور راہ خدا میں [[جہاد]]؛ یا کبھی کبھی وہ لوگ جو انسان کا ہاتھ تھام کر اسے معنوی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے سورہ مائدہ کی 35 ویں آیت کی [[تفسیر]] میں آیا ہے کہ حضرت [[علی علیہ السلام]] نے فرمایا: «اَنَا وَسیلَتُهُ»، میں اس کا وسیلہ ہوں&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبائی، سید محمد حسین، تفسیر المیزان، ج۵، ص۳۳۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یا آپ نے فرمایا ہے: تَقَرَّبُوا اِلیهِ بِالاِمام. امام کے ذریعہ اللہ سے نزدیک ہوا کرو۔ اسی وجہ سے آیات [[قرآن]] میں [[توسل]] کو لیکر گزشتہ [[انبیاء]] کے بہت سے نمونے بیان کئے گئے ہیں۔ جیسے  [[حضرت آدم ]] علیہ السلام کا [[اہل بیت]] علیہم السلام سے توسل کرنا (بقره، ۳۷) اور برادران [[حضرت یوسف]] کا حضرت [[یعقوب]] سے اس وقت توسل کرنا۔ جب برادران یوسف کو سمجھ میں آگیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے تو انھوں نے اپنے والد سے [[استغفار]] کے لئے توسل کیا اور حضرت یعقوب نے اسے قبول بھی کر لیا: {{قرآن|قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ}}&amp;lt;ref&amp;gt;یوسف/ ۹۷ و ۹۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان لوگوں (فرزندان یعقوب) نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
===انبیاء اور ائمہ سے توسل===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ سے مسلمانوں کا توسل آپ کی زندگی ظاہری میں بھی موجود تھا اور آپ کی رحلت کے بعد بھی قائم رہا۔&lt;br /&gt;
بہت سے لوگ آتے تھے اور آپ سے مدد اور بخشش کی درخواست کرتے تھے اور ان کی حاجتیں پوری ہوتی تھیں۔ مثلا نقل ہوا ہے کہ ایک بدو عرب آپ کے پاس آیا اور کچھ اشعار سنائے اور ان میں آپ کو وسیلہ قرار دیا تاکہ اللہ بارش نازل کرے۔ اس کا آخری شعر یوں تھا: ہمارے پاس آپ کی طرف آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، پیغمبر خدا کے سوا لوگ اور کس کی طرف جا سکتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت غمزدہ ہوئے اور منبر جاکے بارش کی دعا فرمائی اور اس کے بعد بہت بارش ہوئی۔&amp;lt;ref&amp;gt;کشف الارتیاب، ص۳۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح مسلمانوں اور علمائے دین کا طور طریقہ یہ رہا ہے کہ ائمہ علیہم السلام سے توسل کرتے تھے اور کرتے ہیں اور [[امام حسین]] علیہ السلام کی جو مجلسیں ہوتی ہیں اور جلوس و ماتم برپا ہوتا ہے وہ سب اسی باب سے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
===عظیم معنوی شخصیات سے توسل===&lt;br /&gt;
قرب الہی کے حصول اور حوائج دنیا تک پہنچنے کے لئے ان مومنین اور صالحین کو اللہ اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے جو اللہ کے نزدیک ایک خاص مقام و منزلت رکھتے تھے اور جنھوں نے دنیا میں  نیک اور معنوی زندگی گزاری ہے۔ خدا کو ان کی عظیم روح کی قسم دی جا سکتی ہے تاکہ اللہ کی رحمت و مغفرت حاصل ہو سکے۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی نسب، سید رضا، شیعہ پاسخ می‌دہد، نشر مشعر، چاپ دوم، ص۱۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==منابع==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84&amp;diff=79</id>
		<title>انبیاء اور معصومین علیہم السلام سے توسل</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%86%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%A1_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%B3%DB%92_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84&amp;diff=79"/>
		<updated>2022-10-05T08:31:19Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}}  {{سوال}} کیا انبیاء اور معصومین علیہم السلام سے توسل جائز ہے؟  {{پایان سوال}}  {{پاسخ}} مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں غیر خدا سے توسل کی سفارش کی گئی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ  کہ یہ توسل اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ بنے۔ اسی طرح مسلمانوں...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا انبیاء اور معصومین علیہم السلام سے توسل جائز ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں غیر خدا سے توسل کی سفارش کی گئی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ  کہ یہ توسل اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ بنے۔ اسی طرح مسلمانوں اور علمائے دینی کا طور طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ معصومین علیہم السلام سے توسل کرتے تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غیر خدا سے توسل میں انبیائے الہی اور ائمہ سے توسل آتا ہے۔ خداوند عالم سے نزدیک کرنے والا یہ توسل، [[قرآن]] و روایات سے تصدیق شدہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==وسیلہ کا ضروری ہونا==&lt;br /&gt;
کسی نتیجہ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ اور ذریعہ سے استفادہ کرنا ایک مسلم بات ہے اور اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ اسی طرح معنوی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے اللہ نے کچھ وسیلے قرار دئے ہیں کہ انسان ان وسیلوں کے ذریعہ مقامات عالیہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں آیا ہے: {{قرآن|یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَ اتْبَغُوا اِلیهِ الوَسیلَه وَ جاهِدُوا فی سَبیلِهِ لَعَلَّکُم تُفلِحوُن}} (مائده، ۳۵) ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==قرآن و روایات میں غیر خدا کا وسیلہ==&lt;br /&gt;
«وسیلہ» سے مراد ہر وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ سے نزدیک کرے اور یہ کبھی کبھی خود انسان سے متعلق ہوتی ہے جیسے علم و آگاہی، [[نماز]]، [[حجّ|حج]]، [[زکات]] اور راہ خدا میں [[جہاد]]؛ یا کبھی کبھی وہ لوگ جو انسان کا ہاتھ تھام کر اسے معنوی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے سورہ مائدہ کی 35 ویں آیت کی [[تفسیر]] میں آیا ہے کہ حضرت [[علی علیہ السلام]] نے فرمایا: «اَنَا وَسیلَتُهُ»، میں اس کا وسیلہ ہوں&amp;lt;ref&amp;gt;طباطبائی، سید محمد حسین، تفسیر المیزان، ج۵، ص۳۳۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یا آپ نے فرمایا ہے: تَقَرَّبُوا اِلیهِ بِالاِمام. امام کے ذریعہ اللہ سے نزدیک ہوا کرو۔ اسی وجہ سے آیات [[قرآن]] میں [[توسل]] کو لیکر گزشتہ [[انبیاء]] کے بہت سے نمونے بیان کئے گئے ہیں۔ جیسے  [[حضرت آدم ]] علیہ السلام کا [[اہل بیت]] علیہم السلام سے توسل کرنا (بقره، ۳۷) اور برادران [[حضرت یوسف]] کا حضرت [[یعقوب]] سے اس وقت توسل کرنا۔ جب برادران یوسف کو سمجھ میں آگیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے تو انھوں نے اپنے والد سے [[استغفار]] کے لئے توسل کیا اور حضرت یعقوب نے اسے قبول بھی کر لیا: {{قرآن|قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ}}&amp;lt;ref&amp;gt;یوسف/ ۹۷ و ۹۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; ان لوگوں (فرزندان یعقوب) نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
===انبیاء اور ائمہ سے توسل===&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ سے مسلمانوں کا توسل آپ کی زندگی ظاہری میں بھی موجود تھا اور آپ کی رحلت کے بعد بھی قائم رہا۔&lt;br /&gt;
بہت سے لوگ آتے تھے اور آپ سے مدد اور بخشش کی درخواست کرتے تھے اور ان کی حاجتیں پوری ہوتی تھیں۔ مثلا نقل ہوا ہے کہ ایک بدو عرب آپ کے پاس آیا اور کچھ اشعار سنائے اور ان میں آپ کو وسیلہ قرار دیا تاکہ اللہ بارش نازل کرے۔ اس کا آخری شعر یوں تھا: ہمارے پاس آپ کی طرف آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، پیغمبر خدا کے سوا لوگ اور کس کی طرف جا سکتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت غمزدہ ہوئے اور منبر جاکے بارش کی دعا فرمائی اور اس کے بعد بہت بارش ہوئی۔&amp;lt;ref&amp;gt;کشف الارتیاب، ص۳۱۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح مسلمانوں اور علمائے دین کا طور طریقہ یہ رہا ہے کہ ائمہ علیہم السلام سے توسل کرتے تھے اور کرتے ہیں اور [[امام حسین]] علیہ السلام کی جو مجلسیں ہوتی ہیں اور جلوس و ماتم برپا ہوتا ہے وہ سب اسی باب سے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
===عظیم معنوی شخصیات سے توسل===&lt;br /&gt;
قرب الہی کے حصول اور حوائج دنیا تک پہنچنے کے لئے ان مومنین اور صالحین کو اللہ اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے جو اللہ کے نزدیک ایک خاص مقام و منزلت رکھتے تھے اور جنھوں نے دنیا میں  نیک اور معنوی زندگی گزاری ہے۔ خدا کو ان کی عظیم روح کی قسم دی جا سکتی ہے تاکہ اللہ کی رحمت و مغفرت حاصل ہو سکے۔&amp;lt;ref&amp;gt;حسینی نسب، سید رضا، شیعہ پاسخ می‌دہد، نشر مشعر، چاپ دوم، ص۱۴۴.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==منابع==&lt;br /&gt;
{{پانویس}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = کلام&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۱ = امامت عامه&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۲ = توسل&lt;br /&gt;
 | شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=78</id>
		<title>امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=78"/>
		<updated>2022-10-04T18:57:52Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|مهدویت}}&lt;br /&gt;
[[امام زمانہ (عج)]] کے ظہور کا وقت صرف [[اللہ]] کے نزدیک معین ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے وقت کے معین کرنے والے کو جھٹلایا گیا ہے۔ اس کے باوجود ظہور کی کچھ علامتیں ذکر کی گئی ہیں اور مقام ظہور شہر مکہ میں خانہ خدا کے پاس بیان ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظہور کا وقت ایک الہی راز ==&lt;br /&gt;
امام زمانہ عج کے چار نائب خاص میں سے آخری نائب علی بن محمد سمری کی وفات سے غیبت کبری کا آغاز ہوا اور یہ غیبت آج تک جاری ہے۔ امام زمانہ عج کا ظہور اور آپ کا قیام اس دور کے آخر میں اور اللہ کے حکم سے ہوگا۔ معصومین علیہم السلام نے بہت سی روایتوں میں تصریح فرمائی ہے کہ آپ کے ظہور کے لئے کسی خاص وقت کو معین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ امر ناگہانی طور پر اور فرمان خدا سے ہوگا اور جو بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے۔&lt;br /&gt;
ابو بصیر کہتے ہیں: {{عربی|سَأَلْتُهُ عَنِ اَلْقَائِمِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ كَذَبَ اَلْوَقَّاتُونَ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لاَ نُوَقِّتُ ثُمَّ قَالَ أَبَى اَللَّهُ إِلاَّ أَنْ يُخْلِفَ وَقْتَ اَلْمُوَقِّتِينَ|ترجمہ=میں نے امام علیہ السلام سے قائم علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: «وقت کو معین کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں، ہم اہل بیت کوئی وقت معین نہیں کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ اس کے سوا کچھ اور نہیں چاہتا ہے کہ وقت معین کرنے والوں کے وقت کے بر خلاف کرے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نعمانی، الغیبۃ، ترجمہ غفاری، ج۱، ص۴۱۱؛ حسینی، سید حسین، یاد محبوب، نشر آفاق، ص۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
«اسحاق بن یعقوب» نے محمد بن عثمان عمری کے ذریعہ امام زمانہ عج کی خدمت میں ایک خط لکھا اور سوال کئے۔ امام نے جواب کے ایک حصہ میں وقت ظہور کے بارے میں فرمایا: {{عربی|وَ اَمَّا ظُهُورُ الْفَرَجِ فَاِنَّهُ اِلَی اللَّهِ تَعَالَی ذِکْرُهُ وَ کَذَبَ الْوَقَّاتُونَ؛ اور ظہور فرج، اللہ کے حکم سے وابستہ ہے، اور وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۱۶۰، ح۴. شیخ صدوق ره.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظهور کی علامتیں==&lt;br /&gt;
ظہور کا وقت معین کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو باریکی اور تفصیل کے ساتھ معین کیا جائے۔ اور معصومین علیہم السلام نے اس طرح معین کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی ہے اور اس کو اسرار الہی میں سے شمار کیا ہے۔ لیکن آپ نے کچھ علامتیں ذکر کی ہیں کہ اگر وہ علامتیں سامنے آ جائیں تو ظہور کے نزدیک ہونے کی نوید دیتی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;پیشوای دوازدہم حضرت حجت ابن الحسن المہدی، ہیئت تحریریہ مؤسسہ در راه حق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ظہور کی حتمی اور غیر حتمی علامات ذکر کرنے کے علاوہ روایات میں ظہور کا کلی اور غیر معین وقت بھی آیا ہے جیسے اس کا دن اور سال۔ اور اس کو ظہور کا باریکی اور تفصیل سے وقت معین کرنا نہیں کہا جائے گا جس کے بارے میں روایتیں نہی کرتی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قیام و ظہور حضرت مہدی ع کے سلسلہ میں مختلف روایتیں کلی اور غیر معین طور پر وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ میں نوروز کو امام کے قیام کے آغاز کا دن بیان کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۰۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ دوسری احادیث میں روز عاشورا اور شنبہ کو آپ کے قیام کا دن قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۶۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ اور روایتوں میں روز جمعہ کو آپ کے ظہور و آغاز قیام کا دن قرار دیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نوروز اور عاشورا کا ایک دن میں پڑنا کوئی بعید نہیں ہے، کیونکہ نوروز کو شمسی سال کے لحاظ سے اور عاشورا کو قمری سال کے لحاظ سے منایا جاتا ہے اور ان دونوں مناسبتوں کا ایک دن میں پڑ جانا ممکن ہے۔ اسی طرح ان دو مناسبتوں کا جمعہ کو یا شنبہ کو پڑنا بھی ممکن ہے۔ جو مشکل ساز اور ناممکن ہے وہ یہ ہے کہ جمعہ اور شنبہ کو روز قیام بتایا جائے۔ لیکن ان روایتوں کی بھی تاویل کی جا سکتی ہے اور کسی طرح دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر ان روایتوں کی سند صحیح ہے تو اس صورت میں یہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ جمعہ کو امام زمانہ عج کا ظہور و قیام ہوگا اور شنبہ کو آپ کا نظام حکومت مستقر ہو جائے گا اور مخالفین نابود ہو جائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبسی، نجم الدین، چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)، ص۶۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہر حال  شروع میں ایک آسمانی منادی کے ذریعہ امام زمانہ عج کے ظہور کا اعلان ہوگا، آپ کعبہ کی دیوار سے پشت لگا کر دعوت حق کے ذریعہ اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ظهور امام زمانہ کا مقام==&lt;br /&gt;
امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ: «حضرت مہدی مکہ میں عشاء کے وقت ظہور فرمائیں گے، جبکہ آپ کے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا پرچم، آپ کا لباس اور آپ کی شمشیر ہوگی۔ اور نماز عشاء پڑھ کر آپ صدا دیں گے: اے لوگو میں تم کو ذکر خدا اور (قیامت میں) خدا کے سامنے حاضر ہونے کو یاد دلاتا ہوں، اس نے (دنیا میں) اپنی حجت کو تم پر تمام کر دیا ہے، اس نے انبیاء کو بھیجا اور قرآن کو اتارا۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس کی اور اس کے انبیاء کی اطاعت کرو۔ قرآن نے جس کو احیاء کرنے کا حکم دیا ہے اسے احیاء اور زندہ کرو اور جس کو نابود کرنے کا حکم دیا ہے اسے نابود کرو اور راہ ہدایت کے مددگار بنو اور تقوی اور پرہیزگاری میں تعاون کرو کیونکہ دنیا کی فنا اور اس کا زوال نزدیک ہے اور آخری صور پھونکا جانے والا ہے۔ میں تم کو اللہ، اس کے رسول، اس کی کتاب پر عمل، باطل کی نابودی اور سیرت رسول کو زندہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پھر آپ اپنے 313 انصار کے درمیان ظہور فرمائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن طاووس، ملاحم، ص۶۴؛ ابن حمّاد، فتن، ص۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آپ کے اصحاب ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|امام زمانہ عج کے اصحاب}}&lt;br /&gt;
اچھی خاصی روایات کے مطابق جب امام ظہور فرمائیں گے تو آپ کے اصحاب خاص کی تعداد جنگ بدر کے مجاہدین کی تعداد کے برابر یعنی 313 ہوگی۔ جیساکہ آبان ابن تغلب کہتے ہیں کہ: مکہ کی ایک مسجد میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابان اللہ 313 مردوں کو اس مسجد میں لائے گا۔۔۔ جو شمشیر حمائل کئے ہوں گے کہ ہر ایک پر اس کا نام اور ولدیت اور اس کے اوصاف اور شجرہ لکھا ہوگا۔ پھر وہ حکم دیں گے کہ ایک شخص بلند آواز میں اعلان کرے: یہ مہدی ہیں اور یہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے حکم پر حکم کریں گے اور گواہ کا مطالبہ نہیں کریں گے۔&lt;br /&gt;
 .&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید مطالعہ کے لئے ==&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)&#039;&#039;، نجم الدین طبسی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;دادگستر جہان&#039;&#039;، آیت اللہ ابراہیم امینی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;منتخب الاثر&#039;&#039;، آیت اللہ صافی گلپایگانی.&lt;br /&gt;
{{پایان مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==منابع==&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:Mbaqirraza&amp;diff=77</id>
		<title>صارف:Mbaqirraza</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:Mbaqirraza&amp;diff=77"/>
		<updated>2022-10-04T17:19:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ صارف:Mbaqirraza کو صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=76</id>
		<title>اسلام کی نظر میں چھوت چھات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=76"/>
		<updated>2022-10-04T17:19:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ صارف:Mbaqirraza کو صارف:اسلام کی نظر میں چھوت چھات کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا «لاعدوی فی الاسلام» یعنی اسلام میں چھوت چھات یعنی بیماری کا پھیلنا نہیں ہے۔ اب جبکہ سماج میں کرونا کا پھیلاؤ اور لوگوں کے درمیان اس کے پھیلنے کے بارے میں حساسیت ایک مسلم چیز ہے تو کیا یہ فرمان علم و عقل کے خلاف نہیں لگتا ہے؟&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|کرونا}}&lt;br /&gt;
[[اسلام]] نہ صرف یہ کہ کچھ بیماریوں کے پھیلنے کا قائل ہے بلکہ بنیادی طور سے ہر بیماری کو پھیلنے والی شمار کرتا ہے مگر یہ کہ کسی بیماری کا نہ پھیلنا ثابت ہو جائے۔ بیمار کی [[عیادت]] کی سفارش بھی صرف اسی صورت میں  کرتا ہے جب بیماری پھیلنے والی نہ ہو۔&lt;br /&gt;
اور یہ [[روایت]] کہ {{عربی|لا عَدْوَى...‏|ترجمه= بیماری پھیلتی نہیں ہے...}} کئی غلط فہمیوں کا سبب بنی ہے۔ اس روایت کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ بد قسمتی ہے کہ [[روایتی طب]] یعنی [[دیسی طب]] پر جنون کی حد تک یقین رکھنے والے  کچھ لوگ اس روایت کو دلیل بناکر پھیلنے والی وبا اور بیماری سے پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی پر اکساتے ہیں۔ مذکورہ روایت دوسری ان روایتوں کے برخلاف ہے جو بیماروں کے پاس بیٹھنے سے روکتی ہیں۔&lt;br /&gt;
اگر اس کی سند کو مان بھی لیا جائے تو اس روایت کا مقصد یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ چھوت چھات کے حکم کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کو پھیلنے کی وجہ سے بیماری لگ گئی تو بیمار کے اوپر اس کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا ہے اور وہ اس بیمار سے نقصان کی تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے یا اس کو اپنی بیماری کا سبب نہیں بتا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
== بیماری کا پھیلنا روایات میں ==&lt;br /&gt;
دینی منابع میں بعض بیماریوں کی سرایت کی تصریح موجود ہے اور بیماری کے پھیلنے کا سرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* ایک [[روایت]] میں [[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: «بیمار شخص کو صحیح سالم لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ روایت ان روایات سے متعارض ہے جو بیماروں کی [[عیادت]] کے سلسلہ میں ہیں۔ لیکن یہ روایت اس بیماری کے بارے میں ہو سکتی ہے جس کا مسری ہونا یا نہ ہونا واضح نہ ہو۔ لہذا اس روایت کے مطابق بیماریاں بنیادی طور پر مسری ہوتی ہیں، اور عیادت کا مستحب عمل اسی وقت جائز ہے جب ہمیں بیماری کے مسری نہ ہونے کا اطمینان ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ  «جزامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۲، ص۱۳۱&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک اور روایت کے مطابق ایک کوڑھ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آیا لیکن آپ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اس کی بیعت کو قبول کر لیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دوسری طرف کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[اہل بیت علیہم السلام]]&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن‌ یعقوب بن اسحق، الأصول، فروع، الروضه من الکافی، مصحح علی‌اکبر الغفاری، تهران: دارالکتب الإسلامیه، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; نے کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کوڑھ سے پرہیز کرنے اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ کوڑھ کی بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک خشک ہوتی ہے جو پھیلتی نہیں ہے اور دوسری وہ ہوتی ہے جو پھیلتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوت والے کوڑھیوں کو شہروں میں اور لوگوں کے درمیان جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جن کوڑھیوں کے ساتھ [[معصومین علیہم السلام]] نے کھانا کھایا وہ چھوت والے کوڑھی نہیں تھے.&lt;br /&gt;
* ایک شخص نے [[امام کاظم علیہ السلام]] سے پوچھا کہ اگر کسی شہر میں طاعون کی بیماری آ گئی ہو تو کیا مجھے وہاں سے نکل جانا چاہئے؟ امام نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر کسی گاؤں دیہات میں ہو تو؟ آپ نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر گھر میں ہو تو؟ آپ نے فرمایا ہاں باہر نکل جاؤ۔ راوی نے سوال کیا ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ &amp;quot;طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے&amp;quot; امام نے فرمایا &amp;quot;یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کے لئے کہا جو سرحدوں پر دشمنوں سے جنگ میں مصروف تھے اور جب وہاں طاعون آیا تو فوجی وہاں سے بھاگ گئے اور میدان جنگ خالی کردیا&amp;quot;۔ &amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد بن‌ حسن، تفصیل وسائل الشیعه، قم: مؤسسه آل‌ البیت(ع)، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۴۳۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: &amp;quot;جذام یا کوڑھ کے بیماروں کو زیادہ مت دیکھو اور جب ان سے گفتگو کرو تو ایک نیزہ کے برابر ان سے دور رہو&amp;quot;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
ان کو دیکھنے سے روکنے کی سفارش میں ممکن ہے مخاطب کے لئے نفسیاتی صحت کا پہلو پوشیدہ ہو۔ اور ایک نیزہ کا فاصلہ جو روایت میں آیا ہے وہ دو میٹر کے قریب ہوتا ہے اور آج کے ڈاکٹر بھی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اس فاصلہ کی سفارش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[امام سجاد]] علیہ السلام نے دشمنان اسلام کو نفرین کرنے کے لئے فرمایا ہے:  «خدایا ان کے پانیوں میں وبا کو اور ان کی غذاؤں میں درد (بیماری) کو ملا دے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفه سجادیه، دعای۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
اس روایت میں امام نے ایک طرف وبا کے میکروب کے مرکز کو بیان کیا ہے جو کہ پانی ہوتا ہے، دوسری طرف خدا سے دعا کی ہے کہ اس میکروب کو دشمنوں کے پانیوں میں ملا دے تاکہ وہ اس میں مبتلا ہو جائیں۔ اس روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ امام بیماری کے پھیلنے کو مانتے تھے اور پھیلنے والی بیماری کا وجود اسلام کے مسلمات میں سے ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== روایت «لا عدوی فی الإسلام» کا جائزہ ==&lt;br /&gt;
روایت {{عربی|لَا عَدْوَى‏ فی الاسلام|ترجمہ=اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے}} سے کچھ غلط نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اس روایت کی شیعہ سند بہت ضعیف ہے۔ لیکن صحیح مسلم و صحیح بخاری&amp;lt;ref&amp;gt;بخاری، محمد بن‌ إسماعیل، صحیح البخاری، محقق: محمد زهیر بن‌ ناصر الناصر، بیروت: دارطوق النجاه، ۱۴۲۲ق، ج۷، ص۱۹، ۲۶، ۲۷ و ۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں نقل ہونے کی وجہ سے اہل سنت کے درمیان اس کو صحیح السند مانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اہل سنت کے درمیان بھی اختلاف کا سبب بنی ہے اور دوسری روایتوں سے تعارض کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دیکھئے أبوالحسن القشیری النیسابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، محقق: محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت: دار إحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ق، ج۷، ص۳۱و۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ روایت شیعہ منابع میں اس طرح نقل ہوئی ہے: «نضر بن قرواش جمّال (اونٹ والا) سے روایت ہے کہ: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس اونٹ کے بارے سوال کیا جسے جرب (جلد کی ایک بیماری) لگ گئی ہو کہ کیا میں بیماری پھیلنے کی وجہ سے اس کو دوسرے اونٹوں سے الگ کردوں؟ امام نے فرمایا: ایک بادیہ نشین رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے سستے گوسفند اور اونٹ دیکھے ہیں جو کہ جرب میں مبتلا ہیں، مجھے ان کو خریدنا پسند نہیں ہے کہ کہیں ان کا جرب میرے گوسفندوں اور اونٹوں کو نہ لگ جائے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تو پھر ان کو کس نے مبتلا کیا ہے؟ پھر فرمایا: اسلام میں بیماری کا پھیلنا (عدوی) نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۵۵، ص۳۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[روایتی طب]] کے کچھ کٹر حمایتی اس روایت کے ظاہر سے استناد کرتے ہوئے پھیلنے والی بیماریوں سے پرہیز نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے کوئی مسلمان بیمار نہیں ہوگا اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے متعلق [[معصومین]] علیہم السلام سے منقول روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے [[توکل]] کو مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ توجیہ ان روایتوں سے متعارض ہے جو پھیلنے والی بیماریوں سے دور رہنے کی سفارش کرتی ہیں۔ اور کوڑھ کے مرض کی دو قسمیں یعنی پھیلنے والا اور نہ پھیلنے والا کوڑھ بھی ان کے استدلال کو کمزور کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
=== حقیقت سرایت کو ماننا اور اس کے حکم کو مسترد کرنا ===&lt;br /&gt;
دوسری روایتوں میں «عدوی» یعنی پھیلنے والے بیماری کا لفظ «طیره» یعنی ([[فال بد]]) کے ساتھ آیا ہے۔ طیرہ ان 9 چیزوں میں سے ایک ہے جو [[حدیث رفع]] میں بیان ہوئی ہیں۔ علماء کی مشہور نظر کے مطابق حدیث رفع میں ان 9 چیزوں کی حقیقت سے انکار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ان 9 چیزوں کا حکم مسلمانوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ طیرہ وغیرہ کی طرح سرایت سے بھی صرف اس کا حکم اور اس کے قانونی اور شرعی آثار کو اٹھا لیا گیا ہے۔ خود سرایت اور بیماری کا پھیلنا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;
یہ بات [[حضرت علی]] علیہ السلام کے فرمان سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ {{عربی|و الطیره لیست بحق، والعدوی لیست بحق|ترجمہ=فال بد لگانا حق نہیں ہے اور سرایت حق نہیں ہے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، حکمت۴۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس روایت میں حضرت علیہ السّلام کا یہ مقصد نہیں ہے کہ سرایت ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ آپ نے اس کے حکم کی نفی کی ہے یعنی جس شخص کے ذریعہ بیماری پھیلی ہے وہ ضامن نہیں ہوتا ہے اور اگر بیماری کسی دوسرے کو لگ جائے تو بیمار شخص پر کوئی حق نہیں بنے گا۔ اور وہ اس بہانے سے تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اس کو اپنی بیماری کا سبب قرار نہیں دے سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
* یہ مقالہ مندرجہ ذیل مقالہ سے ماخوذ ہے: «میکروب، سرایت و قرنطینہ در اسلام» تالیف: روح الله رضوی، مجلہ پاسخ، شماره 18 تابستان ۱۳۹۹.&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%9F&amp;diff=75</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86_%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%9F&amp;diff=75"/>
		<updated>2022-10-04T17:14:42Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟ کو بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=74</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=74"/>
		<updated>2022-10-04T17:14:42Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟ کو بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{عربی متن|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج سے موافق نہیں تھا کیونکہ مشرکین کے حج میں شرک پایا جاتا تھا، اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92%D8%9F&amp;diff=72</id>
		<title>کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%D8%A8%D9%86%D8%A7_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7_%DB%81%DB%92%D8%9F&amp;diff=72"/>
		<updated>2022-10-04T17:13:31Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟ کو صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=71</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=71"/>
		<updated>2022-10-04T17:13:31Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟ کو صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحمی]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحمی]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں بدقسمت ہو جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی قسمت کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحمی کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = عدل الهی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = قضا و قدر&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92%D8%9F&amp;diff=70</id>
		<title>کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA_%D9%85%D8%B9%DB%8C%D9%86_%DB%81%DB%92%D8%9F&amp;diff=70"/>
		<updated>2022-10-04T15:54:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟ کو امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=69</id>
		<title>امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=69"/>
		<updated>2022-10-04T15:54:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟ کو امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|مہدویت}}&lt;br /&gt;
[[امام زمانہ (عج)]] کے ظہور کا وقت صرف [[اللہ]] کے نزدیک معین ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے وقت کے معین کرنے والے کو جھٹلایا گیا ہے۔ اس کے باوجود ظہور کی کچھ علامتیں ذکر کی گئی ہیں اور مقام ظہور شہر مکہ میں خانہ خدا کے پاس بیان ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظہور کا وقت ایک الہی راز ==&lt;br /&gt;
امام زمانہ عج کے چار نائب خاص میں سے آخری نائب علی بن محمد سمری کی وفات سے غیبت کبری کا آغاز ہوا اور یہ غیبت آج تک جاری ہے۔ امام زمانہ عج کا ظہور اور آپ کا قیام اس دور کے آخر میں اور اللہ کے حکم سے ہوگا۔ معصومین علیہم السلام نے بہت سی روایتوں میں تصریح فرمائی ہے کہ آپ کے ظہور کے لئے کسی خاص وقت کو معین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ امر ناگہانی طور پر اور فرمان خدا سے ہوگا اور جو بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے۔&lt;br /&gt;
ابو بصیر کہتے ہیں: {{عربی|سَأَلْتُهُ عَنِ اَلْقَائِمِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ كَذَبَ اَلْوَقَّاتُونَ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لاَ نُوَقِّتُ ثُمَّ قَالَ أَبَى اَللَّهُ إِلاَّ أَنْ يُخْلِفَ وَقْتَ اَلْمُوَقِّتِينَ|ترجمہ=میں نے امام علیہ السلام سے قائم علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: «وقت کو معین کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں، ہم اہل بیت کوئی وقت معین نہیں کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ اس کے سوا کچھ اور نہیں چاہتا ہے کہ وقت معین کرنے والوں کے وقت کے بر خلاف کرے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نعمانی، الغیبۃ، ترجمہ غفاری، ج۱، ص۴۱۱؛ حسینی، سید حسین، یاد محبوب، نشر آفاق، ص۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
«اسحاق بن یعقوب» نے محمد بن عثمان عمری کے ذریعہ امام زمانہ عج کی خدمت میں ایک خط لکھا اور سوال کئے۔ امام نے جواب کے ایک حصہ میں وقت ظہور کے بارے میں فرمایا: {{عربی|وَ اَمَّا ظُهُورُ الْفَرَجِ فَاِنَّهُ اِلَی اللَّهِ تَعَالَی ذِکْرُهُ وَ کَذَبَ الْوَقَّاتُونَ؛ اور ظہور فرج، اللہ کے حکم سے وابستہ ہے، اور وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۱۶۰، ح۴. شیخ صدوق ره.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظهور کی علامتیں==&lt;br /&gt;
ظہور کا وقت معین کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو باریکی اور تفصیل کے ساتھ معین کیا جائے۔ اور معصومین علیہم السلام نے اس طرح معین کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی ہے اور اس کو اسرار الہی میں سے شمار کیا ہے۔ لیکن آپ نے کچھ علامتیں ذکر کی ہیں کہ اگر وہ علامتیں سامنے آ جائیں تو ظہور کے نزدیک ہونے کی نوید دیتی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;پیشوای دوازدہم حضرت حجت ابن الحسن المہدی، ہیئت تحریریہ مؤسسہ در راه حق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ظہور کی حتمی اور غیر حتمی علامات ذکر کرنے کے علاوہ روایات میں ظہور کا کلی اور غیر معین وقت بھی آیا ہے جیسے اس کا دن اور سال۔ اور اس کو ظہور کا باریکی اور تفصیل سے وقت معین کرنا نہیں کہا جائے گا جس کے بارے میں روایتیں نہی کرتی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قیام و ظہور حضرت مہدی ع کے سلسلہ میں مختلف روایتیں کلی اور غیر معین طور پر وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ میں نوروز کو امام کے قیام کے آغاز کا دن بیان کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۰۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ دوسری احادیث میں روز عاشورا اور شنبہ کو آپ کے قیام کا دن قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۶۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ اور روایتوں میں روز جمعہ کو آپ کے ظہور و آغاز قیام کا دن قرار دیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نوروز اور عاشورا کا ایک دن میں پڑنا کوئی بعید نہیں ہے، کیونکہ نوروز کو شمسی سال کے لحاظ سے اور عاشورا کو قمری سال کے لحاظ سے منایا جاتا ہے اور ان دونوں مناسبتوں کا ایک دن میں پڑ جانا ممکن ہے۔ اسی طرح ان دو مناسبتوں کا جمعہ کو یا شنبہ کو پڑنا بھی ممکن ہے۔ جو مشکل ساز اور ناممکن ہے وہ یہ ہے کہ جمعہ اور شنبہ کو روز قیام بتایا جائے۔ لیکن ان روایتوں کی بھی تاویل کی جا سکتی ہے اور کسی طرح دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر ان روایتوں کی سند صحیح ہے تو اس صورت میں یہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ جمعہ کو امام زمانہ عج کا ظہور و قیام ہوگا اور شنبہ کو آپ کا نظام حکومت مستقر ہو جائے گا اور مخالفین نابود ہو جائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبسی، نجم الدین، چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)، ص۶۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہر حال  شروع میں ایک آسمانی منادی کے ذریعہ امام زمانہ عج کے ظہور کا اعلان ہوگا، آپ کعبہ کی دیوار سے پشت لگا کر دعوت حق کے ذریعہ اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ظهور امام زمانہ کا مقام==&lt;br /&gt;
امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ: «حضرت مہدی مکہ میں عشاء کے وقت ظہور فرمائیں گے، جبکہ آپ کے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا پرچم، آپ کا لباس اور آپ کی شمشیر ہوگی۔ اور نماز عشاء پڑھ کر آپ صدا دیں گے: اے لوگو میں تم کو ذکر خدا اور (قیامت میں) خدا کے سامنے حاضر ہونے کو یاد دلاتا ہوں، اس نے (دنیا میں) اپنی حجت کو تم پر تمام کر دیا ہے، اس نے انبیاء کو بھیجا اور قرآن کو اتارا۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس کی اور اس کے انبیاء کی اطاعت کرو۔ قرآن نے جس کو احیاء کرنے کا حکم دیا ہے اسے احیاء اور زندہ کرو اور جس کو نابود کرنے کا حکم دیا ہے اسے نابود کرو اور راہ ہدایت کے مددگار بنو اور تقوی اور پرہیزگاری میں تعاون کرو کیونکہ دنیا کی فنا اور اس کا زوال نزدیک ہے اور آخری صور پھونکا جانے والا ہے۔ میں تم کو اللہ، اس کے رسول، اس کی کتاب پر عمل، باطل کی نابودی اور سیرت رسول کو زندہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پھر آپ اپنے 313 انصار کے درمیان ظہور فرمائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن طاووس، ملاحم، ص۶۴؛ ابن حمّاد، فتن، ص۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آپ کے اصحاب ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|امام زمانہ عج کے اصحاب}}&lt;br /&gt;
اچھی خاصی روایات کے مطابق جب امام ظہور فرمائیں گے تو آپ کے اصحاب خاص کی تعداد جنگ بدر کے مجاہدین کی تعداد کے برابر یعنی 313 ہوگی۔ جیساکہ آبان ابن تغلب کہتے ہیں کہ: مکہ کی ایک مسجد میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابان اللہ 313 مردوں کو اس مسجد میں لائے گا۔۔۔ جو شمشیر حمائل کئے ہوں گے کہ ہر ایک پر اس کا نام اور ولدیت اور اس کے اوصاف اور شجرہ لکھا ہوگا۔ پھر وہ حکم دیں گے کہ ایک شخص بلند آواز میں اعلان کرے: یہ مہدی ہیں اور یہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے حکم پر حکم کریں گے اور گواہ کا مطالبہ نہیں کریں گے۔&lt;br /&gt;
 .&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید مطالعہ کے لئے ==&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)&#039;&#039;، نجم الدین طبسی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;دادگستر جہان&#039;&#039;، آیت اللہ ابراہیم امینی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;منتخب الاثر&#039;&#039;، آیت اللہ صافی گلپایگانی.&lt;br /&gt;
{{پایان مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==منابع==&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=68</id>
		<title>امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81_%D8%B9%D8%AC_%DA%A9%DB%92_%D8%B8%DB%81%D9%88%D8%B1_%DA%A9%D8%A7_%D9%88%D9%82%D8%AA&amp;diff=68"/>
		<updated>2022-10-04T15:53:31Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} {{درگاه|مہدویت}} امام زمانہ (عج) کے ظہور کا وقت صرف اللہ کے نزدیک معین ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے وقت کے معین کرنے والے کو جھٹلایا گیا ہے۔ اس کے ب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا امام زمانہ عج کے ظہور کا وقت معین ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|مہدویت}}&lt;br /&gt;
[[امام زمانہ (عج)]] کے ظہور کا وقت صرف [[اللہ]] کے نزدیک معین ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے وقت کے معین کرنے والے کو جھٹلایا گیا ہے۔ اس کے باوجود ظہور کی کچھ علامتیں ذکر کی گئی ہیں اور مقام ظہور شہر مکہ میں خانہ خدا کے پاس بیان ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظہور کا وقت ایک الہی راز ==&lt;br /&gt;
امام زمانہ عج کے چار نائب خاص میں سے آخری نائب علی بن محمد سمری کی وفات سے غیبت کبری کا آغاز ہوا اور یہ غیبت آج تک جاری ہے۔ امام زمانہ عج کا ظہور اور آپ کا قیام اس دور کے آخر میں اور اللہ کے حکم سے ہوگا۔ معصومین علیہم السلام نے بہت سی روایتوں میں تصریح فرمائی ہے کہ آپ کے ظہور کے لئے کسی خاص وقت کو معین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ امر ناگہانی طور پر اور فرمان خدا سے ہوگا اور جو بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے۔&lt;br /&gt;
ابو بصیر کہتے ہیں: {{عربی|سَأَلْتُهُ عَنِ اَلْقَائِمِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ كَذَبَ اَلْوَقَّاتُونَ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لاَ نُوَقِّتُ ثُمَّ قَالَ أَبَى اَللَّهُ إِلاَّ أَنْ يُخْلِفَ وَقْتَ اَلْمُوَقِّتِينَ|ترجمہ=میں نے امام علیہ السلام سے قائم علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: «وقت کو معین کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں، ہم اہل بیت کوئی وقت معین نہیں کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ اس کے سوا کچھ اور نہیں چاہتا ہے کہ وقت معین کرنے والوں کے وقت کے بر خلاف کرے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نعمانی، الغیبۃ، ترجمہ غفاری، ج۱، ص۴۱۱؛ حسینی، سید حسین، یاد محبوب، نشر آفاق، ص۷۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
«اسحاق بن یعقوب» نے محمد بن عثمان عمری کے ذریعہ امام زمانہ عج کی خدمت میں ایک خط لکھا اور سوال کئے۔ امام نے جواب کے ایک حصہ میں وقت ظہور کے بارے میں فرمایا: {{عربی|وَ اَمَّا ظُهُورُ الْفَرَجِ فَاِنَّهُ اِلَی اللَّهِ تَعَالَی ذِکْرُهُ وَ کَذَبَ الْوَقَّاتُونَ؛ اور ظہور فرج، اللہ کے حکم سے وابستہ ہے، اور وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔}}.&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۱۶۰، ح۴. شیخ صدوق ره.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==ظهور کی علامتیں==&lt;br /&gt;
ظہور کا وقت معین کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو باریکی اور تفصیل کے ساتھ معین کیا جائے۔ اور معصومین علیہم السلام نے اس طرح معین کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی ہے اور اس کو اسرار الہی میں سے شمار کیا ہے۔ لیکن آپ نے کچھ علامتیں ذکر کی ہیں کہ اگر وہ علامتیں سامنے آ جائیں تو ظہور کے نزدیک ہونے کی نوید دیتی ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;پیشوای دوازدہم حضرت حجت ابن الحسن المہدی، ہیئت تحریریہ مؤسسہ در راه حق.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ظہور کی حتمی اور غیر حتمی علامات ذکر کرنے کے علاوہ روایات میں ظہور کا کلی اور غیر معین وقت بھی آیا ہے جیسے اس کا دن اور سال۔ اور اس کو ظہور کا باریکی اور تفصیل سے وقت معین کرنا نہیں کہا جائے گا جس کے بارے میں روایتیں نہی کرتی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قیام و ظہور حضرت مہدی ع کے سلسلہ میں مختلف روایتیں کلی اور غیر معین طور پر وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ میں نوروز کو امام کے قیام کے آغاز کا دن بیان کیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۰۸.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ دوسری احادیث میں روز عاشورا اور شنبہ کو آپ کے قیام کا دن قرار دیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;کمال الدین، ج۲، ص۶۵۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; کچھ اور روایتوں میں روز جمعہ کو آپ کے ظہور و آغاز قیام کا دن قرار دیا گیا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۷۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نوروز اور عاشورا کا ایک دن میں پڑنا کوئی بعید نہیں ہے، کیونکہ نوروز کو شمسی سال کے لحاظ سے اور عاشورا کو قمری سال کے لحاظ سے منایا جاتا ہے اور ان دونوں مناسبتوں کا ایک دن میں پڑ جانا ممکن ہے۔ اسی طرح ان دو مناسبتوں کا جمعہ کو یا شنبہ کو پڑنا بھی ممکن ہے۔ جو مشکل ساز اور ناممکن ہے وہ یہ ہے کہ جمعہ اور شنبہ کو روز قیام بتایا جائے۔ لیکن ان روایتوں کی بھی تاویل کی جا سکتی ہے اور کسی طرح دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر ان روایتوں کی سند صحیح ہے تو اس صورت میں یہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ جمعہ کو امام زمانہ عج کا ظہور و قیام ہوگا اور شنبہ کو آپ کا نظام حکومت مستقر ہو جائے گا اور مخالفین نابود ہو جائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;طبسی، نجم الدین، چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)، ص۶۳.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہر حال  شروع میں ایک آسمانی منادی کے ذریعہ امام زمانہ عج کے ظہور کا اعلان ہوگا، آپ کعبہ کی دیوار سے پشت لگا کر دعوت حق کے ذریعہ اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ظهور امام زمانہ کا مقام==&lt;br /&gt;
امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ: «حضرت مہدی مکہ میں عشاء کے وقت ظہور فرمائیں گے، جبکہ آپ کے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا پرچم، آپ کا لباس اور آپ کی شمشیر ہوگی۔ اور نماز عشاء پڑھ کر آپ صدا دیں گے: اے لوگو میں تم کو ذکر خدا اور (قیامت میں) خدا کے سامنے حاضر ہونے کو یاد دلاتا ہوں، اس نے (دنیا میں) اپنی حجت کو تم پر تمام کر دیا ہے، اس نے انبیاء کو بھیجا اور قرآن کو اتارا۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس کی اور اس کے انبیاء کی اطاعت کرو۔ قرآن نے جس کو احیاء کرنے کا حکم دیا ہے اسے احیاء اور زندہ کرو اور جس کو نابود کرنے کا حکم دیا ہے اسے نابود کرو اور راہ ہدایت کے مددگار بنو اور تقوی اور پرہیزگاری میں تعاون کرو کیونکہ دنیا کی فنا اور اس کا زوال نزدیک ہے اور آخری صور پھونکا جانے والا ہے۔ میں تم کو اللہ، اس کے رسول، اس کی کتاب پر عمل، باطل کی نابودی اور سیرت رسول کو زندہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پھر آپ اپنے 313 انصار کے درمیان ظہور فرمائیں گے۔&amp;lt;ref&amp;gt;ابن طاووس، ملاحم، ص۶۴؛ ابن حمّاد، فتن، ص۹۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آپ کے اصحاب ==&lt;br /&gt;
{{اصلی|امام زمانہ عج کے اصحاب}}&lt;br /&gt;
اچھی خاصی روایات کے مطابق جب امام ظہور فرمائیں گے تو آپ کے اصحاب خاص کی تعداد جنگ بدر کے مجاہدین کی تعداد کے برابر یعنی 313 ہوگی۔ جیساکہ آبان ابن تغلب کہتے ہیں کہ: مکہ کی ایک مسجد میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابان اللہ 313 مردوں کو اس مسجد میں لائے گا۔۔۔ جو شمشیر حمائل کئے ہوں گے کہ ہر ایک پر اس کا نام اور ولدیت اور اس کے اوصاف اور شجرہ لکھا ہوگا۔ پھر وہ حکم دیں گے کہ ایک شخص بلند آواز میں اعلان کرے: یہ مہدی ہیں اور یہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے حکم پر حکم کریں گے اور گواہ کا مطالبہ نہیں کریں گے۔&lt;br /&gt;
 .&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید مطالعہ کے لئے ==&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;چشم‌ اندازی به حکومت مہدی (عج)&#039;&#039;، نجم الدین طبسی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;دادگستر جہان&#039;&#039;، آیت اللہ ابراہیم امینی.&lt;br /&gt;
* &#039;&#039;منتخب الاثر&#039;&#039;، آیت اللہ صافی گلپایگانی.&lt;br /&gt;
{{پایان مطالعه بیشتر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==منابع==&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=67</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=67"/>
		<updated>2022-10-04T10:55:04Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: /* منابع */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحمی]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحمی]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں بدقسمت ہو جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی قسمت کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحمی کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
{{شاخه&lt;br /&gt;
 | شاخه اصلی = کلام&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۱ = عدل الهی&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۲ = قضا و قدر&lt;br /&gt;
| شاخه فرعی۳ =&lt;br /&gt;
}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%9F&amp;diff=66</id>
		<title>کیا صرف ایک گناہ کسی کی قسمت کو بدل سکتا؟</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%DA%A9%DB%8C%D8%A7_%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%DA%A9%D8%B3%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%AF%D9%84_%D8%B3%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%9F&amp;diff=66"/>
		<updated>2022-10-04T10:48:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا صرف ایک گناہ کسی کی قسمت کو بدل سکتا؟ کو کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟ کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;#رجوع_مکرر [[کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=65</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=65"/>
		<updated>2022-10-04T10:48:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: Mbaqirraza نے صفحہ کیا صرف ایک گناہ کسی کی قسمت کو بدل سکتا؟ کو کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟ کی جانب منتقل کیا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحمی]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحمی]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں بدقسمت ہو جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی قسمت کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحمی کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=64</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=64"/>
		<updated>2022-10-04T10:42:38Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحمی]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحمی]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں بدقسمت ہو جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی قسمت کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحمی کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=63</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=63"/>
		<updated>2022-10-04T10:40:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحم]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحم]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں بدقسمت ہو جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی قسمت کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحمی کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=62</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=62"/>
		<updated>2022-10-04T10:37:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کو بدقسمت بنا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحم]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو برباد کر دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحم]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش قسمتی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں قسمت کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحم کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=61</id>
		<title>صرف ایک گناہ سے پوری قسمت کا الٹ جانا</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%B5%D8%B1%D9%81_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C_%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D9%84%D9%B9_%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7&amp;diff=61"/>
		<updated>2022-10-04T10:34:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}}{{سوال}} کیا صرف ایک گناہ کسی کی قسمت کو بدل سکتا؟ {{پایان سوال}} {{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے قطع رحم، جھوٹی قسم اور ظلم ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}{{سوال}}&lt;br /&gt;
کیا صرف ایک گناہ کسی کی قسمت کو بدل سکتا؟&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
{{پاسخ}} انسان کا رویہ اس کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو بدل سکتا ہے۔ کچھ گناہ جیسے [[قطع رحم]]، [[جھوٹی قسم]] اور [[ظلم]] ایسے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں جو دنیا میں انسان کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض دوسرے گناہ جیسے [[قتل عمد]]، انسان کی آخروی زندگی کو بدل دیتے ہیں اور انسان کو ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا دیتے ہیں۔ یہ تاثیر اس وقت ہے جب انسان توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔&lt;br /&gt;
گناہوں کے علاوہ نیک اعمال جیسے [[صلہ رحم]] بھی انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور انسانوں کی خوش بختی میں موثر ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دنیا میں قسمت کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
{{جعبه گفتاورد&lt;br /&gt;
 |عنوان = &lt;br /&gt;
 |گفتاورد = &amp;lt;small&amp;gt;امام حسین علیہ السلام:&amp;lt;/small&amp;gt;&lt;br /&gt;
«جو شخص بھی اپنی موت کے موخر ہونے اور روزی کے زیادہ ہونے سے خوش ہوتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھے»&lt;br /&gt;
 |منبع = &amp;lt;small&amp;gt;بحارالانوار، ج۸۳، ص۱۶۱.&amp;lt;/small&amp;gt;  |تراز = چپ  |عرض = 200px }}&lt;br /&gt;
انسان کا کردار اس کی زندگی میں موثر ہوکر اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نیک عمل، اللہ کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے۔ اور اس کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ مثلا [[امام باقر]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر کچھ لوگ صلہ رحم کی وجہ سے امیر ہو جاتے ہیں۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر، انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسے گناہ بھی ہیں جو انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
* [[امام صادق]] علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق قطع رحم، انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «تین خصلتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کے نتائج بھگتے بغیر نہیں مر سکتا: ایک ظلم، دوسرے قطع رحمی اور تیسرے جھوٹی قسم۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے ماں باپ کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھے تو چاہے انھوں نے اس پر ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو پھر بھی خداوند عالم اس کی [[نماز]] کو قبول نہیں کرے گا۔&amp;lt;ref&amp;gt;اصول کافی، ترجمہ کمره ای، محمد باقر انتشارات اسوه، ۱۳۷۵ش، ج۵، ص۳۱۵–۳۰۵.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== آخرت کی تقدیر کا بدل جانا ==&lt;br /&gt;
اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ گناہ انسان کو ہمیشہ کے لئے  [[جهنم]] میں بھیج دیتے ہیں۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے جب انسان [[توبہ]] کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے۔ اور اگر وہ دنیا میں توبہ کرلے تو اس کے اخروی آثار دھل جاتے ہیں اور ان کا عذاب اٹھا لیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسے گناہوں کی کچھ مثالیں بھی دی گئی ہیں: &lt;br /&gt;
* قرآن کا ارشاد ہے: {{قرآن|وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا|مفہومی ترجمہ= جو شخص بھی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے اس کا انجام دوزخ ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا اور خدا اس سے ناراض ہوگا اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اور بہت بڑا عذاب اس کے انتظار میں ہے|سورہ=نساء|آیہ=۹۳}} کسی مسلمان کے قتل کا شمار  گناہان کبیرہ میں ہوتا ہے اور یہ آخرت میں انسان کی تقدیر کو بدل کر اسے ہمیشہ کے لئے جہنمی بنا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
* جو شخص «ربا» یعنی سود کھاتا ہے وہ قرآن کی آیات کے مطابق خدا و رسول سے جنگ پر نکل رہا ہوتا ہے۔&amp;lt;ref&amp;gt;يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ. فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ۔ سورہ بقرہ،278/279 &amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=60</id>
		<title>اسلام کی نظر میں چھوت چھات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=60"/>
		<updated>2022-10-04T05:35:13Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا «لاعدوی فی الاسلام» یعنی اسلام میں چھوت چھات یعنی بیماری کا پھیلنا نہیں ہے۔ اب جبکہ سماج میں کرونا کا پھیلاؤ اور لوگوں کے درمیان اس کے پھیلنے کے بارے میں حساسیت ایک مسلم چیز ہے تو کیا یہ فرمان علم و عقل کے خلاف نہیں لگتا ہے؟&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|کرونا}}&lt;br /&gt;
[[اسلام]] نہ صرف یہ کہ کچھ بیماریوں کے پھیلنے کا قائل ہے بلکہ بنیادی طور سے ہر بیماری کو پھیلنے والی شمار کرتا ہے مگر یہ کہ کسی بیماری کا نہ پھیلنا ثابت ہو جائے۔ بیمار کی [[عیادت]] کی سفارش بھی صرف اسی صورت میں  کرتا ہے جب بیماری پھیلنے والی نہ ہو۔&lt;br /&gt;
اور یہ [[روایت]] کہ {{عربی|لا عَدْوَى...‏|ترجمه= بیماری پھیلتی نہیں ہے...}} کئی غلط فہمیوں کا سبب بنی ہے۔ اس روایت کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ بد قسمتی ہے کہ [[روایتی طب]] یعنی [[دیسی طب]] پر جنون کی حد تک یقین رکھنے والے  کچھ لوگ اس روایت کو دلیل بناکر پھیلنے والی وبا اور بیماری سے پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی پر اکساتے ہیں۔ مذکورہ روایت دوسری ان روایتوں کے برخلاف ہے جو بیماروں کے پاس بیٹھنے سے روکتی ہیں۔&lt;br /&gt;
اگر اس کی سند کو مان بھی لیا جائے تو اس روایت کا مقصد یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ چھوت چھات کے حکم کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کو پھیلنے کی وجہ سے بیماری لگ گئی تو بیمار کے اوپر اس کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا ہے اور وہ اس بیمار سے نقصان کی تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے یا اس کو اپنی بیماری کا سبب نہیں بتا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
== بیماری کا پھیلنا روایات میں ==&lt;br /&gt;
دینی منابع میں بعض بیماریوں کی سرایت کی تصریح موجود ہے اور بیماری کے پھیلنے کا سرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* ایک [[روایت]] میں [[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: «بیمار شخص کو صحیح سالم لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ روایت ان روایات سے متعارض ہے جو بیماروں کی [[عیادت]] کے سلسلہ میں ہیں۔ لیکن یہ روایت اس بیماری کے بارے میں ہو سکتی ہے جس کا مسری ہونا یا نہ ہونا واضح نہ ہو۔ لہذا اس روایت کے مطابق بیماریاں بنیادی طور پر مسری ہوتی ہیں، اور عیادت کا مستحب عمل اسی وقت جائز ہے جب ہمیں بیماری کے مسری نہ ہونے کا اطمینان ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ  «جزامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۲، ص۱۳۱&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک اور روایت کے مطابق ایک کوڑھ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آیا لیکن آپ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اس کی بیعت کو قبول کر لیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دوسری طرف کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[اہل بیت علیہم السلام]]&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن‌ یعقوب بن اسحق، الأصول، فروع، الروضه من الکافی، مصحح علی‌اکبر الغفاری، تهران: دارالکتب الإسلامیه، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; نے کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کوڑھ سے پرہیز کرنے اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ کوڑھ کی بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک خشک ہوتی ہے جو پھیلتی نہیں ہے اور دوسری وہ ہوتی ہے جو پھیلتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوت والے کوڑھیوں کو شہروں میں اور لوگوں کے درمیان جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جن کوڑھیوں کے ساتھ [[معصومین علیہم السلام]] نے کھانا کھایا وہ چھوت والے کوڑھی نہیں تھے.&lt;br /&gt;
* ایک شخص نے [[امام کاظم علیہ السلام]] سے پوچھا کہ اگر کسی شہر میں طاعون کی بیماری آ گئی ہو تو کیا مجھے وہاں سے نکل جانا چاہئے؟ امام نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر کسی گاؤں دیہات میں ہو تو؟ آپ نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر گھر میں ہو تو؟ آپ نے فرمایا ہاں باہر نکل جاؤ۔ راوی نے سوال کیا ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ &amp;quot;طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے&amp;quot; امام نے فرمایا &amp;quot;یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کے لئے کہا جو سرحدوں پر دشمنوں سے جنگ میں مصروف تھے اور جب وہاں طاعون آیا تو فوجی وہاں سے بھاگ گئے اور میدان جنگ خالی کردیا&amp;quot;۔ &amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد بن‌ حسن، تفصیل وسائل الشیعه، قم: مؤسسه آل‌ البیت(ع)، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۴۳۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: &amp;quot;جذام یا کوڑھ کے بیماروں کو زیادہ مت دیکھو اور جب ان سے گفتگو کرو تو ایک نیزہ کے برابر ان سے دور رہو&amp;quot;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
ان کو دیکھنے سے روکنے کی سفارش میں ممکن ہے مخاطب کے لئے نفسیاتی صحت کا پہلو پوشیدہ ہو۔ اور ایک نیزہ کا فاصلہ جو روایت میں آیا ہے وہ دو میٹر کے قریب ہوتا ہے اور آج کے ڈاکٹر بھی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اس فاصلہ کی سفارش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[امام سجاد]] علیہ السلام نے دشمنان اسلام کو نفرین کرنے کے لئے فرمایا ہے:  «خدایا ان کے پانیوں میں وبا کو اور ان کی غذاؤں میں درد (بیماری) کو ملا دے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفه سجادیه، دعای۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
اس روایت میں امام نے ایک طرف وبا کے میکروب کے مرکز کو بیان کیا ہے جو کہ پانی ہوتا ہے، دوسری طرف خدا سے دعا کی ہے کہ اس میکروب کو دشمنوں کے پانیوں میں ملا دے تاکہ وہ اس میں مبتلا ہو جائیں۔ اس روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ امام بیماری کے پھیلنے کو مانتے تھے اور پھیلنے والی بیماری کا وجود اسلام کے مسلمات میں سے ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== روایت «لا عدوی فی الإسلام» کا جائزہ ==&lt;br /&gt;
روایت {{عربی|لَا عَدْوَى‏ فی الاسلام|ترجمہ=اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے}} سے کچھ غلط نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اس روایت کی شیعہ سند بہت ضعیف ہے۔ لیکن صحیح مسلم و صحیح بخاری&amp;lt;ref&amp;gt;بخاری، محمد بن‌ إسماعیل، صحیح البخاری، محقق: محمد زهیر بن‌ ناصر الناصر، بیروت: دارطوق النجاه، ۱۴۲۲ق، ج۷، ص۱۹، ۲۶، ۲۷ و ۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں نقل ہونے کی وجہ سے اہل سنت کے درمیان اس کو صحیح السند مانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اہل سنت کے درمیان بھی اختلاف کا سبب بنی ہے اور دوسری روایتوں سے تعارض کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دیکھئے أبوالحسن القشیری النیسابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، محقق: محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت: دار إحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ق، ج۷، ص۳۱و۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ روایت شیعہ منابع میں اس طرح نقل ہوئی ہے: «نضر بن قرواش جمّال (اونٹ والا) سے روایت ہے کہ: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس اونٹ کے بارے سوال کیا جسے جرب (جلد کی ایک بیماری) لگ گئی ہو کہ کیا میں بیماری پھیلنے کی وجہ سے اس کو دوسرے اونٹوں سے الگ کردوں؟ امام نے فرمایا: ایک بادیہ نشین رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے سستے گوسفند اور اونٹ دیکھے ہیں جو کہ جرب میں مبتلا ہیں، مجھے ان کو خریدنا پسند نہیں ہے کہ کہیں ان کا جرب میرے گوسفندوں اور اونٹوں کو نہ لگ جائے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تو پھر ان کو کس نے مبتلا کیا ہے؟ پھر فرمایا: اسلام میں بیماری کا پھیلنا (عدوی) نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۵۵، ص۳۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[روایتی طب]] کے کچھ کٹر حمایتی اس روایت کے ظاہر سے استناد کرتے ہوئے پھیلنے والی بیماریوں سے پرہیز نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے کوئی مسلمان بیمار نہیں ہوگا اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے متعلق [[معصومین]] علیہم السلام سے منقول روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے [[توکل]] کو مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ توجیہ ان روایتوں سے متعارض ہے جو پھیلنے والی بیماریوں سے دور رہنے کی سفارش کرتی ہیں۔ اور کوڑھ کے مرض کی دو قسمیں یعنی پھیلنے والا اور نہ پھیلنے والا کوڑھ بھی ان کے استدلال کو کمزور کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
=== حقیقت سرایت کو ماننا اور اس کے حکم کو مسترد کرنا ===&lt;br /&gt;
دوسری روایتوں میں «عدوی» یعنی پھیلنے والے بیماری کا لفظ «طیره» یعنی ([[فال بد]]) کے ساتھ آیا ہے۔ طیرہ ان 9 چیزوں میں سے ایک ہے جو [[حدیث رفع]] میں بیان ہوئی ہیں۔ علماء کی مشہور نظر کے مطابق حدیث رفع میں ان 9 چیزوں کی حقیقت سے انکار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ان 9 چیزوں کا حکم مسلمانوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ طیرہ وغیرہ کی طرح سرایت سے بھی صرف اس کا حکم اور اس کے قانونی اور شرعی آثار کو اٹھا لیا گیا ہے۔ خود سرایت اور بیماری کا پھیلنا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;
یہ بات [[حضرت علی]] علیہ السلام کے فرمان سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ {{عربی|و الطیره لیست بحق، والعدوی لیست بحق|ترجمہ=فال بد لگانا حق نہیں ہے اور سرایت حق نہیں ہے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، حکمت۴۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس روایت میں حضرت علیہ السّلام کا یہ مقصد نہیں ہے کہ سرایت ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ آپ نے اس کے حکم کی نفی کی ہے یعنی جس شخص کے ذریعہ بیماری پھیلی ہے وہ ضامن نہیں ہوتا ہے اور اگر بیماری کسی دوسرے کو لگ جائے تو بیمار شخص پر کوئی حق نہیں بنے گا۔ اور وہ اس بہانے سے تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اس کو اپنی بیماری کا سبب قرار نہیں دے سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
* یہ مقالہ مندرجہ ذیل مقالہ سے ماخوذ ہے: «میکروب، سرایت و قرنطینہ در اسلام» تالیف: روح الله رضوی، مجلہ پاسخ، شماره 18 تابستان ۱۳۹۹.&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=59</id>
		<title>اسلام کی نظر میں چھوت چھات</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%DA%A9%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DA%86%DA%BE%D9%88%D8%AA_%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%AA&amp;diff=59"/>
		<updated>2022-10-04T05:29:29Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{شروع متن}} {{سوال}} پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا «لاعدوی فی الاسلام» یعنی اسلام میں چھوت چھات یعنی بیماری کا پھیلنا نہیں ہے۔ اب جبکہ سماج میں کرونا کا پھیلاؤ اور لوگوں کے درمیان اس کے پھیلنے کے بارے میں حساسیت ایک مسل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا «لاعدوی فی الاسلام» یعنی اسلام میں چھوت چھات یعنی بیماری کا پھیلنا نہیں ہے۔ اب جبکہ سماج میں کرونا کا پھیلاؤ اور لوگوں کے درمیان اس کے پھیلنے کے بارے میں حساسیت ایک مسلم چیز ہے تو کیا یہ فرمان علم و عقل کے خلاف نہیں لگتا ہے؟&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
{{درگاه|کرونا}}&lt;br /&gt;
[[اسلام]] نہ صرف یہ کہ کچھ بیماریوں کے پھیلنے کا قائل ہے بلکہ بنیادی طور سے ہر بیماری کو پھیلنے والی شمار کرتا ہے مگر یہ کہ کسی بیماری کا نہ پھیلنا ثابت ہو جائے۔ بیمار کی [[عیادت]] کی سفارش بھی صرف اسی صورت میں  کرتا ہے جب بیماری پھیلنے والی نہ ہو۔&lt;br /&gt;
اور یہ [[روایت]] کہ {{عربی|لا عَدْوَى...‏|ترجمه= بیماری پھیلتی نہیں ہے...}} کئی غلط فہمیوں کا سبب بنی ہے۔ اس روایت کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ بد قسمتی ہے کہ [[روایتی طب]] یعنی [[دیسی طب]] پر جنون کی حد تک یقین رکھنے والے  کچھ لوگ اس روایت کو دلیل بناکر پھیلنے والی وبا اور بیماری سے پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی پر اکساتے ہیں۔ مذکورہ روایت دوسری ان روایتوں کے برخلاف ہے جو بیماروں کے پاس بیٹھنے سے روکتی ہیں۔&lt;br /&gt;
اگر اس کی سند کو مان بھی لیا جائے تو اس روایت کا مقصد یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ چھوت چھات کے حکم کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کو پھیلنے کی وجہ سے بیماری لگ گئی تو بیمار کے اوپر اس کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا ہے اور وہ اس بیمار سے نقصان کی تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے یا اس کو اپنی بیماری کا سبب نہیں بتا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
= بیماری کا پھیلنا روایات میں ==&lt;br /&gt;
دینی منابع میں بعض بیماریوں کی سرایت کی تصریح موجود ہے اور بیماری کے پھیلنے کا سرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* ایک [[روایت]] میں [[پیغمبر اسلام]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: «بیمار شخص کو صحیح سالم لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; یہ روایت ان روایات سے متعارض ہے جو بیماروں کی [[عیادت]] کے سلسلہ میں ہیں۔ لیکن یہ روایت اس بیماری کے بارے میں ہو سکتی ہے جس کا مسری ہونا یا نہ ہونا واضح نہ ہو۔ لہذا اس روایت کے مطابق بیماریاں بنیادی طور پر مسری ہوتی ہیں، اور عیادت کا مستحب عمل اسی وقت جائز ہے جب ہمیں بیماری کے مسری نہ ہونے کا اطمینان ہو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ  «جزامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو».&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۲، ص۱۳۱&amp;lt;/ref&amp;gt; ایک اور روایت کے مطابق ایک کوڑھ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آیا لیکن آپ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اس کی بیعت کو قبول کر لیا۔&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; دوسری طرف کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، بحار الأنوار، ج۶۲، ص۸۲.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور [[اہل بیت علیہم السلام]]&amp;lt;ref&amp;gt;کلینی، محمد بن‌ یعقوب بن اسحق، الأصول، فروع، الروضه من الکافی، مصحح علی‌اکبر الغفاری، تهران: دارالکتب الإسلامیه، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; نے کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کوڑھ سے پرہیز کرنے اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ کوڑھ کی بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک خشک ہوتی ہے جو پھیلتی نہیں ہے اور دوسری وہ ہوتی ہے جو پھیلتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوت والے کوڑھیوں کو شہروں میں اور لوگوں کے درمیان جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جن کوڑھیوں کے ساتھ [[معصومین علیہم السلام]] نے کھانا کھایا وہ چھوت والے کوڑھی نہیں تھے.&lt;br /&gt;
* ایک شخص نے [[امام کاظم علیہ السلام]] سے پوچھا کہ اگر کسی شہر میں طاعون کی بیماری آ گئی ہو تو کیا مجھے وہاں سے نکل جانا چاہئے؟ امام نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر کسی گاؤں دیہات میں ہو تو؟ آپ نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا اگر گھر میں ہو تو؟ آپ نے فرمایا ہاں باہر نکل جاؤ۔ راوی نے سوال کیا ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ &amp;quot;طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے&amp;quot; امام نے فرمایا &amp;quot;یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کے لئے کہا جو سرحدوں پر دشمنوں سے جنگ میں مصروف تھے اور جب وہاں طاعون آیا تو فوجی وہاں سے بھاگ گئے اور میدان جنگ خالی کردیا&amp;quot;۔ &amp;lt;ref&amp;gt;حر عاملی، محمد بن‌ حسن، تفصیل وسائل الشیعه، قم: مؤسسه آل‌ البیت(ع)، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۴۳۰.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
* پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: &amp;quot;جذام یا کوڑھ کے بیماروں کو زیادہ مت دیکھو اور جب ان سے گفتگو کرو تو ایک نیزہ کے برابر ان سے دور رہو&amp;quot;&amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۶۲، ص۸۳.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
ان کو دیکھنے سے روکنے کی سفارش میں ممکن ہے مخاطب کے لئے نفسیاتی صحت کا پہلو پوشیدہ ہو۔ اور ایک نیزہ کا فاصلہ جو روایت میں آیا ہے وہ دو میٹر کے قریب ہوتا ہے اور آج کے ڈاکٹر بھی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اس فاصلہ کی سفارش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
* [[امام سجاد]] علیہ السلام نے دشمنان اسلام کو نفرین کرنے کے لئے فرمایا ہے:  «خدایا ان کے پانیوں میں وبا کو اور ان کی غذاؤں میں درد (بیماری) کو ملا دے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفه سجادیه، دعای۲۷.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
اس روایت میں امام نے ایک طرف وبا کے میکروب کے مرکز کو بیان کیا ہے جو کہ پانی ہوتا ہے، دوسری طرف خدا سے دعا کی ہے کہ اس میکروب کو دشمنوں کے پانیوں میں ملا دے تاکہ وہ اس میں مبتلا ہو جائیں۔ اس روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ امام بیماری کے پھیلنے کو مانتے تھے اور پھیلنے والی بیماری کا وجود اسلام کے مسلمات میں سے ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== روایت «لا عدوی فی الإسلام» کا جائزہ ==&lt;br /&gt;
روایت {{عربی|لَا عَدْوَى‏ فی الاسلام|ترجمہ=اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے}} سے کچھ غلط نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اس روایت کی شیعہ سند بہت ضعیف ہے۔ لیکن صحیح مسلم و صحیح بخاری&amp;lt;ref&amp;gt;بخاری، محمد بن‌ إسماعیل، صحیح البخاری، محقق: محمد زهیر بن‌ ناصر الناصر، بیروت: دارطوق النجاه، ۱۴۲۲ق، ج۷، ص۱۹، ۲۶، ۲۷ و ۳۱.&amp;lt;/ref&amp;gt; میں نقل ہونے کی وجہ سے اہل سنت کے درمیان اس کو صحیح السند مانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اہل سنت کے درمیان بھی اختلاف کا سبب بنی ہے اور دوسری روایتوں سے تعارض کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt; دیکھئے أبوالحسن القشیری النیسابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، محقق: محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت: دار إحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ق، ج۷، ص۳۱و۳۲.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ روایت شیعہ منابع میں اس طرح نقل ہوئی ہے: «نضر بن قرواش جمّال (اونٹ والا) سے روایت ہے کہ: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس اونٹ کے بارے سوال کیا جسے جرب (جلد کی ایک بیماری) لگ گئی ہو کہ کیا میں بیماری پھیلنے کی وجہ سے اس کو دوسرے اونٹوں سے الگ کردوں؟ امام نے فرمایا: ایک بادیہ نشین رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے سستے گوسفند اور اونٹ دیکھے ہیں جو کہ جرب میں مبتلا ہیں، مجھے ان کو خریدنا پسند نہیں ہے کہ کہیں ان کا جرب میرے گوسفندوں اور اونٹوں کو نہ لگ جائے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تو پھر ان کو کس نے مبتلا کیا ہے؟ پھر فرمایا: اسلام میں بیماری کا پھیلنا (عدوی) نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار(ع)، بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق، ج۵۵، ص۳۱۸.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[روایتی طب]] کے کچھ کٹر حمایتی اس روایت کے ظاہر سے استناد کرتے ہوئے پھیلنے والی بیماریوں سے پرہیز نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی بے احتیاطی کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے کوئی مسلمان بیمار نہیں ہوگا اور کوڑھیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے متعلق [[معصومین]] علیہم السلام سے منقول روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے [[توکل]] کو مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ توجیہ ان روایتوں سے متعارض ہے جو پھیلنے والی بیماریوں سے دور رہنے کی سفارش کرتی ہیں۔ اور کوڑھ کے مرض کی دو قسمیں یعنی پھیلنے والا اور نہ پھیلنے والا کوڑھ بھی ان کے استدلال کو کمزور کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
=== حقیقت سرایت کو ماننا اور اس کے حکم کو مسترد کرنا ===&lt;br /&gt;
دوسری روایتوں میں «عدوی» یعنی پھیلنے والے بیماری کا لفظ «طیره» یعنی ([[فال بد]]) کے ساتھ آیا ہے۔ طیرہ ان 9 چیزوں میں سے ایک ہے جو [[حدیث رفع]] میں بیان ہوئی ہیں۔ علماء کی مشہور نظر کے مطابق حدیث رفع میں ان 9 چیزوں کی حقیقت سے انکار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اللہ کی طرف سے ان 9 چیزوں کا حکم مسلمانوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ طیرہ وغیرہ کی طرح سرایت سے بھی صرف اس کا حکم اور اس کے قانونی اور شرعی آثار کو اٹھا لیا گیا ہے۔ خود سرایت اور بیماری کا پھیلنا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;
یہ بات [[حضرت علی]] علیہ السلام کے فرمان سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ {{عربی|و الطیره لیست بحق، والعدوی لیست بحق|ترجمہ=فال بد لگانا حق نہیں ہے اور سرایت حق نہیں ہے۔}}&amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، حکمت۴۰۰.&amp;lt;/ref&amp;gt; اس روایت میں حضرت علیہ السّلام کا یہ مقصد نہیں ہے کہ سرایت ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ آپ نے اس کے حکم کی نفی کی ہے یعنی جس شخص کے ذریعہ بیماری پھیلی ہے وہ ضامن نہیں ہوتا ہے اور اگر بیماری کسی دوسرے کو لگ جائے تو بیمار شخص پر کوئی حق نہیں بنے گا۔ اور وہ اس بہانے سے تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اس کو اپنی بیماری کا سبب قرار نہیں دے سکتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== منابع ==&lt;br /&gt;
* یہ مقالہ مندرجہ ذیل مقالہ سے ماخوذ ہے: «میکروب، سرایت و قرنطینہ در اسلام» تالیف: روح الله رضوی، مجلہ پاسخ، شماره 18 تابستان ۱۳۹۹.&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=49</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=49"/>
		<updated>2022-08-16T13:45:25Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{عربی متن|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج سے موافق نہیں تھا کیونکہ مشرکین کے حج میں شرک پایا جاتا تھا، اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=48</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=48"/>
		<updated>2022-08-16T13:35:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{عربی متن|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما}} مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج سے موافق نہیں تھا کیونکہ مشرکین کے حج میں شرک پایا جاتا تھا، اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=47</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=47"/>
		<updated>2022-08-16T13:31:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{عربی متن|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما}} مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=46</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=46"/>
		<updated>2022-08-16T13:31:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{عربی|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما}} مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=45</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=45"/>
		<updated>2022-08-16T13:30:34Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لئے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:{{متن عربی|لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما}} مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=44</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=44"/>
		<updated>2022-08-16T13:27:53Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے، آپ کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=43</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=43"/>
		<updated>2022-08-16T13:27:07Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کی زندگی سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=42</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=42"/>
		<updated>2022-08-16T13:24:23Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=41</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=41"/>
		<updated>2022-08-16T13:23:58Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;بعثت سے پہلے پیغمبر ص کا دین&lt;br /&gt;
{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=40</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=40"/>
		<updated>2022-08-16T13:23:22Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر ص کا دین&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=39</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=39"/>
		<updated>2022-08-16T13:21:26Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی مندرجہ ذیل  کتاب سے ماخوذ ہے: &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039;، مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=38</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=38"/>
		<updated>2022-08-16T13:16:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: /* مآخذ */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی کتاب &#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039; سے ماخوذ ہے جو مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=37</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=37"/>
		<updated>2022-08-16T13:13:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{شروع متن}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پایان سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پاسخ}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی کتاب&#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039; سے ماخوذ ہے جو مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{پانویس|۲}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=36</id>
		<title>بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://ur.wikipasokh.com/index.php?title=%D8%A8%D8%B9%D8%AB%D8%AA_%D8%B3%DB%92_%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92_%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D9%85%D8%A8%D8%B1_%D8%A7%DA%A9%D8%B1%D9%85%D8%90_%DA%A9%D8%A7_%D8%AF%DB%8C%D9%86&amp;diff=36"/>
		<updated>2022-08-16T12:59:35Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mbaqirraza: «{{آغاز تحریر}}  {{سوال}}  بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟     {{سوال کا اختتام}}     {{جواب}}  نبوت سے پہلے حضرت محمدؐ کے دین کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے یہودیت، مسیحیت، دین حنیف (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;{{آغاز تحریر}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعثت سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کا دین کیا تھا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{سوال کا اختتام}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{جواب}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[نبوت]] سے پہلے [[حضرت محمدؐ]] کے [[دین]] کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جن میں سے [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[دین حنیف]] (حضرت ابراہیمؑ کی شریعت) قابل ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود اس سلسلے میں حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعثت سے پہلے [[یکتا پرست]] تھے اور ہمیشہ بتوں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ اس کے بارے میں کچھ دلائل بیان کئے جاتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* [[حضرت علیؑ]] نے ان لوگوں کے سامنے جو [[پیغمبراکرمؐ]] کے واقعے سے واقف تھے ان کے [[گناہ]] اور [[شرک]] سے پاک اور منزہ ہونے پر تاکید کی ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;صحیفہ علویہ، ص ۳۴۲ و ۵۰۳؛ و بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; اور ان کے خاندان کے یکتا پرست ہونے پر زور دیا ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;نهج البلاغه، خطبه ۹۴، ۹۶، ۲۱۴.&amp;lt;/ref&amp;gt; تاریخی دلائل اور [[روایات]] کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمدؐ یکتا پرست خاندان سے تھے اور ان کے آباء و اجداد دین حنیف کے پیروکار اور [[حضرت ابراھیم]] کے ماننے والے تھے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* بچپن میں حضرت محمدؐ نے [[شام]] کے سفر کے دوران [[بحیرا]] نامی [[راہب]] سے ملاقات کی۔ جس وقت راہب نے حضرت محمدؐ میں پیغمبری کی نشانیاں دیکھیں تو اس نے آپ کو آزمانے کے لیے دو بتوں [[لات]] اور [[عزی]] کی قسم دی۔ پیغمبر اکرمؐ  نے بحیرا کے جواب میں فرمایا:لا تَسألنی بِهِما، فَوَ اللّه ما أبغضتُ شَیئَاً بُغضهما مجھے ان دو بتوں کی قسم نہ دو خدا کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ منفور کچھ نہیں ہے۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۸؛ ر.ک. ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج ۱، ص ۲۴۵.&amp;lt;/ref&amp;gt; &lt;br /&gt;
* تاریخی مآخذ میں رسول اکرمؐ کی بعثت سے پہلے جن عبادی اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ان میں [[نماز]] ، [[روزہ]] ، [[حج]] شامل ہیں۔ [[غار حرا]] میں عزلت نشینی آپ کی دیرینہ روایت سمجھی جاتی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ کا [[حج]] بھی مشرکین کے حج کہ جس میں شرک پایا جاتا تھا، سے موافق نہیں تھا اور مناسک میں پیغمبر اکرمؐ کا [[حج]] ، [[حج ابراہیمی]] کے مطابق تھا جیسے [[عرفات]] میں وقوف وغیرہ۔ &amp;lt;ref&amp;gt;شرح الشفاء، ج ۲، ص ۲۰۹.&amp;lt;/ref&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مآخذ ==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مضمون حسن یوسفیان کی کتاب&#039;&#039;پرسمان عصمت&#039;&#039; سے ماخوذ ہے جو مرکز مطالعات و پژوہش‌ہای فرہنگی حوزه علمیہ، قم، ۱۳۸۰شمسی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{حوالہ جات}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ :پیغمبر اسلام]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[زمرہ:حنیفیت]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mbaqirraza</name></author>
	</entry>
</feed>