مندرجات کا رخ کریں

سورہ احزاب کی آیت 72 میں انسان کا امانت الٰہی کو قبول کرنا

سؤال

سورہ احزاب کی آیت 72 میں امانت الٰہی سے کیا مراد ہے؟

امانت کی مفسرین نے کمال، تکامل کی قابلیت، اطاعت اور ہر چیز سے تعلق توڑ کر فنا فی اللہ کے معنوں میں تعریف کی ہے۔



امانت پیش کرنے کا معنی

مفسرین نے آیت ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَنْ یَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا(احزاب:۷۲) کے ذیل میں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر اللہ کی امانت پیش کرنے کے مقصد کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں:

  • "عرضہ" (پیش کرنا) اپنے مجازی معنی میں ہے۔ آیت صرف ایک تمثیل اور ایک قسم کا حال بیان ہے۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ اگر پیش کرتے اور ان میں شعور ہوتا، تو امانت کی عظمت اور اس کی دشواری کی وجہ سے وہ اسے قبول نہ کرتے۔

ابن عربی: "عام علماء کے نزدیک خدا کا خاموش مخلوقات سے گفتگو کرنا حدیث حال ہے اور اسی وجہ سے وہ (انّا عرضَنا الامانَة…) جیسی آیات کی تاویل کرتے ہیں… لیکن اہل کشف کے نزدیک کوئی خاموش نہیں ہے اور تمام ہستی، خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات، اللہ کا کلام اس کے اذن سے عالم حس میں سنتے ہیں نہ کہ عالم خیال میں۔"[1]

  • اللہ کی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں سے زیادہ بھاری ہے اور یہ اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ علامہ طباطبائی کا کلام بھی اس قول کے قریب ہے۔
  • کچھ افراد، جن میں معتزلہ کے علماء میں سے ابوعلی جبائی بھی شامل ہیں، کا خیال ہے کہ پیش کرنا اپنے حقیقی معنی میں تھا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے اہل پر پیش کی گئی اور صرف انسان نے اسے قبول کیا۔
  • زیادہ تر مفسرین جو عرفانی مکاتب کے پیروکار رہے ہیں، کا خیال ہے کہ "عرضہ" اپنے حقیقی معنی میں مراد ہے اور چونکہ قرآن کے نقطہ نظر سے، تمام ہستی شعور رکھتی ہے، اس لیے خدا اور عالم کی مخلوقات کے درمیان گفتگو میں کوئی بعد نہیں ہے۔ یہ آیت بھی خدا اور آسمان و زمین کے درمیان ایک حقیقی مخاطبت کی نشاندہی کرتی ہے، البتہ ان کے مناسب زبان میں۔[2]


امانت کا معنی

علامہ طباطبائی امانت سے مراد وہ کمال لیتے ہیں جو صحیح عقائد، نیک اعمال اور کمال کی راہ پر چلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کمال میں کوئی بھی مخلوق، نہ آسمان، نہ زمین اور نہ ہی کوئی اور، انسان کا شریک نہیں ہے۔ اور خدا نے اسے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔[3]

تفسیر نمونہ میں امانت الٰہی کو تکامل کی قابلیت اور انسان کامل کا مقام، ارادے اور اختیار کے ساتھ قرار دیا گیا ہے۔[4] بعض نے اللہ کی امانت سے مراد اطاعت لی ہے[5] اور ملاصدرا نے امانت کو ہر چیز سے تعلق توڑ کر فنا فی اللہ قرار دیا ہے۔[6]

پیغمبر کے صحابی ابن مسعود سے روایت ہے کہ امانت پانچ نمازیں وقت پر ادا کرنا، مال کی زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا اور سچ بولنا وغیرہ ہے۔[7]


امانت اٹھانے میں انسان کی استعداد

انسان کی امانت الٰہی کو اٹھانے کی استعداد اور صلاحیت دیگر مخلوقات پر انسان کا سب سے بڑا اور اہم امتیاز ہے۔[8] انسان کو اس کی اندرونی استعداد کی وجہ سے امانت الٰہی کو قبول کرنے کے لیے تیار سمجھا گیا ہے۔ علامہ طباطبائی کا خیال ہے کہ اگر ہم ولایت الٰہی کا آسمانوں اور زمین کی حالت سے موازنہ کریں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ اس امانت کو برداشت نہیں کر سکتے اور صرف انسان ہی اسے اٹھا سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا انکار اور انسان کا اسے قبول کرنا اس بات کا مطلب ہے کہ انسان میں ایسی استعداد اور صلاحیت ہے جو آسمانوں اور زمین میں نہیں ہے۔[9]


مآخذ

    1. تغییر_مسیر الگو:یادکرد مجله
    1. تغییر_مسیر الگو:یادکرد مجله
  1. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  2. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  3. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  4. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  5. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  6. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔
  7. اسکرپٹ نقص: «Template wrapper» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔