شیعوں کے مخصوص عقائد
شیعہ امامیہ فرقے کے مخصوص عقائد کیا ہیں؟
شیعہ فرقے کے مخصوص عقائد میں ولایت، بداء، رجعت اور امامت کا تسلسل شامل ہیں۔ دوسرےعقائد جیسے امامت، شفاعت، عدل الہی، وسیلہ اور امام مہدی (علیہ السلام) پر عقیدہ تمام مسلمانوں کے مشترکہ عقائد ہیں، اگرچہ ان کے معانی اور تشریحات میں فرق پایا جاتا ہے یا مثالوں پر ان کی تطبیق اور مصادیق کی شناخت میں بھی تنازعہ اور اختلاف پایا جاتا ہے۔
ولایت
شہید مطہری کہتے ہیں:
- «شیعوں میں امامت [معاشرے کی قیادت اور مذہبی مرجعیت کے علاوہ] ایک تیسرے مقام اور مرتبے کی حامل ہے جو امامت کے تصور کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے اور شیعہ کتابیں اس مطلب سے بھری پڑی ہیں اور وہ ہے امامت ولایت کے معنی میں [یعنی] ہر دور میں ایک کامل انسان (امام) پایا جاتا ہے جو انسانیت کی مطلق روحانیت کا حامل ہوتا ہے... اس معنی میں کہ امام ایک مطلق روح ہے اور تمام روحوں (اور دنیا کے امور) کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔».
شیعوں میں ولایت کا عنوان زمانے کی حُجّت کے معنی میں ہے اور شیعی تعلیمات کے مطابق زمین کبھی بھی حُجّت سے خالی نہیں ہوتی: «وَلَوْلَا الْحُجَّةُ لَسَاخَتِ الْأَرْضُ بِأَهْلِهَا؛ اگر حُجّت نہ ہوتو زمین اپنے اہل کے ساتھ ڈوب» جائے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی بھی ایسا لمحہ نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا جب زمین ایک کامل انسان (اور الہیٰ خلیفہ) سے خالی ہو؛ اور اس کامل انسان کے لئے بے شمار مراتب اور درجات کے قائل ہیں اور ہم اکثر زیارتیں جو پڑھتے ہیں ان میں اس ولایت و امامت کا اقرار اور اعتراف کرتے ہیں، یعنی ہم یہ مانتے ہیں کہ امام ایسی مطلق روح کا حامل ہوتا ہے۔»[1]
بداء
قرآن میں بداء کا ذکر اس آیت میں آیا ہے: ﴿یَمْحُو اللَّهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْکِتَابِ؛ اللہ جو چاہتا ہے وہ (لکھا ہوا) مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یعنی لوح محفوظ) ہے۔﴾(رعد (۱۳):۳۹).
لفظ بداء کا لغت میں معنی ہے «کسی شخص کے بارے میں کسی چیز کا ظاہر ہونا»۔ اور اصطلاح میں بداء کا معنی ہے کہ خداوند متعال کے ایک ایسے امر کا ظاہر ہونا جو انسانوں کے لئے اب تک غیر شناختہ تھا اور جسے انسانوں نے کسی اور طرح سے فرض کیا ہوا تھا[2] (اظهار بعد الخفاء)۔
شہید مطہری وضاحت فرماتے ہیں:
- «بداء کا مفہوم (شیعی علم کلام میں) یہ ہے کہ تقدیر الہی میں تبدیلی واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کے تاریخی واقعات میں خدا نے انسانی تاریخ کے آگے پیچھے ہونے کے لئے کوئی حتمی اور مستقل صورت معین نہیں کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اے انسان، تم خود تقدیر الہی کے عمل کو پورا کرنے والے ہو، تم ہی تاریخ کو آگے بڑھا سکتے ہو یا پیچھے کر سکتے ہو۔ تم اسے برقرار رکھ سکتے ہو، کوئی بھی چیز، نہ طبعیت، نہ زندگی کے وسائل، نہ حتی کہ خدا کی مشیت تاریخ پر حکمرانی نہیں کرتی ہے۔».[3]
رجعت
رجعت کا لغوی معنی «واپسی» ہے اور شیعی علم کلام میں رجعت سے مراد یہ ہے کہ قیامت سے پہلے امام مہدی (علیہ السلام) کی حکمرانی کے دوران رجعت پیش آئے گی اور اس دوران، مختلف ادوار کے کچھ صالحین اور بدکار افراد زمین پر واپس آئیں گے۔ صالحین واپس آئیں گے تاکہ وہ اہل بیت (علیہ السلام) کی حکومت میں عدل کا مشاہدہ کریں، منصفانہ حکومت کی اپنی خواہش کو پورا کریں، اور ان انعامات کو حاصل کریں جو خدا نے ان کے لئے اس دنیا میں مقرر کئے ہیں۔ جہاں تک کافروں اور مشرکوں کا تعلق ہے، وہ عذاب اور سزا کے لئے واپس آئیں گے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «إنّ الرجعة لیست بعامة و هی خاصة لا یرجع الا من محض الایمان محضا او محض الشرک محضا؛ رجعت عمومی نہیں ہے، یہ مخصوص ہے اور صرف وہی لوگ واپس آئیں گے جو خالص مومن یا خالص مشرک ہوں گے۔».[4]
بعض روایات کے مطابق، امام حسین (علیہ السلام) پہلی وہ شخصیت ہوں گے جو اماموں میں سے واپس آئیں گے۔[5] امام علی رضا (علیہ السلام) بھی فرماتے ہیں:
اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا کہ جو کچھ گذشتہ امتوں میں پیش آیا وہ اسی طرح اس امت میں بھی واقع ہوگا۔
امامت کا تسلسل
شیعوں کے مطابق، امامت ایک ایسا الہیٰ نظام ہے جو منقطع ہونے والا نہیں ہے اور مسلسل بغیر کسی وقفے کے قائم ہے۔ یہ نظام نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں شروع ہوا اور آج تک جاری ہے، اور دنیا کے اختتام تک جاری رہے گا۔ جیسا کہ امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
- «لا تخلو الارض من قائم لله بحجّة، امّا ظاهراً مشهورا، و امّا خائفا مغمورا، لئلا تبطل حجج الله و بیّناته؛ زمین کبھی بھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں ہوگی، چاہے وہ ظاہر اور آشکار ہو یا مخفی اور پوشیدہ، تاکہ اللہ کے دلائل اور حجتیں منسوخ نہ ہوں۔».[7] اس طرح زمین کبھی بھی امام (حجت) سے خالی نہیں رہے گی اور یہ امام یا تو ظاہر اور دکھائی دینے والا ہوگا، جیسے آئمہ کے دور میں تھا، یا مخفی اور پوشیدہ ہوگا جیسے امام مہدی (علیہ السلام) کی غیبت کے دوران میں ہے۔ امام مہدی (علیہ السلام) اگرچہ غائب ہیں لیکن دنیا کی امامت کا فریضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حوالہ جات
- ↑ امامت و رهبری، علامّه شہید مطہری، ص۵۶، انتشارات صدرا.
- ↑ اوائل المقالات، شیخ مفید قدس سرّه، ص۸۰.
- ↑ تکامل اجتماعی انسان، علامه مطہری، ص۱۶.
- ↑ میزان الحکمه، ری شهری، ج۴، ص۱۹۸۴.
- ↑ میزان الحکمه، ری شهری، ج۴، ص۱۹۸۲.
- ↑ مانند: بقره:۲۴۳؛ نمل:۸۳؛ غافر:۱۱.
- ↑ نهج البلاغه، حکمت، ۱۴۷، تذکره الفقها، ذهبی، ج۱، ص۱۲.