منتهی‌الآمال

سؤال

منتھی الآمال کتاب کا مصنف کون ہے اور اس کا موضوع اور مواد کیا ہے؟

اسکرپٹ نقص: «Infobox» کے نام سے کوئی ماڈیول نہیں ہے۔

کتاب کا مکمل نام ہے منتهی‌الآمال فی ذکر تواریخ النبی و الآل یہ فارسی زبان میں چودہ معصومین علیہم السلام کی زندگی پر مشتمل ایک کتاب ہے، جسے محقق اور محدث شیخ عباس قمی رح (۱۲۹۴-۱۳۵۹ ھ۔ق) نے تحریر فرمایا ہے۔ شیخ عباس قمی نے اس کتاب میں معصومین علیہم السلام کی زندگی کے واقعات اور ان کی اخلاقی سیرت کو بیان کیا ہے۔ اس کے مباحث مختصر اور مستند ہیں اور زبان نہایت سلیس ہے۔

یہ کتاب اپنی تصنیف کے زمانہ (۱۳۵۰ ھ۔ق) سے لے کر آج تک متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے اور مختلف زبانوں جیسے عربی اور اردو میں اس کا ترجمہ بھی ہوا ہے۔

مصنف

شیخ عباس قمی ۱۲۹۴ ھ۔ق (۱۸۷۵ عیسوی) میں قم المقدسہ ایران میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم قم میں حاصل کی اور پھر اعلی دینی تعلیم کے لئے ۱۳۱۶ ھ۔ق۔ میں نجف اشرف عراق چلے گئے۔ نجف میں آپ کے اساتذہ میں آیہ اللہ محمد کاظم یزدی صاحب العروة الوثقی، آیہ اللہ میرزا حسین نوری، آیہ اللہ محمد تقی شیرازی، اور آیہ اللہ سید حسن صدر کاظمی جیسی نامور شخصیات شامل تھیں۔[1]

شیخ عباس قمی ایک بہت ہی متحرک عالم دین تھے اور آپ نے تاریخ، رجال، تراجم، قرآنیات، اخلاق، دعاؤں اور دیگر دینی علوم پر متعدد کتابیں لکھیں۔ آپ کی تصنیفات کی تعداد ۶۰ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔[2] شیخ عباس قمی نے ۱۳۵۹ ھ۔ق۔ میں ۶۵ سال کی عمر میں نجف میں وفات پائی اور حرم امام علی علیہ السلام میں اپنے استاد محدث نوری کے جوار میں دفن ہوئے۔[3]

کتاب کا تعارف اور مواد

کتاب "منتهی‌الآمال" پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کے حالات زندگی کے بارے میں تصنیف کی گئی ہے اور اسے اس موضوع پر لکھی گئی بہترین اور دستاویزی کتابوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ محدث قمی نے اس کتاب میں معتبر مصادر اور مآخذ سے استفادہ کیا ہے۔ شیخ عباس قمی نے اس کتاب کو عام قارئین کے لئے زیادہ پرکشش بنانے کے لئے کتاب میں شعراء کے اشعار نیز لغت، نحو، صرف، نسب نامہ اور تاریخی جغرافیہ کے شعبوں میں علماء کی کاوشوں کو بھی شامل کیا ہے۔

"منتهی‌الآمال" کی زبان نہایت سلیس اور اپنے زمانے کے مطابق ہے اگرچہ دوسری کتابوں کے مقابلے میں اس میں نئے پہلو بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی شیعہ علماء کی توجہات کا مرکز بنی رہی ہے۔[4]

منتھی الآمال کتاب، قاجار دور کے اواخر اور پہلوی دور کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت، مصنف کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے اخلاقی پہلوؤں پر توجہ دینا ہے۔[5]

منتھی الآمال کا مواد
جلد اول جلد دوم جلد تین
پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کی تاریخ امام حسن (ع) تک زندگی امام حسین (ع) سے امام صادق (ع)] ساتویں امام (ع) سے بارہویں امام (ع) کی زندگی کی تاریخ

شیخ عباس قمی نے اس کتاب کی تالیف میں الکافی کلینی، الارشاد شیخ مفید، عیون اخبار الرضا شیخ صدوق، رجال کشی، الخرائج والجرائح راوندی، بحار الانوار اور جلاء العیون علامہ مجلسی، نیز نجم الثاقب محدث نوری جیسے مصادر اور کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔[6]

کتاب کی اشاعت

کتاب منتهی‌الآمال اپنی تصنیف کے وقت (۱۳۵۰ ھ۔ق) سے لے کر آج تک مختلف اشاعتی اداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔ عربی اور اردو جیسی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکی ہے۔ یہ کتاب ہمیشہ سے عام قارئین اور محققین دونوں کے درمیان مقبول رہی ہے۔ یہ کتاب مصنف کی زندگی ہی میں بارہا شائع ہوئی اور آپ کے ذریعہ اس کی نظر ثانی اور تصحیح انجام پائی۔[7]

یہ کتاب ناصر باقری بیدہندی کی تحقیق کے ساتھ "دلیل ما" اشاعتی ادارے کی جانب سے ۱۳۷۹ ھ۔ش۔ میں تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس سے قبل یہ کتاب ۱۳۷۱ ھ۔ش۔ میں سید ابوالحسن مرتضوی کورانی اصفہانی کی تصحیح کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ ایک اور ایڈیشن "ہجرت" اشاعتی ادارے کی جانب سے ۱۳۷۴ ھ۔ش۔ میں قم میں دو جلدوں میں منظر عام پر آیا۔ اسی طرح "اسلامیہ" اشاعتی ادارے کی جانب سے یہ کتاب ایک جلد میں بھی شائع ہوئی ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. ادهم‌نژاد، محمدتقی، «حاج شیخ عباس قمی، حدیث نجابت»، مبلغان، شماره ۸۸، ۱۳۸۵ش.
  2. کوشکی، فرشته، «بررسی و نقد کتاب منتهی‌الآمال نوشته شیخ عباس قمی»، تاریخنامه اسلام، سال دوم، شماره ۲، پاییز و زمستان ۱۳۹۹.
  3. ادهم‌نژاد، «حاج شیخ عباس قمی، حدیث نجابت۲»، مبلغان، شماره ۹۰، ۱۳۸۶ش.
  4. «منتهی الآمال»، پگاه حوزه، شماره ۲۹۰، ۱۳۷۶ش.
  5. کوشکی، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی».
  6. کوشکی، فرشته، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی»، تاریخنامه اسلام سال دوم پاییز و زمستان ۱۳۹۹، شماره ۲.
  7. «منتهی الآمال»، پگاه حوزه، شماره ۲۹۰، ۱۳۷۶ش.
  8. کوشکی، «بررسی و نقد کتاب منتهی الامال نوشته شیخ عباس قمی».

سانچہ:تکمیل مقاله